কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

صحبت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৫ টি

হাদীস নং: ২৪৯১৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24918 ۔۔۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا جو اپنے پڑوسی کا اکرام نہیں کرتا۔ ( رواہ النجار عن علی)
24918- "لا يؤمن بالله من لا يكرم جاره". "ابن النجار عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯১৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24919 ۔۔۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے۔ ( رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ والضیاء عن ابی سعید)
24919- "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره" [ومن كان ... ] "حل ض عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24920 ۔۔۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے۔ رواہ الخطیب عن ابن شریح الخزاعی)
24920- "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره". "الخطيب عن ابن شريح الخزاعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24921 ۔۔۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔ ( رواہ الطبرانی عن ابن عباس)
24921- "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو يسكت". "طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24922 ۔۔۔ اللہ کی قسم مومن نہیں اللہ کی قسم مومن نہیں، اللہ کی قسم مومن نہیں صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : کون ؟ فرمایا : وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی بوائق سے محفوظ نہ ہو۔ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا : بوائق سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اس کی شرارتیں۔ ( رواہ احمد بن حنبل والحاکم عن ابوہریرہ والطبرانی عن ابی شراع الکعی)
24922- "والله لا يؤمن والله لا يؤمن والله لا يؤمن قالوا: من؟ قال: جار لا يأمن جاره بوائقه قالوا: ما بوائقه؟ قال: شره". "حم ك عن أبي هريرة طب عن أبي شريح الكعبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24923 ۔۔۔ اللہ کی قسم مومن نہیں، اللہ کی قسم مومن نہیں، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! کون ؟ فرمایا : وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔ ( رواہ احمد بن حنبل والبخاری ابن عن ابی شروع)
24923- "والله لا يؤمن والله لا يؤمن قيل: يا رسول الله: ومن؟ قال: الذي لا يأمن جاره بوائقه". "حم خ عن أبي شريح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24924 ۔۔۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ اسلام نہیں لاتا یہاں تک کہ اس کا دل اسلام نہ لائے اور اسوقت تک مومن نہیں جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کی بوائق سے محفوظ نہ ہو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا بوائق سے کیا مراد ہے فرمایا : دھوکا دہی اور ظلم۔ ( رواہ الخرائطی فی مساوی الاخلاق عن ابن مسعود)
24924- "والذي نفسي بيده لا يسلم عبد حتى يسلم قلبه ولا يؤمن حتى يأمن جاره بوائقه، قيل وما بوائقه؟ قال: غشه وظلمه". "الخرائطي في مساوى الأخلاق عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24925 ۔۔۔ کسی شخص کا ایمان مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا دل مستقیم نہ ہو اور اس کا دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کی زبان راہ راست پر نہ ہو اور جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب تک اس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔ ( رواہ احمد بن حنبل والبیھقی فی شعب الایمان عن انس وحسن) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ الحفاظ 6342 وکشف الخفاء 3144 ۔
24925- "لا يستقيم إيمان عبد حتى يستقيم قلبه ولا يستقيم قلبه حتى يستقيم لسانه، ولا يدخل الجنة حتى يأمن جاره بوائقه". "حم، هب عن أنس؛ وحسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24926 ۔۔۔ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کا پڑوسی اس کی اذیتوں سے محفوظ نہ ہو۔ رواہ الحاکم عن انس
24926- "ليس بمؤمن من لا يأمن جاره غوائله". "ك عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24927 ۔۔۔ جس شخص نے اپنے پڑوسی کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی جس نے مجھے اذیت پہنچائی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی جس شخص نے اپنے پڑوسی سے لڑائی کی اس نے میرے ساتھ لڑائی کی جس نے میرے ساتھ لڑائی کی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ لڑائی کی۔ ( رواہ ابو الشیخ وابو نعیم عن انس)
24927- "من آذى جاره فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله، ومن حارب جاره فقد حاربني ومن حاربني فقد حارب الله". "أبو الشيخ وأبو نعيم عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৮
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24928 ۔۔۔ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر شکم سیر نہیں ہوتا۔ ( رواہ ابن المبارک وابو یعلی وابو نعیم فی الحلیۃ والحاکم و سعید بن المنصور عن عمر)
24928- "لا يشبع الرجل دون جاره". "ابن المبارك، حم ع حل ك ص عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯২৯
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24929 ۔۔۔ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جو پیٹ بھر کر رات گزارے جب کہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا پڑا ہو۔ رواہ الحاکم عن عائشۃ)
24929- "ليس بالمؤمن الذي يبيت شبعان وجاره جائع إلى جنبه". "ك عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩০
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24930 ۔۔۔ قیامت کے دن پڑوسی اپنے پڑوسی سے چمٹ جائے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار اس سے سوال کر اس نے میرے اوپر اپنا دروازہ کیوں بند کیا اور اپنا کھانا کیوں مجھ سے روکے رکھا۔ (رواہ الدیلمی عن ابوہریرہ عن انس) ۔ کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 203 والتنزیۃ 1442
24930- "إذا كان يوم القيامة تعلق الجار بالجار فيقول: يا رب سل هذا فيم أغلق بابه دوني ومنعني طعامه". "الديلمي عن أبي هدبة عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩১
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24931 ۔۔۔ قیامت کے دن کتنے پڑوسی ہوں گے جو اپنے پڑوسی سے چمٹ جائیں گے وہ کہیں گے : اے میرے پروردگار ! اس نے اپنا دروازہ بند کیے رکھا اور مجھے حسن سلوک سے روک رکھا۔ (رواہ ابو الشیخ عن ابن عمرو والدیلمی عن ابن عمر)
24931- "كم من جار يتشبث بجاره يوم القيامة يقول: يا رب أغلق بابه دوني ومنعني معروفه". "أبو الشيخ عن ابن عمرو، الديلمي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩২
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24932 ۔۔۔ جس شخص نے اپنے پڑوسی کے لیے اپنا دروازہ بند کردیا اپنے اہل خانہ اور مال سے خوفزدہ ہو کر ( کہ میرا پڑوسی کھاجائے گا اور اہل خانہ بھوکے رہیں گے) یہ شخص مومن نہیں ہوسکتا وہ شخص مومن نہیں جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی بےخوف نہ ہو۔ (رواہا لخرائطی فی مساوی الاخلاق عن ابن عمرو)
24932- "من أغلق بابه دون جاره مخافة على أهله وماله فليس ذلك بمؤمن، وليس بمؤمن من لا يأمن جاره بوائقه". "الخرائطي في مساوي الأخلاق عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩৩
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24933 ۔۔۔ اپنا سازو سامان اٹھاؤ اور گلی میں پھینک دو اور جب کوئی آنے والا آئے کہو : میرے پڑوسی نے مجھے اذیت پہنچائی ہے تو اس پر لعنت متحقق ہوجائے گی۔ ( رواہ الخرائطی فی مسافوی الاخلاق عن محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام)
24933- "اعمد إلى متاعك فاقذفه في السكة، فإذا أتاك آت فقل: آذاني جاري فتحق عليه اللعنة". "الخرائطي في مساوي الأخلاق عن محمد بن يوسف بن عبد الله بن سلام".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩৪
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24934 ۔۔۔ لوگوں کو کیا ہوا جو اپنے پڑوسیوں کو دین نہیں پڑھاتے جو پڑوسیوں سے علم نہیں حاصل نہیں کرتے ان سے دین نہیں سکھتے اور نہ ہی ان کا وعظ سنتے ہیں۔ بخدا ! لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دیں انھیں دین سکھائیں وعظ کریں انھیں اچھائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں بخدا ! لوگوں کو چاہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل کریں دین سیکھیں وعظ سنیں ورنہ دنیا میں انھیں سخت سزا دوں گا۔ (رواہ ابن راھویہ والبخاری فی الواحد وابن السکن والبارودی وابن مندہ عن علقمۃ بن عبدالرحمن بن ابزی عن ابیہ عن جدہ) ابن سکن کہتے ہیں یہ حدیث صرف ایک ہی سند سے مروی ہے اس کی سند صالح ہے لیکن اس حدیث کو محمد بن اسحاق بن راھویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور سند یوں بیان کی ہے ” عن علقمۃ بن سعید بن بزی عن ابیہ عن جدہ “ اسی سند سے یہ حدیث طبرانی نے عبدالرحمن کے ترجمہ میں روایت کی ہے ابو نعیم نے اس حدیث کو راجح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ابزی کی روایت اور رویت درست نہیں ابن مندہ نے بھی یہی کہا ہے : ابن حجر نے الاصابہ میں لکھا ہے : ابن سکن کا کلام دونوں پر وارد ہے اس میں اصل اعتماد بخاری کا ہے اور اس کی انتہاء بھی اسی تک ہے۔ جب کہ محمد بن اسحاق بن راھویہ کی روایت شاذ ہے چونکہ علقمہ سعید کا بھائی سے بیٹا نہیں۔ ( انتھیٰ ورواہ صدرہ الحسن بن سفیان عن ابوہریرہ الی قولہ ولا یتعظون)
24934- "ما بال أقوام لا يفقهون جيرانهم ولا يعلمونهم ولا يعظونهم ولا يأمرونهم ولا ينهونهم، وما بال أقوام لا يتعلمون من جيرانهم ولا يتفقهون ولا يتعظون؟ والله ليعملن قوم جيرانهم ويفقهونهم ويعظونهم ويأمرونهم وينهونهم، وليتعلمن قوم من جيرانهم ويفقهون ويتعظون أو لأعاجلنهم بالعقوبة في الدنيا". "ابن راهويه خ في الوحدان وابن السكن والباوردي وابن منده عن علقمة بن عبد الرحمن بن ابزى عن أبيه عن جده" قال ابن السكن: ماله غيره وإسناده صالح لكن رواه محمد بن إسحاق بن راهويه عن أبيه فقال: في إسناده عن علقمة بن سعيد ابن ابزى عن أبيه عن جده رواه "طب" في ترجمة عبد الرحمن، ورجح أبو نعيم هذه الرواية وقال: لا يصح لأبزى رواية ولا رؤية، وكذا قال ابن منده وقال ابن حجر في الإصابة: كلام ابن السكن يرد عليهما والعمدة في ذلك على البخاري فإليه المنتهى في ذلك ورواية محمد بن إسحاق بن راهويه شاذة لأن علقمة أخو سعيد لا ابنه انتهى. وروى صدره الحسن بن سفيان عن أبي هريرة إلى قوله: ولا يتعظون".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩৫
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24935 ۔۔۔ کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ چنانچہ اگر وہ تم سے مدد طلب کرے تم اس کی مدد کرو اگر تم سے قرض مانگے اسے قرض دو اگر محتاج ہوجائے تم اس کا ہاتھ تھام لو، اگر بیمار ہوجائے تم اس کی عیادت کرو، اگر مرجائے تم اس کے جنازہ کے ساتھ ساتھ چلو، اگر سے خیر و بھلائی پہنچے تم اسے مبارکباد دو ، اگر اسے کوئی مصیبت پیش آئے تم اسے تدلی دو ، تم اس کے مکان کے آگے اپنے مکان کے لمبی چوری عمارت کھڑی نہ کرو کہ اس کے مکان کی ہوا ہی رک جائے البتہ اس کی اجازت سے بنا سکتے ہو، اگر تم پھل خرید کر لاؤ اس میں سے اسے بھی کچھ ہدیہ کرو اگر پھل اسے ہدیہ نہ کرسکو کم از کم اس سے مخفی رکھو، ایسا نہ ہو کہ تمہارا بیٹا پھل لے کر باہر نکلے کہیں پڑوسی کے بچوں کو حسد نہ آنے لگے تمہاری ہنڈی کی بو پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے الا یہ کہ اسے بھی کچھ حصہ دو کیا تم جانتے ہو پڑوسی کے حقوق کیا ہیں ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان پڑوسی کے حقوق بہت کم لوگ ادا کرپاتے ہیں جن پر اللہ کا رحم ہو، پڑوسیوں کی تین قسمیں ہیں ان میں سے بعض کے تین حقوق ہیں، بعض کے دو حقوق ہیں اور بعض کا ایک حق ہے وہ پڑوسی جس کے تین حقوق ہیں یہ وہ مسلمان پڑوسی ہے جو قریبی رشتہ دار ہو اس کا ایک پڑوس کا حق ہے ایک قرابتداری کا حق ہے اور ایک اسلام کا حق ہے جس کے دو حقوق ہیں یہ مسلمان پڑوسی ہے اس کا ایک پڑوس کا حق ہے اور ایک اسلام کا حق ہے اور وہ پڑوسی جس کا ایک ہی حق ہے وہ کافر پڑوسی ہے اس کا پڑوس کا حق ہے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کافر پڑوسی کو قربانی کا گوشت کھلا سکتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : مشرکین کو مسلمانوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھلایا جاسکتا۔ ( رواہ ابن عی والخرائطی فی مکارم الاخلاق عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ)
24935- "أتدرون ما حق الجار؟ إن استعان بك أعنته وإن استقرضك أقرضته وإن افتقر عدت عليه، وإن مرض عدته، وإن مات اتبعت جنازته، وإن أصابه خير هنأته، وإن أصابته مصيبة عزيته ولا تستطيل عليه بالبناء فتحجب عنه الريح إلا بإذنه، وإن اشتريت فاكهة فأهد له فإن لم تفعل فأدخلها سرا ولا يخرج بها ولدك ليغيظ بها ولده ولا تؤذه بقتار قدرك إلا أن تغرف له منها، أتدرون ما حق الجار؟ والذي نفسي بيده لا يبلغ حق الجار إلا قليل ممن رحمه الله، الجيران ثلاثة: فمنهم من له ثلاثة حقوق، ومنهم من له حقان، ومنهم من له حق واحد، وأما الذي له ثلاثة حقوق فالجار المسلم القريب له حق الإسلام وحق الجوار وحق القرابة، وأما الذي له حقان فالجار المسلم له حق الإسلام حق الجوار، وأما الذي له حق واحد فالجار الكافر له حق الجوار، قالوا: يا رسول الله أنطعم من لحوم النسك؟ قال: لا يطعم المشركون من نسك المسلمين". "عد والخرائطي في مكارم الأخلاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩৬
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24936 ۔۔۔ اے عائشہ جب تمہارے پاس پڑوسی کا بچہ آئے اس کے ہاتھ میں کوئی چیز رکھ دو چونکہ ایسا کرنے سے محبت بڑھتی ہے۔ ( رواہ الدیلمی عن عائشۃ)
24936- "يا عائشة إذا دخل عليك صبي جارك فضعي في يده شيئا فإن ذلك يجر مودة". "الديلمي عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৯৩৭
صحبت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
24937 ۔۔۔ اے مومن عورتوں کی جماعت ! تم میں سے کوئی پڑوسی اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو کمتر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے جلے ہوئے گھر کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (رواہ مالک والبیھقی فی شعب الایمان والطبرانی عن حواء)
24937- "يا نساء المؤمنات لا تحقرن إحداكن لجارتها ولو كراع شاة محرقا". "مالك هب طب عن حواء".
tahqiq

তাহকীক: