আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮১০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں، بچوں کا قتل رات کے وقت اور حملہ کے موقع پر بغیر کسی ارادہ کے اور رات کے موقع پر قتل کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے
(١٨١٠١) براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ابو رافع کی جانب کچھ انصاری لوگ بھیجے اور عبداللہ کو ان کا امیر بنایا اس طرح اس نے حدیث کو ذکر کیا علاوہ اس کے کہ انھوں نے کہا : میں چلتا رہا اور دربان کو چمٹا رہا۔ پھر میں داخل ہوا اور چھپ گیا۔ جب لوگ داخل ہوئے تو اس نے دروازہ بند کردیا اور چابیاں ایک کیل پر لٹکا دیں۔
(١٨١٠١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی أَبِی رَافِعٍ الْیَہُودِیِّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ فُلاَنٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنِّی مُنْطَلِقٌ فَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ وَقَالَ فَدَخَلْتُ فَکَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الأَقَالِیدَ عَلَی وَتَدٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَیُذْکَرُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِخَیْبَرَ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ ہُوَ الَّذِی قَتَلَہُ وَفِی حَدِیثٍ آخَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ ضَرَبَہُ وَابْنَ عَتِیکٍ ذَفَّفَ عَلَیْہِ ۔ وَفِی الرِّوَایَاتِ کُلِّہَا أَنَّ ابْنَ عَتِیکٍ سَقَطَ فَوُثِئَتْ رِجْلُہُ ۔
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی أَبِی رَافِعٍ الْیَہُودِیِّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ فُلاَنٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنِّی مُنْطَلِقٌ فَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ وَقَالَ فَدَخَلْتُ فَکَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الأَقَالِیدَ عَلَی وَتَدٍ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَیُذْکَرُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِخَیْبَرَ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ ہُوَ الَّذِی قَتَلَہُ وَفِی حَدِیثٍ آخَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ ضَرَبَہُ وَابْنَ عَتِیکٍ ذَفَّفَ عَلَیْہِ ۔ وَفِی الرِّوَایَاتِ کُلِّہَا أَنَّ ابْنَ عَتِیکٍ سَقَطَ فَوُثِئَتْ رِجْلُہُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعب بن اشرف کے قتل کا بیان
(١٨١٠٢) جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا، اس نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دی ہے ؟ محمد بن مسلمہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند کریں گے کہ میں اس کو قتل کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اس کو قتل کروں گا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کچھ باتیں کہنے کی اجازت دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہہ لے۔ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے اور کہنے لگے : اس شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے ہم سے صدقہ لیا۔ ہم پر سختی کی اور ہم اس سے اکتا گئے ہیں۔ خبیث انسان نے جب یہ باتیں سنیں اور یہ بھی کہا کہ اللہ کی قسم ! تم ضرور اس سے اکتا جاؤ گے اور مجھے معلوم تھا کہ تمہارا معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم اس کو چھوڑ نہیں سکتے، یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں کہ وہ کیا کرتا ہے اور ہم اس کی اتباع کے بعد چھوڑنا ناپسند کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم دیکھ لیں کہ اس کا معاملہ کہاں تک پہنچتا ہے۔ میں تیرے پاس آیا ہوں تاکہ مجھے کھجوریں ادھار دو ۔ اس نے کہا : ٹھیک ہے لیکن تم اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : آپ عرب میں سب سے زیادہ حسین ہیں۔ ہم آپ کے پاس اپنی عورتیں گروی رکھ دیں۔ اس نے کہا : اپنی اولاد گروی رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ کہتے ہیں کہ لوگ ہماری اولاد کو عار دلائیں گے کہ ہم نے انھیں ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا تھا اور بعض اوقات ہماری اولاد کو گالی دی جائے کہ یہ وہ شخص ہے جسے ایک یا دو وسق کے بدلے گروی رکھا گیا۔ اس نے کہا : کون سی چیز تم میرے پاس گروی رکھو گے ؟ محمد بن مسلمہ کہنے لگے : ہم آپ کے پاس ہتھیار گروی رکھیں گے۔ اس نے کہا : درست ہے۔ اس نے وعدہ لیا کہ وہ اس کے پاس آئے گا۔ محمد بن مسلمہ پلٹ کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور ان کے ساتھ ابو نائلہ جو کعب کے رضاعی بھائی ہیں اور دو دوسرے آدمی بھی آئے۔ اس نے کہا : میں اس کے سر کو مضبوطی سے پکڑ لوں گا۔ جب میں اپنا ہاتھ اس کے سر میں داخل کروں تو تم حملہ کردینا۔ وہ ایک رات آئے اور محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کھجور کے سائے میں کھڑے ہوجائیں۔ محمد بن مسلمہ نے آ کر آواز دی۔ اے ابو الاشرف ! تو اس کی بیوی نے کہا : آپ اس وقت کہاں جائیں گے ؟ اس نے کہا : محمد بن مسلمہ اور ابو نائلہ میرا بھائی ہے۔ وہ ایک کپڑے میں لپٹا ہوا اترا، جس سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : تیرا جسم کتنا حسین اور تیری خوشبو عمدہ ہے۔ اس نے کہا : میرے نکاح میں فلاں کی بیٹی ہے اور یہ عرب میں سب سے زیادہ بہتر خوشبو والی ہے۔ محمد نے کہا : ہاں ! اور اپنا ہاتھ اس کے سر میں داخل کیا اور اس کی خوشبو اپنے ساتھیوں کو سونگھائی۔ پھر دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ سے اس کے سر اور پیشانی کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ پھر اپنے ساتھیوں سے کہا : اللہ کے دشمن پر حملہ کر دو تو انھوں نے نکل کر اس کو قتل کردیا پھر انھوں نے آ کر رسول اللہ کو خبر دی۔
(١٨١٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ َخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّہُ قَدْ آذَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ ؟ ۔ فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأْذَنْ لِی أَنْ أَقُولَ قَالَ : قُلْ ۔ فَأَتَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَخَذَنَا بِالصَّدَقَۃِ وَقَدْ عَنَّانَا وَقَدْ مَلَلْنَا مِنْہُ فَقَالَ الْخَبِیثُ لَمَّا سَمِعَہَا وَأَیْضًا وَاللَّہِ لَتَمَلُّنَّہُ أَوْ لَتَمَلُّنَّ مِنْہُ وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَمْرَکُمْ سَیَصِیرُ إِلَی ہَذَا قَالَ إِنَّا لاَ نَسْتَطِیعُ أَنْ نُسْلِمَہُ حَتَّی نَنْظُرَ مَا فَعَلَ وَإِنَّا نَکْرَہُ أَنْ نَدَعَہُ بَعْدَ أَنِ اتَّبَعْنَاہُ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَی أَیِّ شَیْئٍ یَصِیرُ أَمْرُہُ وَقَدْ جِئْتُکَ لِتُسْلِفَنِی تَمْرًا۔ قَالَ : نَعَمْ عَلَی أَنْ تَرْہَنُونِی نِسَائَ کُمْ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : نَرْہَنُکَ نِسَائَ نَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ ۔ قَالَ : فَأَوْلاَدَکُمْ ۔ قَالَ : فَیُعَیِّرُ النَّاسُ أَوْلاَدَنَا أَنَّا رَہَنَّاہُمْ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَیْنٍ وَرُبَّمَا قَالَ فَیُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَیُقَالُ رُہِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَیْنِ ۔ قَالَ : فَأَیَّ شَیْئٍ تَرْہَنُونِی ؟ قَالَ : نَرْہَنُکَ اللأْمَۃَ یَعْنِی السِّلاَحَ قَالَ : نَعَمْ فَوَاعَدَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ إِلَی أَصْحَابِہِ فَأَقْبَلَ وَأَقْبَلَ مَعَہُ أَبُو نَائِلَۃَ وَہُوَ أَخُو کَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَجَائَ مَعَہُ رَجُلاَنِ آخَرَانِ فَقَالَ : إِنِّی مُسْتَمْکِنٌ مِنْ رَأْسِہِ فَإِذَا أَدْخَلْتُ یَدِی فِی رَأْسِہِ فَدُونَکُمُ الرَّجُلَ فَجَائُ وہُ لَیْلاً وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ فَقَامُوا فِی ظِلِّ النَّخْلِ وَأَتَاہُ مُحَمَّدٌ فَنَادَاہُ : یَا أَبَا الأَشْرَفِ ۔ فَقَالَتِ امْرَأَتُہُ : أَیْنَ تَخْرُجُ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَأَخِی أَبُو نَائِلَۃَ فَنَزَلَ إِلَیْہِ مُلْتَحِفًا فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ تَنْفَحُ مِنْہُ رِیحُ الطِّیبِ فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدٌ : مَا أَحْسَنَ جِسْمَکَ وَأَطْیَبَ رِیحَکَ ۔ قَالَ : إِنَّ عِنْدِی ابْنَۃَ فُلاَنٍ وَہِیَ أَعْطَرُ الْعَرَبِ ۔ قَالَ : فَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَشَمَّہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَأَدْخَلَ مُحَمَّدٌ یَدَہُ فِی رَأْسِہِ ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِی أَنَ أُشِمَّہُ أَصْحَابِی ؟ قَالَ : نَعَمْ فَأَدْخَلَہَا فِی رَأْسِہِ فَأَشَمَّ أَصْحَابَہُ ثُمَّ أَدْخَلَہَا مَرَّۃً أُخْرَی فِی رَأْسِہِ حَتَّی أَمِنَہُ ثُمَّ إِنَّہُ شَبَّکَ یَدَہُ فِی رَأْسِہِ فَنَصَاہُ ثُمَّ قَالَ لأَصْحَابِہِ : دُونَکُمْ عَدُوَّ اللَّہِ فَخَرَجُوا عَلَیْہ فَقَتَلُوہُ ثُمَّ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ کِلاَہُمَا عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّہُ قَدْ آذَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ ؟ ۔ فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَأْذَنْ لِی أَنْ أَقُولَ قَالَ : قُلْ ۔ فَأَتَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا الرَّجُلَ قَدْ أَخَذَنَا بِالصَّدَقَۃِ وَقَدْ عَنَّانَا وَقَدْ مَلَلْنَا مِنْہُ فَقَالَ الْخَبِیثُ لَمَّا سَمِعَہَا وَأَیْضًا وَاللَّہِ لَتَمَلُّنَّہُ أَوْ لَتَمَلُّنَّ مِنْہُ وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَمْرَکُمْ سَیَصِیرُ إِلَی ہَذَا قَالَ إِنَّا لاَ نَسْتَطِیعُ أَنْ نُسْلِمَہُ حَتَّی نَنْظُرَ مَا فَعَلَ وَإِنَّا نَکْرَہُ أَنْ نَدَعَہُ بَعْدَ أَنِ اتَّبَعْنَاہُ حَتَّی نَنْظُرَ إِلَی أَیِّ شَیْئٍ یَصِیرُ أَمْرُہُ وَقَدْ جِئْتُکَ لِتُسْلِفَنِی تَمْرًا۔ قَالَ : نَعَمْ عَلَی أَنْ تَرْہَنُونِی نِسَائَ کُمْ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : نَرْہَنُکَ نِسَائَ نَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ ۔ قَالَ : فَأَوْلاَدَکُمْ ۔ قَالَ : فَیُعَیِّرُ النَّاسُ أَوْلاَدَنَا أَنَّا رَہَنَّاہُمْ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَیْنٍ وَرُبَّمَا قَالَ فَیُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَیُقَالُ رُہِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَیْنِ ۔ قَالَ : فَأَیَّ شَیْئٍ تَرْہَنُونِی ؟ قَالَ : نَرْہَنُکَ اللأْمَۃَ یَعْنِی السِّلاَحَ قَالَ : نَعَمْ فَوَاعَدَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ فَرَجَعَ مُحَمَّدٌ إِلَی أَصْحَابِہِ فَأَقْبَلَ وَأَقْبَلَ مَعَہُ أَبُو نَائِلَۃَ وَہُوَ أَخُو کَعْبٍ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَجَائَ مَعَہُ رَجُلاَنِ آخَرَانِ فَقَالَ : إِنِّی مُسْتَمْکِنٌ مِنْ رَأْسِہِ فَإِذَا أَدْخَلْتُ یَدِی فِی رَأْسِہِ فَدُونَکُمُ الرَّجُلَ فَجَائُ وہُ لَیْلاً وَأَمَرَ أَصْحَابَہُ فَقَامُوا فِی ظِلِّ النَّخْلِ وَأَتَاہُ مُحَمَّدٌ فَنَادَاہُ : یَا أَبَا الأَشْرَفِ ۔ فَقَالَتِ امْرَأَتُہُ : أَیْنَ تَخْرُجُ ہَذِہِ السَّاعَۃَ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَأَخِی أَبُو نَائِلَۃَ فَنَزَلَ إِلَیْہِ مُلْتَحِفًا فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ تَنْفَحُ مِنْہُ رِیحُ الطِّیبِ فَقَالَ لَہُ مُحَمَّدٌ : مَا أَحْسَنَ جِسْمَکَ وَأَطْیَبَ رِیحَکَ ۔ قَالَ : إِنَّ عِنْدِی ابْنَۃَ فُلاَنٍ وَہِیَ أَعْطَرُ الْعَرَبِ ۔ قَالَ : فَتَأْذَنُ لِی أَنْ أَشَمَّہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَأَدْخَلَ مُحَمَّدٌ یَدَہُ فِی رَأْسِہِ ثُمَّ قَالَ : أَتَأْذَنُ لِی أَنَ أُشِمَّہُ أَصْحَابِی ؟ قَالَ : نَعَمْ فَأَدْخَلَہَا فِی رَأْسِہِ فَأَشَمَّ أَصْحَابَہُ ثُمَّ أَدْخَلَہَا مَرَّۃً أُخْرَی فِی رَأْسِہِ حَتَّی أَمِنَہُ ثُمَّ إِنَّہُ شَبَّکَ یَدَہُ فِی رَأْسِہِ فَنَصَاہُ ثُمَّ قَالَ لأَصْحَابِہِ : دُونَکُمْ عَدُوَّ اللَّہِ فَخَرَجُوا عَلَیْہ فَقَتَلُوہُ ثُمَّ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ کِلاَہُمَا عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعب بن اشرف کے قتل کا بیان
(١٨١٠٣) موسیٰ بن عقبہ اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سلکان بن سلامہ نے اس سے معانقہ کیا اور اس نے کہا : تم مجھے اور اللہ کے دشمن کو قتل کر ڈالو وہ اسے اپنی تلواروں سے چھڑواتے رہے حتیٰ کہ ان میں سے ایک نے اس کے پیٹ میں تلوار گھونپ دی۔ اس کی رگیں باہر آگئیں۔ پھر انھوں نے اسے تلوار سے قتل کردیا جب وہ اسے چھڑوا رہے تھے اور سلکان نے اس کی گردن پکڑی ہوئی تھی تو عباد بن بشر کے چہرے یا ٹانگ میں زخم آگیا۔ انھیں اس کی خبر نہیں تھی۔ پھر وہ جلدی سے بھاگ نکلے۔ جب جرفِ بعاث پر پہنچے تو اپنے ساتھی کو گم پایا۔ وہ الٹے پاؤں پلٹے اور اسے جرف کے پیچھے پایا۔ پھر اسے اٹھایا اور رات کے وقت اپنے گھر پہنچے۔
(١٨١٠٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ قَالَ : فَعَانَقَہُ سِلْکَانُ بْنُ سَلاَمَۃَ وَقَالَ اقْتُلُونِی وَعَدُوَّ اللَّہِ فَلَمْ یَزَالُوا یَتَخَلَّصُونَ إِلَیْہِ بِأَسْیَافِہِمْ حَتَّی طَعَنَہُ أَحَدُہُمْ فِی بَطْنِہِ طَعْنَۃً بِالسَّیْفِ خَرَجَ مِنْہَا مُصْرَانُہُ وَخَلَصُوا إِلَیْہِ فَضَرَبُوہُ بِأَسْیَافِہِمْ وَکَانُوا فِی بَعْضِ مَا یَتَخَلَّصُونَ إِلَیْہِ وَسِلْکَانُ مُعَانِقُہُ أَصَابُوا عَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ فِی وَجْہِہِ أَوْ فِی رِجْلِہِ وَلاَ یَشْعُرُونَ ثُمَّ خَرَجُوا یَشْتَدُّونَ سِرَاعًا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِجُرْفِ بُعَاثٍ فَقَدُوا صَاحِبَہُمْ فَرَجَعُوا أَدْرَاجَہُمْ فَوَجَدُوہُ مِنْ وَرَائِ الْجُرْفِ فَاحْتَمَلُوہُ حَتَّی أَتَوْا بِہِ أَہْلَہُمْ مِنْ لَیْلَتِہِمْ ۔
وَذَکَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ قَالَ وَأُصِیبَ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسِ بْنِ مُعَاذٍ فَجُرِحَ فِی رَأْسِہِ وَرِجْلِہِ أَصَابَہُ بَعْضُ أَسْیَافِنَا۔ وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ ۔
وَذَکَرَ ابْنُ إِسْحَاقَ ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ قَالَ وَأُصِیبَ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسِ بْنِ مُعَاذٍ فَجُرِحَ فِی رَأْسِہِ وَرِجْلِہِ أَصَابَہُ بَعْضُ أَسْیَافِنَا۔ وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا
(١٨١٠٤) رباح بن ربیع (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا کہ دیکھو لوگ کس چیز پر جمع ہیں ؟ اس نے آ کر بتایا کہ ایک مقتولہ عورت پر جمع ہیں۔ اس نے کہا : یہ لڑائی کا ارادہ رکھتی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ مقدمہ پر حضرت خالد بن ولید تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو بھیجا اور فرمایا : خالد سے کہو کہ کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔
(١٨١٠٤) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقِّعِ بْنِ صَیْفِیٍّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّہِ رَبَاحِ بْنِ رَبِیعٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ فَرَأَی النَّاسَ مُجْتَمِعِینَ عَلَی شَیْئٍ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ : انْظُرْ عَلَی مَا اجْتَمَعَ ہَؤُلاَئِ ؟ ۔ فَجَائَ فَقَالَ : عَلَی امْرَأَۃٍ قَتِیلٍ فَقَالَ : مَا کَانَتْ ہَذِہِ لِتُقَاتِلَ ۔ قَالَ وَعَلَی الْمُقَدِّمَۃِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ : قُلْ لِخَالِدٍ لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَۃً وَلاَ عَسِیفًا ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا
(١٨١٠٥) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف میں ایک مقتولہ عورت دیکھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے عورتوں کے قتل سے منع نہیں کیا ؟ اس مقتولہ عورت کو کس نے قتل کیا ہے ؟ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے قتل کیا ہے میں نے اس کو اپنے پیچھے سوار کیا تھا۔ اس نے مجھے گرا کر قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دفن کردینے کا حکم فرمایا۔
(١٨١٠٥) وَفِیمَا رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ وُہَیْبٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأَی امْرَأَۃً مَقْتُولَۃً بِالطَّائِفِ فَقَالَ : أَلَمْ أَنْہَ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ ؟ مَنْ صَاحِبُ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ الْمَقْتُولَۃِ ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرْدَفْتُہَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْرَعَنِی فَتَقْتُلَنِی فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُوَارَی۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا
(١٨١٠٦) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا محاصرہ کیا تو اوپر سے ایک عورت نے جھانک کر کہا : (اس کا پردہ کھل گیا) تم ان پر تیر اندازی کرو تو ایک مسلمان نے تیر مارا جس کا نشانہ خطا نہ گیا۔ وہیب کی حدیث میں ہے کہ انھوں نے اس کو قتل کرنے میں غلطی نہ کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دفن کردینے کا حکم فرمایا۔
(١٨١٠٦) وَعَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ وُہَیْبٍ وَعَن سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ الطَّائِفِ أَشْرَفَتِ امْرَأَۃٌ فَکَشَفْتْ قُبُلَہَا فَقَالَتْ : ہَا دُونَکُمْ فَارْمُوا۔ فَرَمَاہَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَمَا أَخْطَأ ذَلِکَ مِنْہَا۔
وَفِی حَدِیثِ وُہَیْبٍ فَمَا أَخْطَأَہَا أَنْ قَتَلُوہَا فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُوَارَی۔
أَخْبَرَنَا بِہِمَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ الدَّاوُدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَیْنِ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ ]
وَفِی حَدِیثِ وُہَیْبٍ فَمَا أَخْطَأَہَا أَنْ قَتَلُوہَا فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُوَارَی۔
أَخْبَرَنَا بِہِمَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ الدَّاوُدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَیْنِ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا
(١٨١٠٧) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ کی صرف ایک عورت قتل کی۔ اللہ کی قسم ! وہ میرے پاس خوب ہنس رہی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے۔ اچانک آواز دینے والے نے اس کا نام لے کر آواز دی : فلاں عورت کہاں ہے ؟ اس نے کہا : میں ہوں۔ میں نے کہا : تجھے کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں قتل کردی جاؤں گی۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ اس نے کہا : ایسے کام کی وجہ سے جس کا میں سبب بنی، اس کو لے جا کر گردن اتار دی گئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : میں اس عجیب واقعہ کو نہیں بھولی کہ وہ اتنی خوش اور ہنس رہی تھی حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل کردی جائے گی۔ (ب) ابو عبدالرحمن بغدادی اپنے صحابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عورت تھی جس نے محمود بن مسلمہ پر چکی گرا کر قتل کردیا تھا جس کے عوض اس کو قتل کیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو کر اپنی قوم سے جا ملی، اس وجہ سے قتل کیا گیا اس کے علاوہ بھی احتمال ہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔
(١٨١٠٧) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - امْرَأَۃً مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ إِلاَّ امْرَأَۃً وَاحِدَۃً وَاللَّہِ إِنَّہَا لَعِنْدِی تَضْحَکُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیَقْتُلُ رِجَالَہُمْ بِالسُّوقِ إِذْ ہَتَفَ ہَاتِفٌ بِاسْمِہَا أَیْنَ فُلاَنَۃُ ؟ فَقَالَتْ : أَنَا وَاللَّہِ ۔ فَقُلْتُ : وَیْلَکِ مَا لَکِ ؟ فَقَالَتْ : أُقْتَلُ وَاللَّہِ ؟ قُلْتُ : وَلِمَ ؟ قَالَتْ : لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُہُ فَانْطُلِقَ بِہَا فَضُرِبَتْ عُنُقُہَا فَمَا أَنْسَی عَجَبًا مِنْہَا طِیبَۃَ نَفْسِہَا وَکَثْرَۃَ ضَحِکِہَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّہَا تُقْتَلُ ۔
ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ عَنْ أَصْحَابِہِ أَنَّہَا کَانَتْ دَلَّتْ عَلَی مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَۃَ دَلَّتْ عَلَیْہِ رَحًا فَقَتَلَتْہُ فَقُتِلَتْ بِذَلِکَ قَالَ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِہَا فَقَتَلَہَا لِذَلِکَ وَیُحْتَمَلُ غَیْرُ ذَلِکَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یَصِحَّ الْخَبَرُ لأَیِّ مَعْنًی قَتَلَہَا وَقَدْ قِیلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَۃَ قُتِلَ بِخَیْبَرَ وَلَمْ یُقْتَلْ یَوْمَ بَنِی قُرَیْظَۃَ ۔ [حسن ]
ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ عَنْ أَصْحَابِہِ أَنَّہَا کَانَتْ دَلَّتْ عَلَی مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَۃَ دَلَّتْ عَلَیْہِ رَحًا فَقَتَلَتْہُ فَقُتِلَتْ بِذَلِکَ قَالَ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِہَا فَقَتَلَہَا لِذَلِکَ وَیُحْتَمَلُ غَیْرُ ذَلِکَ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یَصِحَّ الْخَبَرُ لأَیِّ مَعْنًی قَتَلَہَا وَقَدْ قِیلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَۃَ قُتِلَ بِخَیْبَرَ وَلَمْ یُقْتَلْ یَوْمَ بَنِی قُرَیْظَۃَ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا
(١٨١٠٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی نکلا۔ اس نے اپنا اسلحہ پہن رکھا تھا اور رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا : اور کہہ رہا تھا کون میرا مقابلہ کرے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون اس کے مدمقابل آئے گا ؟ تو محمد بن مسلمہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں۔ انھوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔
(١٨١٠٨) وَاحْتَجَّ بِمَتْنِ الْحَدِیثِ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ أَحَدُ بَنِی حَارِثَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبٌ الْیَہُودِیُّ مِنْ حِصْنِ خَیْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلاَحَہُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ مَنْ یُبَارِزُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِہَذَا ؟ ۔ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا وَاللَّہِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِی بِالأَمْسِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْمَنْقُولُ عِنْدَنَا فِی قِصَّۃِ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ مَا۔ [حسن ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْمَنْقُولُ عِنْدَنَا فِی قِصَّۃِ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ مَا۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا
(١٨١٠٩) محمد بن سعد واقدی سے نقل فرماتے ہیں کہ خلاد بن سوید بن ثعلبہ خزرجی پر بنو قریظہ کی عورت نے چکی گرا کر اس کا سر کچل دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ ہوا تو فرمایا : اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔ پھر اس کے عوض رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو قتل کیا تھا اور خلاد بن سوید بدر، احد، خندق اور بنو قریظہ کے موقع پر حاضر ہوئے۔
(١٨١٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِیرٍ فِیمَا حَدَّثَہُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَالْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْوَاقِدِیِّ أَنَّہُمْ قَالُوا : إِنَّ خَلاَّدَ بْنَ سُوَیْدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْخَزْرَجِیَّ دَلَّتْ عَلَیْہِ فُلاَنَۃُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ رَحًا فَشَدَخَتْ رَأْسَہُ فَذُکِرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لَہُ أَجْرٌ شَہِیدَیْنِ ۔ فَقَتَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیمَا ذَکَرَ وَکَانَ خَلاَّدُ بْنُ سُوَیْدٍ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَأُحُدًا وَالْخَنْدَقَ وَبَنِی قُرَیْظَۃَ ۔
وَہَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَالْوَاقِدِیِّ مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]
وَہَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَالْوَاقِدِیِّ مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٠) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بویرہ نامی جگہ پر بنو نضیر کی کھجوریں جلائیں اور کاٹی تھیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی : { مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْہَا قَائِمَۃً عَلٰی اُصُولِہَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِیْنَ ۔ } [الحشر ٥] ” جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا، یہ اللہ کے حکم سے ہے تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل و رسوا کر دے۔ “
(١٨١١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِی الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا وَقَالُوا حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَرَّقَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَقَطَعَ وَہِیَ الْبُوَیْرَۃُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللَّہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ } [الحشر ٥] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقُتَیْبَۃَ وَابْنِ رُمْحٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا تَمِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا وَقَالُوا حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَرَّقَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَقَطَعَ وَہِیَ الْبُوَیْرَۃُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللَّہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ } [الحشر ٥] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَقُتَیْبَۃَ وَابْنِ رُمْحٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١١) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔
(١٨١١١) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی وَیُوسُفُ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَطَعَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَحَرَّقَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٢) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔ اس کے لیے حسان بن ثابت نے کہا تھا۔ کہ بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجوروں کو جلانا آسان ہے۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِیْنَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْہَا قَائِمَۃً عَلٰی اُصُولِہَا } [الحشر ٥] ” جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا۔ “
(١٨١١٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَطَعَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَحَرَّقَ وَلَہَا یَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ :
وَہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
وَفِی ہَذَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا } [الحشر ٥]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَنَّادِ بْنِ السَّرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
وَہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
وَفِی ہَذَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوہَا قَائِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا } [الحشر ٥]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَنَّادِ بْنِ السَّرِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٣) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کی بعض کھجوروں کے درخت جلا دیے اور بعض کاٹ دیے اس بارے میں یہ شعر بھی کہا گیا :
بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہوگیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔
بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درختوں کو جلانا آسان ہوگیا۔ تم نے اپنی ہنڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ بھی نہ تھا اور لوگوں کی ہنڈیاں جوش مار رہی تھیں۔
(١٨١١٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَرَّقَ بَعْضَ نَخْلِ بَنِی النَّضِیرِ وَقَطَعَ بَعْضًا وَقِیلَ فِی ذَلِکَ شِعْرٌ
وَہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ
حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
تَرَکْتُمْ قِدْرَکُمْ لاَ شَیْئَ فِیہَا
وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِیَۃٌ تَفُورُ
[صحیح۔ متفق علیہ ]
وَہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ
حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
تَرَکْتُمْ قِدْرَکُمْ لاَ شَیْئَ فِیہَا
وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِیَۃٌ تَفُورُ
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٤) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دیے۔ جس کے بارے میں حسان نے کہا تھا : ” بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درخت جلانے آسان ہوگئے۔ “
اس کا جواب ابو سفیان بن حارث نے دیا تھا۔
” اللہ کرے یہ کام جاری رہے اور آگ اس کے اطراف میں بھڑکی رہے۔ عنقریب تم لوگ جان لو گے کہ ہم میں سے کون بچا ہے اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی زمین کا نقصان ہوا ہے۔ “
اس کا جواب ابو سفیان بن حارث نے دیا تھا۔
” اللہ کرے یہ کام جاری رہے اور آگ اس کے اطراف میں بھڑکی رہے۔ عنقریب تم لوگ جان لو گے کہ ہم میں سے کون بچا ہے اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی زمین کا نقصان ہوا ہے۔ “
(١٨١١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو الْمُنْذِرِ : رَجَائُ بْنُ الْجَارُودِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَرَّقَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ قَالَ وَلَہَا یَقُولُ حَسَّانُ
ہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ
حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
قَالَ فَأَجَابَہُ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ
أَدَامَ اللَّہُ ذَلِکَ مِنْ صَنِیعٍ
وَحَرَّقَ فِی نَوَاحِیہَا السَّعِیرُ
سَتَعْلَمُ أَیُّنَا مِنْہَا بِنُزْہٍ
وَتَعْلَمُ أَیُّ أَرْضَیْنَا تَضِیرُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حَبَّانَ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
ہَانَ عَلَی سَرَاۃِ بَنِی لُؤَیٍّ
حَرِیقٌ بِالْبُوَیْرَۃِ مُسْتَطِیرُ
قَالَ فَأَجَابَہُ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ
أَدَامَ اللَّہُ ذَلِکَ مِنْ صَنِیعٍ
وَحَرَّقَ فِی نَوَاحِیہَا السَّعِیرُ
سَتَعْلَمُ أَیُّنَا مِنْہَا بِنُزْہٍ
وَتَعْلَمُ أَیُّ أَرْضَیْنَا تَضِیرُ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حَبَّانَ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٥) حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں ابنیٰ پر صبح کے وقت حملہ کروں اور ان کو جلا ڈالوں۔
(١٨١١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِی الأَخْضَرِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أُسَامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَمَرَنِی النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ أُغِیرَ عَلَی أُبْنَی صَبَاحًا وَأُحَرِّقَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٦) عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسہر سے سنا، اس سے کہا گیا : ابنیٰ ۔ اس نے کہا : ہم جانتے ہیں کہ یہ فلسطین میں ہے۔
(١٨١١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُسْہِرٍ قِیلَ لَہُ أُبْنَی قَالَ : نَحْنُ أَعْلَمُ ہِیَ یُبْنَی فِلَسْطِینَ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٧) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کے قلعے کے پاس اونچی جگہ پر پڑاؤ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا دس سے زیادہ راتیں محاصرہ فرمایا تو بنو ثقیف نے تیروں اور پتھروں سے لڑائی کی۔ وہ طائف کے قلعہ میں تھے۔ مسلمانوں اور بنو ثقیف کے زیادہ آدمی قتل ہوئے اور مسلمانوں نے بنو ثقیف کے انگوروں کے پودے غصہ دلانے کے لیے کاٹ ڈالے۔ عروہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ ہر شخص پانچ درخت کھجور یا پانچ پودے انگور کے کاٹ ڈالے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ زیادہ ہے اس کے پھل کھایا نہیں جاتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ درخت کاٹے جائیں جن کا پھل کھایا جاتا ہے، پہلے وہ کاٹو۔
(١٨١١٧) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالأَکَمَۃِ عِنْدَ حِصْنِ الطَّائِفِ فَحَاصَرَہُمْ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَقَاتَلَتْہُ ثَقِیفُ بِالنَّبْلِ وَالْحِجَارَۃِ وَہُمْ فِی حِصْنِ الطَّائِفِ وَکَثُرَتِ الْقَتْلَی فِی الْمُسْلِمِینَ وَفِی ثَقِیفَ وَقَطَعَ الْمُسْلِمُونَ شَیْئًا مِنْ کُرُومِ ثَقِیفَ لِیُغِیظُونَہُمْ بِذَلِکَ قَالَ عُرْوَۃُ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُسْلِمِینَ حِینَ حَاصَرُوا ثَقِیفَ أَنْ یَقْطَعَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَمْسَ نَخَلاَتٍ أَوْ حَبَلاَتٍ مِنْ کُرُومِہِمْ فَأَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہَا عَفَائُ لَمْ تُؤْکَلْ ثِمَارُہَا فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَقْطَعُوا مَا أُکِلَتْ ثَمَرَتُہُ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٨) موسیٰ بن عقبہ طائف کے غزوہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کے قلعہ کے پاس اونچی جگہ پر دس سے زیادہ راتیں پڑاؤ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے لڑائی کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے انگور کی بیلیں کاٹ ڈالیں ان کو غصہ دلانے کے لیے تو بنو ثقیف کہنے لگے : مالوں کو خراب نہ کرو، یہ ہمارے یا تمہارے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے قلعہ والوں کے مقابلہ کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے خیال میں ہم اس کو فتح نہ کر پائیں گے اور نہ ہی ابھی اجازت دی گئی ہے۔
(١٨١١٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ فِی غَزْوَۃِ الطَّائِفِ قَالَ : وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالأَکَمَۃِ عِنْدَ حِصْنِ الطَّائِفِ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً یُقَاتِلُہُمْ فَذَکَرَہُ قَالَ وَقَطَعُوا طَائِفَۃً مِنْ أَعْنَابِہِمْ لِیُغِیظُونَہُمْ بِہَا فَقَالَتْ ثَقِیفُ : لاَ تُفْسِدُوا الأَمْوَالَ فَإِنَّہَا لَنَا أَوْ لَکُمْ قَالَ وَاسْتَأْذَنَہُ الْمُسْلِمُونَ فِی مُنَاہَضَۃِ الْحِصْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: مَا أَرَی أَنْ نَفْتَحَہُ وَمَا أُذِنَ لَنَا فِیہِ الآنَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١١٩) ربیع فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کے لیے منجنیق نصب فرمائی۔
(١٨١١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : نَصَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی أَہْلِ الطَّائِفِ مَنْجَنِیقًا أَوْ عَرَّادَۃً ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١٢٠) ابو عبیدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے سترہ دن طائف والوں کا محاصرہ فرمایا اور ان کے لیے منجنیق نصب فرمائی۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ان پر اس حدیث کا انکار کیا گیا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : حدیث کی سند کے متصل ہونے کا انکار اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دن منجنیق سے پتھر پھینکنے کا انکار کیا گیا ہو۔ ابن ابی کثیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ ان پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے گئے۔ آپ نے انکار فرمایا اور فرمایا : میں اس کو نہیں پہچانتا۔
مکحول فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف پر منجنیق کو نصب فرمایا۔
شیخ فرماتے ہیں : حدیث کی سند کے متصل ہونے کا انکار اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس دن منجنیق سے پتھر پھینکنے کا انکار کیا گیا ہو۔ ابن ابی کثیر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ماہ تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ ان پر منجنیق کے ذریعہ پتھر برسائے گئے۔ آپ نے انکار فرمایا اور فرمایا : میں اس کو نہیں پہچانتا۔
مکحول فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف پر منجنیق کو نصب فرمایا۔
(١٨١٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو بَصْرِیٌّ وَکَانَ حَافِظًا حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفِ وَنَصَبَ عَلَیْہِمُ الْمَنْجَنِیقَ سَبْعَۃَ عَشَرَ یَوْمًا۔ قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ : وَکَانَ یُنْکَرُ عَلَیْہِ ہَذَا الْحَدِیثُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَکَأَنَّہُ کَانَ یُنْکَرُ عَلَیْہِ وَصْلُ إِسْنَادِہِ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ إِنَّمَا أُنْکِرَ رَمْیُہُمْ یَوْمَئِذٍ بِالْمَجَانِیقِ ۔ فَقَدْ رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی ہُوَ ابْنُ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ : حَاصَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَہْرًا۔ قُلْتُ : فَبَلَغَکَ أَنَّہُ رَمَاہُمْ بِالْمَجَانِیقِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ وَقَالَ : مَا نَعْرِفُ ہَذَا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ کَذَا قَالَ یَحْیَی أَنَّہُ لَمْ یَبْلُغْہُ وَزَعَمَ غَیْرُہُ أَنَّہُ بَلَغَہُ ۔ رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ مَکْحُولٍ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَصَبَ الْمَجَانِیقَ عَلَی أَہْلِ الطَّائِفِ وَقَدْ ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَکَأَنَّہُ کَانَ یُنْکَرُ عَلَیْہِ وَصْلُ إِسْنَادِہِ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ إِنَّمَا أُنْکِرَ رَمْیُہُمْ یَوْمَئِذٍ بِالْمَجَانِیقِ ۔ فَقَدْ رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی ہُوَ ابْنُ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ : حَاصَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - شَہْرًا۔ قُلْتُ : فَبَلَغَکَ أَنَّہُ رَمَاہُمْ بِالْمَجَانِیقِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ وَقَالَ : مَا نَعْرِفُ ہَذَا۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ کَذَا قَالَ یَحْیَی أَنَّہُ لَمْ یَبْلُغْہُ وَزَعَمَ غَیْرُہُ أَنَّہُ بَلَغَہُ ۔ رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ مَکْحُولٍ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَصَبَ الْمَجَانِیقَ عَلَی أَہْلِ الطَّائِفِ وَقَدْ ذَکَرَہُ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক: