আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১১৬ টি

হাদীস নং: ২২১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے کا بیان
(٢٢١٤) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر ہی وتر نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔
(۲۲۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُوتِرُ عَلَی رَاحِلَتِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ احمد ۶/۳۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے کا بیان
(٢٢١٥) جریر بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا : کیا ابن عمر (رض) سواری پر وتر پڑھا کرتے تھے ؟ تو انھوں نے فرمایا : کیا وتروں کو دیگر تمام نوافل پر برتری حاصل ہے ؟ اللہ کی قسم ! وہ سواری پر ہی وتر ادا کرلیا کرتے تھے۔
(۲۲۱۵) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُوتِرُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ؟ قَالَ: وَہَلْ لِلْوِتْرِ فَضِیلَۃٌ عَلَی سَائِرِ التَّطَوُّعِ ، إِیْ وَاللَّہِ لَقَدْ کَانَ یُوتِرُ عَلَیْہَا۔

[صحیح۔ اخرجہ ابن عدی فی الکامل ۲/۱۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے کا بیان
(٢٢١٦) ایک دوسری سند سے اسی جیسی حدیث منقول ہے۔
(۲۲۱۶) وَرَوَاہُ غَیْرُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ہَکَذَا وَزَادَ فِی آخِرِہِ قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ وَحَدَّثَنِیہِ جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ أَبِی مَعْشَرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ یَعْنِی أَبَا سَلَمَۃَ فَذَکَرَہُ بِزِیَادَتِہِ۔ صحیح، تقدم فی الذی قبلہ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے کا بیان
(٢٢١٧) ثویر بن ابی فاختہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) اپنی سواری پر وتر ادا کرلیا کرتے تھے۔ (ثوری کی سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ وہ (رکوع، سجدے) اشارے کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
(۲۲۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ ثُوَیْرِ بْنِ أَبِی فَاخِتَۃَ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُ کَانَ یُوتِرُ عَلَی رَاحِلَتِہِ۔ زَادَ فِیہِ غَیْرُہُ عَنِ الثَّوْرِیِّ: یُومِئُ إِیمَائً ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصِ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُ بِزِیَادَتِہِ۔ [صحیح۔ سندہ صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢١٨) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر ہی نفل نماز ادا فرما لیتے تھے، خواہ جس طرف بھی آپ کا چہرہ ہو اور وتر بھی اسی پر پڑھ لیتے، البتہ سواری پر فرض نماز نہیں ادا کرتے تھے۔
(۲۲۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُسَبِّحُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ قِبَلَ أَیِّ وِجْہَۃٍ تَوَجَّہَ ، وَیُوتِرُ عَلَیْہَا غَیْرَ أَنَّہُ لاَ یُصَلِّی عَلَیْہَا الْمَکْتُوبَۃَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ، وَأَخَرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مَنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ عَنْ یُونُسَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۰۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢١٩) جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کر کے نفل نماز ادا فرما لیتے تھے۔ جب فرض نماز ادا کرنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے نیچے اتر کر قبلہ رخ ہو کر ادا فرماتے تھے۔
(۲۲۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ: عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّمَرْقَنْدِیُّ حَدَّثَنِی مُعَاذُ بْنُ فَضَالَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرِ بْنِ الْبَیَاضِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَیُّوبَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُصَلِّی عَلَی رَاحِلَتِہِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ الْمَکْتُوبَۃَ نَزَلَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَصَلَّی۔

لَفْظُ حَدِیثِ مُسْلِمٍ وَفِی رِوَایَۃِ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَقَالَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَمُعَاذِ بْنِ فَضَالَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری بنحوہ ۳۹۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢٢٠) عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی سواری پر نفل نماز ادا کرتے دیکھا۔ آپ اپنے سر کے ساتھ اشارہ فرما رہے تھے اور قبلہ کا لحاظ بھی نہیں فرما رہے تھے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نمازوں میں اس طرح نہیں کرتے تھے۔
(۲۲۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَیُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُسَبِّحُ وَہُوَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، وَیُومِئُ بِرَأْسِہِ قِبَلَ أَیِّ وَجْہٍ تَوَجَّہَ ، وَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصْنَعُ ذَلِکَ فِی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۱۰۹۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢٢١) سہل بن حنظلیہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک لشکر میں چلے۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کو ہم پر پہرہ کون دے گا ؟ تو انس بن ابی مرثد غنوی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس گھاٹی کی طرف چلا جا حتیٰ کہ تو اس چوٹی پر پہنچ جائے اور نماز یا قضائے حاجت کے سوا ہرگز نہ اترنا۔
(۲۲۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا دُحَیْمٌ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ أَخِیہِ زَیْدٍ عَنْ جَدِّہِ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ السَّلُولِیِّ عَنْ سَہْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی جَیْشٍ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ قَالَ: مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟ ۔ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیُّ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((انْطَلِقْ إِلَی ہَذَا الشِّعْبِ حَتَّی تَکُونَ فِی أَعْلاَہُ وَلاَ تَنْزِلَنَّ إِلاَّ مُصَلِّیًا أَوْ قَاضِیَ حَاجَۃٍ))۔

[صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۵۰۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢٢٢) (ا) عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انھوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) سے پوچھا : کیا عورتوں کو سواری کے جانوروں پر نماز پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : عورتوں کو اجازت نہیں دی گئی۔ نہ ہی کسی مجبوری میں اور نہ ہی عام حالت میں۔

(ب) محمد کہتے ہیں : یہ فرض نماز کے بارے میں ہے۔
(۲۲۲۲) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ: أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ہَلْ رُخِّصَ لِلنِّسَائِ أَنْ یُصَلِّینَ عَلَی الدَّوَابِّ؟ قَالَتْ: لَمْ یُرَخَّصْ لَہُنَّ فِی شِدَّۃٍ وَلاَ رَخَائٍ ۔

قَالَ مُحَمَّدٌ: ہَذَا فِی الْمَکْتُوبَۃِ۔ [حسن۔ اخرجہ ابوداود ۱۲۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢٢٣) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ دورانِ سفر مریضوں کو بھی سواریوں سے اتارتے تھے کہ وہ زمین پر فرض نماز ادا کریں۔
(۲۲۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَاتِبُ حَدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ وَالْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا: أَنَّہُ کَانَ یُنْزِلُ مَرْضَاہُ فِی السَّفَرِ حَتَّی یُصَلُّوا الْفَرِیضَۃَ فِی الأَرْضِ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَکِ لَمْ یَذْکُرْ نَافِعًا فِی حَدِیثِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرض نماز کے لیے سواری سے اترنے کا بیان
(٢٢٢٤) (ا) عمرو بن عثمان بن یعلی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ ایک درے سے گزرے، اوپر سے بارش برس رہی تھی اور نیچے نمی تھی۔ (راوی کو شک ہے کہ السماء کا لفظ تھا یا البلۃ کا) ۔ نماز کا وقت ہوگیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤذن کو حکم دیا۔ اس نے اقامت کہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر تشریف لائے اور نماز پڑھائی۔ آپ اشارے سے نماز ادا کر رہے تھے۔ سجدوں کو رکوع سے زیادہ پست کرتے تھے۔ ابو عبداللہ کی روایت میں یحییٰ فرماتے ہیں کہ شاید انھوں نے یہ کہا کہ دشمن ان کے اوپر تھے اور بارش ان کے نیچے۔

(ب) اس کی سند ضعیف ہے ، اس کے بعض راوی بااعتماد نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حدیث صحیح نہیں۔

اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ (طریقہ نماز) خوف کی شدت کی بنا پر ہو۔
(۲۲۲۴) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ سَلَمَۃَ الْہَمَذَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ الإِسْفَرَائِنِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو سُلَیْمَانَ: دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَقِیلٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الرَّمَّاحِ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ یَعْلَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- انْتَہَی إِلَی مَضِیقٍ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ وَالسَّمَائُ - قَالَ یَحْیَی: وَأَحْسَبُہُ قَالَ أَوِ الْبِلَّۃُ قَالَ - مِنْ فَوْقِہِمْ وَالْبِلَّۃُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْہُمْ ، وَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ ، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی رَاحِلَتِہِ ، فَصَلَّی بِہِمْ یُومِئُ إِیمَائً ، یَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوعِ ، أَوْ سُجُودَہُ أَخْفَضَ مِنْ رُکُوعِہِ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ یَحْیَی أَحْسَبُہُ قَالَ: وَالْعَدُوُّ مِنْ فَوْقِہِمْ ، وَالْبِلَّۃُ مِنْ أَسْفَلَ۔

وَفِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ ، وَلَمْ یَثْبُتُ مِنْ عَدَالَۃِ بَعْضِ رُوَاتِہِ مَا یُوجِبُ قَبُولَ خَبْرِہِ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ فِی شِدَّۃِ الْخَوْفِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۴/ ۱۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے سے وتر کے عدم وجوب پر دلائل، اس کا ذکر مختصر گزر چکا ہے
(٢٢٢٥) طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اسلام کے (احکام کے) بارے میں سوال کرنے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن رات میں پانچ نمازیں (ادا کرو) ۔ اس نے عرض کیا : کیا میرے ذمے اس کے علاوہ کوئی اور نماز بھی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ہاں نوافل ادا کرسکتے ہو۔
(۲۲۲۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ))۔ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا؟ قَالَ: ((لاَ إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ))۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے سے وتر کے عدم وجوب پر دلائل، اس کا ذکر مختصر گزر چکا ہے
(٢٢٢٦) ابن محیریز سے روایت ہے کہ بنو کنانہ کا ایک آدمی جسے مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ابو محمد نامی ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ و تر واجب ہیں۔ مخدجی کہتے ہیں : میں عبادہ بن صامت کی خدمت میں پہنچا اور وہ مسجد میں آرام فرما رہے تھے۔ میں نے انھیں اس کے بارے میں بتایا جو ابو محمد نے کہا تھا کہ وتر واجب ہیں تو ابوعبادہ نے فرمایا : ابو محمد جھوٹ بولتا ہے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی ذمہ داری میں جنت میں داخل کرے گا اور جو ان نمازوں کو ضائع کر دے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں کوئی عہد نہیں اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔
(۲۲۲۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ قَیْسِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ: أَنَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ یُدْعَی الْمُخْدَجِیَّ سَمِعَ رَجُلاً بِالشَّامِ یُدْعَی أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ۔ قَالَ الْمُخْدَجِیُّ: فَرُحْتُ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَہُ وَہُوَ رَائِحٌ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، فَمَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْہُنَّ شَیْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ المالک فی الموطا ۱/۳۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے سے وتر کے عدم وجوب پر دلائل، اس کا ذکر مختصر گزر چکا ہے
(٢٢٢٧) (ا) سیدنا علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ وتر فرض نہیں سنت ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔

(ب) یہ عبادہ بن صامت اور ابن عباس کا قول ہے۔ اس موضوع سے متعلق دیگر روایات جو وارد ہوئی ہیں ، ان کا ذکر باب التطوع میں ہوگا کیونکہ اس کا محل وہی ہے۔
(۲۲۲۷) وَأَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی یَحْیَی بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ وَلَکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔

وَہُوَ قَوْلُ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَکُلُّ ذَلِکَ مَعَ سَائِرِ الآثَارِ الْوَارِدَۃِ فِیہِ مَوْضِعُہَا بَابُ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے سے وتر کے عدم وجوب پر دلائل، اس کا ذکر مختصر گزر چکا ہے
شمشیر زنی اور سخت گھمسان کی لڑائی میں فرض نماز میں بھی عدم استقبال قبلہ کی رخصت کا بیان
(۱۱۶) باب الرُّخْصَۃِ فِی تَرْکِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَۃِ فِی الْمَکْتُوبَۃِ حَالَ الْمُسْایَفَۃِ وَشِدَّۃِ الْقِتَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر ادا کرنے سے وتر کے عدم وجوب پر دلائل، اس کا ذکر مختصر گزر چکا ہے
(٢٢٢٨) (ا) نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے جب صلوٰۃ خوف کے بارے سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ امام اور ایک جماعت آگے نکل کر نماز پڑھے اور دوسری دشمن کے مقابلے میں رہے، پھر مکمل حدیث بیان کی۔

(ب) حدیث میں ابن عمر نے کہا : اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو وہ پیدل اور سوار دونوں حالت میں ادا کریں، چاہے قبلہ رخ ہوں نہ ہوں۔

(ج) نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت کتاب صلوۃ الخوف میں ہے۔
(۲۲۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسِ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاَۃِ الْخَوْفِ قَالَ: یَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَۃٌ ثُمَّ قَصَّ الْحَدِیثَ۔

وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فِی الْحَدِیثِ: فَإِنْ کَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِکَ صَلَّوْا رِجَالاً وَرُکْبَانًا مُسْتَقْبِلِی الْقِبْلَۃِ وَغَیْرَ مُسْتَقْبِلِیہَا۔

وَہُوَ ثَابِتٌ مِنْ جِہَۃِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَمَوْضِعُہُ کِتَابُ صَلاَۃِ الْخَوْفِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱/۱۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صحیح قبلہ معلوم کرنے کے لیے کوشش کا بیان
(٢٢٢٩) ابن جریج فرماتے ہیں : میں نے عطا سے پوچھا : کیا تم نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں تو صرف (بیت اللہ کا) طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے اندر داخل ہونے کا نہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کے اندر داخل ہونے سے منع تو نہیں کیا، لیکن میں نے ان سے سنا ہے کہ انھیں سیدنا اسامہ بن زید (رض) نے خبر دی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے تمام کونوں میں دعا کی، لیکن نماز نہیں پڑھی ۔ بلکہ جب آپ باہر تشریف لائے تو آپ نے قبلہ رخ ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، پھر فرمایا : یہ ہے قبلہ۔
(۲۲۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ

أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ سَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِہِ۔ قَالَ: لَمْ یَکُنْ یُنْہَی عَنْ دُخُولِہِ ، وَلَکِنْ سَمِعْتُہُ یَقُولُ أَخْبَرَنِی أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا دَخَلَ الْبَیْتَ دَعَا فِی نَوَاحِیہِ کُلِّہَا ، وَلَمْ یُصَلِّ فِیہِ حَتَّی خَرَجَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی قِبَلِ الْکَعْبَۃِ ثُمَّ قَالَ: ((ہَذِہِ الْقِبْلَۃُ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ دُونَ قِصَّۃِ الدُّخُولِ عَنْ عَطَائٍ وَدُونَ ذِکْرِ أُسَامَۃَ ، وَالصَّحِیحُ مَا رُوِّینَا وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِطُولِہِ وَذَکَرَ أُسَامَۃَ۔

[صحیح۔ اخرجہ البخاری بنحوہ ۳۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمت قبلہ معلوم کرنے کے لیے کوشش کا بیان
(٢٢٣٠) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مشرق ومغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ (یہ حکم اہل مدینہ کے لیے ہے)
(۲۲۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَۃٌ))۔ [صحیح۔ اخرجہ الحاکم ۱/۳۲۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمت قبلہ معلوم کرنے کے لیے کوشش کا بیان
(٢٢٣١) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اہل مدینہ کے لیے) مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔
(۲۲۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو یُوسُفَ: یَعْقُوبُ بْنُ یُوسُفَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ: ((مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَۃٌ))۔

تَفَرَدَ بِالأَوَّلِ ابْنُ مُجَبَّرٍ ، وَتَفَرَدَ بِالثَّانِی یَعْقُوبُ بْنُ یُوسُفَ الْخَلاَّلُ ، وَالْمَشْہُورُ رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَزَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَیَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ وَغَیْرُہُمْ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہِ۔ [صحیح۔ انظر التخریج السابق]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمت قبلہ معلوم کرنے کے لیے کوشش کا بیان
(٢٢٣٢) (ا) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ مشرق ومغرب کے درمیان قبلہ ہے۔

(ب) اس سے مراد اہل مدینہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ جن لوگوں کا قبلہ اہل مدینہ کی مشرق ومغرب کے درمیان ہے پہلے ان کا قبلہ تلاش کیا جائے گا پھر عین قبلہ کو تلاش کیا جائے گا۔
(۲۲۳۲) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَاضِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنِی نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ: مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَۃٌ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غَیْرُہُمَا عَنْ نَافِعٍ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَرْفُوعًا۔ وَرُوِیَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنِ النَّبِیَّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِہِمَا۔

وَالْمُرَادُ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ وَمَنْ کَانَ قِبْلَتُہُ عَلَی سَمْتِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فِیمَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ یَطْلُبُ قِبْلَتَہُمْ ثُمَّ یَطْلُبُ عَیْنَہَا۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۴۶۱]
tahqiq

তাহকীক: