কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ৫০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔۔ ایمان بالقدر کے بارے میں ۔
٥٠٥۔۔ زیادہ رنج وغم نہ کیا کر جو تیری تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور جو رزق تیرے نام لکھا جاچکا ہے وہ بھی تجھ تک پہنچ کررہے گا۔ الصحیح لابن حبان ، بروایت مالک بن عبادہ ، البیہقی فی القدر، بروایت ابومسعود۔
505 – " لا تكثر همك ما يقدر يكن وما ترزق يأتك". (حب عن مالك بن عبادة) (البيهقي في القدر عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔۔ ایمان بالقدر کے بارے میں ۔
٥٠٦۔۔ جب تک تمہارے سرحرکت میں ہیں رزق سے مایوس نہ ہو۔ یقیناانسان کو جب اس کی ماں نے جنم دیا تھا وہ اس وقت ایسی نازک حالت میں تھا کہ سرخ رنگ تھا اس کے جسم پر کوئی چھلکا تک نہ تھا، لیکن رزق رساں پروردگار الٰہی نے پھر بھی اس کو رزق پہنچایا۔ مسنداحمد، ابن ماجہ، ابن حبان، الضیائ، بروایت حبہ وسوا ابنی خالد۔
506 – "لا تيأسا من الرزق ماتهز هزت رؤوسكما فإن الإنسان تلده أمه أحمر لاقشر عليه ثم يرزقه الله". (حم هـ جب والضياء عن حبة وسواء ابني خالد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔۔ ایمان بالقدر کے بارے میں ۔
٥٠٧۔۔ رزق انسان کو موت سے زیادہ شدت کے ساتھ طلب کرتا ہے۔ القضاعی بروایت ابی الدردائ۔
507 – "الرزق أشد طلبا للعبد من أجله". (القضاعي عن أبي الدرداء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔۔ ایمان بالقدر کے بارے میں ۔
٥٠٨۔۔ جب قدرت الٰہی کسی بندہ کو راہ سے بھٹکانا چاہتی ہے اس کی تدبیروں کو نظروں سے اوجھل کردیتی ہے۔ الاوسط للطبرانی ، بروایت عثمان (رض)
508 – "إذا أراد الله أن يزيغ عبدا أعمى عليه الحيل". (طس عن عثمان) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥٠٩۔۔ جب اللہ عزوجل اپنے فیصلہ اور تقدیر کو نافذ فرمانا چاہتے ہیں عقل مندوں کی عقلوں کو سلب فرمالیتے ہیں حتی کہ جب وہ فیصلہ اور تقدیر نافذ ہوجاتی ہے تو ان کی عقلوں کو واپس لوٹادیاجاتا ہے اسی وجہ سے سر سے پانی گزرنے کے بعد وہ نام و پشیمان نظر آتے ہیں۔ الفردوس للدیلمی ، (رح) بروایت الدیلمی۔
509 – "إذا أراد الله إنفاذ قضائه وقدره سلب ذوي العقول عقولهم حتى ينفذ فيهم قضاؤه وقدره فإذا أمضى أمره رد إليهم عقولهم ووقعت الندامه". (فر عن أنس وعلي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٠۔۔ جب اللہ کسی امر کو نافذ فرمانا چاہتے ہیں توہردانشور کی دانش کو سلب فرما دیتے ہیں ، خطیب، بروایت ابن عباس۔
510 – "إن الله إذا أحب إنفاذ أمر سلب كل ذي لب لبه". (خط عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١١۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی حکم کا جاری فرمانا چاہتے ہیں تو لوگوں کی عقل زائل فرما دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ حکم جاری ہوجاتا ہے تو ان کی عقل واپس لوٹادیجاتی ہے اور وہ ندامت کے مارے حیران پریشان ہوجاتے ہیں۔ ابوعبدالرحمن السلمی ، فی سنن الصوفیہ عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ۔
511 – "إن الله إذا أراد إمضاء أمر نزع عقول الدجال حتى يمضي أمره فإذا أمضاه رد إليهم عقولهم ووقعت الندامة". (أبوعبد الرحمن السلمي في سنن الصوفية عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٢۔۔ جب اللہ کسی چیز کو پیدا فرمانا چاہتا ہے کوئی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ الصحیح للامام مسلم (رح) ، بروایت ابی سعید ۔
512 – "إذا أراد الله خلق شيء لم يمنعه شيء". (م عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٣۔۔ عمل کرتے رہو۔۔ ہر انسان کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابن عباس و عمران بن حصین۔
513 – "اعملوا فكل ميسر لما خلق له". (طب عن ابن عباس وعمران بن حصين) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
514 ۔۔ عمل کرتے رہو ہر انسان اسی بات پر کاربند ہوتا ہے جس کی اس کو ہدایت ملتی ہے۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت عمران بن حصین۔
514 – " اعملوا فكل ميسر لما يهدى له من القول". (طب عن عمران بن حصين) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٥۔۔ ہر انسان جس چیز کے لیے پیدا ہوا ہے وہ اس کے لیے آسان کردی جاتی ہے۔ مسنداحمد، طبرانی فی الکبیر، المستدرک للحاکم بروایت ابی الدردائ۔
515 – "كل امرئ مهيأ لما خلق له". (حم طب ك عن أبي الدرداء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٦۔۔ ہر انسان کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے۔ مسنداحمد، بخاری مسلم، ابوداؤد بروایت عمران، ترمذی، بروایت عمر، مسنداحمد بروایت ابی بکر۔
516 – "كل ميسر لما خلق له". (حم ق د عن عمران) ، (ت عن عمر) ، (حم عن أبي بكر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٧۔۔ دونوں مقام میں سے جس کے لیے اللہ نے کسی کو پیدا فرمایا ہے اسی کے لیے عمل کرنے کی اس کو توفیق ملتی ہے۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عمران۔
517 – "من خلقه الله لواحدة من المنزلتين وفقه لعملها". (طب عن عمران) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٨۔۔ اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں وہ بھلائی کو پہنچ جاتا ہے۔ مسنداحمد ، بخاری بروایت ابوہریرہ ۔
518 – "من يرد الله به خيرا يصب منه". (حم خ عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥١٩۔۔ جب اللہ کسی بندے کے متعلق کوئی فیصلہ فرما دیتے ہیں اس کے فیصلہ کو کوئی چیز ٹال نہیں سکتی۔ ابن قانع بروایت شرجیل بن السمط۔
519 – "إن الله تعالى إذا قضى على عبد قضاء لم يكن لقضائه مرد". (ابن قانع عن شرحبيل بن السمط) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥٢٠۔۔ مادر رحم میں جب نطفہ پر بیالیس راتیں بیت جاتی ہیں اللہ عزوجل اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتے ہیں وہ اس کی صورت تشکیل دیتا ہے اس کے کان آنکھیں ، جلد، گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے ، پھر وہ فرشتہ بارگاہ خداوندی سے دریافت کرتا ہے اے اللہ یہ جان مذکر ہے یامونث پھر اللہ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کی زندگی کتنی ہے پھر اللہ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار رزق کتنا ہے پھر اللہ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور وہ فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے اور پھر فرشتہ اس صحیفہ کو ہاتھ میں لیے نکلتا ہے اور اس حکم الٰہی میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا۔ الصحیح امام مسلم، براویت حذیفہ بن اسید۔
520 – " إذا مر بالنطفة ثنتان وأربعون ليلة، بعث الله إليها ملكافصورها وخلق سمعها وبصرها وجلدها ولحمها وعظمها، ثم قال يا رب أذكر أم أنثى، فيقضي ربك ما شاء، ويكتب الملك، ثم يقول يا رب أجله، فيقول ربك ما شاء، ويكتب الملك، ثم يقول يا رب رزقه، فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك، ثم يخرج الملك بالصحيفة في يده ولا يزيد على ما أمر ولاينقص". (م عن حذيفة بن أسيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥٢١۔۔ مادر رحم میں جب نطفہ پر چالیس راتیں گذرجاتی ہیں تو ایک فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے اور بارگاہ الٰہی میں پوچھتا ہے اے اللہ عزوجل یہ جان مذکر ہے یامونث ؟ پھر اللہ مشیت کے مطابق اس کو مذکر یامونث کردیتے ہیں فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کو درست اور صحیح سالم پیدا کرنا ہے یا کچھ تبدیلی کرنا ہے ؟ پروردگار اس کے متعلق بھی فیصلہ فرما دیتے ہیں فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے اس کی زندگی کتنی ہے اس کا رزق کتنا ہے اس کے اوصاف کیسے ہوں گے ؟ پھر اللہ عزوجل اپنی مشیت کے مطابق اس کو نیک بخت ، یا بدبخت پیدا فرماتے ہیں۔ الصحیح لامام مسلم ، بروایت حذیفہ بن اسید۔
521 – "إن النطفة تقع في الرحم أربعين ليلة ثم يتصور عليها الملك الذي يخلقها فيقول يا رب أذكر أم أنثى، فيجعله الله ذكرا أو أنثى، ثم يقول يا رب أسوي أم غير سوي فيجعله الله سويا أو غير سوي، ثم يقول يا رب ما رزقه ما أجله ما خلقه ثم يجعله الله شقيا أو سعيدا". (م عن حذيفة بن أسيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
522 ۔۔ نطفہ کے رحم مادر میں چالیس رات تک مستقر رہنے کے بعد ایک فرشتہ اس کے پاس حاضر ہوتا ہے اور پروردگار سے دریافت کرتا ہے اے اللہ عزجل یہ جان نیک بخت ہے یا بدبخت مذکر ہے یامونث اللہ فیصلہ فرما دیتے ہیں اور وہ لکھ دیاجاتا ہے اور اس کا عمل زندگی مصیبت رزق اور اس کی موت کا وقت تک لکھ دیاجاتا ہے اور اس صحیفہ کو ہمیشہ کے لیے بند کردیاجاتا ہے اور آئندہ اس میں کچھ کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ مسنداحمد ، بروایت حذیفہ بن اسید۔
522 – "يدخل الملك على النطفة بعد ماتستقر في الرحم بأربعين ليلة فيقول يا رب ماذا أشقي أم سعيد أذكر أم أنثى فيقول الله فيكتبان ويكتب عمله وأثره ومصيبته ورزقه وأجله ثم تطوى الصحيفة فلا يزاد على مافيها ولا ينقص". (حم عن حذيفة بن أسيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥٢٣۔۔ نطفہ جب چالیس دن اور رات تک رحم مادر میں قرار پکڑتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ بھی جاجاتا ہے وہ دریافت کرتا ہے اے اللہ عزجل یہ مذکر ہے یامونث وہ بتادیاجاتا ہے فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار سعید یاشقی، پھر وہ بھی بتادیاجاتا ہے۔ مسنداحمد، بروایت جابر (رض)۔
523 – "إذا استقرت النطفة في الرحم أربعين يوما (2) وأربعين ليلة بعث إليها ملك فيقول يا رب أذكر أم أنثى فيعلم فيقول يا رب أشقي أم سعيد فيعلم". (حم عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر تدبیر پر غالب رہی ہے۔
٥٢٤۔۔ جب تم میں سے کسی کی رحم مادر میں تخلیق کی جاتی ہے تو چالیس دن تک وہ ایک نطفہ کی شکل میں آتا ہے پھر اتنے ہی دنوں میں وہ منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے پھر اتنے ہی دنوں میں وہ لوتھڑا بنتا ہے پھر اللہ اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں اور اس کی چار باتوں کا حکم کیا جاتا ہے ۔۔ کہ لکھ اس کا عمل ، رزق، زندگی اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا، پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے یقینابعض اوقات کوئی شخص اہل جنت کے اعمال کرتا رہتا ہے۔

حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتہ خداوندی غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کے عمل کرنے لگتا ہے اور انجام کار جہنم میں داخل ہوجاتا ہے ، اور بعض اوقات کوئی شخص اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتہ خداوندی غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت کے عمل کرنے لگتا ہے اور انجام کار جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ بخاری مسلم، بروایت ابن مسعود۔
524 – "إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما نطفة ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله إليه ملكا ويؤمر بأربع كلمات ويقال له اكتب عمله ورزقه وأجله وشقي أوسعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل الجنة فيدخل الجنة". (ق 4 عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক: