কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১১৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی فضیلت
١١٨٤۔۔ اللہ عزوجل بندوں کے ہجوم یاس وقنوط اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی اپنی رحمت کا موازنہ کرتے ہوئے بندوں پر تعجب فرماتے ہیں۔ الخطیب بروایت عائشہ (رض)۔
1184 – "إن الله ليضحك من أياس العباد وقنوطهم وقرب الرحمة لهم". (الخطيب عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی فضیلت
١١٨٥۔۔ وہ سفید بادلوں میں تھا، ان بادلوں کے نیچے ہوا تھی پھر پروردگار نے اپنا عرش پانی پر پیدا فرمایا۔ ابن جریر، ابوالشیخ ، فی العظمہ، بروایت ابی رزین۔ صحابی فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ یارسول اللہ آسمان و زمین کی پیدائش سے قبل ہمارا رب کہاں تھا، تو آپ نے مذکورہ جواب ارشاد فرمایا۔
1185 – "كان في عماء تحته هواء ثم خلق عرشه على الماء". (ابن جرير وابو الشيخ في العظمة عن أبي رزين) قال قلت يا رسول الله أين كان ربنا قبل أن يخلق السموات والأرض قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کی ذات سے متعلق گفتگو کی ممانعت۔۔۔ الاکمال
١١٨٦۔۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک کہ لوگ اپنے رب کے متعلق بحث و مباحثہ میں مشغول نہ ہوجائیں۔ ابونصر الدیلمی ، بروایت ابویرہرہ (رض) ۔
1186 – "لا تقوم الساعة حتى تكون خصومتهم في ربهم". (أبو نصر والديلمي عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کی ذات سے متعلق گفتگو کی ممانعت۔۔۔ الاکمال
١١٨٧۔۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی، جب تک کہ خدا کے بارے میں بحث آرائی کرتے ہوئے لوگ علی العلانیہ خدا کا انکار نہ کرنے لگ جائیں۔ المستدرک للحاکم، الاوسط للطبرانی ، بروایت ابوہریرہ ۔
1187 – "لا تقوم الساعة حتى يكفر بالله جهرا وذلك عند كلامهم في ربهم". (ك في تاريخه طس عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کی ذات سے متعلق گفتگو کی ممانعت۔۔۔ الاکمال
١١٨٨۔۔ عنقریب لوگوں کے قلوب شر سے پر ہوجائیں گے۔۔ حتی کہ شر لوگوں کے درمیان ہر طرف پھوٹ پڑے گا، ہر ہر دل میں جگہ بنالے گا لوگ ہر ہر چیز کے متعلق بحث میں مبتلا ہوجائیں گے حتی کہ کہیں گے اگر تمام اشیاء سے قبل اللہ تھا تو اللہ سے قبل کیا تھا، پس جب تم کو یہ کہیں تم کہنا ہرچیز سے قبل اللہ تھ اور اللہ سے قبل کچھ نہ تھا، اور وہی تمام چیزوں کے آخر میں بھی ہے اس کے بعد کچھ نہیں ، اور وہ ہرچیز پر غالب وبالا ہے ، اس سے اوپر کچھ نہیں ، اور وہی باطن بھی ہے اس سے ورے اور راز کی شی کچھ نہیں ہے اور ہرچیز کا خوب علم رکھنے والا ہے پس اگر پھر بھی وہ لوگ اس بارے میں سوال آرائی کریں تو ان کے چہروں کی طرف تھوک دو ۔ اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کو تہ تیغ کرڈالو۔ الدیلمی بروایت ابی سعید (رض) ۔
1188 – "يوشك قلوب الناس أن تمتلئ شرا حتى يخرج الشر فضلا بين الناس ما تجد قلبا يدخله لا يزال الناس يتسائلون عن كل شيء حتى يقول لو كان الله قبل كل شيء فما كان قبل الله فإذا قالوا لكم ذلك فقولوا كان الله قبل كل شيء وليس قبله شيء وهو الآخر بعد كل شيء وليس بعده شيء وهو الظاهر فوق كل شيء وليس فوقه شيء وهو الباطن دون كل شيء وليس دونه شيء وهو بكل شيء عليم فإن هم أعادوا المسألة فابصقوا في وجوههم فإن لم ينتهوا فاقتلوهم". (الديلمي عن أبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٨٩۔۔ اسلام ٹکڑے ٹکڑے ہو کربکھرے جائے گا۔۔ مسنداحمد، بروایت فیروز الدیلمی ۔
1189 – " لينقضن الإسلام عروة عروة". (حم عن فيزوز الديلمي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٠۔۔ اسلام ٹکڑے ٹکڑے ہو کربکھر جائے گا جب بھی کوئی حکم اسلام ٹوٹے گا تو لوگ اس کے ساتھ والے حکم کو تھام لیں گے۔ اور سب سے پہلے اسلام کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دیا جائے گا اور سب سے آخر میں نماز کو ترک کردیا جائے گا۔ مسنداحمد، الصحیح لابن حبان، المستدرک للحاکم، بروایت ابی امامہ (رض) ۔
1190 – " لينقضن الإسلام عروة عروة فكلما انتقضت عروة تشبث الناس بالتي تليها فأولهن نقضا الحكم وآخرهن الصلاة". (حم حب ك عن أبي أمامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩١۔۔ اسلام اونٹ کے بچہ کی مانند توخیزی وکس میرسی کے عالم میں اٹھا پھر اس کے سامنے کے ثنائی دانت نکلے پھر برابر کے رباعی دانت نکلے پھر رباعی کے بعد والے دانت نکلے پھر اسلام اپنے عنفوان شباب کے آخری مرحلہ پر آیا اور اس کے کیچیلی والے دانت بھی نکل بچے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اس کی ارتقائی منازل کو بیان کیا گیا ہے آخری مرحلہ بزدل کا فرمایا حالت بزدل میں اونٹ آٹھویں سال میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی قوت کا انتہائی زمانہ ہوتا ہے اسی وجہ سے دوسرے مقام پر اس روایت کے آخر میں حضرت عمر (رض) کا ارشاد ہے کہ بزدل کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا ۔ یعنی عنقریب اسلام اس حالت میں پہنچ کر حاملین اسلام کی زبوں حالی کی وجہ سے اپنا عروج واقبال کھوبیٹھے گا۔
1191 – "إن الإسلام بدأ جذعا ثم ثنيا ثم رباعيا ثم سديسا ثم بازلا". (حم عن رجل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٢۔۔ اسلام غرب واجنبی حالت میں اٹھا اور عنقریب اسی اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا سو خوش خبری ہو، غرباء کے لیے۔ الصحیح لمسلم ، ابن ماجہ ، بروایت ابوہریرہ (رض)۔ النسائی ، ابن ماجہ ، بروایت ابن مسعود ، ابن ماجہ ، بروایت انس۔ الکبیر للطبرانی (رح) بروایت سلیمان وسھل بن سعد وابن عباس (رض)۔ حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ حاملین اسلام فقط غرباء رہ جائیں گے بلکہ غرابت اجنبیت کے معنی میں ہے یعنی اسلام اور اس کے احکام کو نامانوس اور تعجب کی نگاہوں سے دیکھاجائے گا کہ یہ پرانے وقتوں کی دقیانوسیت کہاں سے ـآگئی۔
1192 – "إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء". (م هـ عن أبي هريرة ن هـ عن ابن مسعود هـ عن أنس) (طب عن سلمان وسهل بن سعد وابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٣۔۔ اسلام غربت و اجنبیت کے ساتھ شروع ہو اور عنقریب اسی طرح اجنبیت کی حالت میں لوٹ جائے گا اور صرف مسجدوں کی حدود تک اس طرح منحصر ہو کر رہ جائے جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ کر چلاجاتا ہے۔ الصحیح لمسلم ، بروایت ابن عمر (رض)۔
1193 – "إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود كما بدأ ويأرز بين المسجدين كما تأرز الحية في جحرها".(م عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٤۔۔ بیشک دین سرزمین حجاز کی طرف یوں سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ کر چلا آتا ہے اور دین ارض حجاز کو قلعہ بنا کر اس میں یوں جگہ پکڑ لے گا جس طرح اپنے ریوڑ سے بچھڑی ہوئی پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی کی طرف لپک کر قلعہ بندر ہوجاتی ہے اور یقیناً دین غربت و اجنبیت کے عالم میں اٹھا اور اسی طرح غربت کے عالم میں واپس ہوجائے گا پس خوش خبری ہو غرباء کے لیے جو میرے بعد میری سنن کو زندہ کریں گے۔ الصحیح للترمذی (رح)، بروایت عمرو بن عوف المزنی۔
1194 – "إن الدين ليأرز إلى الحجاز كما تأرز الحية إلى جحرها وليعقلن الدين من الحجاز معقل الأروية من رأس الجبل إن الدين بدأ غريبا ويرجع غريبا فطوبى للغرباء الذين يصلحون ما أفسد الناس بعدي من سنتي". (ت عن عمر بن عوف المزني) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٥۔۔ عنقریب دین اسی سرزمین مکہ کی طرف واپس آجائے گا جہاں سے نکلا تھا۔ ابن النجار، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1195 – "إن الدين سيرجع إلى حيث خرج إلى مكة". (ابن النجار عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٦۔۔ حق کی طلب و تلاش غربت ہے۔ ابن عساکر، بروایت علی (رض) یعنی حق کو قبول کرنا اور اس کی راہ میں قدم اٹھانا مانند پڑگیا ہے۔
1196 – "طلب الحق غربة". (ابن عساكر عن علي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں فصل ثانی۔۔۔ اسلام کی قلت وغربت کے بارے میں
١١٩٧۔۔ ایمان مدینہ کی طرف یوں لپک آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لپک آتا ہے۔ مسنداحمد، بخاری و مسلم، ابن ماجہ ، بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1197 – "إن الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز إلى جحرها". (حم ق هـ عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٩٨۔۔ اسلام غربت واجنبی حالت میں اٹھا اور عنقریب اسی اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا، سو خوش خبری ہو ! غرباء کے لیے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! غرباء کون ہیں ؟ فرمایا جو دین کے فساد کے وقت اس کی اصلاح کریں۔ الکبیر للطبرانی (رح) ، بروایت سھل بن سعد، الکبیر للطبرانی ، الابانہ، بروایت عبدالرحمن بن السنہ۔
1198 – "إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا فطوبى للغرباء قالوا يا رسول الله وما الغرباء قال: الذين يصلحون عند فساد الناس". (طب عن سهل بن سعد) (طب وأبو نصر السجزي في الإبانة عن عبد الرحمن ابن سنة
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١١٩٩۔۔ اسلام غربت واجنبی حالت میں اٹھا اور عنقریب اسی اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا، سوقرب قیامت میں خوش خبری ہو غرباء کے لیے۔ نعیم بن حماد، فی الفتن بروایت مجاہد ، مرسلا۔
1199 – "إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا فطوبى للغرباء بين يدي الساعة". (نعيم بن حماد في الفتن عن مجاهد) مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٠٠۔۔ اسلام غربت واجنبی حالت میں اٹھا اور عنقریب اسی اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا سوای سے دن خوش خبری ہو غرباء کے لیے جب لوگ فتنہ و فساد کا شکار ہوجائیں گے۔ اور قسم ہے اس ہستی کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ! کہ ایمان ان دومسجدوں کی طرف اس طرح سمٹ کر منحصر ہوجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لپک آتا ہے۔ مسنداحمد، السنن لسعید، بروایت سعد بن ابی وقاص۔
1200 – "إن الإيمان بدأ غريبا فسيعود كما بدأ فطوبى يومئذ للغرباء إذا فسد الناس والذي نفس أبي القاسم بيده ليأرز الإيمان بين هذين المسجدين كما تأرز الحية في جحرها". (حم ص عن سعد بن أبي وقاص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٠١۔۔ اسلام غربت واجنبی حالت میں اٹھا اور عنقریب اسی اجنبی حالت میں لوٹ جائے گا سوای سے دن خوش خبری ہو غرباء کے لیے جب لوگ فتنہ و فساد کا شکار ہوجائیں گے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ایمان مدینہ کی طرف یوں تیزی سے آئے گا جس طرح سیلاب نشیب میں آنافانا اترجانا ہے۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اسلام ان دومسجدوں کی طرف اس طرح سمٹ کر منحصر ہوجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لپک کر داخل ہوجاتا ہے۔ عبدالرحمن بن سنہ الاسجعی۔
1201 – "بدأ الإسلام غريبا ثم يعود كما بدأ فطوبى للغرباء الذين يصلحون إذا فسد الناس والذي نفسي بيده لينحازن الإيمان إلى المدينة كما يحوز السيل والذي نفسي بيده ليأرزن الإسلام ما بين المسجدين كما تأرز الحية إلى جحرها". (عبد الرحمن بن سنة الأسجعي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٠٢۔۔ اسلام مکہ و مدینہ کے درمیان ہی منحصر ہو کر رہ جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں محبوس ہو کررہ جاتا ہے پھر اسی اثنا میں عرب اپنے اعراب لوگوں سے اعانت کے طلب گار ہوں گے تو اس آواز پر پیش روں میں سے صلاح کار اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے معزز واخیار لوگ نکلیں گے اور پھر ان کے اور ام کے مابین جنگ چھڑ جائے گی۔ الکبیر للطبرانی (رح) ، بروایت عبدالرحمن بن سنہ۔
1202 – "ليأرزن الإسلام إلى ما بين مكة والمدينة كما تأرز الحية إلى جحرها فبينما هم كذلك إذا استغاثت العرب بأعرابها فخرج كالصالح ممن مضى وخير من بقي حتى يلتقون هم والروم فيقتتلون". (طب عن عبد الرحمن بن سنة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
١٢٠٣۔۔ قریب ہے کہ اسلام دوسرے شہروں کو چھوڑ کر مدینہ میں آجائے۔ جس طرح سانپ اپنے بل میں آٹھہرتا ہے۔ الرامھزی فی الامثال بروایت ابوہریرہ (رض)۔
1203 – "يوشك أن ينطوي الإسلام في كل بلد إلى المدينة كما تنطوي الحية إلى جحرها". (الرامهرمزي في الأمثال عن أبي هريرة) .
তাহকীক: