কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩০৯১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام
13091 ولدالزنا پر اپنے والدین کے گناہ کا کچھ بوجھ نہیں۔

المصنف لابن ابی شیبہ، مستدرک الحاکم عن عائشۃ (رض)
13091- ليس على ولد الزنا من وزر أبويه شيء. "ش ك عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام کا بیان

۔۔۔

من الإکمال
13092 میری امت خیر پر رہے گی۔ ان کا معاملہ ٹھیک رہے گا جب تک حرام کی اولاد کثیر نہ ہوجائیں، جب وہ کثیر ہوجائیں گی تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ پاک ان پر عمومی عذاب نہ بھیج دے۔

مسند احمد، الکبیر للطبرانی عن میمو نقالحدیث صحیح اوحسن مجمع الزوائد 257/6
13092- لا تزال أمتي بخير متماسك أمرها ما لم يظهر فيهم ولد الزنا فإذا ظهروا خشيت أن يعمهم الله تعالى بعقاب. "حم طب عن ميمونة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام کا بیان

۔۔۔

من الإکمال
13093 لوگوں پر ظلم صرف ولد الحرام ہی کرتا ہے، کیونکہ اولاد میں والد کا اثر ہوتا ہے۔

الکبیر للطبرانی عن ابن موسیٰ (رض)
13093- لا يبغي على الناس إلا ولد بغي، والابن فيه عرق منه. "طب عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام کا بیان

۔۔۔

من الإکمال
13094 لوگوں پر ظلم صرف ظلم (زنا) کی اولاد ہی کرتی ہے یا وہ جس میں اس کا کچھ اثر ہو۔

الخرائطی ، ابن عساکر عن بلال بن ابی بردۃ بن ابی موسیٰ عن ابیہ عن جدہ
13094- لا يبغي على الناس إلا ولد عنه أو فيه شيء منه. "الخرائطي وابن عساكر عن بلال بن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام کا بیان

۔۔۔

من الإکمال
13095 زنا کی اولاد جنت میں داخل نہ ہوگی۔ نہ اس کی اولادنہ اولاد کی اولاد۔

ابن النجار عن ابوہریرہ (رض)

کلام : مذکورہ روایت موضوع اور ناقابل اعتبار ہے دیکھئے : ترتیب الموضوعات 911، التنزیہ 228/2 ۔
13095- لا يدخل الجنة ولد الزنا، ولا ولده ولا ولد ولده. "ابن النجار عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام کا بیان

۔۔۔

من الإکمال
13096 جنت میں زنا کی اولاد داخل نہ ہوگی۔ السنن للبیہقی عن ابن عمرو

کلام : روایت موضوع ہے : الاتقان 2366، الاسرار المرفوعۃ 600 ۔
13096- لا يدخل الجنة ولد زنية "ق عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولدالحرام کا بیان

۔۔۔

من الإکمال
13097 اللہ پاک نے جہنم کے لیے جن کو پیدا کرنا تھا پیدا کیا اور اولاد الزنا بھی انہی میں سے تھی جن کو جہنم کے لیے پیدا کیا تھا۔ الدیلمی عن ابن عمر (رض)

کلام : مسند الفردوس للدیلمی کی مرویات موضوع یا ضعیف ہونے سے خالی نہیں ہوتی۔
13097- إن الله عز وجل درأ لجهنم من ذرأ2 كان ولد الزنا فيمن ذرأ لجهنم. "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13098 میری بات سنو ! میری بات سنو ! اللہ پاک نے ان (زانیوں) کے لیے راستہ نکالا ہے : کنوارا کنواری سے بدکاری کرتے تو ان کو سو سو کوڑے اور ایک ایک سال جلاوطن کرو ۔ اور شادی شدہ سے کرے تو سو کوڑے مارو اور سنگسار کرو۔

مسند احمد ، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ عن عبادۃ بن الصامت
13098- خذوا عني خذوا عني، قد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر جلد مائة ونفي سنة، والثيب1 بالثيب جلد مائة والرجم. "حم م 4 عن عبادة بن الصامت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13099 اگر کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو ضرور کرتا۔

البخاری ، مسلم عن ابن عباس (رض)
13099- لو رجمت أحدا بغير بينة لرجمت هذه. "ق عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13100 احصان کے دو معنی ہیں نکاح (جس کے بعد وطی ہو) اور پاکدامنی۔

ابن ابی حاتم ، الاوسط للطبرانی، ابن عساکر عن ابوہریرہ عن عبداللہ

کلام : ضعیف الجامع 2272
13100- الإحصان إحصانان: إحصان نكاح، وإحصان عفاف. "ابن أبي حاتم طس وابن عساكر عن أبي هريرة عن عبد الله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13101 دونوں شادی شدہ ہوں تو دونوں کو کوڑے مارے جائیں اور سنگسار کیے جائیں گے اور دونوں کنوارے ہوں تو ان کو کوڑے مارے جائیں گے اور جلاوطن کیا جائے گا۔

التاریخ للحاکم عن ابی (رض)
13101- الثيبان يجلدان ويرجمان، والبكران يجلدان وينفيان. "ك في تاريخه عن أبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13102 قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے ساتھ کرتا ہوں۔ نومولود بچی اور بکریاں۔ جو تیرے بیٹے نے عورت کو زنا کے بدلے دی تھیں تجھے واپس ملیں گی اور تیرے بیٹے پر سوکوڑوں کی سزا اور ایک سال کی جلاوطنی ہوگی اور اس شخص کی بیوی۔ جس نے زنا کروایا ہے پر سنگساری کی سزا ہے (پھر آپ نے اپنے صحابی (رض)) کو حکم فرمایا : اے انیس اس آدمی کی بیوی کے پاس صبح کو جانا اگر وہ اعتراف جرم کرلے تو اس کو سنگسار کردینا۔

مسند احمد، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض) وزید بن خالد الجھنی
13102- والذي نفسي بيده، لأقضين بينكما بكتاب الله الوليدة والغنم رد عليك2، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، وعلى امرأة هذا الرجم، واغد يا أنيس إلى امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها. "حم ق 4 عن أبي هريرة وزيد بن خالد الجهني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13103 اگر آدمی آدمی کے ساتھ بدکاری کرے تو وہ دونوں زانی ہیں اور جب عورت عورت کے ساتھ زنا کرے تو وہ دونوں بھی زناکار ہیں۔ السنن للبیہقی عن ابی موسیٰ (رض)

کلام : روایت ضعیف ہے : حسن الاثر 453 ، ضعیف الجامع 282 ۔
13103- إذا أتى الرجل الرجل فهما زانيان، وإذا أتت المرأة المرأة فهما زانيتان. "هق عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13104 جب تم میں سے کسی کی باندی زنا کر بیٹھے، پھر اس کا راز ظاہر ہوجائے تو وہ اس پر کوڑوں کی سزا (یعنی پچاس کوڑے) جاری کرے اور جلاوطن نہ کرے۔ پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو دوبارہ کوڑے لگائے اور جلاوطن نہ کرے پھر اگر تیسری بار بھی زنا میں مبتلا ہو تو اس کو بیچ ڈالے خواہ ایک رسی کے عوض کیوں نے بیچے۔

مسند احمد، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی عن ابوہریرہ (رض) وزید بن خالد قال الترمذی حسن صحیح
13104- إذا زنت أمة أحدكم فتبين زناها فليجلدها ولا يثرب، ثم إن زنت فليجلدها ولا يثرب1 ثم إن زنت الثالثة فليبعها ولو بحبل من شعر. "حم ق د ت عن أبي هريرة وزيد بن خالد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13105 جب باندی زنا کرلے تو اس کو کوڑے مارو پھر زنا کرے تو اس کو فروخت کردو خواہ ایک مینڈھی کے عوض کیوں نہ ہو۔ مسند احمد عن عائشۃ (رض)
13105- إذا زنت الأمة فاجلدوها ثم إن زنت فبيعوها ولو بضفير3 "حم عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فرع۔۔۔زنا کی حد کے بیان میں
13106 تلوار بطور شاہد کافی ہے۔ ابن ماجہ عن سلمۃ المحیق

کلام : ضعیف الجامع 4174 ۔

فائدہ : یعنی اگر کوئی اپنی اہلیہ یا کسی عزیزہ کو زنا میں ملوث دیکھے اور غیرت میں آکر تلوار سے اس کا کام کردے تو تلوار کی یہ گواہی کافی اور درست ہے۔
13106- كفى بالسيف شاهدا. "هـ عن سلمة بن المحبق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی حد کے بیان میں۔۔۔ الإکمال
13107 جب کوئی آدمی (حاکم کے روبرو) سات بار زنا کا اعتراف کرے پھر اس کے لیے سنگساری کا حکم دے دیا جائے۔ پھر وہ (پتھروں کی بوچھاڑ میں یا اس سے پہلے ہی) بھاگ پڑے تو (اس کا بھاگنا اپنے اعتراف سے رجوع سمجھا جائے گا اور) اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔

الدیلمی عن ابوہریرہ (رض)
13107- إذا اعترف الرجل بالزنا سبع مرات فأمر به ليرجم ثم هرب ترك. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی حد کے بیان میں۔۔۔ الإکمال
13108 ہم تیری وجہ سے تیرے پیٹ میں موجود (معصوم) جان کو قتل نہیں کریں گے۔ لہٰذا جا اور جب تک بچہ نہ جن لے ٹھہر جا۔ ابن عساکر عن انس (رض)

فائدہ : ایک عورت نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے پیٹ میں کوئی نئی جان (بدکاری کے ثمرہ میں) پیدا ہوئی ہے۔ لہٰذا آپ مجھ پر اللہ کی حد جاری فرمادیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد صادر فرمایا۔
13108- لا نقتل ما في بطنك لأجلك، اذهبي حتى تضعي. "ابن عساكر عن أنس". إن امرأة قالت: يا رسول الله، إن في بطني حدثا فأقم علي حد الله قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی حد کے بیان میں۔۔۔ الإکمال
13109 اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو فلانی عورت کو ضرور کردیتا کیونکہ اس کی بول چال اور اس کی موجودہ کیفیت سے اس کی (بدکاری کی) حالت کا اور اس کے پاس آنے والے کا پتہ چلتا ہے۔ ابن ماجہ الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض) ، اسنادہ صحیح
13109- لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمت فلانة، فقد ظهر منها الريبة في منطقها وهيئتها، ومن يدخل عليها. "هـ طب عن ابن عباس"1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১১০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زنا کی حد کے بیان میں۔۔۔ الإکمال
13110 تلوار بطور گواہ کافی ہے۔ لیکن مجھے خوف ہے کہ نشہ میں مبتلا اور غیرت (کے نام سے غصہ میں آنے) والے اس کی اتباع کریں گے۔ ابن ماجہ عن سلمۃ ابن المحیق

فائدہ : یعنی اگر کسی کو بدکاری کی حالت میں قتل کردیا تو یہ فعل غیرت کے زمرے میں آکر درست ہے لیکن کہیں اس کی آڑ میں ناجائز قتل کی رسم نہ پڑجائے جیسا کہ فی زمانہ کا روکاری اس کی مثال ہے۔

کلام : ابن ماجہ کتاب الحدود باب الرجل یجدمع امراتہ رجلاً رقم 2606 ۔

زوائد ابن ماجہ میں ہے کہ اس کی سند میں قبیصہ بن حریث ہے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں اس شخص کی حدیث میں نظر ہے۔ لیکن ابن حبان (رح) نے اس کو ثقات میں شمار کیا جبکہ اسناد کے باقی رجال سب ثقہ ہیں۔
13110- كفى بالسيف شاهدا إني أخاف أن يتتابع في ذلك السكران والغيران "هـ عن سلمة ابن المحبق"
tahqiq

তাহকীক: