কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤١۔۔ باری تعالیٰ کے استحضار کے ساتھ میں شہادت دیتاہوں کہ جو بندہ دل کے اخلاص کے ساتھ، اشھد ان لاالہ الللہ واشھد ان محمد رسول اللہ کا اقرار کرتا ہو اور وہ مرجائے تو ضرور وہ جنت کی راہ پر چل پڑے گا۔ میرے پروردگار عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ میری امت سے ایسے ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل فرمائیں گے جن پر حساب ہوگا نہ عذاب۔ اور مجھے امید ہے کہ جب تک تم اور تمہارے نیک آباء اور ازواج اور آل جنت میں اپنا مقام نہ بنالیں تب تک وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ مسند احمد، الصحیح لاابن حبان، البغوی ، ابن قانع، الکبیر للطبرانی (رح) ، بروایت رفاعہ ، بن رفاعہ، الجھنی ، اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔
141 – "أشهد عند الله أن لا يموت عبد يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله صدقا من قلبه ثم يسدد إلا سلك في الجنة فقد وعدني ربي عز وجل أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا لاحساب عليهم ولاعقاب وإني لأرجو أن لا يدخلوها حتى تتبوؤا أنتم ومن صلح من آبائكم وأزواجكم وذرياتكم مساكن في الجنة" (حم حب والبغوي والبارودي وابن قانع طب عن رفاعة بن رفاعة الجهني ورجاله موثوقون وروى (هـ) بعضه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٢۔۔ جان لے ! کہ جو شخص لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیا ہوامرے تو جنت میں داخل ہوگا۔ طبرانی، مسنداحمد، مصنف ، ابی بن شیبہ ، ابوداؤد، المسند، لابی یعلی، الحلیہ، بروایت انس (رض)۔ حدیث صحیح ہے۔
142- "اعلم أن من مات يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله دخل الجنة" (ط حم ش د ع حل عن أنس) وصحح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٣۔۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے جہنم کو اس شخص پر حرام فرمادیا ہے جو اللہ کی رضا کے لیے لاالہ الا اللہ کہے۔ مسند احمد، بروایت محمود بن الربیع عن عتبان بن مالک۔ حدیث صحیح ہے۔
143 – "إن الله قد حرم على النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله" (ح م عن محمود بن الربيع عن عتبان بن مالك) صح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٤۔۔ جاؤ ! لوگوں میں اعلان کردو کہ جو دل کے یقین یا اخلاص کے ساتھ لاالہ الللہ کی شہادت دے اس کے لیے جنت ہے۔ ابن خزیمہ، الصحیح لابن حبان ، السنن لسعید، ابن منصور، بروایت جابر (رض)۔ حدیث صحیح ہے۔
144 – "اذهب فناد في الناس: أنه من شهد أن لا إله إلا الله موقنا أو مخلصا فله الجنة" (ابن خزيمة حب ص عن جابر) صح
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٥۔۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے جہنم کو اس شخص پر حرام فرمادیا ہے ، جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے۔ عبد بن حمید، بروایت عبادہ بن صامت۔
145 – "إن الله عز وجل حرم النار على من شهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله" (عبد بن حميد عبادة بن الصامت) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٦۔۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت میں سے کوئی لاالہ الللہ کے ساتھ اس طرح نہ آئے گا، کہ اس کے ساتھ کچھ خلط ملط نہ کرتا ہو، مگر یہ کہ جنت اس کے لیے واجب ہوجائے گ، صحابہ نے عرض کیا، یارسول اللہ لاالہ الا اللہ کے ساتھ کچھ خلط ملط کرنے کاکیامطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا دنیا کی حرص اور اس کو جمع کرنے کی لالچ اور اس کو روک رکھنے کی عادت، باتیں تو انبیاء کی سی کریں لیکن اعمال سرکشوں کے سے ہوں۔ الحکیم بروایت زید بن ارقم۔
146 – "إن الله عهد إلي أن لا يأتيني أحد من أمتي بلا إله إلا الله لا يخلط بها شيئا إلا وجبت له الجنة قالوا يا رسول الله وماالذي يخلط بلا إله إلا الله قال حرصا على الدنيا وجمعا لها ومنعا لها يقولون قول الأنبياء ويعملون عمل الجبابرة" (الحكيم عن زيد بن أرقم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٧۔۔ زمین تو اس سے بھی بدتر کو قبول کر لیت ہے ، مگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں، کہ لاالہ الا اللہ کی عظمت و حرمت کو دکھائیں، ابن ماجہ، بروایت عمران بن حصین، اس روایت کا عبرتناک پس منظر ہے ، حضرت عمران بن حصین (رض) ، فرماتے ہیں رسول اللہ نے ایک لشکرمشرکین کے مقابلہ میں روانہ فرمایا جس میں بھی شریک تھا، مشرکین سے شدت کی خون ریزی ہوئی۔ دوران جنگ مسلمانوں کا ایک سپاہی کسی مشرک پر حملہ آور ہوا اور وہ مشرک مسلمان کے نرغہ میں پھنس گیا، مشرک نے فوراکلمہ لاالہ الا اللہ پڑھا اور پکارا کہ میں مسلمان ہوتاہوں لیکن اس مسلمان نے پھر بھی اس پر حملہ کرکے اس کو تہ تیغ کرڈالا۔ بعد میں یہ شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہو اور ساراماجرا بیان کیا، آپ نے فرمایا تم نے کیوں نہیں اس کا شکم چاک کرکے دیکھ لیا کہ وہ سچے دل سے کلمہ پڑھ رہا ہے ؟ جب تم کو اس کے دل کا حال معلوم نہ تھا، تو کیوں تم نے اس کی زبان پر اعتبار نہیں کیا ؟ آپ نے دو تین مرتبہ ایسا فرمایا۔ پھر آپ نے سکوت فرمالیا کچھ عرص بعد اس شخص کو انتقال ہوگیا، تو ہم نے اس کو سپرد خاک کردیا۔ مگر آئندہ روز اطلاع ملی کہ اس شخص کو نعش زمین سے باہر پڑی ہے۔ ہم نے خیال کیا کہ شاید کسی دشمن نے اپنی عداوت نکالی ہے۔ اور ہم نے اس کو دوبارہ دفن کردیا، اور اپنے غلاموں کو نگرانی پر مامور کردیا۔ لیکن آئندہ روز پھر وہی سابقہ پیش آیا، اور اس کی نعش باہر پڑی ملی۔ ہم نے سوچاشاید نگرانوں کی آنکھ لگ گئی ہو اور کسی نے ان کو غفلت میں ایسا کردیا ہو۔ لہذادوبارہ دفن کرنے کے بعد ہم نے بذاتہ اس کی قبر کی نگرانی کی۔ مگر صبح پھرا سکی نعش قبر سے باہرپڑی ملی۔ اب ہمیں یقین ہوچلا کہ یہ قدرت کی طرف سے ہے۔ اور لاالہ الا اللہ کے قائل تو قتل کرنے کا انجام ہے۔ ہم نے اس واقعہ کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا۔۔ تب آپ نے حدیث کے یہ عبرت انگیز کلمات ارشاد فرمائے زمین تو اس سے بھی بدتر کو قبول کرلیتی ہے مگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لاالہ الاللہ کی عظمت و حرمت کو دکھائیں۔
147 – "إن الأرض لتقبل من هو شر منه ولكن الله أحب أن يريكم تعظيم حرمة لا إله إلا الله" (هـ عن عمران بن حصين) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٨۔۔ جب میری امت کا کوئی بندہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا ہے تو اس کے گناہ یوں مٹ جاتے ہیں جس طرح سیاہ تحریر سفید، سیال، سے مٹ جاتی ہے۔ اور جب بندہ اشھد ان لاالہ الللہ واشھد ان محمد رسول اللہ، کہتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ اور جب فرشتوں کی کسی صف کے قریب سے اس کا گزرہوتا ہے ، اور وہ محمد رسول اللہ کہتا ہے تو پروردگار اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں، السجزی، فی الابانہ، بروایت ابن مسعود (رض)۔ یہ حدیث بہت ہی ضعیف ہے۔
148 – "إن العبد من أمتي إذا قال لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله تطلست ذنوبه كما يطلس أحدكم الكتاب الأسود من الرق الأبيض فإذا قال أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فتحت له أبواب الجنة ولايمر بصف من صفوف الملائكة إلا قال محمد رسول الله ولم يردها شيء دون الجبار عز وجل" (السجزي في الإبانة عن ابن مسعود) وقال غريب جدا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٤٩۔۔ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ کوئی بندہ اس کو دل کی گہرائی کے ساتھ نہیں کہتا مگر اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے۔ وہ ہے لاالہ لا اللہ ، الحلیہ ، بروایت عمر (رض)۔ حدیث صحیح ہے۔
149 – "إني لأعلم كلمة لا يقولها عبد حقا من قلبه إلا حرم على النار لا إله إلا الله" (حل عن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٠۔۔ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کوئی بندہ اس کو دل کی گہرائی کے ساتھ نہیں کہتامگر اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے۔ مسنداحمد ، المسند لابی یعلی، ابن خزیمہ، الصحیح لابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت عثمان (رض) راویان حدیث ثقہ ہیں۔
150 – "إني لأعلم كلمة لا يقولها عبد حقا من قلبه إلا حرمه الله على النار" (حم ع وابن خزيمة حب ك عن عثمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥١۔۔ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کوئی بندہ اس کو موت کے وقت نہیں مگر اس بندہ کی روح نکلتے وقت اس کلمہ کی وجہ سے نئی زندگی پاتی ہے اور وہ کلمہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ثابت ہوگا وہ ہے لاالہ الا اللہ۔ مسنداحمد ، ابن ابی شیبہ، المسند لابی یعلی، المستدرک للحاکم، بروایت طلحہ بن عبیداللہ۔ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
151 – "إني لأعلم كلمة لا يقولها رجل يحضره الموت إلا وجد روحه لها روحا حين تخرج من جسده وكانت له نورا يوم القيامة لا إله إلا الله" (حم س ع ك عن طلحة بن عبيد الله) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٢۔۔ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کوئی بندہ اس کو دل کی گہرائی کے ساتھ نہیں کہتا اور پھر اسی پر مرجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام فرما دیتے ہیں۔ الصحیح لابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت عثمان عن عمر (رض)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
152 – "إني لأعلم كلمة لا يقولها عبد حقا من قلبه فيموت على ذلك إلا حرمه الله على النار" (حب ك عن عثمان عن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٣۔۔ مجھے امید ہے کہ جو بندہ دل کے اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہوا وفات پاجائے۔۔ اللہ اسے اپنے عذاب سے دو چار نہ فرمائیں گے۔ الدیلمی ، بروایت ابن عمر (رض)۔ حدیث ضعیف ہے۔
153 – "إني لأرجو أن لا يموت أحد يشهد أن لا إله إلا الله صادقا من قلبه فيعذبه الله" (الديلمي عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٤۔۔ مجھے امید ہے کہ جو بندہ دل کے اخلاص کے ساتھ ، لاالہ الللہ کی شہادت دیتا ہواوفات پاجائے۔۔ اللہ اسے اپنے عذاب سے دوچار نہ فرمائیں گے۔ الدیلمی ، الخطیب، بروایت ابن عمرو (رض) ۔ حدیث ضعیف ہے۔ الجامع المصنف۔
154 – "إني لأرجو أن لا يموت أحد يشهد أن لا إله إلا الله مخلصامن قلبه فيعذبه الله عز وجل" (الديلمي والخطيب عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٥۔۔ جس نے اپنے دل اور زبان کی سچائی سے لاالہ الا اللہ کہا وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں جس سے چاہے داخل ہوجائے۔ ابن الجار ، بروایت عقبہ بن عامر عن ابی بکر۔
155 – " من قال لا إله إلا الله يصدق لسانه وقلبه دخل من أي أبواب الجنة الثمانية شاء" (ابن النجار عن عقبة بن عامر عن أبي بكر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٦۔۔ سب سے پہلی چیز جس کو اللہ نے سب سے پہلی کتاب میں تحریر فرمایا وہ یہ ہے ، میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میری رحمت غضب سے سبقت کرگئی ہے۔ جو گواہی دے اشھدان لاالہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ۔ اس کے لیے جنت ہے۔ الدیلمی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
156 – "أول شيء خطه الله في الكتاب الأول إني أنا الله لا إله إلا أنا سبقت رحمتي غضبي فمن شهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله فله الجنة" (الديلمي عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٧۔۔ جنت کی گراں مایہ قیمت لاالہ الا اللہ ہے ، اور نعمت کی قیمت الحمدللہ ہے، الدیلمی ، بروایت الحسن عن انس (رض)۔
157 – "ثمن الجنة لا إله إلا الله وثمن النعمة الحمد لله" (الديلمي عن الحسن عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٨۔۔ مجھے جبرائیل نے بیان کیا، کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، لاالہ الا اللہ میرا قلعہ ہے اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے مامون ہوگیا۔ ابن عساکر ، بروایت علی (رض)۔
158 – "حدثني جبريل فقال يقول الله تعالى لا إله إلا الله (1) حصني فمن دخل حصني أمن من عذابي" (ابن عساكر عن علي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٥٩۔۔ جہنم پر حرام ہے ، وہ شخص جو اللہ کی خوشنودی کے لیے لاالہ الا اللہ کہے، الکبیر للطبرانی، (رح) بروایت عثمان بن مالک۔
159 – "حرم على النار من قال لا إله إلا الله يبتغي بها وجه الله" (طب عن عتبان بن مالك) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادتین کی فضیلت۔۔۔ ازالاکمال۔
١٦٠۔ جو شخص اس بات کی شہادت دیتا ہوا آیا کہ اللہ کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو آگ پر حرام ہے کہ اس کو جلائے ، مسدد، ابن النجار، بروایت ابی موسیٰ۔
160 – "من جاء بشهادة أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأن محمدا عبده ورسوله حرم على النار" (مسدد وابن النجار عن أبي موسى) .
তাহকীক: