কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

زینت اور آراستگی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩ টি

হাদীস নং: ১৭৩৬৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17366 یہ آگ کے دو انگارے ہیں۔ مسند احمد عن امراۃ

فائدہ : ایک صحابیہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر سونے کی دو بالیاں دیکھیں تو مذکورہ ارشاد فرمایا۔
17366- "شهابان من نار". "حم عن امرأة" قالت: "رأى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم قرطين من ذهب قال فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৬৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17367 ہم نے عورتوں کو ورس اور ابر (مویشی) ملنے کا حکم دے دیا۔ ورس (تل کی مانند ایک گھاس) جس سے رنگائی کا کام لیا جاتا ہے ان کے پاس یمن سے آئے گی اور مویشی جزیہ والے ذی لوگوں سے لیے جائیں گے۔ ابونعیم، الکبیر للطبرانی عن حرب بن الحارث المحاربی
17367- "قد أمرنا للنساء بورس وأبر 1، أما الورس فأتاهن من اليمن وأما الأبر فتؤخذ من ناس من أهل الذمة مما عليهم من الجزية". "أبو نعيم طب عن حرب بن الحارث المحاربي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৬৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17368 کسی بھی عورت کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ چاندی کے موتی بنائے اور پھر زعفران میں اس کو خلط ملط کرلے وہ سونے کی طرح ہوجائے گا۔ الکبیر للطبرانی عن اسماء بنت یزید
17368- "إنما يكفي إحداكن أن تتخذ جمانا من فضة ثم تأخذ شيئا من زعفران فتزيفه ثم تلطخه عليه فإذا هو كأنه ذهب". "طب عن أسماء بنت يزيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৬৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17369 کیا میں تجھے اس سے اچھی چیز نہ بتاؤں تو اس کو چاندی کی بنا کر خلوق خوشبو اور رنگ میں ملالے۔ وہ سونے کی طرح ہوجائے گی۔ الخطیب عن عائشۃ (رض)
17369- "ألا أدلك على خير من ذلك تجعليه من ورق وتخلقيه فيصير كأنه ذهب". "الخطيب عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
17370 عورتوں کے لیے دو چیزوں کی تباہی ہے سونا اور زعفران ۔ ابونعیم عن عنزہ الاشجعیہ
17370- "ويل للنساء من الأحمرين: الذهب والزعفران". "أبو نعيم عن عنزة الأشجعية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الزینت۔۔۔قسم الافعال

زیب وزینت کی ترغیب
17371 ابوالاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں مجھ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو پرانے کپڑے دیکھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : کیا تیرے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : پھر اپنی جان پر انعام کر (خرچ کر) جس طرح اللہ نے تجھ پر انعام کیا ہے۔ پھر میں نے پوچھا : ایک آدمی کا میرے پاس آنا ہوا تھا میں نے اس کی مہمانی کی تھی۔ لیکن جب میں اس کے پاس گیا تو اس نے میری مہمانی نہیں کی کیا میں اس کی مہمان نوازی کروں ؟ ارشاد فرمایا : ہاں۔

ابن النجار
17371- عن أبي الأحوص عن أبيه قال: "أبصر علي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ثيابا خلقان فقال لي: ألك مال؟ قلت: نعم، قال: أنعم على نفسك كما أنعم الله عليك، قلت إن رجلا مر بي فقريته فمررت به فلم يقرني أفأقريه؟ قال: نعم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الزینت۔۔۔قسم الافعال

زیب وزینت کی ترغیب
17372 عمر بن ابراہیم ایوب بن یسار سے وہ محمد بن المنکدر سے وہ حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) سفید کپڑوں میں ملبوس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دیکھ کر مسکرائے۔ حضرت عباس (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! خوبصورتی کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : حق بات کو صحیح طرح ادا کرنا۔ پوچھا : کمال کیا ہے ؟ فرمایا : سچائی کے ساتھ اچھا کام کرنا۔ السنن للبیہقی ، ابن عساکر، ابن النجار

کلام : امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : عمر (بن ابراہیم) اس روایت میں متفرد ہے اور وہ قوی راوی نہیں۔
17372- عن عمر بن إبراهيم عن أيوب بن سيار عن محمد بن المنكدر عن جابر قال: "جاء العباس بن عبد المطلب إلى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثياب بيض فلما نظر إليه تبسم فقال العباس: يا رسول الله ما الجمال؟ قال: صواب القول بالحق، قال: فما الكمال؟ قال: حسن الفعال بالصدق". "هق وقال تفرد به عمر وليس بالقوي، كر ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الزینت۔۔۔قسم الافعال

زیب وزینت کی ترغیب
17373 ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباس بن عبدالمطلب صاف ستھری اجلی رنگت میں عمدہ جوڑا زیب تن کئے ہوئے تشریف لائے۔ اور آپ کے سر کے بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دیکھ کر مسکرا اٹھے۔ حضرت عباس (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ کیوں ہنسے ؟ اللہ آپ کو ہنستا رکھے یارسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے چچا ! مجھے آپ کے جمال اور حسن نے خوش کردیا تھا۔ حضرت عباس (رض) نے پوچھا : آدمی کی خوبصورتی کس میں ہے ؟ ارشاد فرمایا : زبان میں۔ ابن عساکر

کلام : روایت محل کلام ہے : الشذرۃ 329، کشف الخفاء 1075 ۔
17373- عن أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين قال: "أقبل العباس ابن عبد المطلب وهو أبيض بض وعليه حلة وله ضفيرتان فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم تبسم، فقال له العباس: يا رسول الله مم ضحكت؟ يا رسول الله أضحك الله سنك، قال: أعجبني جمالك يا عم، فقال العباس: يا رسول الله ما الجمال في الرجل؟ قال: اللسان". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب زینت کی انواع میں۔۔۔مردوں کی زینت

سرمہ لگانا
17374 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رمضان کے مہینے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکلنے کا انتظار کیا کہ آپ ام سلمہ (رض) کے گھر سے نکلے۔ آپ (رض) (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ) نے آپ کو اتنا سرمہ لگایا ہوا تھا کہ آپ کی آنکھیں سرمہ سے بھری ہوئی تھیں۔ الحارث
17374- عن علي قال: "انتظرت النبي صلى الله عليه وسلم أن يخرج إلينا في رمضان فخرج من بيت أم سلمة وقد كحلته وملأت عينيه كحلا". "الحارث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17375 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گدی کے بال استرے کے ساتھ صاف کرانے سے منع فرمایا، مگر پچھنے (سینگی) لگواتے وقت۔

الاوسط، ابن مندہ فی غرائب شعبۃ وابن النجار، ابن عساکر

کلام : روایت کی سند ضعیف ہے۔
17375- عن علي قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حلق القفا بالموسى إلا عند الحجامة". "طس وابن منده في غرائب شعبة وابن النجار، كر، وسنده ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৬
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17376 حضرت علاء بن ابی عائشہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حلاق (بال مونڈنے والے حجام ) کو بلوایا۔ اس سے استرے کے ساتھ آپ کے بال صاف کئے۔ پھر آپ (رض) لوگوں کو خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! یہ سنت نہیں ہے، لیکن نورہ (ہڑتال، چونا) عیش و عشرت کا کام ہے، جو مجھے پسند نہیں۔ ابن سعد ، ابن ابی شیبہ
17376- عن العلاء بن أبي عائشة "أن عمر بن الخطاب دعا بحلاق فحلقه بموسى يعني جسده فاستشرف الناس فقال: أيها الناس إن هذا ليس من السنة ولكن النورة من النعيم فكرهتها". "ابن سعد، ش.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৭
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17377 محمد بن ربیعہ بن الحارث سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے بال لمبے تھے اور ہم مقام ذوالحلیفہ میں تھے۔ محمد کہتے ہیں : میں اپنی اونٹنی پر تھا اور ذی الحج ماہ تھا، میرا حج کا ارادہ تھا پس آپ (رض) نے مجھے سر کے بال چھوٹے کرانے کا حکم دیا تو میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی۔ ابن سعد
17377- عن محمد بن ربيعة بن الحارث "أن عمر بن الخطاب رآه وهو طويل الشعر وذلك في ذي الحليفة قال محمد: وأنا على ناقتى وأنا في ذي الحجة أريد الحج فأمرني أن أقصر من رأسي ففعلت". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৮
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17378 حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو سر کے بال منڈوانے (صاف کرانے) سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ مثلہ (شکل بگاڑنے کی صورت) ۔ ابن جریر
17378- عن عكرمة "أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن تحلق المرأة رأسها، فقال: هي مثلة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৭৯
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17379 محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن اپنی مونچھیں اور ناخن صاف کرتے تھے۔ ابونعیم
17379- عن محمد بن حاطب "كان النبي صلى الله عليه وسلم يأخذ من شاربه وظفره يوم الجمعة". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৮০
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17380 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قزع۔ کچھ مال مونڈنے اور کچھ چھوڑنے سے منع فرمایا۔ ابن عساکر، الکامل لابن عدی
17380- عن ابن عمر "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع". "كر عد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৮১
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17381 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر ماہ نورہ (چونا) استعمال کرتے تھے (یعنی زیر ناف بالوں کی صفائی کے لئے) اور ہر پندرہ دنوں میں ناخن کاٹتے تھے۔ ابن عساکر

کلام : ضعیف الجامع 4536، الضعیفۃ 1750 ۔
17381- عن ابن عمر " أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يتنور في كل شهر ويقلم أظفاره في كل خمسة عشر يوما ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৮২
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17382 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے اپنی پیشانی پر بال سیدھے جہاں تک بھی جاتے ماشاء اللہ پھر ان میں (بیچ کی) مانگ نکالتے۔ ابن عساکر
17382- عن أنس قال: " سدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته ما شاء الله أن يسدل، ثم فرق بعد ذلك". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৮৩
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17383 حضرت عمروبن قیس سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بالوں اور ناخنوں کی صفائی سے طہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مسدد
17383- عن عمرو بن قيس أن عليا قال: "ما زاده إلا طهارة يعني الأخذ من الشعر والظفر". "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৮৪
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17384 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ جمعرات کے روز ناخن کاٹتے تھے۔ پھر فرمایا : اے علی ! ناخن کاٹنا، بغل کے بال نوچنا اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرنا جمعرات کے دن کیا کرو اور جمعہ کے روز غسل کیا کرو، خوشبولگایا کرو اور صاف لباس پہنا کرو۔

ابوالقاسم اسماعیل بن محمد التیمی فی مسلسلاتہ والدیلمی
17384- عن علي قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقلم أظفاره يوم الخميس ثم قال: يا علي قص الظفر ونتف الإبط وحلق العانة يوم الخميس والغسل والطيب واللباس يوم الجمعة". "أبو القاسم إسماعيل بن محمد التيمي في مسلسلاته والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৩৮৫
زینت اور آراستگی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بال منڈوانا ، چھوٹے کرانا اور ناخن کٹوانا
17385 حضرت عثمان (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو سر کے بال بالکل صاف کرنے یعنی مونڈنے سے منع فرمایا (صرف دوران حج معمولی چھوٹے کرانے کا حکم دیا) ۔

البزار وسندہ حسن

کلام : ضعیف الترمذی 157، ضعیف الجامع 5998 ۔
17385- عن عثمان قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تحلق المرأة رأسها". "البزار وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক: