আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২৬১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی دونوں کے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کا بیان
(٢٦١٤) حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ جب آپ (رض) سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ أَقُومُ وَأَقْعُدُبھی پڑھتے۔ ” اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔ اے اللہ ! تیری طاقت اور قوت کے سبب میں کھڑا ہوتا ہوں اور بیٹھتا ہوں۔ “
(۲۶۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصْبَہَانِیُّ التَّاجِرُ بِالرَّیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ کَانَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ قَالَ: اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، اللَّہُمَّ بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ أَقُومُ وَأَقْعُدُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۲۵۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی دونوں کے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کا بیان
(٢٦١٥) سعید بن ابی سعید سے روایت ہے کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے جماعت کرواتے ہوئے سنا کہ آپ (رض) نے (رکوع سے اٹھ کر) سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تیرے لیے ہی تعریف ہے۔ “ پھر اللہ اکبر کہا۔ آپ (رض) کلمات اونچی آواز میں کہتے اور ہم بھی آپ کی اتباع میں کہتے۔
(۲۶۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ التَّاجِرُ بِالرَّیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ: أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَہُوَ إِمَامٌ لِلنَّاسِ فِی الصَّلاَۃِ یَقُولُ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، اللَّہُ أَکْبَرُ۔ یَرْفَعُ بِذَلِکَ صَوْتَہُ وَنُتَابِعُہُ مَعًا۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابن عبدالرزاق ۲۹۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی دونوں کے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کا بیان
(٢٦١٦) (ا) ابن عون سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ” اللہ نے اس کی دعا سن لی جس نے اس کی تعریف کی “ کہے تو اس کے پیچھے والے کہیں : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اَللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ” اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تعریفیں تیرے ہی واسطے ہیں۔ “

(ب) ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے روایت ہے کہ وہ امام کے پیچھے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی “ کہتے۔

(ج) عطاء کہتے ہیں کہ میرے نزدیک محبوب عمل یہ ہے کہ امام سمیت ان کو جمع کرے۔
(۲۶۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ

قَالَ مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ قَالَ مَنْ خَلْفُہُ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔

وَرُوِیَ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی: أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ خَلْفَ الإِمَامِ: سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔

وَقَالَ عَطَاء ٌ یَجْمَعُہُمَا مَعَ الإِمَامِ أَحَبُّ إِلَیَّ۔ وَرُوِیَ فِیہِ حَدِیثَانِ ضَعِیفَانِ قَدْ خَرَّجْتُہُمَا فِی الْخِلاَفِ۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۲۶۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کے صرف ربنا لک الحمد کہنے کے قائلین کے دلائل
(٢٦١٧) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی “ کہے تو تم کہو : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ” اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ “ جس کی بات فرشتوں کی بات کے موافق ہوگئی تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔
(۲۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی الْقَعْنَبِیَّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سُمَیٍّ عَنْ أَبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّہُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلاَئِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح۔ وقد تقدم وہو متفق علیہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کے صرف ربنا لک الحمد کہنے کے قائلین کے دلائل
(٢٦١٨) (ا) حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں نماز سکھائی اور اس کا طریقہ ہمارے لیے بیان کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو درست کرلیا کرو۔ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ { غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ } [الفاتحہ ] کہے تو تم آمین کہو۔ اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا اور جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم رکوع کرو، کیونکہ امام تکبیر بھی تم سے پہلے کہتا ہے اور رکوع سے سر بھی تم سے پہلے اٹھائے گا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقتدی اس کے ساتھ ساتھ چلے اور جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم کہو رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے ہمارے رب ! تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں۔ “ اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔

(ب) زہدم جرمی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تو انھوں نے ہمیں فرمایا : جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اس کی اتباع میں اللہ اکبر کہو اور جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے ہوئے سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم بھی اس کے مثل کہو۔
(۲۶۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیِّ: أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَلَّی بِالنَّاسِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا ، وَبَیَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا فَقَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتُمْ فَأَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ ، فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ {غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَ} فَقُولُوا آمِینَ یُجِبْکُمُ اللَّہُ ، وَإِذَا کَبَّرَ فَرَکَعَ فَکَبِّرُوا وَارْکَعُوا ، فَإِنَّ الإِمَامَ یُکَبِّرُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ))۔ فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : ((فَتِلْکَ بِتِلْکَ ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ یُجِبْکُمُ اللَّہُ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

وَرَوَاہُ عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَطَرٍ عَنْ زَہْدَمٍ الْجَرْمِیِّ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ فَقَالَ لَنَا: إِذَا قَالَ الإِمَامُ اللَّہُ أَکْبَرُ فَقُلِ اللَّہُ أَکْبَرُ فَتِلْکَ بِتِلْکَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُلْ مِثْلَہَا فَتِلْکَ بِتِلْکَ۔ وَالرِّوَایَۃُ الصَّحِیحَۃُ ہِیَ الرِّوَایَۃُ الأُولَی۔

[صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۶۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کے صرف ربنا لک الحمد کہنے کے قائلین کے دلائل
(٢٦١٩) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے پر سوار ہوئے تھے کہ اس سے گرگئے اور آپ کا دایاں پہلو مبارک زخمی ہوگیا۔ آپ نے ایک نماز ہمیں بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز پڑھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ تم امام سے اختلاف نہ کیا کرو۔ جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ کہے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ” اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی “ تو تم کہو : رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ” اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں “ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
(۲۶۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَکِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْہُ ، فَجُحِشَ شِقُّہُ الأَیْمَنُ ، فَصَلَّی لَنَا صَلاَۃً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَصَلَّیْنَا مَعَہُ جُلُوسًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ ، فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَیْہِ ، فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِیَامًا ، وَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِینَ))۔

مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کے صرف ربنا لک الحمد کہنے کے قائلین کے دلائل
(٢٦٢٠) سیدنا عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جب امام سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ” اللہ نے اس کی دعا سن لی جس نے اس کی تعریف کی “ کہے تو اس کے مقتدی رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ” اے پروردگار ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں “ کہیں۔
(۲۶۲۰) وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّاجِرُ بِالرَّیِّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَلْیَقُلْ مَنْ خَلْفَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۹۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٢٦٢١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے ، پھر مکمل حدیث میں اس شخص کا قصہ ذکر کیا جو مسجد میں داخل ہوا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سر کو اس طرح اٹھا کہ تو بالکل سیدھا کھڑا ہوجائے۔
(۲۶۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ وَعُبَیْدُ اللَّہِ الْجُشَمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ الْمَسْجِدَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ الدَّاخِلِ وَفِیہِ: ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا ۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۲۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٢٦٢٢) جناب ابو قلابہ (رض) حضرت مالک بن حویرث (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک دن فرمایا اور یہ نماز کے وقت کے علاوہ کوئی وقت تھا۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کیسی تھی ؟ پھر آپ (رض) کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع بھی دیر تک کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو (کچھ دیر) کے لیے سیدھے کھڑے رہے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں کہ مالک نے ہمارے شیخ ابو یزید کی طرح نماز پڑھی۔ ابویزید جب دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے تو (فوراً کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ) بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔
(۲۶۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ قَالَ یَوْمًا وَذَلِکَ فِی غَیْرِ وَقْتِ صَلاَۃٍ: أَلاَ أُرِیکُمْ کَیْفَ کَانَ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَامَ فَأَمْکَنَ الْقِیَامَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَمْکَنَ الرُّکُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَانْتَصَبَ قَائِمًا ہُنَیْئَۃً۔ قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ: صَلَّی بِنَا صَلاَۃَ شَیْخِنَا ہَذَا أَبِی بُرَیْدٍ، وَکَانَ أَبُو بُرَیْدٍ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ الأَخِیرَۃِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الأُولَی اسْتَوَی قَاعِدًا ثُمَّ نَہَضَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، أَبُو بُرَیْدٍ بِالْبَائِ وَالرَّائِ ہُوَ عَمْرُو بْنُ سَلِمَۃَ الْجَرْمِیُّ ، کَنَّاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بِذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٢٦٢٣) (ا) محمد بن عمرو بن عطا سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی ایک جماعت میں بیٹھے تھے ۔ پھر انھوں نے ابوحمید ساعدی (رض) سے منقول مکمل حدیث ذکر کی جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ ابو حمید (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ پیٹھ کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آگیا۔

(ب) عبدالحمید بن جعفر نے محمد بن عمرو بن عطا سے اس کو نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر ہڈی مبارک اپنی جگہ پر اعتدال سے آجاتی۔
(۲۶۲۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ : أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ فِی صِفَۃِ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ اسْتَوَی حَتَّی یَعُودَ کُلُّ فَقَارٍ مَکَانَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ۔

وَرَوَاہُ عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: حَتَّی یَعُودَ کُلُّ عَظْمٍ مِنْہُ إِلَی مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلاً۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٢٦٢٤) ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا انس (رض) ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا طریقہ بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے ہوئے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہمیں گمان ہوتا شاید آپ بھول گئے۔
(۲۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ: کَانَ أَنَسٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَنْعَتُ لَنَا صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَکَانَ یُصَلِّی فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَامَ حَتَّی نَقُولَ قَدْ نَسِیَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٢٦٢٥) ثابت بنانی فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا انس بن مالک (رض) نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسی نماز پڑھاؤں گا جس طرح آپ ہمیں پڑھاتے تھے۔ حماد کہتے ہیں کہ ثابت نے فرمایا : حضرت انس (رض) ہمیں جیسی نماز پڑھاتے تھے، تم ویسی نہیں پڑھتے۔ آپ (رض) جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے رہتے حتیٰ کہ گمان ہونے لگتا کہ آپ بھول چکے ہیں اور جب سجدے سے اٹھ کر بیٹھتے تو بھی گمان ہوتا کہ شاید آپ بھول چکے ہیں۔
(۲۶۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ: عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ الزَّاہِدُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ: أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِّیُّ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ قَالَ قَالَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: إِنِّی لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّیَ بِکُمْ کَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی بِنَا۔ قَالَ حَمَّادٌ قَالَ ثَابِتٌ: وَکَانَ أَنَسٌ یَصْنَعُ بِنَا شَیْئًا لاَ أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَہُ ، کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا ، حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِیَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ اسْتَوَی جَالِسًا حَتَّی یَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِیَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ کِلاَہُمَا عَنْ حَمَّادٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے کھڑے ہونے کی کیفیت کا بیان
(٢٦٢٦) (ا) حکم فرماتے ہیں کہ کوفہ میں ایک شخص حاکم ہوا۔ اس کا نام زمن بن اشعث تھا۔ اس نے ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، آپ (رض) نماز پڑھاتے ہوئے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ۔۔۔ ” اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! تیرے ہی لیے تعریف ہے جس سے آسمان اور زمین بھر جائیں اور ان کے بعد جو چیز تو چاہے بھر جائے۔ اے تعریف اور بزرگی کے لائق ! جس کو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ کسی شان والے کو اس کی شان تیرے ہاں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ “ حکم کہتے ہیں : میں نے یہ بات عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے کہا : میں نے براء بن عازب (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز میں قیام اور رکوع اور رکوع سے اٹھنے کے بعد اور سجدے اور سجدوں کے درمیان کا جلسہ، ان تمام حالتوں کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا تھا۔

(ب) شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمرو بن مرہ کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا ہے پر اس کی نماز اس طرح نہیں تھی۔
(۲۶۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ

(ح) وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: غَلَبَ عَلَی الْکُوفَۃِ رَجُلٌ قَدْ سَمَّاہُ زَمَنَ ابْنِ الأَشْعَثِ ، فَأَمَرَ أَبَا عُبَیْدَۃَ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَکَانَ یُصَلِّی ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ: اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، أَہْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ ، لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ قَالَ الْحَکَمُ: فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی فَقَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ یَقُولُ: کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَرُکُوعُہُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ وَسُجُودُہُ وَمَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ قَرِیبًا مِنَ السَّوَائِ ۔

قَالَ شُعْبَۃُ فَذَکَرْتُہُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ فَقَالَ: قَدْ رَأَیْتُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی فَلَمْ تَکُنْ صَلاَتُہُ کَذَا۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَمْرٍو۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۲۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٦٢٧) ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے کے لیے جھکتے ہوئے تکبیر کہتے۔
(۲۶۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ: ثُمَّ یُکَبِّرُ حِینَ یَہْوِی سَاجِدًا۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۰۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں سے پہلے (زمین پر ) گھٹنے رکھنے کا بیان
(٢٦٢٨) حضرت وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر ٹکتے (لگتے) اور جب اٹھتے تو گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھالیتے۔
(۲۶۲۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا سَجَدَ تَقَعُ رُکْبَتَاہُ قَبْلَ یَدَیْہِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ۔

[منکر۔ اخرجہ الترمذی ۲۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں سے پہلے (زمین پر ) گھٹنے رکھنے کا بیان
(٢٦٢٩) (ا) عبدالجبار اپنے والد وائل بن حجر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور اللہ اکبر کہتے، پھر اپنے ہاتھ کپڑے میں لپیٹ لیتے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھتے۔ جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اس طرح کرتے ، پھر انھوں نے اپنے ہاتھ کپڑے سے باہر نکالے ، پھر رفع یدین کیا اور تکبیر کہی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدے کا ارادہ کرتے تو آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر لگ چکے ہوتے۔ جب سجدہ کرتے تو آپ کی پیشانی دونوں ہاتھوں کے درمیان ہوتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغلوں کو کشادہ رکھتے۔

(ب) ہمام کہتے ہیں : پھر جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں پر اٹھتے اور اپنی رانوں کا سہارا لیتے ۔
(۲۶۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : کَانَ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلاَۃِ رَفَعَ یَدَیْہِ وَکَبَّرَ ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِہِ وَوَضَعَ الْیُمْنَی عَلَی الْیُسْرَی ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ قَالَ ہَکَذَا بِثَوْبِہِ وَأَخْرَجَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ رَفَعَہُمَا وَکَبَّرَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ وَقَعَتْ رُکْبَتَاہُ عَلَی الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ کَفَّاہُ ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْہَتَہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ وَجَافَی عَنْ إِبْطَیْہِ۔

وَقَالَ ہَمَّامٌ وَحَدَّثَنَا شَقِیقٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ مِثْلَ ہَذَا۔

قَالَ وَفِی حَدِیثِ أَحَدِہِمَا قَالَ ہَمَّامٌ وَأَکْبَرُ عِلْمِی أَنَّہُ فِی حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَۃَ: فَإِذَا نَہَضَ نَہَضَ عَلَی رُکْبَتَیْہِ وَاعْتَمَدَ عَلَی فَخِذَیْہِ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ۔

[ضعیف۔ اخرجہ احمد ۱۸۳۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں سے پہلے (زمین پر ) گھٹنے رکھنے کا بیان
(٢٦٣٠) (ا) عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر ٹک چکے ہوتے تھے۔
(۲۶۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا شَقِیقٌ أَبُو اللَّیْثِ قَالَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا سَجَدَ وَقَعَتْ رُکْبَتَاہُ إِلَی الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ کَفَّاہُ۔

قَالَ عَفَّانُ: وَہَذَا الْحَدِیثُ غَرِیبٌ۔ (ت) وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ شَرِیکٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ: ہَذَا حَدِیثٌ یُعَدُّ فِی أَفْرَادِ شَرِیکٍ الْقَاضِی ، وَإِنَّمَا تَابَعَہُ ہَمَّامٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ مُرْسَلاً۔ ہَکَذَا ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُ مِنَ الْحُفَّاظِ الْمُتَقَدِّمِینَ رَحِمَہُمُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [ضعیف جدا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں سے پہلے (زمین پر ) گھٹنے رکھنے کا بیان
(٢٦٣١) سیدنا وائل بن حجر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی۔۔۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور سجدہ میں جاتے وقت سب سے پہلے آپ کے گھٹنے زمین پر لگے تھے۔
(۲۶۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ عَنْ عَبْدِالْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أُمِّہِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ سَجَدَ ، وَکَانَ أَوَّلَ مَا وَصَلَ إِلَی الأَرْضِ رُکْبَتَاہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں سے پہلے (زمین پر ) گھٹنے رکھنے کا بیان
(٢٦٣٢) (ا) حضرت انس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ، آپ نے تکبیر کہی تو اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں تک اٹھایا۔ پھر رکوع کیا حتیٰ کہ ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ ٹھہر گیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہر جوڑ اپنی جگہ سیدھا ہوگیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں گئے حتیٰ کہ آپ کے گھٹنے آپ کے ہاتھوں سے پہلے زمین پر لگے۔

(ب) عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے عمل سے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے کا بیان۔
(۲۶۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَبَّرَ فَحَاذَی بِإِبْہَامَیْہِ أُذُنَیْہِ ، ثُمَّ رَکَعَ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ مَفْصَلٍ مِنْہُ فِی مَوْضِعِہِ ، وَرَفَعَ رَأْسَہُ حَتَّی اسْتَقَرَّ کُلُّ مَفْصَلٍ مِنْہُ فِی مَوْضِعِہِ ، ثُمَّ انْحَطَّ بِالتَّکْبِیرِ حَتَّی سَبَقَتْ رُکْبَتَاہُ یَدَیْہِ۔

تَفَرَّدَ بِہِ الْعَلاَئُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔

وَرُوِّینَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فِی وَضْعِ الرُّکْبَتَیْنِ قَبْلَ الْیَدَیْنِ مِنْ فِعْلِہِمَا۔

[منکر۔ اخرجہ الدار قطنی فی سننہ ۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے کے قائلین کا بیان
(٢٦٣٣) (ا) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے پھر اپنے گھٹنے ۔

(ب) ابوداؤد کی روایت ہے کہ مجھے محمد بن عبداللہ بن حسن نے خبر دی کہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے رکھے۔
(۲۶۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُکْبَرِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یَبْرُکْ کَمَا یَبْرُکُ الْبَعِیرُ ، وَلْیَضَعْ یَدَیْہِ ثُمَّ رُکْبَتَیْہِ))۔

وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَسَنِ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: ((وَلْیَضَعْ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ))۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ غَیْرُہُمَا عَنْ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۸۷۳۲]
tahqiq

তাহকীক: