কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

گواہیوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭৫ টি

হাদীস নং: ১৭৭৭০
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17770 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کافر، بچے اور غلام کی شہادت جائز ہے جبکہ وہ اس حالت میں شہادت نہ دیں ، بلکہ کافر مسلمان ہونے کے بعد شہادت دے ، بچہ بڑا ہونے کے بعد اور غلام آزاد ہونے کے بعد شہادت دے اور ادائیگی شہادت کے وقت ان کا عادل ہونا بھی شرط ہے۔

ابن شہاب (رح) فرماتے ہیں یہ سنت (سے ثابت) ہے۔ (مصنف عبدالرزاق)
17770- عن عمر قال: "تجوز شهادة الكافر والصبي والعبد إذا لم يقوموا بها في حالهم تلك، وشهدوا بها بعد ما يسلم الكافر ويكبر الصبي، ويعتق العبد إذا كانوا حين يشهدون بها عدولا" قال ابن الشهاب: إن ذلك سنة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭১
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17771 ۔۔۔ ابو عثمان (رح) سے مروی ہے کہ جب ابوبکرۃ (رض) اور ان کے دو ساتھیوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (گورنر) پر (زناء کی) گواہی دی تو چوتھے نمبر پر زیاد گواہی کے لیے سامنے آیا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے (الہامی بات) ارشاد فرمائی : ان شاء اللہ یہ آدمی صحیح گواہی ہی دے پائے گا ، چنانچہ اس نے کہا : میں نے تیز تیز سانسوں کی آواز سنی اور بری مجلس دیکھی ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے دریافت فرمایا ، کیا تو نے سلائی کو سرمہ دانی میں داخل ہوتا دیکھا ؟ زیاد نے انکار میں جواب دیا ، چنانچہ بقیہ (گواہ بھی جھوٹے پڑگئے اور وہ چار شہادتوں کی تعداد پوری نہ کرسکے اس لیے) آپ (رض) نے ان کو (تہمت کی سزا میں کوڑے مارنے کا) حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، بخاری ، مسلم )
17771- عن أبي عثمان قال: "لما شهد أبو بكرة وصاحباه على المغيرة جاء زياد، فقال عمر: رجل لن يشهد إن شاء الله إلا بحق، قال: رأيت ابتهارا1 ومجلسا سيئا، فقال عمر: هل رأيت المرود دخل المكحلة؟ قال: لا، فأمر بهم فجلدوا"."ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭২
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17772 ۔۔۔ زہری (رح) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اہل عراق کا خیال ہے کہ حد لگے ہوئے (سزا یافتہ) کی شہادت (گواہی) جائز نہیں ہے۔ (سنو ! ) میں شہادت دیتا ہوں کہ مجھے فلاں شخص یعنی سعید بن المسیب (رح) نے خبر دی کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو ارشاد فرمایا تھا کہ تم توبہ کرلو تمہاری توبہ قبول کی جائے گی ۔ (الشافعی ، السنن لسعید بن منصور ، ابن جریر ، بخاری ، مسلم)
17772- عن الزهري قال: "زعم أهل العراق أن شهادة المحدود لا تجوز فأشهد أنه أخبرني فلان يعني سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب قال لأبي بكرة: تب تقبل شهادتك". "الشافعي ص وابن جرير ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৩
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17773 ۔۔۔ ابن شہاب (زہری (رح)) سعید بن المسیب (رح) سے روایت سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جب ان تین لوگوں پر حد تہمت جاری کی جنہوں نے حضرت مغیرہ (رض) پر (جھوٹی) شہادت دی تھی ، اس کے بعد آپ (رض) نے ان تینوں سے توبہ کرنے کو فرمایا ۔ لہٰذا دو حضرات نے تو رجوع کرلیا (اور توبہ کرلی ، جس کے نتیجہ میں) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ان دونوں کو مقبول الشہادت قرار دیا جب کہ حضرت ابوبکرۃ (رض) نے انکار کردیا ۔ (اس بناء پر کہ وہ اپنی شہادت کو سچا سمجھتے رہے) لہٰذا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ان کو مردود الشہادۃ قرار دے دیا ۔ (الشافعی ، عبدالرزاق ، بخاری ، مسلم)
17773- عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب "أن عمر بن الخطاب لما جلد الثلاثة الذين شهدوا على المغيرة استتابهم فرجع اثنان فقبل شهادتهما وأبى أبو بكرة أن يرجع فرد شهادته". "الشافعي عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৪
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17774 ۔۔۔ محمد بن عبید اللہ ثقفی (رح) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے یہ فرمان (شاہی گورنروں اور قاضیوں کو) لکھا کو جس شخص کے پاس کوئی شہادت ہو اور اس نے حادثہ کو دیکھ کر اس وقت شہادت نہیں دی یا جب اس کو حادثہ کا علم ہوا تب اس نے شہادت نہیں دی ۔ پھر (اگر کبھی وہ شہادت دیتا ہے) تو درحقیقت کینہ پروری کی وجہ سے شہادت دیتا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق ، السنن لسعید بن منصور ، بخاری ، مسلم)
17774- عن محمد بن عبيد الله الثقفي قال: "كتب عمر بن الخطاب، من كانت عنده شهادة فلم يشهد بها حيث رآها أو حيث علمها فإنما يشهد على ضغن"

"عب ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৫
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17775 ۔۔۔ ابن شہاب (زہری (رح)) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے نو مولود بچے کے رونے میں عورت کی شہادت کو بھی جائز فرمایا ۔ رواہ عبدالرزاق)
17775- عن ابن شهاب "أن عمر بن الخطاب أجاز شهادة امرأة في الاستهلال". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৬
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17776 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب (رض) سے مروی ہے آپ (رح) نے ارشاد فرمایا :

ابوبکرہ ، شبل بن معبد ، نافع بن الحارث اور زیاد نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) پر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے سامنے اس بات کی گواہی دی (جو ان کے زعم میں) بصرہ میں حضرت مغیرہ (رض) سے سرزد ہوئی تھی (یعنی زناء کی) پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے زیاد کے علاوہ بقیہ حضرات پر حد تہمت جاری کی ، زیاد کو اس لیے چھوڑا کیونکہ انھوں نے شہادت مکمل نہیں دی تھی ۔ (رواہ ابن سعد)
17776- عن سعيد بن المسيب قال: "شهد أبو بكرة وشبل بن معبد ونافع بن الحارث وزياد على المغيرة بن شعبة بالحديث الذي كان منه بالبصرة عند عمر بن الخطاب، فضربهم عمر الحد غير زياد لأنه لم يتم الشهادة عليه". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৭
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17777 ۔۔۔ ابن ابی ذئب سے مروی ہے کہ انھوں نے ابو جابر بیاضی سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو ایک مرتبہ ایک شہادت دے دوبارہ اس کے خلاف شہادت دے ؟ تو ایسے شخص کا کیا حکم ہے ابوجابر بیاضی (رح) نے فرمایا میں نے حضرت ابن المسیب (رح) سے سنا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

(جو شخص دو مختلف شہادتیں پیش کرے تم) اس کے پہلے قول کو تسلیم کرو ۔ (صاحب کتاب مصنف عبدالرزاق ) فرماتے ہیں اس روایت کو ابن ابی ذئب سے جن لوگوں نے روایت کیا ہے اور مجھے یہ روایت بیان کی ہے ان کا آپس میں اختلاف ہے بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پہلے قول کرلو ۔ جبکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ آپ (رض) نے دوسرا قول تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق)
17777- عن ابن أبي ذئب أنه سأل أبا جابر البياضي عن رجل يشهد شهادة ثم يشهد بغيرها فقال: سمعت ابن المسيب يقول: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذوا بأول قوله، قال: قد اختلفوا على فيه عن ابن أبي ذئب فمنهم من يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذ بقوله الأول ومنهم من يقول: كان يأخذ بقوله الآخر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৮
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17778 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (رض) نے بازار میں ایک شخص کو یہ منادی (اعلان) کرنے کے لیے بھیجا کہ کسی خصم ہی شہادت قبول ہے اور نہ ظنین کی ، پوچھا گیا یا رسول اللہ ! خصم کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : ” السجار لنفسہ) یعنی اپنے (گناہوں کے ساتھ) اپنی جان پر ظلم کرنے والا ۔ پوچھا گیا : اور ظنین کیا ہے ؟ فرمایا ” متھم فی الدین “۔ یعنی جس کی دین داری کے بارے میں تہمت الزام ہو ۔ (مصنف عبدالرزاق)
17778- عن أبي هريرة قال: "بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم مناديا في السوق أنه لا يجوز شهادة خصم ولا ظنين، قيل: يا رسول الله ما الخصم؟ قال: الجار لنفسه، وقيل: وما الظنين؟ قال: المتهم في دينه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭৯
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17779 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ (رح) سے مروی ہے کہ ابن جدعان کے آزاد کردہ غلام ابن صہیب کہتے ہیں کہ لوگوں نے دو گھروں اور ایک حجرے کے بارے میں یہ دعوی کیا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صہیب (رض) کو عطا فرمائے تھے ، مروان (حاکم) نے پوچھا : اس بات پر تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ لوگوں نے حضرت ابن عمر (رض) کا نام لیا ۔ مروان نے آپ (رض) کو بلایا ، آپ (رض) نے اسی طرح شہادت دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دو گھر اور ایک حجرہ صہیب (رض) کو عطا کیا تھا ، چنانچہ مروان نے آپ (رض) کی شہادت پر اس کا فیصلہ کردیا ۔ (منصف عبدالرزاق)
17779- عن ابن أبي مليكة قال ابن صهيب مولى ابن جدعان: "ادعوا بيتين وحجرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى ذلك صهيبا فقال مروان: من يشهد لكم على ذلك؟ قالوا: ابن عمر، فدعاه فشهد لأعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم صهيبا بيتين وحجرة فقضى مروان بشهادته لهم"."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮০
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17780 ۔۔۔ ابن عمر (رض) کا ارشاد ہے : صرف عورتوں کی شہادت کسی مسئلہ میں جائز نہیں سوائے ایسے مسئلہ کے جن پر صرف عورتیں ہی مطلع ہوسکتی ہیں ، یعنی عورتوں کی مخفی باتوں مثلا حمل اور حیض وغیرہ کے بارے میں ۔ (مصنف عبدالرزاق)
17780- عن ابن عمر قال: "لا تجوز شهادة النساء وحدهن إلا على ما لا يطلع عليه إلا هن، من عورات النساء وما يشبه ذلك، من حملهن وحيضهن". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮১
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17781 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے پاس کسی سے متعلق کوئی شہادت ہو اور وہ تم سے اس کے بارے میں سوال کرے تو اس کو خبر دے دو ، اور یوں نہ کہو کہ میں تو صرف امیر کے روبروہی شہادت پیش کروں گا بلکہ تم اس کو شہادت سنا دو شاید وہ اپنی بات سے رجوع کرلے یا محتاط ہوجائے ۔ (مصنف عبدالرزاق)
17781- عن ابن عباس قال: "إذا كان لأحد عندك شهادة، فسألك عنها فأخبره بها، ولا تقل لا أخبرك إلا عند الأمير، أخبره بها لعله أن يرجع أو يرعوي".

"عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮২
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17782 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شہادت کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم سورج کو دیکھتے ہو پس اس کے مثل واضح چیز پر شہادت دو یا چھوڑ دو ۔ (ابو سعید النقاش فی القضاۃ)
17782- عن ابن عباس "أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الشهادة، فقال: هل ترى الشمس؟ على مثلها فاشهد أو دع". "أبو سعيد النقاش في القضاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৩
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17783 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جھوٹی بات کی وجہ سے ایک آدمی کی شہادتد کو مسترد فرما دیا ۔

کلام : ۔۔۔ النقاش ، اس میں نوح بن ابی مریم روایت کرتے ہیں ابراہیم الصائغ سے ، اور یہ دونوں راوی متروک ہیں۔
17783- وعنه "أن النبي صلى الله عليه وسلم رد شهادة رجل في كذبة واحدة."النقاش وفيه: نوح بن أبي مريم عن إبراهيم الصائغ؛ وهما متروكان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৪
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17784 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : قسم گواہ کے ساتھ ہے۔ اگر اس (مدعی) کے پاس گواہ نہ ہو تو مدعی علیہ پر قسم ہوگی ۔ جب وہ قابض ہو ، پھر اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے سے انکار کرے تو مدعی پر قسم ہوگی ۔ (رواہ بخاری ، مسلم)

فائدہ : ۔۔۔ یعنی جب کوئی شخص کسی پر کسی چیز کا دعوی کرے تو اس کے ذمے دو گواہ پیش کرنا واجب ہیں۔ اگر وہ صرف ایک گواہ پیش کرسکا تو وہ گواہ کے ساتھ دوسرے گواہ کی جگہ قسم اٹھائے گا ۔ اور اگر دعوی کرنے والے کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو یعنی جس پر دعوی دائر کیا گیا ہے اور وہ اس دعوی سے انکار کرتا ہے وہ منکر قسم اٹھائے گا جبکہ وہ چیز اس کے قبضہ میں ہو ۔ اگر مدعی علیہ منکر قسم اٹھانے سے انکار کرے تو پھر مدعی قسم اٹھائے گا اور اس کی قسم پر فیصلہ صادر کیا جائے گا ۔ (الشافعی ، بخاری ، مسلم)
17784- عن علي قال: "اليمين مع الشاهد، فإن لم تكن له بينة، فاليمين على المدعى عليه إذا كان قد خالطه، فإن نكل حلف المدعي". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৫
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17785 ۔۔۔ خنش (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) گواہ کے ساتھ قسم اٹھانے کو بھی ضروری قرار دیتے تھے ۔ (الشافعی ، السنن للبیھقی)
17785- عن حنش "أن عليا كان يرى الحلف مع البينة". "الشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৬
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17786 ۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر (رض)، عمر (رض) ، اور عثمان (رض) ، ایک گواہ کی گواہی اور مدعی کی قسم کے ساتھ فیصلہ فرما دیا کرتے تھے ۔ (رواہ السنن للبیھقی )
17786- عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن أبي طالب "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر وعثمان كانوا يقضون بشهادة الواحد ويمين المدعي"."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৭
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17787 ۔۔۔ محمد بن صالح (رح) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) گواہوں کو جدا جدا کردیا کر دیا کرتے تھے ۔ تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ موافقت نہ کرلیں ۔ رواہ السنن للبیھقی)
17787- عن محمد بن صالح "أن عليا فرق بين الشهود"."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৮
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17788 ۔۔۔ علقمہ (رح) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) غیر مختون کی شہادت درست قرار نہ دیتے تھے ۔ (رواہ السنن للبیھقی)
17788- عن علقمة "أن عليا كان لا يجيز شهادة الأقلف"."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮৯
گواہیوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الشہادات ـ۔۔۔ قسم الافعال :

فصل ۔۔۔ شہادت کے احکام اور آداب کے بارے میں :
17789 ۔۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) (اپنے دور خلافت میں) بازار کی طرف نکلے وہاں ایک نصرانی کو دیکھا کہ آپ (رض) کی زرہ فروخت کررہا ہے۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اپنی زرہ پہچان لی اور فرمایا یہ تو میری زرہ ہے۔ چلو میرے اور تمہارے درمیان مسلمانوں کا قاضی (جج) فیصلہ کرے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے قاضی قاضی شریح تھے ۔ امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو دیکھا تو اپنی مسند قضاء سے اٹھ گئے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو اپنی جگہ بٹھایا اور خود ان کے سامنے نصرانی کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : اگر میرا خصم (مخالف) مسلمان ہوتا تو میں اس کے ساتھ کٹہرے میں ضرور کھڑا ہوجاتا ۔ لیکن میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ نہ مصافحہ کرو ، نہ سلام میں پہل کرو ، نہ ان کے مریضوں کی عیادت کرو ، نہ ان پر نماز جنازہ پڑھو اور ان کو تنگ راستوں میں چلنے پر مجبور کرو اور ان کو ذلیل کرو جیسے اللہ نے ان کو ذلیل کر رکھا ہے۔

اے شریح میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کرو ۔ حضرت شریح (رح) نے ۔ نصرانی سے پوچھا : اے نصرانی تو کیا کہتا ہے ؟ نصرانی بولا : میں امیر المؤمنین کو تو نہیں جھٹلاتا مگر زرہ میری ہی ہے۔ حضرت شریح (رح) نے حضرت امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو فرمایا : آپ کو ان سے زرہ لینے کا حق نہیں جب تک آپ گواہ پیش نہ کریں ۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : شریح نے سچ کہا ۔ نصرانی بولا : میں شہادت دیتا ہوں کہ یہ احکام انبیاء ہی کی طرف سے ملتے ہیں ، دیکھو امیر المؤمنین اپنے قاضی کے پاس آتا ہے اور انہی کا قاضی انہی کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔ اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! یہ زرہ آپ کی ہے۔ ایک مرتبہ کسی لشکر میں میں آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا تھا ۔ آپ کی یہ زرہ آپ کے مٹیالے اونٹ پر سے کھسک کر نیچے گرگئی تھی اور میں نے اٹھالی تھی ۔ اب میں (اسلام قبول کرتا ہوں اور) شہادت دیتا ہوں کہ ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تم مسلمان ہوگئے ہو تو یہ زرہ تمہاری ہوئی اور پھر آپ (رض) نے اس کے علاوہ ایک عمدہ گھوڑا بھی اس نومسلم کو ہبہ فرما دیا ۔ (رواہ البیھقی ، ابن عساکر)
17789- عن الشعبي قال: "خرج علي بن أبي طالب إلى السوق فإذا هو بنصراني يبيع درعا فعرف علي الدرع فقال: هذه درعي، بيني وبينك قاضي المسلمين، وكان قاضي المسلمين شريحا، كان علي استقضاه فلما رأى شريح أمير المؤمنين قام من مجلس القضاء وأجلس عليا في مجلسه وجلس شريح قدامه إلى جنب النصراني، فقال علي: أما يا شريح لو كان خصمي مسلما لقعدت معه مجلس الخصم ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تصافحوهم، ولا تبدؤهم بالسلام، ولا تعودوا مرضاهم، ولا تصلوا عليهم، وألجئوهم إلى مضائق الطريق، وصغروهم كما صغرهم الله، اقض بيني وبينه يا شريح، فقال شريح: ما تقول يا نصراني؟ فقال النصراني: ما أكذب أمير المؤمنين الدرع درعي، فقال شريح: ما أرى أن تخرج من يده فهل من بينة؟ فقال علي: صدق شريح، فقال النصراني: أما أنا فأشهد أن هذه أحكام الأنبياء وأمير المؤمنين يجيء إلى قاضيه وقاضيه يقضي عليه هي والله يا أمير المؤمنين درعك اتبعتك مع الجيش وقد زالت عن جملك الأورق فأخذتها فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فقال علي: أما إذا أسلمت فهي لك وحمله على فرس عتيق"."ق كر".
tahqiq

তাহকীক: