সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৮ টি
হাদীস নং: ২২৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2261 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ رمضان کے مہینے میں عمرے کے لیے روانہ ہوئی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ نہیں رکھا ‘ میں نے روزہ رکھا ہوا تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصر نماز ادا کی اور میں نے مکمل نماز ادا کی ‘ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے رکھا ‘ آپ نے قصر نماز ادا کی ‘ میں نے مکمل نماز ادا کی ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عائشہ ! تم نے ٹھیک کیا ہے۔
2261 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِىُّ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْغَزِّىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى عُمْرَةٍ فِى رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَصُمْتُ وَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِى وَأُمِّى أَفْطَرْتَ وَصُمْتُ وَقَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ. قَالَ « أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2262 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ کیا ‘ میں آپ کے ساتھ تھی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصر نماز ادا کی ‘ میں نے مکمل نماز ادا کی ‘ آپ نے روزہ نہیں رکھا اور میں نے روزہ رکھا ‘ جب میں مکہ کے قریب پہنچی تو میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ نے قصر نماز ادا کی ‘ میں نے مکمل نماز ادا کی ‘ آپ نے روزہ نہیں رکھا ‘ میں نے روزہ رکھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا عائشہ ! تم نے ٹھیک کیا ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حوالے سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ شیخ فرماتے ہیں پہلی روایت مستند ہے اور اس کی سند متصل ہے۔
عبدالرحمن نامی راوی نے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کا زمانہ پایا ہے ‘ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ‘ جب وہ ابھی قریب البلوغ بچے تھے ‘ وہ اس وقت اپنے والد کے ہمراہ تھے ‘ انھوں نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حوالے سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ شیخ فرماتے ہیں پہلی روایت مستند ہے اور اس کی سند متصل ہے۔
عبدالرحمن نامی راوی نے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کا زمانہ پایا ہے ‘ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ‘ جب وہ ابھی قریب البلوغ بچے تھے ‘ وہ اس وقت اپنے والد کے ہمراہ تھے ‘ انھوں نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔
2262 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّبَّعِىُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا مَعَهُ فَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ الصَّلاَةَ وَأَفْطَرَ وَصُمْتُ فَلَمَّا دَفَعْتُ إِلَى مَكَّةَ قُلْتُ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ وَأَفْطَرْتَ وَصُمْتُ قَالَ « أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ ». وَمَا عَابَهُ عَلَىَّ . قَالَ الشَّيْخُ الأَوَّلُ مُتَّصِلٌ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَدْ أَدْرَكَ عَائِشَةَ وَدَخَلَ عَلَيْهَا وَهُوَ مُرَاهِقٌ وَهُوَ مَعَ أَبِيهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2263 عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں میں سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے ‘ انھوں نے عرض کی اے امی جان ! کیا چیز غسل کو واجب کرتی ہے ؟ توسیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا جب شرمگاہیں مل جائیں توغسل واجب ہوجاتا ہے۔
2263 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَقَالَ يَا أُمَّتَاهُ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ قَالَتْ إِذَا الْتَقَتِ الْمَوَاسِى فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2264 عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں میرے والد مجھے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں بھیجا کرتے تھے ‘ میں ان سے سوال کرتا تھا جب وہ سال آیا جس میں مجھے احتلام ہوا ‘ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں اندر آنے لگا تو انھوں نے فرمایا اونالائق ! تم نے یہ حرکت کی ہے ؟ پھر انھوں نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرادیا۔
2264 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ كَانَ أَبِى يَبْعَثُ بِى إِلَى عَائِشَةَ فَأَسْأَلُهَا فَلَمَّا كَانَ عَامُ احْتَلَمْتُ جِئْتُ إِلَيْهَا فَدَخَلْتُ فَقَالَتْ أَىْ لَكَاعُ فَعَلْتَهَا وَأَلْقَتْ بَيْنِى وَبَيْنَهَا الْحِجَابَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2265 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سے ہر عمل کیا ہے ‘ مکمل نماز بھی پڑھی ہے اور قصر نماز بھی پڑھی ہے ‘ آپ نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی ہے اور نہیں بھی رکھا۔ اس روایت کا راوی طلحہ ضعیف ہے۔
2265 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَتَمَّ وَقَصَرَ وَصَامَ وَأَفْطَرَ فِى السَّفَرِ. طَلْحَةُ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2266 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کے دوران قصر نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور مکمل نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے ‘ آپ روزہ چھوڑ بھی دیتے تھے اور رکھ بھی لیا کرتے تھے۔ شیخ بیان کرتے ہیں اس کی سند صحیح ہے۔
2266 - حَدَّثَنَا الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقْصُرُ فِى السَّفَرِ وَيُتِمُّ وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ. قَالَ الشَّيْخُ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2267 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر کے دوران کبھی نماز مکمل ادا کرتے تھے اور کبھی قصرادا کرتے تھے۔ اس روایت کے راوی مغیرہ بن زیاد مستند نہیں ہیں۔
2267 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِى الْجَهْمِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ الْمَوْصِلِىِّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُتِمُّ الصَّلاَةَ فِى السَّفَرِ وَيَقْصُرُ. الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ لَيْسَ بِالْقَوِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2268 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سفر کے دوران روزہ رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور نہ رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
2268 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى أَبُو الْفَضْلِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصُومُ فِى السَّفَرِ وَيُفْطِرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2269 حضرت حمزہ بن عمرواسلمی (رض) بیان کرتے ہیں انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اپنے اندریہ قوت پاتاہوں کہ سفر کے دوران روزہ رکھوں ‘ کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا (اگر میں روزہ رکھ لیتاہوں) ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اس کو قبول کرلے گا وہ اچھا کرے گا ‘ اور جو روزہ رکھنا چاہے گا ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ اس روایت کی سند صحیح ہے ‘ ہشام بن عروہ نے اس کی سند میں اختلاف کیا ہے۔
انہوں نے اسے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ‘ اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ حضرت حمزہ بن عمرونے سوال کیا تھا۔ اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ یہ دونوں روایات درست ہوں ‘ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
انہوں نے اسے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ‘ اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے ‘ حضرت حمزہ بن عمرونے سوال کیا تھا۔ اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ یہ دونوں روایات درست ہوں ‘ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
2269 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِى مُرَاوِحٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ لَهِيعَةَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِى مُرَاوِحٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِىِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَجِدُ بِى قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِى السَّفَرِ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هِىَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ مَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ ». هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. وَخَالَفَهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ رَوَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِىَّ سَأَلَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْقَوْلاَنِ صَحِيحَيْنِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2270 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا آپ نے روزہ رکھا ‘ ایک مرتبہ آپ نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا ‘ تو روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر بیان کرتے ہیں موسیٰ بن ہارون نے میرے حوالے سے اس روایت کو چالیس سال پہلے روایت کیا تھا۔ اس روایت کے راوی زیاد نمیری مستند نہیں ہیں۔
2270 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِى أَبِى حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِى زِيَادٌ النُّمَيْرِىُّ حَدَّثَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ وَافَقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَضَانَ فِى سَفَرِهِ فَصَامَ وَوَافَقَ رَمَضَانَ فِى سَفَرِهِ فَأَفْطَرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ كَتَبَ عَنِّى مُوسَى بْنُ هَارُونَ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً. زِيَادٌ النُّمَيْرِىُّ لَيْسَ بِقَوِىٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2271 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی یارسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہوگیا ہوں ‘ آپ نے دریافت کیا تمہارا ستیاناس ہو ! کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی میں نے رمضان میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرلی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ایک غلام آزاد کرو ‘ اس نے عرض کی میرے پاس یہ نہیں ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم لگا تار دو ماہ کے روزے رکھو ‘ اس نے عرض کی میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ‘ اس نے عرض کی میرے پاس اس کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھجوروں کی بوری آئی جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے لوا ورا سے صدقہ کر دو ‘ اس نے عرض کی کیا میں اپنے گھر سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں ‘ اللہ کی قسم ! مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان میرے گھروالوں سے زیادہ ضرورت مند اور کوئی نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراد ف کے دانت بھی ظاہر ہوگئے ‘ آپ نے فرمایا اسے لو ! اللہ تعالیٰ سے مغفرت کرو اور یہ اپنے گھروالوں کو کھلاؤ۔ اس کی سند صحیح ہے۔
2271 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ عِيسَى بْنُ أَبِى عِمْرَانَ الْبَزَّازُ بِالرَّمْلَةِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى الزُّهْرِىُّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. قَالَ « وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ ». قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِى فِى يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ. فَقَالَ « أَعْتِقْ رَقَبَةً ». قَالَ مَا أَجِدُ. قَالَ « فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ». قَالَ مَا أَسْتَطِيعُ . قَالَ « فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ». قَالَ مَا أَجِدُ. قَالَ فَأُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقِ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ « خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ ». قَالَ عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِى فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِى فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ « خُذْهُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ». هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2272 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں منقول ہے ‘ اس میں یہ الفاظ ہیں
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک بوری لائی گئی جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے لو ! اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک بوری لائی گئی جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے لو ! اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو۔
2272 - حَدَّثَنَا الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فَأُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ثُمَّ قَالَ « خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2273 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک بوری لائی گئی جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ اس روایت میں یہ ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اسے تم کھالو اور تمہارے گھروالے کھالیں ‘ تم ایک دن روزہ رکھ لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو۔
2273 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا وَقَالَ أُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَقٍ فِيهِ قَدْرُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَقَالَ فِيهِ « كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ وَصُمْ يَوْمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2274 مجاہد نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو جس نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت روزہ توڑلیا تھا ‘ اسے ظہارکا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک اور روایت کے ہمراہ مجاہد سے مرسل روایت کے طور پر یہ بات منقول ہے اور ایک روایت میں مجاہد کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے۔ اس روایت کا راوی لیث مستند نہیں ہے۔
2274 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ مِنْ أَصْلِهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِىُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ الَّذِى أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ بِكَفَّارَةِ الظِّهَارِ. قَالَ وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ. كَذَا فِى أَصْلِ أَبِى سَهْلٍ وَاَلْمَحْفُوظُ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلاً عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَعَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَة . وَلَيْثٌ لَيْسَ بِالْقَوِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2275 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے رمضان کے مہینے میں کھالیا (یعنی روزہ توڑلیا) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ غلام آزاد کرے یا دو ماہ روزے رکھے یاساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ابو معشرنامی راوی کا نام نجیح ہے اور یہ راوی مستند نہیں ہے۔
2275 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً أَكَلَ فِى رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا. أَبُو مَعْشَرٍ هُوَ نَجِيحٌ وَلَيْسَ بِالْقَوِىِّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2276 حضرت جابربن عبداللہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ” جو شخص رمضان کے مہینے میں حضر کی حالت میں ایک دن روزہ توڑے تو اسے چاہیے کہ وہ ایک جانور کی قربانی کرے ‘ اگر وہ اسے نہ ملے ‘ تو وہ کھجور کے تیس صاع غریبوں کو کھلائے۔ اس روایت کید وراوی حارث بن عبیدہ اور مقاتل ضعیف ہیں۔
2276 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَمْرٍو الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبِيدَةَ الْكَلاَعِىُّ حَدَّثَنَا مُقَاتِلُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فِى الْحَضَرِ فَلْيُهْدِ بَدَنَةً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُطْعِمْ ثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ لِلْمَسَاكِينِ ». الْحَارِثُ بْنُ عَبِيدَةَ وَمُقَاتِلٌ ضَعِيفَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2277 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص رخصت اور عذر کے بغیر رمضان کا ایک روزہ توڑدے (یا نہ رکھے) تو وہ تیس دن روزے رکھے اور جو شخص دوروزے توڑدے ‘ وہ ساٹھ روزے رکھے اور جو تین روزے توڑدے ‘ اس پر لازم ہے ‘ وہ نوے روزے رکھے “۔ اس سند کے ساتھ یہ بات مستند طورپر منقول ہے۔ اور عمروبن مرہ نامی راوی کے حوالے سے مستند طورپر منقول نہیں ہے۔
2277 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِى خِدَاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ صُبَيْحٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِىِّ عَنْ مَصَادِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ الأَنْصَارِىِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلاَ عُذْرٍ كَانَ عَلَيْهِ أَنْ يَصُومَ ثَلاَثِينَ يَوْمًا وَمَنْ أَفْطَرَ يَوْمَيْنِ كَانَ عَلَيْهِ سِتِّينَ وَمَنْ أَفْطَرَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ كَانَ عَلَيْهِ تِسْعِينَ يَوْمًا ». لاَ يَثْبُتُ هَذَا الإِسْنَادُ وَلاَ يَصِحُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2278 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” جو شخص کسی عذر کے بغیر رمضان کا ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو اس پر ایک ماہ کے روزے لازم ہوں گے۔ اس روایت کا راوی مندل ضعیف ہے۔
2278 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِىُّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ سَالِمٍ أَبُو الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ أَبِى هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ ». مَنْدَلٌ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2279 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے نصف شعبان گزرجانے کے بعد روز نہیں رکھنا چاہیے یہاں تک کہ رمضان آجائے ‘ البتہ جس شخص پر رمضان (کی قضاء یا کفارے کے) روزے لازم ہوں ‘ وہ روزے رکھ سکتا ہے ‘ وہ اپنے معمول کو ترک نہ کرے۔ عبدالرحمن بن ابراہیم نامی راوی ضعیف ہے۔
2279 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ - وَهُوَ ثِقَةٌ - حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ صَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتَّى رَمَضَانَ وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ فَلْيَسْرُدْهُ وَلاَ يُقَطِّعْهُ ». عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب روزہ دار شخص کے بوسہ لینے کا حکم
2280 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” جس شخص کے ذمے رمضان کا ایک روزہ ہو ‘ وہ اسے جاری رکھے اور روزہ رکھ لے (اور درمیان میں چھوڑے نہیں) ۔
2280 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ عَلَيْهِ صَوْمٌ مِنْ رَمَضَانَ فَلْيَسْرُدْهُ وَلاَ يُقَطِّعْهُ ».
তাহকীক: