কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৪৭১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34703 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے مکہ کو پیدا فرمایا اور اس کو مکروہات اور درجات پر رکھا ۔ (مستدرک حاکم نے اپنی تاریخ بروایت ابوہریرہ اور ابن عباس)
34703- "خلق الله عز وجل مكة فوضعها على المكروهات والدرجات. " ك في تاريخه - عن أبي هريرة وابن عباس معا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34704 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص دن کے کچھ وقت مکہ کی گرمی پر صبر کرے اس سے جہنم دوسوسال کی مسافت پر دور ہوجاتی ہے اور جنت اس سے دو سو سال کی مسافت قریب ہوجاتی ہے۔ (ابوالشیخ بروایت ابوہریرة اس حدیث میں عبدالرحیم بن زید العمی متروک راوی ہیں بروایت والد خود اور یہ قومی نہیں)
34704- "من صبر على حر مكة ساعة من نهار تباعدت منه جهنم مسيرة مائتي عام وتقربت منه الجنة مسيرة مائتي عام. " أبو الشيخ - عن أبي هريرة، وفيه عبد الرحيم بن زيد العمى متروك عن أبيه وليس بالقوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34705 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے یہ جان لیا کہ مکہ اللہ عزوجل کے ہاں تمام شہروں میں زیادہ محبوب ہے سو اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری قوم مجھے نکالتی تو میں نہ نکلتا اے اللہ ! ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ڈال دے۔ (بیہقی بروایت ابن عمر)
34705- " قد علمت أن أحب البلاد إلى الله عز وجل مكة، فلولا أن قومي أخرجوني ما خرجت، اللهم اجعل في قلوبنا من حب مكة. " هب - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34706 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم بیشک تو اللہ کی زمین میں میرے ہاں سب سے بہتر ہے اور اگر میں نہ نکالا جاتا تجھ سے تو میں خود نہ نکلتا۔ (ابن سعدمستدرک حاکم وتعقب بروایت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام بروایت والد خود)
34706- " والله! إنك لخير أرض الله إلي، ولولا أني أخرجت منك ما خرجت. " ابن سعد، ك وتعقب - عن عبد الرحمن بن الحارث ابن هشام عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34707 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص مکہ میں داخل ہو پس اس نے اللہ عزوجل کے لیے تواضع اختیار اور اس کی خوشی کو اپنے تمام امور پر ترجیح دی تو وہ اس سے نہیں نکلا یہاں تک کہ اس کی بخشش کردی گئی۔ (دینی بروایت ابن عمرو)
34707- " من دخل مكة فتواضع لله عز وجل وآثر رضاه على جميع أموره لم يخرج منها حتى يغفر له. " الديلمي - عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34708 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرم میں جو شخص کمان تیار کرے تاکہ اس کے ذریعے کعبہ کے دشمن سے قتال کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر دن کے بدلے ہزار نیکیاں لکھتے ہیں یہاں تک کہ دشمن آجائے۔ (الحسن بن صضیان ابو نعیم بروایت معاذ)
34708- "من أعد قوسا في الحرم ليقاتل بها عدو الكعبة كتب الله له بكل يوم ألف حسنة حتى يحضر العدو. " الحسن ابن سفيان وأبو نعيم - عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34709 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص مکہ میں رمضان کا مہینہ پائے رمضان کے شروع سے آخر تک اس کے روزے ہوں اور رات کی شب بیداری ہو تو اس کے لیے رمضان کے ایک لاکھ مہینے لکھے جاتے ہیں مکہ کے علاوہ میں رمضان گزارنے کے مقابلے میں اور اس کے لیے ہر دن کے بدلے بخشش اور سفارش ہوتی ہے اور ہر رات کے بدلے بخشش اور سفارش ہوتی ہے اور ہر دن کے بدلے اللہ کے راستے میں گھوڑا ہبہ کرنے کا ثواب ہوتا ہے اور اس کے لیے ہر دن کے بدلے مقبول دعا ہوتی ہے۔ (بیہقی بروایت ابن عباس اور فرمایا کہ عبدالرحیم بن زید العمی جو کہ قوی نہیں ہیں اس حدیث میں متفرد ہیں)
34709- "من أدرك شهر رمضان بمكة من أوله إلى آخره صيامه وقيامه كتب له مائة ألف شهر رمضان في غيرها وكان له بكل يوم مغفرة وشفاعة، وبكل ليلة مغفرة وشفاعة، وبكل يوم حملان فرس في سبيل الله وله بكل يوم دعوة مستجابة. " هب - عن ابن عباس، وقال: تفرد به عبد الرحيم بن زيد العمي وليس بالقوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34710 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مکہ کو پیدا فرمایا پھر اس کو فرشتوں سے گھیرلیاتمام زمین میں سے کچھ پیدا کرنے سے پہلے ایک ہزار سال پھر اس کو مدینے سے ملایا اور مدینہ کو بیت المقدس سے اور باقی زمین کو ایک ہزار سال بعد ایک ہی مرتبہ میں پیدا فرمایا۔ (دیلمی بروایت عائشہ)
34710- "خلق الله مكة فحففها بالملائكة قبل أن يخلق شيئا من الأرض كلها بألف عام، ثم وصلها بالمدينة ووصل المدينة ببيت المقدس، وخلق الأرض بعد ألف عام خلقا واحدا. " الديلمي - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرم میں ظلم و زیادتی کرنے والا
34711 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ پس وہاں نماز پڑھ اس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا اگر آپ نے یہاں نماز پڑھی تو یہ نماز آپ سے بیت المقدس میں نماز کو پورا کرے گی۔ (احمدبن حنبل بروایت یکے ازاسفاد)
34711- "اذهب فصل فيه، فوالذي بعث محمدا بالحق! لو صليت ههنا لقضى عنك ذلك كل صلاة في بيت المقدس. " حم عن رجل من الأنصار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الکعبہ ۔۔۔ الاکمال
34712 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمین میں سب سے پہلی مسجد جو رکھی گئی کعبہ ہے پھر بیت المقدس ہے اور ان دونوں کے درمیان سو سال ہیں۔ (ابن مندہ تاریخ اصبھان بروایت علی)
34712- "أول مسجد وضع في الأرض الكعبة، ثم بيت المقدس، وكان بينهما مائة عام. " ابن منده في تاريخ أصبهان - عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الکعبہ ۔۔۔ الاکمال
34713 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک تعالیٰ ہر سال میں ایک مرتبہ کعبہ کی طرف نظر فرماتے ہیں اور یہ نصف شعبان کی رات میں ہوتا ہے کہ اسوقت مسلمانوں کے دل اس کی طرف مشتاق ہوتے ہیں۔ (دیلمی بروایت عائشہ اور ابن عباس)
34713- "إن الله تعالى يلحظ إلى الكعبة في كل عام لحظة وذلك في ليلة النصف من شعبان، فعند ذلك تحن إليها قلوب المؤمنين." الديلمي - عن عائشة وابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الکعبہ ۔۔۔ الاکمال
34714 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور والدین کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دیکھنا عبادت ہے۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف بروایت عائشہ اس کی سند میں زافرراوی ہے ابن عدی نے کہا اس کی حدیث میں متابعت نہیں کی جاتی، الاتقان 2188، کشف الخفاء 2858)
34714- " النظر إلى الكعبة عبادة، والنظر إلى وجه الوالدين عبادة، والنظر في كتاب الله عبادة. " ابن أبي داود في المصاحف - عن عائشة، وفيه زافر، قال ابن عدي: لا يتابع على حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الکعبہ ۔۔۔ الاکمال
34715 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ امت ہمیشہ بھلائی پر رہے گی جب تک کہ یہ اس حرم کی تعظیم کا حق ادا کرتے ہیں سو جب یہ لوگ اس کو ضائع کریں گے تو ہلاک ہوں گے۔ (احمدبن حنبل ابن ماجہ طبرانی بروایت عباس بن ابی ربیعہ لمخزوی یہ حدیث 34648 میں گزرچکی ہے۔۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف ابن ماجہ :66 ضعیف الجامع 6213
34715- " لا تزال هذه الأمة بخير ما عظموا هذه الحرمة حق تعظيمها، فإذا ضيعوا ذلك هلكوا. " حم، هـ؛ طب - عن عياش ابن أبي ربيعة المخزمي". مر برقم - 34648
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الکعبہ ۔۔۔ الاکمال
34716 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حج کیا اور اس کا حج قبول نہیں ہوا اللہ تعالیٰ اس کے لیے کعبہ کی زیارت کی قدردانی کرتے ہیں۔ (دیلمی بروایت براء)
34716- " من حج ولم تقبل حجته شكر الله له زيارة الكعبة. " الديلمي - عن البراء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرشتوں کا حج
34717 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں بیت اللہ کی جگہ ایک بالشت یا (فرمایا) جھنڈے سے کچھ زیادہ تھی اور فرشتے آدم (علیہ السلام) سے پہلے بیت اللہ کا حج کرتے تھے پھر آدم (علیہ السلام) نے حج کیا تو فرشتوں نے ان کا استقبال کیا انھوں نے کہا اے آدم آپ کہاں سے آئے ہیں آدم (علیہ السلام) نے فرمایا : میں نے بیت اللہ کا حج کیا تو انھوں نے کہا آپ سے پہلے فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے۔ (بیہقی بروایت انس)
34717- " كان موضع البيت في زمن آدم شبرا أو أكثر علما وكانت الملائكة تحجه قبل آدم، ثم حج آدم فاستقبلته الملائكة فقالوا: يا آدم! من أين جئت؟ قال: حججت البيت، فقالوا: قد حجته الملائكة قبلك. " ق عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرشتوں کا حج
34718 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو آدم اور حوا (علیہ السلام) کے پاس بھیجا سو انھوں نے ان سے کہا تم دونوں میرے لیے ایک گھر بناؤ پس جبرائیل (علیہ السلام) اترے آدم (علیہ السلام) کھودنے لگے اور حواء (رض) نے مٹی متقل کرنا شروع کی یہاں تک کہ ان کے سامنے پانی آگیا پھر اس کے نیچے سے پکارا گیا اے آدم آپ کو کافی ہے سو جب انھوں نے اس کو تعمیر کردیا تو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس کا طواف کریں اور ان سے کہا گیا آپ لوگوں میں سے سب سے پہلے ہیں (طواف کرنے والے ) اور یہ سب سے پہلا گھر ہے پھر زمانے یکے بعددیگرے گزرتے رہے یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) نے بیت اللہ کا حج کیا پھر زمانے یکے بعد دیگرے گذرے یہاں تک کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی بنیادیں اٹھائیں ۔ (بیہقی تاریخ ابن عساکر بروایت ابن عمر اور کہا کہ ابن لہیعہ اس حدیث میں متفرد اسی طرح مرفوعا مروی ہے الضعیفہ :1106)
34718- "بعث الله جبريل إلى آدم وحواء فقال لهما: ابنيا لي بيتا، فحط جبريل فجعل آدم يحفر وحواء تنقل حتى أجابه الماء، ثم نودي من تحته: حسبك يا آدم! فلما بناه أوحى الله إليه أن يطوف به وقيل له: أنت أول الناس وهذا أول بيت، ثم تناسخت القرون حتى حجه نوح، ثم تناسخت القرون حتى رفع إبراهيم القواعد منه. " هق وابن عساكر - عن ابن عمر، وقال هق: تفرد به ابن لهيعة هكذا مرفوعا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرشتوں کا حج
34719 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کلاب ابن مرة کے بعد کعبہ کی دیواریں سب سے پہلے قصی بن کلاب نے کھڑے کیں۔ (الدیلمی بروایت ابوسعید)
34719- " أول من جدر الكعبة بعد كلاب بن مرة قصي بن كلاب. " الديلمي - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرشتوں کا حج
34720 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روحاء سے ضحرہ میں ستر نبی ننگے پاؤں گذرے ان پر جاء تھا بیت اللہ العتیق کی امامت کراتے رہے ان میں سے موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (ابویعلی عقبلی ضعفاء طبرانی حلیة الاولیاء تاریخ ابن عساکر بروایت ابوموسیٰ الثافلہ :14)
34720- "لقد مر بالصخرة من الروحاء سبعون نبيا حفاة عليهم العباء يؤمون بيت الله العتيق منهم موسى عليه السلام. " ع؛عق، طب، حل، كر - عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحجرالاسود
34721 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس حجراسود کو زیادہ سے زیادہ چوما کرد کیونکہ قریب ہے کہ تم اس کو گم کردو، اسی دوران لوگ ایک رات بیت اللہ کا طواف کررہے تھے جب انھوں نے صبح کی تو انھوں نے حجراسود کو گم پایا بیشک اللہ تعالیٰ زمین میں جنت میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑتے مگر قیامت کے دن سے پہلے اس چیز کو اس میں لوٹا دیتے ہیں۔ ( مستد الفردوس بروایت عائشہ)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :1103
34721- "أكثروا استلام هذا الحجر فإنكم يوشك أن يفقدوه، بينما الناس ذات ليلة يطوفون به إذ أصبحوا وقد فقدوه، إن الله لا يترك شيئا من الجنة في الأرض إلا أعاده فيها قبل يوم القيامة. " فر - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৭৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحجرالاسود
34722 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پتھر کی ایک زبان اور دوہونٹ ہیں اس شخص کے لیے قیامت کے دن ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا جس نے اس کو جوماہوگا۔ (ابن حبان مستدرک حاکم بروایت ابن عباس)
34722- " إن لهذا الحجر لسانا وشفتين يشهد لمن استلمه يوم القيامة بحق. " حب؛ ك - عن ابن عباس".
তাহকীক: