সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
مکاتب کرنے کا بیان۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭১ টি
হাদীস নং: ৪১৯৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4199 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : مجھے جامع ترین کلمات عطاء کیے گئے ہیں ‘ اس لیے میں مختصرالفاظ میں بات پوری کرتا ہوں۔
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : قرآن بہت نرم ہے ‘ جس میں کئی پہلو پائے جاتے ہیں ‘ تو اسے تم اسی صورت حال پر محمول کروجوسب سے بہتر ہو۔
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : قرآن بہت نرم ہے ‘ جس میں کئی پہلو پائے جاتے ہیں ‘ تو اسے تم اسی صورت حال پر محمول کروجوسب سے بہتر ہو۔
4199 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ إِمْلاَءً مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ بَزِيعٍ سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَاخْتُصِرَ لِىَ الْحَدِيثُ اخْتِصَارًا ».- وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْقُرْآنُ ذَلُولٌ ذُو وُجُوهٍ فَاحْمِلُوهُ عَلَى أَحْسَنِ وُجُوهِهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4200 ۔ حضرت جابربن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : میرا کلام ‘ اللہ کے کلام کو نسخ نہیں کرسکتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام میرے کلام کو نسخ کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک حصہ دوسرے کو نسخ کرسکتا ہے۔
4200 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِىُّ أَبُو جَعْفَرٍ الْكَبِيرُ حَدَّثَنَا جَبْرُونُ بْنُ وَاقِدٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَلاَمِى لاَ يَنْسَخُ كَلاَمَ اللَّهِ وَكَلاَمُ اللَّهِ يَنْسَخُ كَلاَمِى وَكَلاَمُ اللَّهِ يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4201 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : قرآن کے منسوخ کرنے کی طرح ہماری احادیث بھی ایک دوسرے کو منسوخ کردیتی ہیں۔
4201 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْمَاطِىُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَحَادِيثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهَا بَعْضًا كَنَسْخِ الْقُرْآنِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4202 ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے بارے میں قسم اٹھاکریہ بات بیان کرتا ہوں ‘ انھوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ بعض اوقات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات فرما دیتے تھے ‘ پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعدا سے منسوخ کردیا کرتے تھے ‘ یہ بالکل اسی طرح تھا جی سے قرآن کا ایک حصہ دوسرے کو منسوخ کردیتا ہے۔
4202- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِى صَخْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِى يُحَدِّثُنِى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ الْقَوْلَ ثُمَّ يَلْبَثُ حِينًا ثُمَّ يَنْسَخُهُ بِقَوْلٍ آخَرَ كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৩
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4203 ۔ حضرت عمربن خطاب (رض) ارشاد فرماتے ہیں : تم اپنی رائے کی پیروی کرنے والوں سے بچنا ‘ کیونکہ وہ لوگ سنت کے دشمن ہوں گے ‘ وہ احادیث کو یاد نہیں رکھ سکیں گے اور اپنی رائے کے ذریعے حکم بیان کریں گے ‘ وہ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
4203- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِيَّاكُمْ وَأَصْحَابَ الرَّأْىِ فَإِنَّهُمْ أَعْدَاءُ السُّنَنِ أَعْيَتْهُمُ الأَحَادِيثُ أَنْ يَحْفَظُوهَا فَقَالُوا بِالرَّأْىِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৪
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4204 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہوگئے جب قیدی عورتوں کے بچوں نے ان میں نئی باتیں پیدا کرنی شروع کردیں۔ ان لوگوں نے اپنی رائے پیش کرنا شروع کی اور وہ گمراہی کا شکار ہوگئے۔
4204 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْجَمَّالِ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْجُنَيْدِ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِى رَوَّادٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الْكَلْبِىِّ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ حَدَثَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الأُمَمِ فَوَضَعُوا الرَّأْىَ فَضَلُّوا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৫
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4205 ۔ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتی ہیں ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :” میں عورتوں کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا اور ایک عورت کے ساتھ بھی میں اس طرح بات کرتا ہوں جس طرح ایک سو خواتین کے ساتھ کرتا ہوں “۔
4205 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ حَدِيثِ السَّهْمِىِّ عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ فِيهِ « إِنِّى لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِى لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِى لِمِائَةِ امْرَأَةٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৬
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4206 ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ (رض) کی خالہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ بیان کرتی ہیں : ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ‘ اس کے بعد انھوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔
4206 - حَدَّثَنَا عَلِىٌّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ - وَكَانَتْ خَالَةَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَتْ بَايَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৭
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4207 ۔ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ہم لوگ بیعت کرنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ہم نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم آپ کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کرتی ہیں کہ ہم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی ‘ ہم چوری نہیں کریں گی ‘ ہم زنا نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنی طرف سے بنا کر کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگائیں گی اور کسی بھی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس حدتک جس کی تمہیں استعطاعت ہو اور جس کی تمہیں طاقت ہو۔ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول ہمارے بارے میں ہماری اپنی ذات سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ یارسول اللہ ! اپنا دست اقدس آگے کیجئے تاکہ ہم آپ کی بیعت کرلیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا ‘ ایک سوخواتین کے ساتھ بھی میں اس طرح کلام کرتا ہوں جس طرح ایک عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔ (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)
4207 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِىُّ الْمَدَنِىُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نُبَايِعُهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِىَ وَلاَ نَقْتُلَ أَوْلاَدَنَا وَلاَ نَأْتِىَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلاَ نَعْصِيَكَ فِى مَعْرُوفٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ». قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّ قَوْلِى لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِى لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ». أَوْ « مِثْلُ قَوْلِى لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৮
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4208 ۔ بکاربن عبدالعزیز اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی خوشی کی خبرملتی تھی تو آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جاتے تھے (یعنی سجدہ شکر کرتے تھے) ۔
4208 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ خَرَّ سَاجِدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৯
مکاتب کرنے کا بیان۔
পরিচ্ছেদঃ نادرطورپرپیش آنے والے مسائل۔
4209 ۔ حضرت زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم مشرکین کی طرف سے جنگ کریں ‘ البتہ اہل ذمہ کی طرف سے ہم لڑائی کریں گے۔
4209 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نُعَيْمٌ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ نُقَاتِلَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلاَّ عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ.
তাহকীক: