কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قصاص کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৭৯ টি

হাদীস নং: ৩৯৯১৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩٠٥۔۔۔ جو شخص مری امت میں سے کسی شخص کے پاس چل کرا سے قتل کرنے جائے تو وہ کہے، کیا اسی طرح ! یعنی ایک مسلمان کے ساتھ یہ سلوک کرے تو اس صورت میں قاتل جہنم میں اور مقتول جنت میں جائے گا۔ ابوداؤد عن ابن عمر، کلام۔۔۔ ضعیف دیکھیں الجامع ص ٥٨٥٧۔
39905- من مشى إلى رجل من أمتي ليقتله فليقل أهكذا! فالقاتل في النار والمقتول في الجنة."د "" عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯১৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩٠٦۔۔۔ جو جان بھی ظلما قتل کی جاتی ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کی وجہ سے بوجھ ہوگا کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجۃ عن ابن مسعود
39906- لا تقتل نفس ظلما إلا كان على ابن آدم الأول كفل من دمها، لأنه أول من سن القتل."حم، ق، ت، ن، هـ - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩٠٧۔۔۔ آدمی جب تک حرام خون میں مبتلا نہ ہو اپنے دین کی وسعت میں رہتا ہے۔ مسنداحمد، بخاری عن ابن عمر
39907- لا يزال العبد في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما."حم، خ - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩٠٨۔۔۔ مومن اس وقت تک بلند گردن اور نیک رہتا ہے جب تک حرام خون میں مبتلا نہ ہو اور جب حرام خون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو بےحس و حرکت ہوجاتا ہے۔ ابوداؤد عن ابی الدرداء عبادۃ بن الصامت
39908- لا يزال المؤمن معنقا صالحا ما لم يصب دما حراما فإذا أصاب دما حراما بلح "4"د - عن أبي الدرداء وعبادة ابن الصامت"5
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩٠٩۔۔۔ ایک مردوسرے مردکاہاتھ تھا مے آئے گا۔ وہ کہے گا : اے مرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تو نے اسے کیوں قتل کیا ؟ وہ عرض کرے گا : کہ میں نے اس لیے اسے قتل کیا کہ آپ کے دین کا غلبہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرمائیں عزت و غلبہ تو مرے لیے ہے، اسی طرح ایک شخص دوسرے شخص کا ہاتھ تھامے آئے گا۔ وہ عرض کرے گا : اے مرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا (رح) : تو نے اسے کیوں قتل کیا ؟ وہ عرض کرے گا : تاکہ فلاں کے لیے غلبہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو وہ فلاں کے لیے نہیں یوں وہ اپنے گناہ کی وجہ سے (سزا کا) مستحق ہوگا۔ نسائی عن ابن مسعود
39909- يجيء الرجل آخذا بيد الرجل فيقول: يا رب! هذا قتلني، فيقول الله له: لم قتلته؟ فيقول قتلته لتكون العزة لك، فيقول: فإنها لي، ويجيء الرجل آخذا بيد الرجل فيقول: أي رب! إن هذا قتلني، فيقول الله: لم قتلته؟ فيقول: لتكون العزة لفلان، فيقول: فإنها ليست لفلان، فيبوء بإثمه."ن - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩١٠۔۔۔ قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا۔ وہ عرض کرے گا : اے مرے رب ! اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو نے اسے کس لیے قتل کیا ؟ وہ عرض کرے گا : فلاں کی بادشاہت میں ۔ نسائی عن جندب
39910- يجيء المقتول يوم القيامة متعلقا بقاتله فيقول: يا رب! سل هذا فيم قتلني، فيقول الله: فيم قتلت هذا؟ فيقول: في ملك فلان."ن - عن جندب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩١١۔۔۔ قیامت کے روز مقتول اپنے قاتل کو لے کر آئے گا۔ اس کی پیشانی اور سر اس کے ہاتھ ہوگا اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ وہ عرض کرے گا اے مرے رب ! اس سے پوچھیے کہ اس نے مجھے کس لیے قتل کیا ؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے عرش کے قریب کرے گا۔ ترمذی نسائی، ابن ماجۃ عن ابن عباس
39911- يجيء المقتول بالقاتل يوم القيامة ناصيته ورأسه بيده وأوداجه تشخب دما يقول: يا رب! سل هذا فيم قتلني، حتى يدنيه من العرش."ت، ن هـ - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩١٢۔۔۔ زندہ درگور کرنے والا اور زندہ درگور ہونے والی دونوں جہنم میں ہوں گے۔ ابوداؤد عن ابی سعید ذخیرۃ الحفاظ ٥٩٧٨ کیونکہ دونوں شرک پر تھے۔
39912- الوائدة والموؤدة في النار."د عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں
٣٩٩١٣۔۔۔ زندہ درگور کرنے والا اور زندہ درگور ہونے والی جہنمی ہیں الایہ کہ زندہ درگور کرنے والااسلام کا زمانہ پاکراسلام قبول کرلے۔ مسند احمد نسائی، البغوی طبرانی فی الکبیرعن سلمۃ بن یزید الجعفی
39913- الوائدة والموؤدة في النار إلا أن يدرك الوائدة الإسلام فتسلم."حم، ن والبغوي، طب - عن سلمة بن يزيد الجعفي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩١٤۔۔۔ جب مسلمان اپنے مسلمان کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں پس اگر وہ اسے قتل کردے تو دنوں جہنم میں جاپڑیں گے۔ ابوداؤد طیالسی، نسائی، طبرانی فی الکبیر، ابن عدی فی الکامل عن ابی بکرۃ
39914- إذا أشار المسلم إلى أخيه المسلم بالسلاح فهما على حرف جهنم، فإن قتله خرا جميعا فيها."ط، ن، طب، عد - عن أبي بكرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৮
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩١٥۔۔۔ جو مسلمان اپنے بھائی پر ہتھیاراٹھاتا ہے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پہنچ جاتے ہیں پھر اگر وہ دونوں اپنے ہتھیار نیام میں ڈال لیں تو وہ اسی حالت اسلام پر واپس لوٹ آتے آتے ہیں جس پر وہ تھے۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کردے تو دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔ ابن عساکرعن انس
39915- ما من مسلم يشهر على أخيه السلاح إلا كانا على حرف جهنم، فإن أغمدا عادا إلى الذي كانا عليه، وإن قتل أحدهما صاحبه دخلا جميعا."ابن عساكر - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯২৯
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩١٦۔۔۔ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایکدوسرے کا رخ کرتے ہیں اور پھر ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا توقاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ کسی نے کہا : یہ تو قاتل ہے مقتول ہے مقتول کی کیا غلطی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس نے اپنے قاتل کردیاتو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ کسی نے کہا : یہ تو قاتل ہے مقتول کی کیا غلطی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس نے اپنے قاتل کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ ابن شیبہ، مسند احمد، نسائی، طبرانی فی الاوسط، عن ابی موسیٰ نسائی، عبدالرزاق عن ابی بکرۃ
39916- إذا تواجه المسلمان بسيفهما فقتل أحدهما صاحبه فالقاتل والمقتول في النار، قيل: يا رسول الله! هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال: إنه أراد قتل صاحبه."ش، حم، ن، طس - عن أبي موسى؛ ن؛ عب - عن أبي بكرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩০
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩١٧۔۔۔ جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو وہ اس سے زیادہ برے شخص کو قبول کرلیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمہیں اپنے ہاں خون کی بڑائی دکھائے۔ طبرانی فی الکبیر عن عمران بن الحصین، طبرانی فی الکبیر عن ابی الزنادبلاغا یعنی مسلمان کا خون کتنا قیمتی ہے۔
39917- أما إن الأرض تقبل من هو شر منه ولكن الله أراد أن يريكم عظم الدم عنده."طب - عن عمران بن الحصين؛ طب - عن أبي الزناد بلاغا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩১
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩١٨۔۔۔ حمدوثناء کے بعد : مسلمان کو کیا ہے کہ وہ مسلمان کو قتل کرے جب کہ وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مرے سامنے مسلمان کو قتل کرنے والے کی سفارش کرنے کا انکار کیا ہے۔ ابن ماجۃ عن عبۃ بن مالک
39918- أما بعد فما بال المسلم يقتل المسلم وهو يقول: إني مسلم! أبى الله علي فيمن يقتل مسلما."هـ - عن عتبة بن مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩২
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩١٩۔۔۔ میں نے اپنے رب سے مومن کے قاتل کے بارے بحث کی کہ اس کی توبہ کی کوئی سبیل بنائے تو اللہ تعالیٰ نے انکار کردیا۔ الدیلمی عن انس
39919- نازلت ربي منازلة في أن يجعل لقاتل المؤمن توبة فأبى علي."الديلمي - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩৩
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩٢٠۔۔۔ میں نے اپنے رب عزوجل سے پوچھا کیا، مومن کے قاتل کے لیے کوئی توبہ ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے مرے سامنے انکار کیا۔ الدیلمی عن انس
39920- سألت ربي عز وجل: هل لقاتل مؤمن من توبة؟ فأبى علي."الديلمي - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩৪
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩٢١۔۔۔ آدمی خون کے اس پچھنے (سینگی لگانے کی) وجہ سے جو وہ کسی مسلمان کا ناحق بہاتا ہے جنت کو دیکھنے سے اس کے دروازے سے ہٹادیا جاتا ہے۔ ابن مندہ، طبرانی فی الکبیر، ابن عسا کر عن بریدۃ ، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٨٨٤۔
39921- إن الرجل ليدفع عن باب الجنة أن ينظر إليها بمحجمة من دم يريقه من مسلم بغير حق."ابن منده، طب كر - عن بريدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩৫
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩٢٢۔۔۔ ہرگز تم میں سے کسی ایک کے اور جنت کے درمیان ہتھیلی بھرخون حائل نہ ہوج سے وہ بہاتا ہے۔ طبرانی عن ابن عمر
39922- لا يحولن بين أحدكم وبين الجنة كف من دم أصابه."طب - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩৬
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩٢٣۔۔۔ ہرگز تم میں سے کسی ایک کے اور جنت کے درمیان، جب کہ وہ جنت کے دروازوں کی طرف دیکھ رہاہو ہتھیلی بھر کسی مسلمان کا خون حائل نہ ہوج سے وہ ظلما بہاتا ہے۔ سمویہ عن جندب
39923- لا يحولن بين أحدكم وبين الجنة وهو ينظر إلى أبوابها ملء كف من دم مسلم يهراقه ظلما."سمويه - عن جندب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯৩৭
قصاص کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الا کمال
٣٩٩٢٤۔۔۔ ابلیس ہر صبح وشام اپنے لشکر بھیجتا ہے اور کہتا ہے : جو کسی شخص کو گمراہ کرے گا میں اس کی عزت کروں گا، اور جس نے فلاں فلاں کام کیا، تو ان میں سے ایک آکر کہتا ہے کہ میں ایک شخص کے ساتھ چمٹارہایہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو ابلیس کہتا ہے : وہ دوسری شادی کرلے گا۔ تو وہ کہتا ہے : میں اس کے ساتھ رہایہاں تک کہ اس نے زنا کیا، تو شیطان اسے انعام دیتا اور اس کا مرتبہ بڑھاتا ہے اور کہتا ہے : کہ اس جیسے کام کیا کرو۔ پھر دوسرا آکرکہتا ہے : میں فلاں کے ساتھ رہایہاں تک کہ اس نے قتل کردیا، تو شیطان زور سے چیختا ہے، جن اس کے پاس جمع ہو کرکہتے ہیں ہمارے آقا ! آپ کس وجہ سے اتنے خوش ہوئے ؟ وہ کہتا ہے : کہ مجھے فلاں نے بتایا کہ وہ ایک انسان کے ساتھ رہا اسے فتنہ میں مبتلا رکھا اور راستہ سے روکتارہا یہاں تک کہ اس نے ایک شخص کو قتل کردیا، جس کی وجہ سے وہ جہنم میں جائے گا۔ پھر شیطان اسے ایسے انعام و اکرام سے نوازتا ہے کہ پورے لشکر میں سے کسی کو اس جیسا انعام نہیں دیتا، پھر تاج منگواتا ہے اور اسے اس کے سر پر رکھتا ہے اور اسے ان کا نگران بنادیا ہے۔ حیلۃ الاولیاء عن ابی موسنی
39924- إن إبليس يبعث جنوده كل صباح ومساء فيقول: من أضل رجلا أكرمته، ومن فعل كذا وكذا! فيأتي أحدهم فيقول: لم أزل به حتى طلق امرأته، قال: يتزوج أخرى! فيقول: لم أزل به حتى زنى، فيجيزه ويكرمه ويقول: لمثل هذا فاعملوا، فيأتي آخر فيقول: لم أزل بفلان حتى قتل، فيصيح صيحة يجتمع إليه الجن فيقولون: يا سيدنا! ما الذي فرحك؟ فيقول: حدثني فلان أنه لم يزل برجل من بني آدم يفتنه ويصده حتى قتل رجلا فدخل النار، فيجيزه ويكرمه كرامة لم يكرم بها أحدا من جنوده، ثم يدعو بالتاج فيضعه على رأسه ويستعمله عليهم."حل - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক: