কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৩১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13311 تم میں سے جو نبیذ پئے وہ صرف کشمش کی پئے یا صرف کھجور کی یا صرف بسر (ادھ پکی ادھ سخت) کھجور کی پئے۔ مسند ابی یعلی عن ابی سعید
یہ روایت 13294 پر گزر چکی ۔
یہ روایت 13294 پر گزر چکی ۔
13311- من شرب منكم النبيذ فليشربه زبيبا فردا، أو تمرا فردا، أو بسرا فردا. "ع عن أبي سعيد" مر برقم [13294] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13312 جو شخص ایسا کوئی مشروب پئے جو اس کی عقل اڑادے وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچ گیا۔
ابن ابی الدنیا، شعب الایمان للبیہقی ، ابن النجار عن ابن عباس (رض) الکبیر للطبرانی عنہ موقوفا۔
ابن ابی الدنیا، شعب الایمان للبیہقی ، ابن النجار عن ابن عباس (رض) الکبیر للطبرانی عنہ موقوفا۔
13312- من شرب شرابا يذهب بعقله فقد أتى بابا من أبواب الكبائر. "ابن أبي الدنيا هب وابن النجار عن ابن عباس" "طب عنه" موقوفا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13313 جو ایسی نبیذ پئے جس سے اس کے سر کی مانگ پھڑ پھڑا جائے اس کی ایک چسکی بھی حرام ہے۔ الخطیب عن عائشۃ (رض)
13313- من شرب نبيذا فاقشعر منه مفرق رأسه، فالحسوة منه حرام. "الخطيب عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13314 کشمش اور بسر کھجور کو اگر ملا کر نبیذ بنائی جائے وہ عین شراب ہے۔
مستدرک الحاکم عن جابر (رض)
مستدرک الحاکم عن جابر (رض)
13314- الزبيب والزهو هو الخمر إذا انتبذوا جميعا. "ك عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13315 میں نے تم کو نبیذ سے (بھی) منع کیا تھا۔ سنو نبیذ سناسکتے ہو ۔ لیکن میں کسی نشہ آور شے کو حلال نہیں کرتا۔ السنن للبیہقی عن ابی سعید
13315- نهيتكم عن النبيذ، ألا فانتبذوا، ولا أحل مسكرا. "ق عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13316 میں نے تم کو مٹکے کی نبیذ سے منع کیا تھا، نیز میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، نیز میں نے تم کو قربانیوں کے گوشت سے منع کیا تھا، اب سنو ! برتن کسی چیز کو نہ حلال کرتے اور نہ حرام۔ سنو ! قبروں کی زیارت کیا کرو، اس سے دل نرم ہوتے ہیں۔ سنو ! میں نے جو تم کو قربانیوں کے گوشت سے منع کیا تھا پس جتنا چاہو کھاؤ اور جتنا چاہو ذخیرہ کرو۔ مستدرک الحاکم عن ابن عمر
13316- إني نهيتكم عن نبيذ الجر، وإني نهيتكم عن زيارة القبور وإني نهيتكم عن لحوم الأضاحي، ألا وإن الأوعية لا تحل شيئا ولا تحرمه ألا وزوروا القبور فإنها ترق القلوب، ألا وإني نهيتكم عن الأضاحي فكلوا وادخروا ما شئتم. "ك عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13317 چہرے کو نبیذ سے بھی بچا اس سے نیکیاں پھوٹیں گی۔
البغوی، ابن قانع، الکبیر للطبرانی، الکامل لا بن عدی عن عمر بن شیبۃ بن ابی بکیر الاشجعی عن ابیہ
البغوی، ابن قانع، الکبیر للطبرانی، الکامل لا بن عدی عن عمر بن شیبۃ بن ابی بکیر الاشجعی عن ابیہ
13317- حذر الوجه من النبيذ تتناثر منه الحسنات. "البغوي وابن قانع طب عد عن عمر بن شيبة بن أبي بكير الأشجعي عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13318 دباء (کدو کے برتن) میں نبیذ نہ بناؤ اور نہ مزفت (تار کول ملے برتن) میں اور نہ گھڑے میں۔ اور ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ مسند احمد، مسلم عن میمونۃ وعائشۃ
13318- لا تنبذوا في الدباء، ولا في المزفت، ولا في الجر، وكل مسكر فهو حرام. "حم م عن ميمونة وعائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13319 دباء میں نبیذ بناؤ اور نہ مزفت میں۔ مسند احمد عن انس
13319- لا تنبذوا في الدباء ولا في المزفت. "حم عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13320 نقیر (کھجور کے درخت کی جڑ کو کھوکھلا کرکے بنائے گئے برتن) میں (نبیذ وغیرہ) نوش نہ کرو۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں اگر تم نے نقیر میں نوش کیا تو تم میں سے بعض بعض پر اٹھ کر تلوار سونت لیں گے ۔ اگر پھر کوئی اس نشہ میں کسی کو ایک وار کرکے لنگڑا کردے تو وہ قیامت تک لنگڑا ہی رہے گا۔ الباوردی، ابن شاھین عن جو دان
13320- لا تشربوا في النقير، وكأني بكم إذا شربتم في النقير قام بعضكم إلى بعض بالسيوف فضرب منكم رجل ضربة لا يزال أعرج منها إلى يوم القيامة. "الباوردي وابن شاهين عن جودان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13321 نقیر میں نہ پیو۔ ورنہ کوئی (نشے میں) اپنے چچا زادکو وار کرکے اس کو قیامت تک کے لیے لنگڑا کرسکتا ہے۔ الکبیر للطبرانی عن عمیر العبدی
کلام : امام ابوبکر ہیثمی (رح) فرماتے ہیں ابویعلی اور طبرانی نے اس کو روایت کیا ہے۔ سند کے ایک راوی اشعث بن عمیر کو میں نہیں جانتا، نیز اس میں عطا بن السائب ہے جو مختلط راوی ہے۔ مجمع الزوائد 60/5 ۔
کلام : امام ابوبکر ہیثمی (رح) فرماتے ہیں ابویعلی اور طبرانی نے اس کو روایت کیا ہے۔ سند کے ایک راوی اشعث بن عمیر کو میں نہیں جانتا، نیز اس میں عطا بن السائب ہے جو مختلط راوی ہے۔ مجمع الزوائد 60/5 ۔
13321- لا تشربوا في النقير، فضرب الرجل منكم ابن عمه ضربة لا يزال منها أعرج إلى يوم القيامة. "طب عن عمير العبدي"1
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13322 سبزرنگ کے گھڑے (حنتمہ) میں نہ پیو اور نہ دباء (کدو کے برتن) میں اور نہ نقیر (کھجور کی جڑ) میں۔ الکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)
13322- لا تشربوا في حنتمة ولا في دباء ولا في نقير. "طب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان۔ الإکمال
13323 نقیر میں پیو اور نہ مزفت میں۔ الکبیر للطبرانی عن النعمان بن بشیر
کلام : امام ابوبکر ہیثمی (رح) فرماتے ہیں روایت کی سند میں اسری بن اسماعیل الھمدانی متروک راوی ہے۔ مجمع الزوائد 62/5
کلام : امام ابوبکر ہیثمی (رح) فرماتے ہیں روایت کی سند میں اسری بن اسماعیل الھمدانی متروک راوی ہے۔ مجمع الزوائد 62/5
13323- لا تشربوا في النقير، ولا في المزفت. "طب عن النعمان بن بشير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13324 چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹ دو ۔ اور اس سے کم چوری میں ہاتھ نہ کاٹو۔
مسند احمد، السنن للبیہقی عن عائشۃ (رض)
مسند احمد، السنن للبیہقی عن عائشۃ (رض)
13324- اقطعوا في ربع الدينار، ولا تقطعوا فيما هو أدنى من ذلك. "حم هق عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13325 اللہ عزوجل کی حدود میں سے ایک حد میں تم مجھ پر زور ڈال رہے ہو، یہ حد اللہ کی باندیوں میں سے ایک باندی پر پڑی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اگر فاطمہ بنت (محمد) رسول اللہ پر یہ حد پڑتی جو اس عورت پر پڑی ہے تو محمد اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ ابن ماجہ، مستدرک الحاکم عن مسعود بن الاسود
کلام : ابن ماجہ کتاب الحدود باب الشفاعۃ فی الحدود۔ زوائد ابن ماجہ میں ہے کہ اس کی اسناد میں محمد بن اسحاق مدلس ہے۔ الفاظ حدیث ابن ماجہ کے ہیں۔ جبکہ علامہ البانی (رح) نے مذکورہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے اس کو ضعیف شمار کیا ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع 5011 ۔
کلام : ابن ماجہ کتاب الحدود باب الشفاعۃ فی الحدود۔ زوائد ابن ماجہ میں ہے کہ اس کی اسناد میں محمد بن اسحاق مدلس ہے۔ الفاظ حدیث ابن ماجہ کے ہیں۔ جبکہ علامہ البانی (رح) نے مذکورہ حدیث پر کلام کرتے ہوئے اس کو ضعیف شمار کیا ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع 5011 ۔
13325- ما إكثاركم علي في حد من حدود الله [عز وجل] وقع على أمة من إماء الله والذي نفس [محمد] بيده لو كانت فاطمة بنت رسول الله نزلت بالذي نزلت به هذه المرأة لقطع محمد يدها. "هـ ك عن مسعود بن الأسود"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13326 جو کوئی حاجت مند درخت سے چرا کر کھجور کھالے اور اپنے ساتھ نہ لے کر جائے اس پر کوئی تاوان نہیں۔ اور جو اپنے ساتھ لے کر جائے اس پر اس سے دگنی کھجوریں بطور تاوان اور سزا ہے اور جو اس جگہ سے چرا ہے جہاں مالک نے درخت سے اتار کر (سکھانے کے لیے یا محفوظ کرنے کے لئے) رکھی ہیں، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور جو اس سے کم چرائے اس پر دگنی کھجوریں اور سزا ہے۔
ابوداؤد، الترمذی حسن، النسائی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لٹکی ہوئی کھجوریں چرانے پر کیا سزا ہے ؟ تو آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
ڈھال کی قیمت کا اندازہ دس درہم سے کیا گیا ہے یعنی تقریباً ڈھائی تین تولہ چاندی کی قیمت میں قطع الید ہوگا۔
ابوداؤد، الترمذی حسن، النسائی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
فائدہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لٹکی ہوئی کھجوریں چرانے پر کیا سزا ہے ؟ تو آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
ڈھال کی قیمت کا اندازہ دس درہم سے کیا گیا ہے یعنی تقریباً ڈھائی تین تولہ چاندی کی قیمت میں قطع الید ہوگا۔
13326- من أصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة2 فلا شيء عليه، ومن خرج بشيء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة، ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع، ومن سرق دون ذلك فعليه غرامة مثليه والعقوبة. "د ت حسن ن عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن الثمر المعلق قال فذكره"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13327 جس کی کوئی چیز چوری ہوئی پھر اس نے اپنی چیز کسی کے پاس پائی۔ لیکن وہ ایسا آدمی نہیں جس پر چوری کی تہمت لگائی جاسکے تو پھر وہ اس چیز کو قیمت دے کرلے سکتا ہے یا پھر اصل چور کو تلاش کرے۔ مسند احمد، ھراسیل ابی داؤد ، النسائی، الباوردی مذکورہ الفاظ جس حدیث کا ترجمہ ہیں وہ الباوردی کی روایت کردہ ہے۔ الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، الضیاء للمقدسی عن اسید بن حفیر النسائی ابن قائع، السنن لسعید بن منصور عن اسید بن ظھیر۔ ائمہ حدیث کا کہنا ہے اسید بن ظہیر یہی درست ہے ، امام احمد (رح) فرماتے ہیں : یہ ابن جریج کی کتاب میں ہے یعنی اسید بن ظہیر۔ بصرہ میں ان کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔
13327- من سرق سرقة فوجد سرقته عند رجل غير متهم فإن شاء أخذها بالقيمة، وإن شاء اتبع صاحبه. "حم د في مراسيله ن والباوردي وهو لفظه طب ك ض عن أسيد بن حضير.... ن وابن قانع ص عن أسيد بن ظهير قالوا وهو الصواب قال أحمد بن حنبل هو في كتاب ابن جريج أسيد بن ظهير ولكن كذا حدثهم بالبصرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13328 درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ لیکن جب مالک ان کو اتار کر کہیں محفوظ کرلے تو تب ڈھال کی قیمت کے برابر پھلوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور پہاڑ پر کوئی چیز محفوظ کی جائے تو اس میں بھی قطع یدنہ ہوگا، ہاں جب مالک اپنے مال کو اپنے محفوظ ٹھکانے پر لے جائے تب ڈھال کی قیمت کے برابر مال میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
النسائی، البخاری، مسلم عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ (رض)
النسائی، البخاری، مسلم عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ (رض)
13328- لا تقطع اليد في ثمر معلق، فإذا ضمه الجرين قطعت في ثمن المجن، ولا تقطع في حريسة الجبل، فإذا آوى المراح قطعت في ثمن المجن. "ن ق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله تعالى عنه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13329 سب سے کم قیمت مال جس میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے وہ ڈھال کی قیمت ہے۔
الطحاوی، الکبیر للطبرانی عن ایمن الحبش
الطحاوی، الکبیر للطبرانی عن ایمن الحبش
13329- أدنى ما تقطع فيه يد السارق ثمن المجن. "الطحاوي طب عن أيمن الحبشي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৩৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔چوری کی حد میں
13330 اللہ پاک لعنت کرے چور پر، انڈہ (سے) چوری (شروع) کرتا ہے حتیٰ کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، یونہی رسی چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)
مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)
13330- لعن الله السارق يسرق البيضة فتقطع يده ويسرق الحبل فتقطع يده. "حم ق ن هـ عن أبي هريرة".
তাহকীক: