আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১১৬ টি
হাদীস নং: ২৪৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں بھی قراءت واجب ہے
(٢٤٧٤) حضرت عطا سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : جب تو امام ہو تو ہلکی نماز پڑھا۔ کیونکہ لوگوں میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں اور جب تو اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو جتنی لمبی کرسکتا ہے کرلیا کر۔ ہر رکعت میں قراءت کر۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ہمیں سنایا وہ ہم نے تمہیں سنا دیا اور جو ہم سے پوشیدہ رکھا وہ ہم نے بھی آپ سے پوشیدہ رکھی۔ ایک شخص نے ان سے پوچھا : اگر میں سورة فاتحہ سے زیادہ کچھ نہ پڑھوں تو کیا درست ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : اگر تو اس سے زیادہ پڑھ لے تو بہتر ہے اور اگر اسی پر اکتفا کرے تو بھی تیری نماز ہوجائے گی۔
(۲۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِذَا کُنْتَ إِمَامًا فَخَفَّفْ ، فَإِنَّ فِی النَّاسِ الْکَبِیرَ وَالضَّعِیفَ وَذَا الْحَاجَۃِ ، وَإِذَا صَلَّیْتَ وَحْدَکَ فَطَوِّلْ مَا بَدَا لَکَ ، وَفِی کُلِّ صَلاَۃٍ اقْرَأْ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَسْمَعْنَاکُمْ ، وَمَا أَخْفَی عَنَّا أَخْفَیْنَا عَنْکُمْ۔ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: أَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَی أُمِّ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: إِنْ زِدْتَ عَلَیْہَا فَہُوَ خَیْرٌ ، وَإِنِ انْتَہَیْتَ إِلَیْہَا أَجْزَأَ عَنْکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ دُونَ مَا فِی أَوَّلِہِ مِنَ الأَمْرِ بِالتَّخْفِیفِ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پر اکتفا کرنے کا بیان
(٢٤٧٥) عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں مزید بھی پڑھتے تھے اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور جتنی لمبی پہلی رکعت کرتے اتنی لمبی دوسری نہیں کرتے تھے۔
(۲۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ وَأَبَانُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ وَیُسْمِعُنَا الآیَۃَ أَحْیَانًا وَیَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُخْرَیَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۶]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پر اکتفا کرنے کا بیان
(٢٤٧٦) (ا) یزید فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ کی قراءت بھی کی جائے اور کوئی دوسری سورت بھی اور بعد والی دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ کی قراءت کی جائے گی۔ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی البتہ مزید بھی پڑھ سکتے ہیں۔
(۲۴۷۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ الْفَقِیرُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ: یُقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ یَعْنِی الأُولَیَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَسُورَۃٍ ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ۔ قَالَ: وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ فَمَا فَوْقَ ذَاکَ ، أَوْ قَالَ مَا أَکْثَرَ مِنْ ذَاکَ۔
وَرُوِّینَا مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۳۶۳۳]
وَرُوِّینَا مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۳۶۳۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ کے بعد مزید سورت پڑھنا مستحب ہے
(٢٤٧٧) (ا) حضرت ابوسعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر کی نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام سے اندازہ لگایا کرتے تھے کہ آپ نے دونوں رکعتوں میں کتنی قراءت کی، ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنا قیام فرماتے جتنی دیر میں سورت سجدہ کی تلاوت کی جاسکے اور آخری دو رکعتوں میں آپ کا قیام پہلی دو کے نصف کے برابر تھا۔ پھر ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا تو یہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کی قراءت کے برابر تھا اور عصر کی پچھلی دو رکعتوں میں عصر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر۔
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے : تیس آیات کی قراءت کے برابر۔
(ب) مسدد کی حدیث میں ہے : تیس آیات کی قراءت کے برابر۔
(۲۴۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِیدِ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نَحْزِرُ قِیَامَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، فَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ {الم تَنْزِیلُ} السَّجْدَۃِ ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ نِصْفٍ مِنْ ذَلِکَ ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ قِیَامِہِ فِی الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَفِی حَدِیثِ مُسَدَّدٍ: عَلَی قَدْرِ ثَلاَثِینَ آیَۃً۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۷۷۵۵، مسلم]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِیدِ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نَحْزِرُ قِیَامَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، فَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ {الم تَنْزِیلُ} السَّجْدَۃِ ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ نِصْفٍ مِنْ ذَلِکَ ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ قِیَامِہِ فِی الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَفِی حَدِیثِ مُسَدَّدٍ: عَلَی قَدْرِ ثَلاَثِینَ آیَۃً۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
[صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ ۷۷۵۵، مسلم]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ کے بعد مزید سورت پڑھنا مستحب ہے
(٢٤٧٨) سیدنا ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریباً تیس آیات کی بقدر قراءت کرتے تھے اور ظہر کی آخری دو رکعتوں میں پندرہ آیات کی بقدر یا اس کے نصف کے برابر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتوں میں اس کے نصف کے برابر۔
(۲۴۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِیدِ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیَّ -ﷺ- : کَانَ یَقْرَأُ فِی صَلاَۃِ الظُّہْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ ثَلاَثِینَ آیَۃً ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشَرَۃَ آیَۃً - أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِکَ - وَفِی الْعَصْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَۃَ آیَۃً ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۵۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ کے بعد مزید سورت پڑھنا مستحب ہے
(٢٤٧٩) قیس بن حارث فرماتے ہیں کہ مجھے ابو عبداللہ صنابحی نے خبر دی کہ وہ ابوبکر صدیق (رض) کے دور خلافت میں مدینہ منورہ آئے۔ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کی۔ آپ (رض) نے پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور چھوٹی سورتوں میں سے ایک ایک سورة کی قرات کی، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں ان کے قریب ہوگیا حتیٰ کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مس ہوا چاہتے تھے۔ میں نے سنا ، انھوں نے سورة فاتحہ پڑھی اور یہ آیت پڑھی۔ { رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ } [آل عمران : ٨] ” اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ “
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ روایت سنی تو فرمایا : سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔
ابوسعید نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ روایت سنی تو فرمایا : سننے سے پہلے اس پر میرا عمل نہ تھا، اب میں نے سن لیا ہے تو اس پر عمل کروں گا۔
(۲۴۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ نُسَیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ قَیْسَ بْنَ الْحَارِثِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیُّ: أَنَّہُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَصَلَّی وَرَائَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ الْمَغْرِبَ ، فَقَرَأَ أَبُو بَکْرٍ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ سُورَۃٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّالِثَۃِ - قَالَ - فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتَّی إِنَّ ثِیَابِی لَتَکَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِیَابَہُ ، فَسَمِعْتُہُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَہَذِہِ الآیَۃِ {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ: لَمَّا سَمِعَ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِہَذَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِنْ کُنْتُ لَعَلَی غَیْرِ ہَذَا حَتَّی سَمِعْتُ بِہَذَا فَأَخَذْتُ بِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک وعنہ الشافعی فی الام ۷/ ۲۰۷۔ ۲۲۸]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَنَّ عُبَادَۃَ بْنَ نُسَیٍّ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ قَیْسَ بْنَ الْحَارِثِ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیُّ: أَنَّہُ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، فَصَلَّی وَرَائَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ الْمَغْرِبَ ، فَقَرَأَ أَبُو بَکْرٍ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ سُورَۃٍ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، ثُمَّ قَامَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّالِثَۃِ - قَالَ - فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتَّی إِنَّ ثِیَابِی لَتَکَادُ أَنْ تَمَسَّ ثِیَابَہُ ، فَسَمِعْتُہُ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَہَذِہِ الآیَۃِ {رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَالَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ: لَمَّا سَمِعَ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِہَذَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: إِنْ کُنْتُ لَعَلَی غَیْرِ ہَذَا حَتَّی سَمِعْتُ بِہَذَا فَأَخَذْتُ بِہِ۔
[صحیح۔ اخرجہ مالک وعنہ الشافعی فی الام ۷/ ۲۰۷۔ ۲۲۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعد والی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ کے بعد مزید سورت پڑھنا مستحب ہے
(٢٤٨٠) سیدنا نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) جب اکیلے نماز پڑھتے تو چاروں رکعات میں قراءت کرتے، ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی دوسری سورت بھی ملاتے اور کبھی کبھار فرض نماز کی ایک ایک رکعت میں دو دو اور تین سورتیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح مغرب کی دو رکعتوں میں بھی سورة فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے۔
امام شافعی (رح) نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔
امام شافعی (رح) نے مغرب کا ذکر نہیں کیا۔
(۲۴۸۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا صَلَّی وَحْدَہُ یَقْرَأُ فِی الأَرْبَعِ جَمِیعًا فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ ، وَکَانَ أَحْیَانًا یَقْرَأُ بِالسُّورَتِینِ وَالثَّلاَثِ فِی الرَّکْعَۃِ الْوَاحِدَۃِ فِی صَلاَۃِ الْفَرِیضَۃِ ، وَیَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ کَذَلِکَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ سُورَۃٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَلَمْ یَذْکُرِ الشَّافِعِیُّ الْمَغْرِبَ۔ [صحیح۔ موطا ۱۷۵]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا صَلَّی وَحْدَہُ یَقْرَأُ فِی الأَرْبَعِ جَمِیعًا فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ ، وَکَانَ أَحْیَانًا یَقْرَأُ بِالسُّورَتِینِ وَالثَّلاَثِ فِی الرَّکْعَۃِ الْوَاحِدَۃِ فِی صَلاَۃِ الْفَرِیضَۃِ ، وَیَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ کَذَلِکَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَۃٍ سُورَۃٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَلَمْ یَذْکُرِ الشَّافِعِیُّ الْمَغْرِبَ۔ [صحیح۔ موطا ۱۷۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتیں لمبی اور پچھلی دو رکعتیں ہلکی کرنے کے سنت ہونے کا بیان
(٢٤٨١) سیدنا جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سعد بن وقاص (رض) سے فرمایا : اہل کوفہ نے ہر بات میں تمہاری شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز میں بھی۔
(۲۴۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو: شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی عَوْنٍ: مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِنَّ أَہْلَ الْکُوفَۃِ قَدْ شَکَوْکَ فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی فِی الصَّلاَۃِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتیں لمبی اور پچھلی دو رکعتیں ہلکی کرنے کے سنت ہونے کا بیان
(٢٤٨٢) (ا) ابوعون سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن سمرہ (رض) سے سنا کہ سیدنا عمر (رض) نے سعد (رض) سے فرمایا : اہل کوفہ نے ہر بات میں حتیٰ کہ نماز میں بھی تیری شکایت کی ہے۔ انھوں نے عرض کیا : میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور آخری دو رکعتیں مختصر کر کے پڑھتا ہوں اور یہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز سے لیا ہے، اس میں کس قسم کی کمی بیشی نہیں کرتا۔ عمر فاروق (رض) نے فرمایا : آپ نے سچ فرمایا، تم سے یہی گمان تھا۔
(ب) شبابہ کی حدیث میں ہے کہ میں انھیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو اسحاق ! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔
(ب) شبابہ کی حدیث میں ہے کہ میں انھیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو اسحاق ! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔
(۲۴۸۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَاللَّفْظُ لِسُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: قَدْ شَکَوْکَ فِی کُلِّ شَیْئٍ حَتَّی الصَّلاَۃِ۔ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِی الأُولَیَیْنِ ، وَأَحْذِفُ فِی الأُخْرَیَیْنِ ، وَلاَ آلُوَ مَا اقْتَدَیْتُ بِہِ مِنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ۔ قَالَ: صَدَقْتَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ۔ وَفِی حَدِیثِ شَبَابَۃَ: فَأَمُدُّ بِہِمْ فِی الأُولَیَیْنِ ، وَأَحْذِفُ بِہِمْ فِی الأُخْرَیَیْنِ۔ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَقَالَ: ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ وقد تقدم فی الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتیں لمبی اور پچھلی دو رکعتیں ہلکی کرنے کے سنت ہونے کا بیان
(٢٤٨٣) حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی شکایت حضرت عمر (رض) سے کی۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں معزول کردیا اور عمار (رض) کو کوفہ والوں کا حاکم بنایا۔ کوفہ والوں نے سعد (رض) کی کئی شکایتیں کیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ حضرت عمر (رض) نے سعد (رض) کو بلا بھیجا اور کہا : اے ابواسحق ! کوفہ کے لوگ کہتے ہیں : تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے۔ انھوں نے عرض کیا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان کو اسی طرح نماز پڑھاتا تھا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے اس میں ذرا کوتاہی نہیں کی۔ میں عشا کی نماز پڑھاتا ہوں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور بعد والی دو رکعتوں کو ہلکا کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے ابواسحق ! تم سے یہی گمان تھا۔
حضرت عمر (رض) نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سعد (رض) کی شکایات دریافت کریں۔ انھوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سعد (رض) کے بارے نہ پوچھا ہو۔ سب نے ان کی تعریف ہی کی ۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اس کی کنیت ابوسعدہ تھی۔ اس نے کہا : جب تم ہمیں قسم دیتے ہو تو سچ یہ ہے کہ سعد (رض) کسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مال غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے تھے۔
سعد (رض) نے یہ سن کر کہا : خدا کی قسم ! میں تیرے لیے تین بددعائیں کروں گا۔ ” اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور مدت تک اس کو فقر سے دو چار رکھ اور فتنوں میں مبتلا رکھ۔ پھر اس شخص کا یہی حال ہوا، اس کے بعد جب اس سے کوئی حال پوچھتا تو کہتا : میں ایک بوڑھا ہوں، میرا یہ حال سعد (رض) کی بددعا کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں : میں نے بھی اس کو دیکھا تھا، اتنا بوڑھا ہوگیا تھا کہ اس کی ابروئیں آنکھوں پر آگئیں تھیں اور وہ راستوں میں کھڑا ہو کر دو شیزاؤں کو آنکھیں مارتا تھا۔
حضرت عمر (رض) نے ان کے ساتھ ایک یا چند آدمی روانہ کر کے کہا کہ کوفہ والوں سے سعد (رض) کی شکایات دریافت کریں۔ انھوں نے کوئی مسجد نہ چھوڑی جہاں سعد (رض) کے بارے نہ پوچھا ہو۔ سب نے ان کی تعریف ہی کی ۔ پھر بنی عبس کی مسجد میں گئے، وہاں ایک شخص کھڑا ہوا جس کو اسامہ بن قتادہ کہتے تھے اس کی کنیت ابوسعدہ تھی۔ اس نے کہا : جب تم ہمیں قسم دیتے ہو تو سچ یہ ہے کہ سعد (رض) کسی فوج کے ساتھ لڑائی کے لیے نہیں جاتے تھے اور مال غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور جھگڑے میں انصاف کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے تھے۔
سعد (رض) نے یہ سن کر کہا : خدا کی قسم ! میں تیرے لیے تین بددعائیں کروں گا۔ ” اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور مدت تک اس کو فقر سے دو چار رکھ اور فتنوں میں مبتلا رکھ۔ پھر اس شخص کا یہی حال ہوا، اس کے بعد جب اس سے کوئی حال پوچھتا تو کہتا : میں ایک بوڑھا ہوں، میرا یہ حال سعد (رض) کی بددعا کی وجہ سے ہوا ہے۔ عبدالملک کہتے ہیں : میں نے بھی اس کو دیکھا تھا، اتنا بوڑھا ہوگیا تھا کہ اس کی ابروئیں آنکھوں پر آگئیں تھیں اور وہ راستوں میں کھڑا ہو کر دو شیزاؤں کو آنکھیں مارتا تھا۔
(۲۴۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: شَکَا أَہْلُ الْکُوفَۃِ سَعْدًا إِلَی عُمَرَ فَعَزَلَہُ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عَمَّارًا ، فَشَکَوْا حَتَّی ذَکَرُوا أَنَّہُ لاَ یُحْسِنُ یُصَلِّی ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ ہَؤُلاَئِ یَزْعُمُونَ أَنَّکَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّی۔ قَالَ: أَمَّا أَنَا وَاللَّہِ فَإِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی بِہِمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا أَخْرِمُ عَنْہَا أُصَلِّی صَلاَۃَ الْعِشَائِ ، فَأَرْکُدُ فِی الأُولَیَیْنِ ، وَأَحْذِفُ فِی الأُخْرَیَیْنِ ۔ قَالَ: ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ۔
فَأَرْسَلَ مَعَہُ رَجُلاً أَوْ رِجَالاً إِلَی أَہْلِ الْکُوفَۃِ یَسْأَلُ عَنْہُ أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، فَلَمْ یَدَعْ مَسْجِدًا إِلاَّ سَأَلَ عَنْہُ وَیُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّی دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِی عَبْسٍ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ أُسَامَۃُ بْنُ قَتَادَۃَ یُکْنَی أَبَا سَعْدَۃَ قَالَ: أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا ، فَإِنَّ سَعْدًا کَانَ لاَ یَسِیرُ بِالسَّرِیَّۃِ ، وَلاَ یَقْسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ ، وَلاَ یَعْدِلُ فِی الْقَضِیَّۃِ۔
قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللَّہِ لأَدْعُوَنَّ اللَّہَ بِثَلاَثٍ: اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ عَبْدُکَ ہَذَا کَاذِبًا ، قَامَ رِیَائً وَسُمْعَۃً ، فَأَطِلْ عُمْرَہُ وَأَطِلْ فَقْرَہُ وَعَرِّضْہُ بِالْفِتَنِ۔ وَکَانَ بَعْدُ إِذْ یُسْأَلُ یَقُولُ: شَیْخٌ کَبِیرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِی دَعْوَۃُ سَعْدٍ۔ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: فَأَنَا رَأَیْتُہُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاہُ عَلَی عَیْنَیْہِ مِنَ الْکِبَرِ ، وَإِنَّہُ لَیَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِی فِی الطُّرُقِ یَغْمِزُہُنَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۵۵]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: شَکَا أَہْلُ الْکُوفَۃِ سَعْدًا إِلَی عُمَرَ فَعَزَلَہُ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عَمَّارًا ، فَشَکَوْا حَتَّی ذَکَرُوا أَنَّہُ لاَ یُحْسِنُ یُصَلِّی ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَقَالَ: یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ ہَؤُلاَئِ یَزْعُمُونَ أَنَّکَ لاَ تُحْسِنُ تُصَلِّی۔ قَالَ: أَمَّا أَنَا وَاللَّہِ فَإِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی بِہِمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَا أَخْرِمُ عَنْہَا أُصَلِّی صَلاَۃَ الْعِشَائِ ، فَأَرْکُدُ فِی الأُولَیَیْنِ ، وَأَحْذِفُ فِی الأُخْرَیَیْنِ ۔ قَالَ: ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ۔
فَأَرْسَلَ مَعَہُ رَجُلاً أَوْ رِجَالاً إِلَی أَہْلِ الْکُوفَۃِ یَسْأَلُ عَنْہُ أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، فَلَمْ یَدَعْ مَسْجِدًا إِلاَّ سَأَلَ عَنْہُ وَیُثْنُونَ مَعْرُوفًا حَتَّی دَخَلَ مَسْجِدًا لِبَنِی عَبْسٍ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ أُسَامَۃُ بْنُ قَتَادَۃَ یُکْنَی أَبَا سَعْدَۃَ قَالَ: أَمَّا إِذْ نَشَدْتَنَا ، فَإِنَّ سَعْدًا کَانَ لاَ یَسِیرُ بِالسَّرِیَّۃِ ، وَلاَ یَقْسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ ، وَلاَ یَعْدِلُ فِی الْقَضِیَّۃِ۔
قَالَ سَعْدٌ: أَمَا وَاللَّہِ لأَدْعُوَنَّ اللَّہَ بِثَلاَثٍ: اللَّہُمَّ إِنْ کَانَ عَبْدُکَ ہَذَا کَاذِبًا ، قَامَ رِیَائً وَسُمْعَۃً ، فَأَطِلْ عُمْرَہُ وَأَطِلْ فَقْرَہُ وَعَرِّضْہُ بِالْفِتَنِ۔ وَکَانَ بَعْدُ إِذْ یُسْأَلُ یَقُولُ: شَیْخٌ کَبِیرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْنِی دَعْوَۃُ سَعْدٍ۔ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: فَأَنَا رَأَیْتُہُ بَعْدُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاہُ عَلَی عَیْنَیْہِ مِنَ الْکِبَرِ ، وَإِنَّہُ لَیَتَعَرَّضُ لِلْجَوَارِی فِی الطُّرُقِ یَغْمِزُہُنَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی رکعت لمبی کرنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٤٨٤) حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے تھے، پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری رکعت کو چھوٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں اسی طرح کرتے تھے۔
(۲۴۸۴) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَیْمٍ: الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ ، یُطِیلُ فِی الأُولَی ، وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ ، وَیَفْعَلُ ذَلِکَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی رکعت لمبی کرنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٤٨٥) حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ سنا بھی دیتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری قدرے مختصر کرتے تھے، اسی طرح عصر اور صبح کی نماز میں کرتے تھے۔
(۲۴۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ بِأُمِّ الْکِتَابِ وَسُورَتَیْنِ ، وَفِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُخْرَیَیْنِ بِأُمِّ الْکِتَابِ ، وَکَانَ یُسْمِعُنَا الأَحْیَانَ الآیَۃَ ، وَکَانَ یُطِیلُ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی ، وَلاَ یُطِیلُ فِی الثَّانِیَۃِ ، وَہَکَذَا فِی الْعَصْرِ وَہَکَذَا فِی الصُّبْحِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم رقم ۲۴۷۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح۔ وقد تقدم رقم ۲۴۷۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی رکعت لمبی کرنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٤٨٦) عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ پہلی رکعت اس لیے لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہلی رکعت کو پالیں۔
(۲۴۸۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ: فَظَنَنَّا أَنَّہُ یُرِیدُ بِذَلِکَ أَنْ یُدْرِکَ النَّاسُ الرَّکْعَۃَ الأُولَی۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق ۲۶۷۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی رکعت لمبی کرنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٤٨٧) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی پہلی رکعت میں اس وقت تک قیام کرتے تھے کہ قدموں کی آہٹ ختم ہوجائے۔
(۲۴۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدِ بْنَ شَاکِرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ زُہَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَقُومُ فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی مِنَ الظُّہْرِ حَتَّی لاَیَسْمَعَ وَقْعَ قَدَمٍ۔ یُقَالُ ہَذَا الرَّجُلُ ہُوَ طَرَفَۃُ الْحَضْرَمِیُّ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۴/۳۵۶/ ۱۹۳۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی رکعت لمبی کرنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٤٨٨) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے وقت پڑھاتے تھے۔ گرمی اس قدر ہوتی تھی کہ اگر توا دھوپ میں رکھا جائے تو وہ گرم ہوجائے اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک لوگوں کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی رہتی اور دوسری رکعت پہلی رکعت سے چھوٹی کرتے اور تیسری رکعت دوسری سے اور چوتھی رکعت تیسری رکعت سے چھوٹی ہوتی اور عصر کی نماز پڑھاتے تو پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت پہلی رکعت سے ہلکی کرتے اور تیسری رکعت دوسری سے اور چوتھی رکعت تیسری رکعت سے چھوٹی ہوتی اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب کوئی کہہ دیتا کہ سورج غروب ہوچکا اور بعض کہتے : ابھی غروب نہیں ہوا۔ مغرب کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت پہلی رکعت سے چھوٹی اور تیسری رکعت دوسری رکعت سے چھوٹی کرتے اور عشا کی نماز قدرے تاخیر سے ادا کرتے۔
(۲۴۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الأَسْفَاطِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الشَّعْرَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحِمَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْحُمَیْسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ عَنْ طَرَفَۃَ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی أَوْفَی قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُصَلِّی بِنَا الظُّہْرَ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبًا فِی الرَّمْضَائِ لأَنْضَجَتْہُ ، وَکَانَ یُطِیلُ الرَّکْعَۃَ الأُولَی مِنَ الظُّہْرِ ، فَلاَ یَزَالُ یَقْرَأُ قَائِمًا مَا دَامَ یَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ الْقَوْمِ ، وَیَجْعَلُ الرَّکْعَۃَ الثَّانِیَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الأُولَی ، وَالثَّالِثَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِیَۃِ ، وَالرَّابِعَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّالِثَۃِ ، وَکَانَ یُصَلِّی بِنَا الْعَصْرَ قَدْرَ مَا یَسِیرُ السَّائِرُ فَرْسَخَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃً ، وَکَانَ یُطِیلُ الرَّکْعَۃَ الأُولَی مِنَ الْعَصْرِ ، وَالثَّانِیَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الأُولَی ، وَالثَّالِثَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِیَۃِ ، وَالرَّابِعَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّالِثَۃِ ، وَکَانَ یُصَلِّی بِنَا الْمَغْرِبَ حِینَ یَقُولُ الْقَائِلُ: غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَقَائِلٌ یَقُولُ لَمْ تَغْرُبْ ، وَکَانَ یُطِیلُ الرَّکْعَۃَ الأُولَی مِنَ الْمَغْرِبِ ، وَالثَّانِیَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الأُولَی ، وَالثَّالِثَۃَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِیَۃِ ، وَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعِشَائَ الآخِرَۃَ شَیْئًا۔ ضعیف، وقد تقدم الحدیث۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی رکعت لمبی کرنے کے مسنون ہونے کا بیان
(٢٤٨٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ظہر کی نماز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھڑی کی جاتی تو کوئی شخص بقیع تک جاتا اور اپنی حاجت سے فارغ ہو کر آتا، پھر وضو کر آتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی تک پہلی رکعت میں ہی ہوتے تھے۔ جس کو آپ قدرے لمبا کرتے تھے۔
(۲۴۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ قَزَعَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: لَقَدْ کَانَتْ صَلاَۃُ الظُّہْرِ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی الْبَقِیعِ ، فَیَقْضِی حَاجَتَہُ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ یَأْتِی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الرَّکْعَۃِ الأُولَی مِمَّا یُطَوِّلُہَا۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۵۴]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَیْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۴۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی اور بعد والی دونوں رکعتوں میں مساوات ضروری ہے جبکہ کسی کا انتظار نہ ہو
(٢٤٩٠) (ا) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قراءت کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم نے اندازہ لگایا کہ آپ نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں اتنا قیام فرمایا جتنی دیر میں سورة سجدہ کی تلاوت کی جاسکے اور آخری دو رکعتوں میں پہلی دونوں کے نصف کے برابر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے برابر اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر۔
(ب) ابو عوانہ نے اس حدیث کو منصور سے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ آپ ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر پڑھتے۔
(ب) ابو عوانہ نے اس حدیث کو منصور سے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ آپ ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر پڑھتے۔
(۲۴۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نُحَزِرُ قِیَامَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الظُّہْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ ثَلاَثِینَ آیَۃً قَدْرَ قِرَائَ ۃِ {الم تَنْزِیلُ} السَّجْدَۃِ ، وَفِی الأُخْرَیَیْنِ عَلَی نِصْفٍ مِنْ ذَلِکَ وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ وَالأُخْرَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ ہُشَیْمٍ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ ثَلاَثِینَ آیَۃً ، وَقَدْ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَلَی مَا مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۴۷۷]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ ہُشَیْمٍ۔
وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ ثَلاَثِینَ آیَۃً ، وَقَدْ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَلَی مَا مَضَی ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ وقد تقدم برقم ۲۴۷۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وغیرہ کے لیے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٤٩١) ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے انھیں نماز پڑھائی۔ جب بھی نیچے جاتے اور اوپر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسی نماز پڑھتا ہوں۔
یحییٰ کی حدیث میں فَإِذَا انْصَرَفَ کی جگہ فَلَمَّا انْصَرَفَ ہے۔
یحییٰ کی حدیث میں فَإِذَا انْصَرَفَ کی جگہ فَلَمَّا انْصَرَفَ ہے۔
(۲۴۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یُصَلِّی بِہِمْ ، فَیُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: وَاللَّہِ إِنِّی لأَشْبَہُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَفِی حَدِیثِ یَحْیَی: فَلَمَّا انْصَرَفَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۵]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ کَانَ یُصَلِّی بِہِمْ ، فَیُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: وَاللَّہِ إِنِّی لأَشْبَہُکُمْ صَلاَۃً بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَفِی حَدِیثِ یَحْیَی: فَلَمَّا انْصَرَفَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وغیرہ کے لیے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٤٩٢) ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث نے انھیں خبر دی کہ انھوں نے ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قیام کے وقت تکبیر کہتے، پھر رکوع کرتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر سَمِعَ اللَّہُ لَمِنْ حَمِدَہُ کہتے۔ جب اپنی کمر رکوع سے سیدھی کرتے۔ پھر جب سیدھے کھڑے ہوجاتے تو کہتے : رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ، پھر سجدے میں جھکتے ہوئے تکبیر کہتے۔ اس کے بعد سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے، پھر اسی طرح ساری نماز میں کرتے یہاں تک کہ اس کو مکمل کرلیتے اور دو رکعتوں کے بعد اٹھتے وقت بھی تکبیر کہتے۔
(۲۴۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ یُکَبِّرُ حِینَ یَقُومُ ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِینَ یَرْکَعُ ، ثُمَّ یَقُولُ: سَمِعَ اللَّہُ لَمِنْ حَمِدَہُ ۔ حِینَ یَرْفَعُ صُلْبَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ ، ثُمَّ یَقُولُ وَہُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ۔
ثُمَّ یُکَبِّرُ حِینَ یَہْوِی سَاجِدًا ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِینَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ ، ثُمَّ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی الصَّلاَۃِ کُلِّہَا حَتَّی یَقْضِیَہَا ، وَیُکَبِّرُ حِینَ یَقُومُ مِنَ الاِثْنَتَیْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ حُجَیْنِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۹]
ثُمَّ یُکَبِّرُ حِینَ یَہْوِی سَاجِدًا ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِینَ یَرْفَعُ رَأْسَہُ ، ثُمَّ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی الصَّلاَۃِ کُلِّہَا حَتَّی یَقْضِیَہَا ، وَیُکَبِّرُ حِینَ یَقُومُ مِنَ الاِثْنَتَیْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ حُجَیْنِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وغیرہ کے لیے تکبیر کہنے کا بیان
(٢٤٩٣) علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی نیچے جاتے یا اوپر اٹھتے تو تکبیر کہتے تھے۔ آپ کی یہی نماز رہی حتیٰ کہ آپ اللہ کو پیارے ہوگئے۔
(۲۴۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ - قَالَ - فَلَمْ تَزَلْ تِلْکَ صَلاَتُہُ حَتَّی لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ۔ وَہُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ۔ وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ الأَخِیرَۃُ قَدْ رُوِیَتْ فِی الْحَدِیثِ الْمَوْصُولِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
[ضعیف۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۱۶۶]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ - قَالَ - فَلَمْ تَزَلْ تِلْکَ صَلاَتُہُ حَتَّی لَقِیَ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ۔ وَہُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ۔ وَہَذِہِ اللَّفْظَۃُ الأَخِیرَۃُ قَدْ رُوِیَتْ فِی الْحَدِیثِ الْمَوْصُولِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
[ضعیف۔ اخرجہ مالک فی الموطا ۱۶۶]
তাহকীক: