কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ہبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮২ টি
হাদীস নং: ৪৬২৩১
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ھبہ واپس لینے کا بیان
46219 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے کوئی چیز کسی قریبی رشتہ دار کو ھبہ کی یا بطور صدقہ دی وہ اسے واپس نہیں لے سکتا اور جس شخص نے کوئی چیز بطور ھبہ دی اور اس پر وہ ثواب کا خواہشمند ہے اور اپنے ھبہ پر برقرار رہے گا اور اس سے راضی ہو واپس لے سکتا ہے۔۔ رواہ مالک وعبدالرزاق ومسدد والطحاوی والبیہقی
46219- عن عمر قال: من وهب هبة بصلة رحم أو على وجه صدقة فإنه لا يرجع فيها، ومن وهب هبة يرى أنه أراد بها الثواب فهو على هبته، يرجع فيها إن لم يرض منها. "مالك، عب، ومسدد، والطحاوي، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩২
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46220 ۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ فرمایا کہ آدمی کے لیے اپنی اولاد کے مال میں سے لینا جائز ہے۔ جو وہ دے جب تک کہ وہ نہ مرے یا ہلاک نہ کردے یا مقروض نہ ہوجائے۔ مصنف عبدالرزاق ، بیہقی ۔
46220- عن عمر قال: يعتصر الرجل من ولده ما أعطاه من ماله ما لم يمت أو يستهلكه أو يقع فيه دين. "عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৩
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46221 ابن عمر (رض) کی رواشت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس شخص نے بطور ھبہ کوئی چیز دی اور اس کا عوض نہ لیا وہ اس چیز کا زیادہ حقدار ہے البتہ اگر کسی قریبی رشتہ دار کو ھبہ کیا ہو تو واپس نہیں لے سکتا۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
46221- عن ابن عمر عن عمر قال: من وهب هبة فلم يثب فهو أحق بهبته إلا لذي رحم. "ص، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৪
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46222 اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک گھوڑا فی سبیل اللہ سواری کے لیے دیا پھر آپ (رض) نے وہی گھوڑا یا اس کی نسل میں سے کوئی گھوڑا بازار میں بکتا ہوا پایا آپ (رض) نے وہ گھوڑا خریدنا چاہا اس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑ دو حتیٰ کہ قیامت کے دن اسے پالو۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46222- عن أسلم قال: حمل عمر على فرس في سبيل الله فرآه أو شيئا من نسله يباع في السوق، فأراد أن يشتريه فسأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اتركه حتى يوافيك يوم القيامة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৫
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46223 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں جب صدقہ میں دی ہوئی چیز صدقہ لینے والے کے علاوہ کسی اور کے پاس پہنچ جائے اسے خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ ابن جریر
46223- عن عمر قال: إذا تحولت الصدقة إلى غير الذي تصدق عليه فلا بأس أن يشتريها. "ش، وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৬
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46224 محمد بن عبداللہ ثقفی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حکم نامہ لکھا کہ عورتیں خوشی سے یا ناخوشی سے عطیہ کرتی رہتی ہیں لہٰذا جو عورت بھی اپنے خاوند کو عطیہ کرے پھر اگر وہ اسے واپس لینا چاہے تو لے سکتی ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46224- عن محمد بن عبد الله الثقفي قال: كتب عمر بن الخطاب أن النساء يعطين رغبة ورهبة، فأيما امرأة أعطت زوجها فشاءت أن ترجع رجعت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৭
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46225 شمیط کی روایت ہے سوید بن میمون نے ایک گھوڑا سواری کے لیے عطیہ کیا پھر اسے واپس خریدنا چاہا ان سے ایک شخص نے کہا : حضرت ابوہریرہ (رض) نے مجھے اپنا کیا ہوا صدقہ خریدنے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابن عساکر
46225- عن الشميط أن سويد بن ميمون حمل على فرس ثم أراد أن يشتريه. فقال له رجل: إن أبا هريرة نهاني أن أشتري صدقتي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৮
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46226 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے قریبی رشتہ دار کو کوئی چیز بطور ھبہ دی اور اس کا عوض نہ لیا وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46226- عن علي قال: من وهب هبة لذي رحم فلم يثب منها فهو أحق بهبته. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৩৯
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46227 حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے عطیہ کو واپس لیتا ہے اس کی مثال کتے کی سی ہے جو پیٹ بھر کر کھاتا ہے پھر قے کردیتا ہے پھر اسے چاٹنے لگتا ہے۔ رواہ ابن النجار
46227- عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الذي يرجع في عطيته كمثل الكلب حتى إذا شبع قاء ثم عاد في قيئه فأكله. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪০
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46228 حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے بطور ھبہ کوئی چیز کسی کو دی پھر اسے واپس لینا چاہا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس کتے کی مثال ہے جو کھاتا ہے اور جب سیر ہوجاتا ہے قے کر ڈالتا ہے اور پھر اسے چاٹنے لگتا ہے۔ رواہ ابن عساکر
46228- عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رجلا وهب هبة فرجع فيها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هذا مثل الكلب الذي يأكل حتى إذا شبع قاء ما في بطنه ثم رجع إليه فأكله. " كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪১
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ واپس لینے کی صورت
46229 طاؤ وس کی روایت ہے۔ میں سنتا رہتا تھا دراں حالیکہ میں لڑکا تھا اور اس وقت لڑکے کہتے رہتے تھے : جو شخص اپنا ھبہ واپس لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کردیتا ہے اور پھر اسے چاٹنے لگتا ہے جب کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مثال بیان فرمائی ہے حتیٰ کہ بعد میں مجھے اس کی خبر دی گئی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس شخص کی مثال جو ھبہ کرے اور پھر اسے واپس لے کتے کی سی ہے جو قے کرتا ہے اور پھر اسے چاٹنے لگتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46229- عن طاوس قال: كنت أسمع - وأنا غلام - الغلمان يقولون: الذي يعود في هبته كمثل الكلب الذي يعود في قيئه، ولا أشعر أن النبي صلى الله عليه وسلم ضرب ذلك مثلا حتى أخبرت به بعد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إنما مثل الذي يهب ثم يعود في هبته كمثل الكلب يقيء ثم يأكل قياه. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪২
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبضہ سے قبل ھبہ کا حکم
46230” مسند صدیق “ ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے کہ سلیمان بن موسیٰ کا کہنا ہے : حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے حکم نامہ صادر کیا تھا کہ جس شخص نے کسی ایسے آدمی کو ہبہ کیا جو اس کی حفاظت کرسکتا تھا۔ لیکن اس کے قبضہ میں دیا نہیں تو یہ عطیہ باطل ہے اور یہ کہا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو کچھ عطیہ کیا تھا جو قبضہ میں نہیں دیا تھا۔ آپ (رض) نے ان کی وفات کے وقت یہ عطیہ رد کردیا تھا۔ رواہ عبدالرزاق
46230- "مسند الصديق" أخبرنا ابن جريج قال: زعم سليمان بن موسى أن عمر بن عبد العزيز كتب أنه أيما رجل نحل من قد بلغ الحوز فلم يدفعه إليه فتلك النحلة باطل، وزعم أن عمر أخذه من نحل أبي بكر عائشة فلم يفها به، فرده حين حضره الموت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৩
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبضہ سے قبل ھبہ کا حکم
46231 حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عطیہ پر جب تک قبضہ نہ کیا جائے وہ میراث ہے۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ
46231- عن أبي موسى الأشعري قال قال عمر رضي الله عنه: الإنحال ميراث ما لم يقبض. "عب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৪
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبضہ سے قبل ھبہ کا حکم
46232 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنی اولاد کو عطیات کرتے ہیں اور پھر ان عطیات کو اپنے پاس روک لیتے ہیں جب کسی کا بیٹا مرجاتا ہے تو اس کا باپ کہتاے یہ میرا مال ہے اور میرے قبضہ میں ہے۔ اور جب خود مرنے لگتا ہے کہتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ کیا تھا، عطیہ وہی ہوتا ہے جس پر بیٹے یا باپ کا قبضہ ہوجائے۔ اور جو مرگیا وہ اس کی میراث ہوگا۔۔ رواہ عبدالرزاق
46232- عن عمر قال: ما بال رجال ينحلون أولادهم نحلا ثم يمسكونها، فإذا مات ابن أحدهم قال: ما لي وفي يدي! وإذا مات قال: قد كنت نحلته لولدي، لا نحلة إلا نحلة يحوزها الولد أو الوالد، فإن مات ورثه بذلك. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৫
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبضہ سے قبل ھبہ کا حکم
46233 سعید بن مسیب نے حضرت عثمان (رض) سے اس کی شکایت کی چنانچہ آپ (رض) نے دیکھا کہ والد اپنی اولاد کا عطیہ قبضہ کرلیتے ہیں جب کہ اولاد چھوٹی ہو۔ رواہ عبدالرزاق
46233- عن سعيد بن المسيب ... فشكا ذلك إلى عثمان، فرأى أن الوالد يحوز لولده إذا كانوا صغارا [ ... ] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৬
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قبضہ سے قبل ھبہ کا حکم
46234 نضر بن انس کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فیصلہ کیا کہ جس عطیہ پر قبضہ کرلیا جائے وہ جائز ہوتا ہے اور جس پر قبضہ نہ کیا جائے وہ دینے والے کی میراث ہے۔۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والبیہقی
46234- عن النضر بن أنس قال: قضى عمر بن الخطاب في الإنحال ما قبض منه فهو جائز، وما لم يقبض منه فهو ميراث. "ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৭
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمری ورقبی کا بیان
46235 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : رقبی عمری کی مانند ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46235- عن علي قال: الرقبي منزلة العمري. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৮
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمری ورقبی کا بیان
46236 حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : جس عمری کی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت مرحمت فرمائی ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دینے والا یوں کہے : یہ چیز تیری ملکیت ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کی ملکیت ہے اور اگر یوں کہے کہ جب تک میں زندہ رہا تو اس کی ملکیت اس چیز کے مالک کو جائے گی۔ رواہ عبدالرزاق
46236- عن جابر قال: إنما العمري التي أجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقول: هي لك ولعقبك، فأما إذا قال: هي ما عشت فإنها ترجع إلى صاحبها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৪৯
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمری ورقبی کا بیان
46237” ایضائ “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کو کوئی چیز بطور عمری عطا کرے وہ لینے والے کی ملکیت ہوگی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی ملکیت ہوگی اور یوں کہے ” میں نے یہ چیز تمہیں عطا کردی اور تیرے بعد تیری اولاد کی ملکیت ہوگی “ یہ عطیہ مالک کو واپس نہیں ہوگا چونکہ یہ ایسا عطیہ ہے جس میں میراث کا حکم چل پڑا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
46237- "أيضا" قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه أيما رجل أعمر رجلا عمري له ولعقبه فقال: قد أعطيتكها وعقبك ما بقي منكم أحد، فإنها لمن أعطاها، وإنها لا ترجع إلى صاحبها من أجل أنه أعطاه عطاء وقعت فيه المواريث. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২৫০
ہبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمری ورقبی کا بیان
46238 محمد بن حنفیہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) کے پاس گیا ۔ حضرت معاویہ (رض) نے مجھ سے عمری کے متعلق سوال کیا : میں نے جواب دیا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بطور عمری دی گئی چیز کو اس شخص کی ملکیت قرار دیا ہے جسے وہ چیز دی گئی ہو۔ معاویہ (رض) نے کہا : تم اسی کے قائل ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں۔ معاویہ (رض) نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم کو فرماتے سنا ہے کہ جس شخص کو بطور عمری کوئی چیز دی گئی وہ اس کی ملکیت ہوگی اور اس کے بعد اس کی اولاد کو وراثت میں ملے گی۔ رواہ ابن عساکر
46238- عن محمد ابن الحنفية قال: قدمت على معاوية بن أبي سفيان فسألني عن العمري، فقلت: جعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن أعطيها، قال: تقولون ذلك؟ قلت: نعم، فإني أشهد أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من أعمر عمرى فهي له يرثها من عقبه من يرثه. " كر".
তাহকীক: