কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৪ টি
হাদীস নং: ১০৩৩৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ توبہ کے لواحقات
10333 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میری پوری امت کو معاف کردیا جائے گا علاوہ ان لوگوں کے جو اعلانیہ گناہ کرتے تھے، اور گناہ کا اعلان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص رات کو کوئی گناہ کرے اور اللہ تعالیٰ اس گناہ کو لوگوں سے چھپالے اور صبح وہ خود لوگوں سے کہتا پھرے کہ رات میں نے یہ کیا اور یہ کیا حالانکہ رات کو اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تھی اور صبح وہ اللہ تعالیٰ کے پردے کو ہٹا دیتا ہے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10337 كل أمتي معافى إلا المجاهرين ، وإن من الاجهار أن يعمل الرجل بالليل عملا ثم يصبح وقد ستره الله فيقول : عملت البارحة كذا وكذا ، وقد بات يستره ربه فيصبح يكشف ستر الله عزوجل عنه (ق عن أبي هريرة)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10334 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میری پوری امت کو معاف کردیا جائے گا، علاوہ ان لوگوں کے جو اعلانیہ گناہ کرتے تھے، کہ اس میں تو رات کو برا کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے راز کو چھپا لیتا ہے مگر صبح ہوتے ہی وہ کہتا ہے اے فلاں میں نے رات کو یہ کام کیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ بھی اس کے راز کو ظاہر کردیتا ہے۔ (طبرانی فی اوسط عن ابی قتادہ (رض))
10338 كل أمتي معافى إلا المجاهرين الذين يعملون العمل بالليل فيستره ربه ثم يصبح فيقول : يا فلان إني عملت البارحة بكذا وكذا ، فيكشف ستر الله عزوجل.
(طس عن أبي قتادة).
(طس عن أبي قتادة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৩৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10335 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو گناہ کے بدلے بھی فائدہ پہنچاتے ہیں “۔ (حلیہ ابی نعیم بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10339 إن الله تعالى لينفع العبد بالذنب يذنبه (حل عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10336 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دن کے فرشتے، رات کے فرشتوں سے زیادہ نرم دل ہیں، (ابن النجار عن ابن عباس)
10340 إن ملائكة النهار أرأف من ملائكة الليل.(ابن النجار عن ابن عباس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10337 ۔۔۔ فرمایا کہ ” قیامت کے دن مسلمان ایسے گناہوں کے ساتھ آئیں گے جیسے پہار سو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرمادیں گے اور ان کو یہودیوں پر ڈال دیں گے “۔ (مسلم بروایت حضرت ابو موسیٰ (رض))
10341 يجئ يوم القيامة ناس من المسلمين بذنوب أمثال الجبال فيغفرها الله لهم ويضعها على اليهودت.(م عن أبي موسى)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10338 ۔۔۔ فرمایا کہ ایک شخص نے اپنے اوپر خوب مال خرچ کیا اور جب اس کی موت کا وقت آپہنچا تو اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری راکھ کو پیسنا اور پھر سمندر میں بہا دینا، کیونکہ خدا کی قسم اگر میرا رب مجھ پر قادر ہوگیا تو مجھے وہ عذاب دے گا جو آج تک کسی کو نہ دیا ہوگا، اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے فرمایا کہ جو تو نے لیا ہے ادا کردے چنانچہ دیکھتے ہیں دیکھتے وہ شخص دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس بات پر کس نے ابھارا ؟ اس نے کہا کہ اے میرے رب میں آپ سے ڈرتا تھا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرمادیا “۔ (مسند احمد ، متفق علیہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10342 أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه فقال : إذا انا مت فأحرقوني ، ثم اسحقوني ، ثم اذروني في البحر ، فو الله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ، ففعلوا ذلك به ، فقال الله للارض أدى ما أخذت ، فإذا هو قائم ، فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ قال خشيتك يا رب فغفر له بذلك.(حم ق عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10339 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک شخص کی موت کا وقت آپہنچا اور وہ زندگی سے ناامید ہوگیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو بہت سی لکڑیاں جمع کرنا اور پھر ان میں آگ دھکانا جب تک (آگ) میرا گوشت نہ کھاجائے اور میری ہڈیاں جلادے اور میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے لے کر اچھی پیسو، پھر ادن پڑا رہنے دو اور پھر دریا میں بہا دو ، اس کے گھروالوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کیا اور اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا کہ یہ میں نے آپ کے خوف سے کیا اے میرب رب ! تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا “ مسند احمد، متفق علیہ، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت حذیفہ اور حضرت ابن مسعود (رض))
10343 إن رجلا حضره الموت فلما أيس من الحياة أوصى أهله إذا أنا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا جزلا ، ثم أوقدوا فيه نارا حتى إذا أكلت لحمي ، وخلصت إلى عشمي ، فامتحشت فخذوها فاطحنوها ، ثم انظروا يوما راحا فاذروها في اليم ، ففعلوا ما أمرهم ، فجمعه الله وقال :لم فعلت ذلك ؟ قال : من خشيتك فغفر له.(حم ق ن ه عن حذيفة وأبي مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10340 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ مال وال دیا تھا لہٰذا جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے کہا : تمہارے لیے تمہارا باپ کیسا تھا، انھوں نے کہا بہترین، پھر اس نے کہا میں نے کبھی بھلائی کا کام نہیں کیا، چنانچہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور پھر خوب پیسنا اور پھر کسی تیز ہوا والے دن ادھر ادھر اڑا دینا، انھوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کیا اور دریافت فرمایا کہ تجھے اس حرکت کم پر کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا آپکے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ رحمت کا معاملہ فرمایا “ (مسند احمد، متفق علیہ بروایت حضرت ابو سعید (رض))
10344 إن رجلا كان قبلكم رغسه الله مالا وولدا ، فقال لبنيه لما أحتضر : إي أب كنت لكم ؟ قالوا : خير أب ، قال : إني لم أعمل خيرا قط فإذا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ، قم اذروني في يوم عاصف ، ففعلوا ، تفجمعه الله فقال : ما حملك ؟ قال مخافتك فتلقاه برحمته.(حم ق عن أبي سعيد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10341 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ ان کی نافرمانی نہ ہو تو وہ ابلیس کو پیدا ہی نہ کرتے “۔ (حلیہ ابی نعیم بروایت حضرت ابن عمر (رض))
فائدہ :۔۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی نافرمانی کروانا چاہتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کرنے کے بعد جب کوئی توبہ کرتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چنانچہ اسی مطلب کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم نے ایک ایسی قوم لے آتے جو گناہ اور پھر معافی مانگتی، لہٰذا اصل اس روایت میں توبہ کی ترغیب ہے جس کے لیے نہایت حکیمانہ انداز اختیار کیا گیا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی نافرمانی کروانا چاہتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کرنے کے بعد جب کوئی توبہ کرتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چنانچہ اسی مطلب کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم نے ایک ایسی قوم لے آتے جو گناہ اور پھر معافی مانگتی، لہٰذا اصل اس روایت میں توبہ کی ترغیب ہے جس کے لیے نہایت حکیمانہ انداز اختیار کیا گیا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10345 إن الله لو شاء ان لا يعصى ما خلق إبليس.(حل عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10342 ۔۔۔ فرمایا کہ ” فرشتے اللہ تعالیٰ سے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! یہ آپ کا بندہ ہے جو برائی کرنا چاہتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے زیادہ جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اس کی نگرانی کرتے رہو، اگر وہ اپنے برائی کے ارادے پر عمل کرلے تو ایک ہی برائی لکھنا اور اگر اس ارادے پر عمل نہ کرے تو اس کی ایک نیکی لکھنا کیونکہ اس نے برائی کو میری وجہ سے چھوڑا ہے “۔ (مسند احمد، مسلم بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10346 قالت الملائكة : رب ذاك عبدك يريد أن يعمل سيئة ، وهو أبصر به ، فقال : ارقبوه ، فان عملها فاكتبوها له بمثلها ، وإن تركها فاكتبوها له حسنة ، فانما تركها من جراى.(حم م عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10343 ۔۔۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل میں دو آدمیوں میں بہت بھائی چارہ تھا ان میں سے ایک گناہ کرتا تھا جبکہ دوسرا بہت عبادت گزار تھا اور خوب محنت سے عبادت کرتا تھا اور دوسرے کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا رہتا تھا اور کہتا کم کرو، اسی طرح اس نے ایک دن اس کو گناہ کرتے دیکھا تو کہا گناہوں کو کم کردو تو اس نے کہا مجھے اور میرے رب کو چھوڑدو کیا تو میرا نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ تو اس (عبادت گزار) نے کہا خدا کی قسم اللہ تعالیٰ تجھے معاف نہ کریں گے یا کہ کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں داخل نہ کریں گے، پھر ان دونوں کا انتقال ہوگیا اور دونوں رب العالمین کے پاس پہنچے، تو اللہ تعالیٰ نے عبادت گزار سے فرمایا کہ تو مجھے جانتا تھا یا میرے پاس موجود چیز پر قادر تھا ؟ اور گناہ گار سے فرمایا چلو جاؤ میری رحمت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ اور عبادت گزار کے بارے میں فرمایا کہ اس کو دوزخ میں ڈال دو “۔
فائدہ :۔۔۔ چونکہ عبادت گزار اللہ کی رحمت سے مایوسی کی باتیں کررہا تھا جبکہ مایوسی تو گناہ ہے اور پھر اللہ کی رحمت سے مایوسی اور بھی بڑا گناہ ہے اور دوسروں کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا اس سے بھی بڑا گناہ اور پھر اس میں دانستہ طور پر تکبر بھی شامل ہوجاتا ہے جو ام الامراض ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ چونکہ عبادت گزار اللہ کی رحمت سے مایوسی کی باتیں کررہا تھا جبکہ مایوسی تو گناہ ہے اور پھر اللہ کی رحمت سے مایوسی اور بھی بڑا گناہ ہے اور دوسروں کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا اس سے بھی بڑا گناہ اور پھر اس میں دانستہ طور پر تکبر بھی شامل ہوجاتا ہے جو ام الامراض ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10347 كان رجلان في بني إسرائيل متواخيان ، وكان أحدهما يذنب ، والآخر يجتهد في العبادة ، وكان لا يزال المجتهد يرى الآخر على الذنب ، فيقول : أقصر ، فوجده يوما على ذنب ، فقال له : أقصر ، فقال : خلني وربي ، أبعثت علي رقيبا ؟ فقال : والله لا يغفر الله لك أو لا يدخلك الله الجنة ، فقبض روحهما ، فاجتمعا عند رب العالمين ، فقال لهذا المجتهد :أكنت بي عالما أو كنت على ما في يدي قادرا ؟ وقال للمنذب : اذهب فادخل الجنة برحمتي ، وقال للآخر : اذهبوا به إلى النار.
(حم د عن أبي هريرة).
(حم د عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10344 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو اپنے کسی کام کو گناہ سے نہیں بچاتا تھا اس کے پاس ایک مرتبہ ایک عورت آئی تو اس نے اس عورت کو ساٹھ دینار دئیے تاکہ یہ اس کے ساتھ زنا کرسکے اور جب یہ اس جگہ بیٹھا جہاں مرد عورت سے جماع کرنے کے لیے بیٹھا کرتے ہیں تو وہ عورت کانپنے لگی اور رونے لگی، اس نے پوچھا کیوں رورہی ہو ؟ کیا میں نے تمہیں مجبور کیا ہے ؟ وہ بولی نہیں ؟ یہ عمل ایسا ہے جو میں نے کبھی نہیں کیا اور مجھے اس عمل پر ضرورت نے مجبور کیا ہے، تو اس شخص نے کہا کہ تو یہ کام کررہی ہے ؟ حالانکہ پہلے تو نے یہ کبھی نہیں کیا، چلی جاؤ اور پیسے بھی لے جاؤ، اور اس شخص نے کہا میں آج کے بعد کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کروں گا، اسی رات اس کا انتقال ہوگیا ؟ صبح لوگوں نے اس کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو معاف کردیا “۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن حبان، مستدرک حاکم بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10348 كان الكفل من بني إسرائيل لا يتورع عن ذنب عمله فأتته امرأة فأعطاها ستين دينارا على أن يطأها ، فلما قعد منها مقعد الرجل من المرأة ارتعدت وبكت ، فقال : ما يبكيك ؟ أكرهتك ؟ قالت : لا ، ولكنه عمل ما عملته قط ، وما حملني عليه إلا الحاجة ، فقال : تفعلين أنت هذا ؟ وما فعلتيه ، اذهبي فهي لك ، وقال : لا أعصي الله بعد هذا أبدا فمات من ليلته ، فأصبح مكتوب على بابه : إن الله قد غفر للكفل.(حم ت حب ك عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10345 ۔۔۔ اور کوئی اللہ تعالیٰ سے زیادہ معذرت قبول کرنے والا نہیں۔ (طبرانی کبیر عن اسود بن سریع)
10349 ليس أحد أحب إليه المدح من الله تعالى ، ولا أحد أكثر معاذير من الله.
(طب عن الاسود بن سريع).
(طب عن الاسود بن سريع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10346 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دنیا میں کسی کے گناہوں کی معافی کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کی پردہ پوشی فرماتے ہیں۔ حسن بن سفیان فی الوحدان، ابونعیم فی المعرفہ بروات بلال بن یحییٰ العبسی مرسلاً
10350 إن معافاة الله للعبد في الدنيا أن يستر عليه سيئاته.(الحسن بن سفيان في الواحدان وأبو نعيم في المعرفة عن بلال بن يحيى العبسي) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10347 ۔۔۔ فرمایا کہ ” آرام میں وہی ہے جس کی مغفرت ہوگئی ہو “۔ (حلیہ ابی نعیم بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور ابن عساکر بروایت حضرت بلال (رض))
10351 إنما استراح من غفر له.(حل عن عائشة) (ابن عساكر عن بلال).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10348 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر تم ہر وقت اسی حالت میں رہو جو تم پر میرے پاس موجود ہونے کے وقت ہوتی ہے تو فرشتے اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ تم سے مصافحہ کریں اور تمہارے گھروں میں تمہارا ملاقات کے لیے جائیں اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آئیں گے جو گناہ کرے گی تاکہ وہ ان کو معاف فرمائیں “۔ (مسند احمد، ترمذی، بروایت حضرت ابوہریرہ (رض))
10352 لو أنكم تكونون على كل حال على الحالة التي أنتم عليها عندي لصافحتكم الملائكة فأكفهم ، ولزارتكم في بيوتكم ، ولو لم تذنبوا لجاء بقوم يذنبون كي يغفر لهم.(حم ت عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اعلانیہ گناہ کرنے والے کی معافی نہیں
10349 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر تم ہر وقت اسی حالت پر رہو جو تم پر میرے پاس موجود ہونے کے وقت طاری ہوتی ہے تو فرشتے تم سے مدینہ کی گلیوں میں مصافحہ کریں “۔ (مسند ابی یعلی بروایت حضرت انس (رض))
10353 لو أنكم إذا خرجتم من عندي تكونون على الحال الذي تكونون عليه لصافحتكم الملائكة بطرق المدينة.(ع عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
10350 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دنیا میں کسی کے گناہوں کی معافی کی پہلی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کی پردہ پوشی فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گرفت اور پکڑ کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں سے لوگوں کو آگاہ کردیتے ہیں “۔
حسن بن سفیان و ابونعیم بروایت بلال بن یحییٰ (رح) اور ابو نعیم کہتے ہیں کہ اس روایت کو حسن بن سفیان نے وحدان میں ذکر کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ حسن بن سفیان العبسی کوفی ہیں جو حضرت حذیفہ (رض) کے اصحاب میں سے ہیں خود صحابی نہیں۔
حسن بن سفیان و ابونعیم بروایت بلال بن یحییٰ (رح) اور ابو نعیم کہتے ہیں کہ اس روایت کو حسن بن سفیان نے وحدان میں ذکر کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ حسن بن سفیان العبسی کوفی ہیں جو حضرت حذیفہ (رض) کے اصحاب میں سے ہیں خود صحابی نہیں۔
10354 إن أول معافاة الله للعبد أن يستر عليه سيئاته في الدنيا ، وإن أول خزي الله للعبد أن يظهر عليه سيئاته.
(الحسن بن سفيان وأبو نعيم عن بلال بن يحيى) قال أبو نعيم : ذكره الحسن بن سفيان في الواحدان وأراه عندي العبسي الكوفي وهو صاحب حذيفة لا صحبة له.
(الحسن بن سفيان وأبو نعيم عن بلال بن يحيى) قال أبو نعيم : ذكره الحسن بن سفيان في الواحدان وأراه عندي العبسي الكوفي وهو صاحب حذيفة لا صحبة له.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
10351 ۔۔۔ فرمایا کہ ” وہ شخص جو برائیاں کرتا ہے پھر نیکیاں کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کو ایک تنگ زرہ پہنا دی گئی ہو اور اس سے اس کا دم گھٹا جارہا ہو، سو جب بھی وہ ایک نیک کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تنگ زرہ کا ایک حلقہ کھول دیتے ہیں، اسی طرح دوسرا اور پھر تیسرا یہاں تک کہ وہ زمین پر نکل آتا ہے “۔ (مسند احمد، اور ابن ابی الدنیا فی التوبہ، اور طبرانی بروایت حضرت عقبۃ بن عامر (رض) )
فائدہ :۔۔۔ یہاں تک کہ وہ زمین پر نکل آئے، سے مراد یہ ہے کہ وہ اس تنگ زرہ سے مکمل طور پر خلاصی حاصل کرلے اور تمام گناہوں سے پاک و صاف ہوجائے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یہاں تک کہ وہ زمین پر نکل آئے، سے مراد یہ ہے کہ وہ اس تنگ زرہ سے مکمل طور پر خلاصی حاصل کرلے اور تمام گناہوں سے پاک و صاف ہوجائے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
10355 مثل الذي يعمل السيئات ثم يعمل الحسنات كمثل رجل عليه درع ضيقة قد خنقته ، فكلما عمل حسنة انتقضت حلقة ، ثم أخرى حتى يخرج إلى الارض.
(حم وابن أبي الدنيا في التوبة طب عن عقبة بن عامر).
(حم وابن أبي الدنيا في التوبة طب عن عقبة بن عامر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کرنے والے کی مثال
10352 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اس شخص کی مثال جو اسلام کی حالت میں کوئی نیکی کرتا تھا پھر اسے چھوڑ دیا لیکن پھر شرمندہ ہوا اور توبہ کرلی اس اونٹ کی طرح ہے جو اپنے گھروالوں کے لیے کام کرتا تھا پھر بھاگ گیا سو دوسری مرتبہ انھوں نے اس کو باندھ لیا اور دوبارہ اسی طرح اس کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے لگے جیسے پہلے کیا کرتے تھے “۔ (حلیہ ابی نعیم بروایت حضرت امامۃ (رض))
10356 مثل الرجل الذي يكون على حسنة من الاسلام ثم يفارقها ، ثم يندم فيتوب كبعير كان يعتمله أهله فينفر منهم مرة ثم عقوله وأحسنوا إليه كما كانوا يفعلون به أول مرة.(أبو نعيم عن أبي أمامة).
তাহকীক: