কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
گواہیوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭৫ টি
হাদীস নং: ১৭৭৯০
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :
فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17790 ۔۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ جنگ جمل میں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی زرہ کھو گئی جو ایک شخص کو مل گئی اور اس نے فروخت کر ڈالی ، وہ زرہ ایک یہودی شخص کے پاس دیکھی گئی ، چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) قاضی شریح کے پاس اس کا فیصلہ لے کر گئے ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے حق میں حضرت حسن (رض) اور آپ کے غلام قنبر نے شہادت پیش کی ، قاضی شریح (رح) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو فرمایا : مجھے حسن (رض) کے بجائے کوئی اور گواہ پیش کیجئے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : کیا تم حسن کی شہادت کو ٹھکراتے ہو ؟ قاضی شریح (رح) نے فرمایا نہیں ، مگر میں نے آپ ہی سے سنا ہے کہ بیٹے کی شہادت باپ کے حق میں جائز نہیں ۔ (ابن عساکر)
17790- عن الشعبي قال: "ضاع درع لعلي يوم الجمل فأصابها رجل فباعها فعرفت عند رجل من اليهود فخاصمه إلى شريح فشهد لعلي الحسن ومولاه قنبر، فقال شريح لعلي: زدني شاهدا مكان الحسن، فقال: أترد شهادة الحسن؟ قال: لا ولكني حفظت عنك أنه لا تجوز شهادة الولد لوالده". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯১
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :
فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17791 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : بچے کی شہادت بچے پر اور غلام کی شہادت غلام پر جائز ہے۔ (رواہ مسدد)
17791- عن علي "شهادة الصبي على الصبي، وشهادة العبد على العبد جائزة". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯২
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :
فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17792 ۔۔۔ اسود بن قیس اپنے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے چوری کے معاملہ میں اندھے کی شہادت کو جائز قرار نہیں دیا ۔ (مصنف عبدالرزاق)
17792- عن الأسود بن قيس عن أشياخه "أن عليا لم يجز شهادة الأعمى في سرقة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৩
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی گواہی کا معتبر ہونا :
17793 ۔۔۔ عبداللہ بن نجی سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے دایہ عورت کی شہادت نومولود بچے کے رونے نہ رونے میں معتبر قرار دیا مصنف عبدالرزاق ، السنن لسعید بن منصور ، السنن للبیہقی)
کلام : ۔۔۔ امام بیہقی (رح) نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (کنز ج 7 ص 25)
کلام : ۔۔۔ امام بیہقی (رح) نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (کنز ج 7 ص 25)
17793- عن عبد الله بن نجي "أن عليا أجاز شهادة المرأة القابلة وحدها في الاستهلال". "عب ص ق وضعفه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৪
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی گواہی کا معتبر ہونا :
17794 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : طلاق ، نکاح ، حدود ، اور خون میں عورت کی شہادت جائز نہیں ۔ اور صرف عورت کی شہادت ایک درہم کے مسئلہ میں بھی جائز نہیں جب تک عورت کے ساتھ کوئی مرد نہ ہو (مصنف عبدالرزاق)
17794- عن علي قال: "لا تجوز شهادة النساء في الطلاق والنكاح والحدود والدماء ولا تجوز شهادة النساء بحتا في درهم حتى يكون معهن رجل."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৫
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی گواہی کا معتبر ہونا :
17795 ۔۔۔ ابراہیم بن یزید تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے اپنی ایک زرہ ایک یہودی کے پاس پائی جو اس نے اٹھالی تھی ۔ آپ (رض) نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا ، یہ تو میری زرہ ہے جو میرے خاکستری اونٹ سے گرگئی تھی ۔ یہودی نے کہا ، یہ میری زرہ ہے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ اور میرے اور تمہارے درمیان مسلمانوں ہی کا قاضی اس کا فیصلہ کرے گا ۔ پس یہ لوگ قاضی شریح کے پاس آئے ، قاضی شریح (رح) نے حضرت علی (رض) کو آتے دیکھا تو اپنی جگہ سے اٹھ گئے اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اس کی جگہ بیٹھ گئے ۔ پھر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر میرا مخالف فریق مسلمان ہوتا تو میں اس کے ساتھ بیٹھتا لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ارشاد فرمایا تم ان کے ساتھ ایک مجلس میں برابر نہ بیٹھو ، ان کے مریضوں کی عیادت نہ کرو ، ان کے جنازوں کی مشایعت نہ کرو ، راستوں میں ان کو تنگ جگہ میں چلنے پر مجبور کرو ۔ اگر وہ تم کو گالی دیں تو تم ان کو مارو، اگر وہ تم کو ماریں تو ان سے قتال کرو ۔
پھر حضرت قاضی شریح (رح) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے عرض کیا : یا امیر المؤمنین آپ کیا چاہتے ہیں ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : میری زرہ میرے اونٹ سے گرگئی تھی جو اس یہودی نے اٹھالی ہے۔ پھر قاضی شریح (رح) نے یہودی سے پوچھا : اے یہودی تو کیا کہتا ہے ؟ یہودی نے کہا : یہ میری زرہ ہے اور میرے قبضہ میں ہے۔ پھر قاضی شریح (رح) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو کہا : اے امیر المؤمنین اللہ کی قسم : آپ سچ کہتے ہیں ، یقیناً یہ آپ ہی کی زرہ ہے۔ مگر پھر بھی آپ کو دو گواہ پیش کرنا ضروری ہیں۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اپنے غلام قنبر اور اپنے بیٹے حضرت حسن (رض) کو بلایا ، دونوں نے یہ گواہی دی کہ یہ آپ (رض) کی زرہ ہے۔ قاضی شریح (رح) نے فرمایا (یا امیر المؤمنین) آپ کے غلام قنبر کی گواہی تو ہم درست تسلیم کرلیتے ہیں لیکن آپ کے بیٹے کی شہادت کو ہم تسلیم نہیں کرتے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے قاضی شریح (رح) کو فرمایا : تیری ماں تجھے روئے تم نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو یہ روایت سناتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ؟ قاضی شریح (رح) نے فرمایا : جی ہاں اللہ جانتا ہے۔ (یہ بات برحق ہے) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : کیا تم میرے جنت کے سردار کی شہادت کو جائز قرار نہیں دیتے ؟ قاضی شریح (رح) نے فیصلہ سناتے ہوئے یہودی کو فرمایا : تم زرہ لے لو ۔ یہودی نے کہا : واہ : امیر المؤمنین میرے ساتھ مسلمانوں کے قاضی کے پاس آئے اور قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور امیر المؤمنین اس پر راضی ہیں۔ اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! آپ سچ بولتے ہیں یہ زرہ آپ کی ہے۔ آپ کے اونٹ سے گرگئی تھی جو میں نے اٹھالی تھی ۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے وہ زرہ سابق یہودی نومسلم کو ہبہ کردی اور سات سو درہم انعام عطا کیا ۔ وہ نو مسلم ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا حتی کہ جنگ صفین میں آپ کے ہمراہ لڑتے ہوئے شہید ہوگیا (الحاکم فی الکنی ، حلیۃ الاولیاء ابن الجوزی فی الواھیات)
کلام : ۔۔۔ یہ روایت ضعیف ہے اور اعمش بن ابراہیم کی حدیث ہے۔ حکیم اس کی روایت میں متفرد ہیں ، قاضی شریح کی اولاد نے عن شریح عن علی کے واسطہ سے اس کے مثل روایت نقل کی ہے۔
پھر حضرت قاضی شریح (رح) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے عرض کیا : یا امیر المؤمنین آپ کیا چاہتے ہیں ؟ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : میری زرہ میرے اونٹ سے گرگئی تھی جو اس یہودی نے اٹھالی ہے۔ پھر قاضی شریح (رح) نے یہودی سے پوچھا : اے یہودی تو کیا کہتا ہے ؟ یہودی نے کہا : یہ میری زرہ ہے اور میرے قبضہ میں ہے۔ پھر قاضی شریح (رح) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو کہا : اے امیر المؤمنین اللہ کی قسم : آپ سچ کہتے ہیں ، یقیناً یہ آپ ہی کی زرہ ہے۔ مگر پھر بھی آپ کو دو گواہ پیش کرنا ضروری ہیں۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اپنے غلام قنبر اور اپنے بیٹے حضرت حسن (رض) کو بلایا ، دونوں نے یہ گواہی دی کہ یہ آپ (رض) کی زرہ ہے۔ قاضی شریح (رح) نے فرمایا (یا امیر المؤمنین) آپ کے غلام قنبر کی گواہی تو ہم درست تسلیم کرلیتے ہیں لیکن آپ کے بیٹے کی شہادت کو ہم تسلیم نہیں کرتے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے قاضی شریح (رح) کو فرمایا : تیری ماں تجھے روئے تم نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو یہ روایت سناتے ہوئے نہیں سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ؟ قاضی شریح (رح) نے فرمایا : جی ہاں اللہ جانتا ہے۔ (یہ بات برحق ہے) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : کیا تم میرے جنت کے سردار کی شہادت کو جائز قرار نہیں دیتے ؟ قاضی شریح (رح) نے فیصلہ سناتے ہوئے یہودی کو فرمایا : تم زرہ لے لو ۔ یہودی نے کہا : واہ : امیر المؤمنین میرے ساتھ مسلمانوں کے قاضی کے پاس آئے اور قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور امیر المؤمنین اس پر راضی ہیں۔ اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! آپ سچ بولتے ہیں یہ زرہ آپ کی ہے۔ آپ کے اونٹ سے گرگئی تھی جو میں نے اٹھالی تھی ۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے وہ زرہ سابق یہودی نومسلم کو ہبہ کردی اور سات سو درہم انعام عطا کیا ۔ وہ نو مسلم ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا حتی کہ جنگ صفین میں آپ کے ہمراہ لڑتے ہوئے شہید ہوگیا (الحاکم فی الکنی ، حلیۃ الاولیاء ابن الجوزی فی الواھیات)
کلام : ۔۔۔ یہ روایت ضعیف ہے اور اعمش بن ابراہیم کی حدیث ہے۔ حکیم اس کی روایت میں متفرد ہیں ، قاضی شریح کی اولاد نے عن شریح عن علی کے واسطہ سے اس کے مثل روایت نقل کی ہے۔
17795- عن إبراهيم بن يزيد التيمي عن أبيه قال: "وجد علي بن أبي طالب درعا له عند يهودي التقطها فعرفها فقال: درعي سقطت عن جمل لي أورق، فقال اليهودي: درعي وفي يدي، ثم قال له اليهودي: بيني وبينك قاضي المسلمين، فأتوا شريحا فلما رأى عليا قد أقبل تحرف عن موضعه وجلس علي فيه ثم قال علي: لو كان خصمي من المسلمين لساويته في المجلس ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تساووهم في المجلس، ولا تعودوا مرضاهم ولا تشيعوا جنائزهم، وألجئوهم إلى أضيق الطرق، فإن سبوكم فاضربوهم وإن ضربوكم فاقتلوهم، ثم قال شريح: ما تطلب يا أمير المؤمنين؟ قال: درعي سقطت عن جمل لي أورق فالتقطها هذا اليهودي، فقال شريح: ما تقول يا يهودي؟ قال: درعي وفي يدي، فقال شريح: صدقت والله يا أمير المؤمنين إنها لدرعك ولكن لا بد من شاهدين، فدعا قنبرا مولاه والحسن بن علي فشهدا أنها لدرعه، فقال شريح: أما شهادة مولاك فقد أجزناها وأما شهادة ابنك لك فلا نجيزها، فقال علي: ثكلتك أمك أما سمعت عمر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة، قال: اللهم نعم، قال: أفلا تجيز شهادة سيدي شباب أهل الجنة، ثم قال لليهودي: خذ الدرع، فقال اليهودي: أمير المؤمنين جاء معي إلى قاضي المسلمين فقضى على علي ورضي صدقت والله يا أمير المؤمنين إنها لدرعك سقطت عن جمل لك التقطتها أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فوهبها له علي وأجازه بسبع مائة ولم يزل معه حتى قتل يوم صفين"."الحاكم في الكنى، حل وابن الجوزي في الواهيات".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৬
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی گواہی کا معتبر ہونا :
17796 ۔۔۔ سعید بن المسیب (رح) سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) سے ایسے غلام اور ایسے نصرانی کے متعلق نقل کرتے ہیں جن کے پاس کوئی شہادت ہو پھر غلام آزاد ہوجائے اور نصرانی مسلمان ہوجائے تو ان کی شہادت جائز ہے اور مقبول ہے جب تک اس سے پہلے مسترد نہ کی جائے ۔ (سمویہ)
17796- عن سعيد بن المسيب عن عثمان بن عفان "في العبد تكون عنده الشهادة والنصراني فأعتق العبد وأسلم النصراني أن شهادتهما جائزة ما لم ترد قبل ذلك". "سمويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৭
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی گواہی کا معتبر ہونا :
17797 ۔۔۔ امام مالک (رح) کی بلاغیات میں سے ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : خصم کی شہادت جائز ہے اور نہ ظنین کی ۔ (مالک) وضاحت کے لیے دیکھا روایت : 17778 ۔
تزکیۃ الشہود : (گواہوں پر جرح)
تزکیۃ الشہود : (گواہوں پر جرح)
17797- إنه بلغه أن عمر بن الخطاب قال: "لا تجوز شهادة خصم ولا ظنين". "مالك"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৮
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تزکیۃ الشہود (گواہوں پر جرح)
17798 ۔۔۔ خرشۃ بن الحر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے سامنے ایک شہادت پیش کی ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اس شخص کو فرمایا : میں تجھے نہیں جانتا اور یہ بات تیرے لیے کوئی نقصان دہ بھی نہیں ہے کہ میں تجھے نہیں جانتا ، ایسے کسی شخص کو پیش کرو جو تم کو جانتا ہو۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا : میں اس شخص کو جانتا ہوں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اس شخص سے پوچھا تم اس کے متعلق کیا بات جانتے ہو ؟ آدمی نے عرض کیا : یہ صاحب عدل اور صاحب فضل انسان ہے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پوچھا : کیا یہ تمہارا اس قدر قریبی پڑوسی ہے کہ تم اس کی رات اور دن کی مصروفیات اور اس کے آنے اور جانے کو جانتے ہو ؟ عرض کیا نہیں ۔ آپ (رض) نے پوچھا : کیا تم نے اس کے ساتھ درہم و دینار کا کوئی لین دین کیا ہے جس سے اس کا تقوی معلوم ہو ؟ عرض کیا نہیں ۔ پوچھا : کیا اس کے ساتھ کوئی سفر کیا ہے جس سے اس کے عمدہ اخلاق سامنے آئے ہوں ؟ عرض کیا : نہیں تب آپ (رض) نے فرمایا : پھر تم اس کو نہیں جانتے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت دینے والے کو فرمایا : ایسے شخص کو لاؤ جو تم کو جانتا ہو ۔ (المخلص فی امالیہ ، السنن البیھقی)
17798- عن خرشة بن الحر قال: "شهد رجل عند عمر بن الخطاب شهادة فقال له: لست أعرفك ولا يضرك أن لا أعرفك، ايت بمن يعرفك، فقال رجل من القوم: أنا أعرفه، قال: بأي شيء تعرفه؟ قال: بالعدالة والفضل، قال: فهو جارك الأدنى الذي تعرف ليله ونهاره ومدخله ومخرجه؟ قال: لا، قال: فعاملك بالدينار والدرهم اللذين بهما يستدل على الورع؟ قال: لا، قال: فرفيقك في السفر الذي يستدل به على مكارم الأخلاق؟ قال: لا، قال: لست تعرفه، ثم قال للرجل: ايت بمن يعرفك". "المخلص في أماليه، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৯৯
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹا گواہ :
17799 ۔۔۔ مکحول اور ولید بن ابی مالک سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جھوٹے گواہ کے بارے میں اپنے عمال کو لکھا تھا کہ اس کو چالیس کوڑے مارے جائیں اس کے چہرے پر کالک ملی جائے ، اس کا سر گنجا کیا جائے اس کو شہر میں پھرایا جائے اور پھر طویل مدت تک اس کو محبوس کردیا جائے ۔ (مصنف عبدالرزاق ، مصنف ابن ابی شیبہ ، السنن لسعید بن منصور ، السنن للبیھقی)
17799- عن مكحول والوليد بن أبي مالك قالا: "كتب عمر إلى عماله في الشاهد الزور أن يضرب أربعين سوطا ويسخم وجهه ويحلق رأسه ويطاف به ويطال حبسه". "عب ش ص ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০০
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹا گواہ :
17800 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : کوئی شخص اسلام میں جھوٹی گواہی کی بناء پر ہرگز قید نہیں کیا جائے گا اور ہم صرف عادل شخص کی شہادت قبول کریں گے ۔ (مالک ، عبدالرزاق ، ابو عبید فی الغریب ، مستدرک الحاکم ، السنن للبیھقی)
17800- عن عمر قال: "ألا يؤسرن أحد في الإسلام بشهود الزور ولا نقبل إلا العدول". "مالك، عب، وأبو عبيد في الغريب ك، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০১
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹا گواہ :
17801 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ (رض) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی خدمت میں ایک جھوٹے گواہ کو پیش کیا گیا ۔ آپ (رض) نے لوگوں کو دکھانے کے لیے ایک پورا دن رات تک اس کو روکے رکھا اور یہ فرماتے رہے کہ یہ فلاں شخص ہے جو جھوٹی گواہی دیتا ہے اس کو پہچان لو ۔ پھر آپ (رض) نے اس کو کوڑے مارے پھر قید کردیا ۔ (مسدد ، السنن للبیھقی)
17801- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: "أتي عمر بشاهد زور فوقفه للناس يوما إلى الليل يقول هذا فلان يشهد بزور فاعرفوه فجلده، ثم حبسه". "مسدد، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০২
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹا گواہ :
17802 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جان بوجھ کر جھوٹی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی ۔ (النقاش)
17802- عن ابن عمر قال: "لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم شاهد الزور وهو يعلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০৩
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹا گواہ :
17803 ۔۔۔ ایمن بن خریم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے مترادف ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
(آیت)” فاجنتبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور “۔ (الحج : 30)
(ترجمہ) سو بچو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹ کی بات سے ۔ (مسنداحمد ، ترمذی ، البغوی ، ابن قانع ، ابو نعیم)
کلام : ۔۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور ہم ایمن بن خریم کا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع ثابت ہونا نہیں جانتے ۔ (کنز ج 7 ص 29)
(آیت)” فاجنتبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور “۔ (الحج : 30)
(ترجمہ) سو بچو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹ کی بات سے ۔ (مسنداحمد ، ترمذی ، البغوی ، ابن قانع ، ابو نعیم)
کلام : ۔۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور ہم ایمن بن خریم کا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع ثابت ہونا نہیں جانتے ۔ (کنز ج 7 ص 29)
17803- عن أيمن بن خريم قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: "يا أيها الناس عدلت شهادة الزور إشراكا بالله، قالها ثلاثا، ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم: {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ} 1 "حم، ت وقال: غريب، ولا نعرف لأيمن بن خريم سماعا من النبي صلى الله عليه وسلم، والبغوي، وابن قانع، وأبو نعيم". ومر برقم [17741] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০৪
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹا گواہ :
17804 ۔۔۔ علی بن الحسین (امام زین العابدین (رح)) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) جب کسی جھوٹے گواہ کو پکڑ لیتے تو اس کو اس کے خاندان کے پاس بھیجتے اور یہ اعلان کروا دیتے یہ جھوٹا گواہ ہے اس کو پہچان لو اور دوسروں کو بھی بتادو پھر آپ اس کا راستہ چھوڑ دیتے ۔ (شعب الایمان للبیھقی)
17804- عن علي بن الحسين قال: "كان علي إذا أخذ شاهد زور بعثه إلى عشيرته فقال: إن هذا شاهد زور فاعرفوه وعرفوه، ثم خلى سبيله"."هق".
তাহকীক: