সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
وراثت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০০ টি
হাদীস নং: ৪০৪৯
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4049 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو ‘ اس کا ماموں اسکاوارث بنتا ہے۔
4049 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاهِبِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِى هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْخَالُ وَارِثٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫০
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4050 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ماموں وارث بنتا ہے۔
4050 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْخَالُ وَارِثٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫১
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4051 ۔ علقمہ نے عبدالملک کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ جب کسی شخص کی ایک نواسی ہو اور ایک بھانجی ہو ‘ تو ان دونوں کے درمیان مال نصف ‘ نصف تقسیم ہوگا ‘ درست یہ ہے کہ یہ علقمہ کی اپنی رائے ہے۔
4051 - حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِى بِنْتِ بِنْتٍ وَبِنْتِ أُخْتٍ الْمَالُ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ.الصَّوَابُ مِنْ قَوْلِ عَلْقَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫২
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4052 ۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : تم لوگ قرأت کرتے ہوئے وصیت کا حکم قرض کی ادائیگی سے پہلے پڑھتے ہو ‘ لیکن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے :(میت کی) وصیت پوری کیے جانے سے پہلے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور ماں کی طرف سے بہن بھائی ایک دوسرے کے وارث بنیں گے ‘ جب کہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔
4052 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ وَوَكِيعٌ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِىٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ أَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَعْيَانُ بَنِى الأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِى الْعَلاَّتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৩
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4053 ۔ حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک مقدمہ آیا جو چچازاد بھائیوں کے بارے میں تھا ‘ جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھا ‘ حضرت علی (رض) کو بتایا گیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ماں کی طرف سے شریک بھائی کو سارا مال ادا کرنے کا حکم دیا ہے ‘ باقی قریبی رشتے داروں کو اس بارے میں کوئی ادائیگی کرنے کا حکم نہیں دیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ‘ عبداللہ بن مسعود (رض) پر رحم کرے ‘ وہ سمجھدار آدمی ہیں ‘ اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا تو میں اسے چھٹا حصہ دیتا اور باقی رہ جانے والا مال ان (دوسرے چچازاد بھائیوں) میں تقسیم کردیتا۔
4053 - أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِىُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَلِيًّا رضى الله عنه أُتِىَ فِى بَنِى عَمٍّ أَحَدُهُمْ أَخٌ لأُمٍّ فَقِيلَ لِعَلِىٍّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَعْطَى الأَخَ مِنَ الأُمِّ الْمَالَ كُلَّهُ دُونَهُمْ لِقَرَابَتِهِ فَقَالَ عَلِىٌّ يَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا لَوْ كُنْتُ أَنَا لأَعْطَيْتُهُ السُّدُسَ ثُمَّ أَشْرَكْتُ بَيْنَهُمْ فِيمَا بَقِىَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৪
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4054 ۔ مسعودبن حکم ثقفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کے پاس ایک مقدمہ آیا ‘ جو ایک خاتون کے بارے میں تھا جس نے پس ماندگان میں اپنا شوہر ‘ اپنی والدہ ‘ ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی چھوڑے تھے تو حضرت عمر (رض) نے ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اور سکے بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ برابر کا حصہ داربنایاجو ایک تہائی حصے کے بارے میں تھا ‘ تو ایک شخص نے ان سے کہا : آپ نے فلاں سال تو انھیں ایک دوسرے کا حصہ دار نہیں بنایا تھا ‘ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس وقت ہم نے جو فیصلہ دیا تھا وہ اس وقت کا تھا ‘ آج کا ہمارا فیصلہ وہ ہے جو ہم نے اب دے دیا ہے۔
4054 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِىِّ قَالَ أُتِىَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فِى امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لأُمِّهَا وَإِخْوَتَهَا لأُمِّهَا وَأَبِيهَا فَشَرَّكَ بَيْنَ الإِخْوَةِ لِلأُمِّ وَبَيْنَ الإِخْوَةِ لِلأُمِّ وَالأَبِ بِالثُّلُثِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ إِنَّكَ لَمْ تُشَرِّكْ بَيْنَهُمْ عَامَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا يَوْمَئِذٍ وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا الْيَوْمَ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ الثَّوْرِىُّ لَوْ لَمْ أَسْتَفِدْ فِى سَفْرَتِى هَذِهِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ لَظَنَنْتُ أَنِّى قَدِ اسْتَفَدْتُ فِيهِ خَيْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৫
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4055 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا تو وہ لوگ ایک دوسرے کے وارث بھی بنا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی :” صرف (نسبی) راشتے دار ایک دوسرے کے وارث ہوں گے “۔
اس کے بعدنسب کے اعتبار سے لوگ ایک دوسرے کے وارث بننے لگے۔
اس کے بعدنسب کے اعتبار سے لوگ ایک دوسرے کے وارث بننے لگے۔
4055 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْكُوفِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ دِينَارٍ الْفَارِسِىُّ أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِىُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَكَانُوا يَتَوَارَثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى نَزَلَتْ (وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ) فَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৬
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4056 ۔ حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : عورت تین لوگوں سے وراثت حاصل کرتی ہے ‘ اپنے آزاد کیے ہوئے (غلام یاکنیز) کی طرف سے ‘ اپنی اولاد کی طرف سے اور اپنے اس بچے کی طرف سے جس کی وجہ سے اس نے لعان کیا تھا۔
4056 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلاَنِىُّ الْحِمْصِىُّ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِىِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تُحْرِزُ الْمَرْأَةُ ثَلاَثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَوَلِيدَهَا وَالْوَلَدَ الَّذِى لاَعَنَتْ عَلَيْهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৭
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4057 ۔ حضرت واثلہ بن اسقع (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : عورت تین اعتبار سے وراثت حاصل کرتی ہے ‘ اپنے آزاد کیے ہوئے (غلام یاکنیز) کی وراثت ‘ جس کو اس نے اٹھایا (یعنی لاوارث بچے کو پالاپوسا) اس کی وراثت اور جس کی وجہ سے اس نے لعان کیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4057 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبِى أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْخَوْلاَنِىِّ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِىُّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِىِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « تُحْرِزُ الْمَرْأَةُ ثَلاَثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا. وَلَقِيطَهَا وَمُلاَعَنَهَا ». تَابَعَهُ أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ رُؤْبَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৮
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4058 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت واثلہ (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
4058 - أَخْبَرَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ رُؤْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ وَاثِلَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৫৯
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4059 ۔ حضرت عبدالرحمن بن یزید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دادیوں اور نانیوں کو چھٹاحصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا ‘ ان میں سے دوباپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی) ۔
4059 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِىُّ أَخْبَرَنَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثَلاَثَ جَدَّاتٍ السُّدُسَ ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬০
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4060 ۔ قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ دو دادیاں (یانانیاں یادادی اور نانی) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئیں تو حضرت ابوبکر (رض) نے دادی کی بجائے نانی کو وارث قراردیاتوعبدالرحمن بن سہل (رض) نے ان سے کہا ‘ یہ غزوہ بدر میں شریک ہوچکے ہیں (راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں) بنوحارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ کہا : اے حضرت ابوبکر ! اے خلیفہ رسول ! آپ نے وراثت اسے دے دی ہے کہ اگر یہ مرجاتی تو (حومہ عورت) اس کی وارث نہ بنتی ‘ تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان دونوں (دادی اور نانی) کو (مرحومہ عورت کا) وارث قراردیا۔
4060 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِى بَكْرٍ رَضِىَ اللَّهِ عَنْهُ فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ دُونَ أُمِّ الأَبِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ وَقَدْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَقَالَ مَرَّةً رَجُلٌ مِنْ بَنِى حَارِثَةَ يَا أَبَا بَكْرٍ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ أَعْطَيْتَ الَّتِى لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ هِىَ لَمْ يَرِثْهَا فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬১
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4061 ۔ قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی اور ایک نانی حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں آئیں ‘ ایک نانی تھی اور ایک دادی تھی ‘ تو حضرت ابوبکر (رض) نے نانی کو وراثت ادا کرنے کا حکم دیا ‘ دادی کے لیے حکم نہیں دیاتوعبدالرحمن بن سہل نے جو بنوحارثہ سے تعلق رکھتے تھے ‘ ان سے کہا : اے خلیفہ رسول ! آپ نے اسے ادائیگی کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر یہ مرجاتی تو وہ مرحومہ اس کی وارث نہ بنتی تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان دونوں کو ادائیگی کرنے کا حکم دیا۔ (راوی کہتے ہیں :) یعنی چھٹے حصے کی ادائیگی کا حکم دیا۔
4061 - وَقُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ جَدَّتَيْنِ أَتَتَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أُمَّ الأُمِّ وَأُمَّ الأَبِ فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ دُونَ أُمِّ الأَبِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو بَنِى حَارِثَةَ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ أَعْطَيْتَ الَّتِى لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ لَمْ يَرِثْهَا. فَجَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ بَيْنَهُمَا يَعْنِى السُّدُسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬২
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4062 ۔ عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے نانی کو چھٹاحصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس سے نیچے کے مرتبے میں کوئی ماں موجود نہ ہو۔
4062- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا الرَّمَادِىُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُجَاهِدٍ الْخُرَاسَانِىُّ اسْمُهُ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِىُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ أَعْطَى الْجَدَّةَ أُمَّ الأُمِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٌّ السُّدُسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৩
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4063 ۔ حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نانی (یادادی) چھٹاحصہ عطاء کیا تھا۔
4063 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِىُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَعْطَى الْجَدَّةَ السُّدُسَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৪
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4064 ۔ ابراہیم بن یزید بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین جدات کو وارث قراردیا تھا ‘ ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی) ۔
4064 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَّثَ ثَلاَثَ جَدَّاتٍ اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৫
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4065 ۔ خارجہ بن زید اپنے والد حضرت زید بن ثابت (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : انھوں نے تین وادیوں ‘ نانیوں کو وارث قراردیا تھا جبکہ وہ ایک ہی مرتبے کی تھیں ‘ ان میں سے دوباپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی۔
4065 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنَا بَحْرٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاَثَ جَدَّاتٍ إِذَا اسْتَوَيْنَ ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৬
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4066 ۔ حضرت زید بن ثابت (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انھوں نے تین وادیوں اور نانیوں کو وارث قراردیاتھاجن میں سے دوماں کی طرف سے تھیں اور ایک باپ کی طرف سے تھی۔
4066 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاَثَ جَدَّاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأُمِّ وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأَبِ كَذَا قَالَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৭
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4067 ۔ حضرت عثمان غنی (رض) فرماتے ہیں : میں حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتاہوں کہ انھوں نے داداکوباپ کا درجہ دیا ہے۔
4067 - أَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَابِرٍ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ مَرْوَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِى بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৬৮
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب وراثت، سیر وغیرہ سے متعلق روایات
4068 ۔ عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں : سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداحضرت زید بن ثابت (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ انھیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے تو دیکھا) ان کا سرایک کنیز کے ہاتھ میں ہے جوان کے بالوں کو کنگھی کررہی ہے ‘ حضرت زید (رض) نیاپناسرالگ کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اسے کنگھی کرنے دو۔ حضرت زید (رض) نے عرض کی : اے امیرالمومنین ! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے ‘ میں اپ کے پاس آجاتا ‘ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں ایک کام سے آپ کے پاس آیاہوں ‘ میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ تو حضرت زید (رض) نے کہا : نہیں ! اللہ کی قسم ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یاکمی کے مرتکب ہوں ‘ یہ تو ایک ایسامعاملہ ہے جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے ‘ اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے ‘ تو میں اس کو مان لوں گا ‘ ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہوگا ‘ لیکن حضرت زید (رض) نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا تو حضرت عمر (رض) غصے کے عالم میں تشریف لے گئے ‘ آپ نے فرمایا : میں تویہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کردوگے ‘ اس کے بعد حضرت عمر (رض) دوبارہ حضرت زید (رض) کے پاس اسی وقت آئے جس وقت میں وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے تو حضرت زید (رض) نے کہا : میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کے دے دیتاہوں ‘ تو انھوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کرکے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ‘ اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے ‘ اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے ‘ پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے ‘ وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے ‘ اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے تو پانی اس ٹہنی کی طرف آجائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا۔ حضرت عمر (رض) اسے لے کر آگئے تو انھوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انھیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی ‘ پھر ارشاد فرمایا : زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے میں اسے لاگوکرتاہوں۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) وہ پہلے دادا تھے جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی ‘ انھوں نے اس کا سارامال لے لیا ‘ یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروادیا تھا۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر (رض) وہ پہلے دادا تھے جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی ‘ انھوں نے اس کا سارامال لے لیا ‘ یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروادیا تھا۔
4068 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِى يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ دَعْهَا تُرَجِّلْكَ. فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَىَّ جِئْتُكَ. فَقَالَ عُمَرُ إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِى إِنِّى جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِى أَمْرِ الْجَدِّ. فَقَالَ زَيْدٌ لاَ وَاللَّهِ مَا نَقُولُ فِيهِ. فَقَالَ عُمَرُ لَيْسَ هُوَ بِوَحْىٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنَنْقُصَ فِيهِ إِنَّمَا هُوَ شَىْءٌ نَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتُهُ وَافَقْتَنِى تَبِعْتُهُ وَإِلاَّ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَىْءٌ فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا وَقَالَ قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرَغُ مِنْ حَاجَتِى . ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِى السَّاعَةِ الَّتِى أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَالَ فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ فَكَتَبَهُ فِى قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مَثَلاً إِنَّمَا مَثَلُهُ مَثَلُ شَجَرَةٍ نَبَتَتْ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ ثُمَّ خَرَجَ فِى غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ فَالسَّاقُ يَسْقِى الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِى رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ فَأُتِىَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِى الْجَدِّ قَوْلاً وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه.
তাহকীক: