মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نکاح سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭৩১১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٢) حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تھوڑے یا زیادہ دودھ سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) کا قول مجھے زیادہ پسند ہے۔
(۱۷۳۱۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : یُحَرِّمُ قَلِیلُ الرَّضَاعِ کَمَا یُحَرِّمُ کَثِیرُہُ ، وَقَالَ مُجَاہِدٌ : قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَحَبُّ إلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٣) حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر عورت کسی بچے کو ایک چسکی دودھ پلائے تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، انھوں نے فرمایا کہ جب بچے نے منہ لگا لیا تو وہ عورت اور اس کی بیٹیاں اس کے لیے حرام ہوگئیں۔
(۱۷۳۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عن سفیان ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وسُئِلَ عَنِ المرأۃ تُرْضِعُ الصَّبِیَّ الرَّضْعَۃَ ، فَقَالَ : إذَا عقا الصَّبِیُّ حَرُمَتْ عَلَیْہِ ، وَمَا وَلَدَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٤) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ پہلے حرمت رضاعت کے لیے دس چسکیوں کی شرط تھی، پھر کہا گیا کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
(۱۷۳۱۴) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ : اشْتَرَطَ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ قِیلَ : إنَّ الرَّضْعَۃَ الْوَاحِدَۃَ تُحَرِّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٥) حضرت حکم اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
(۱۷۳۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ : الْحَکَمُ وَحَمَّادٌ قَالاَ : الْمَصَّۃُ تُحَرِّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٦) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
(۱۷۳۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأحمر ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : الْمَرَّۃُ الْوَاحِدَۃُ تُحَرِّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک چسکی سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
(۱۷۳۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ : سَأَلْتُ ابن عمر ، فَقَالَ الْمَصَّۃُ الْوَاحِدَۃُ تُحَرِّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے
(١٧٣١٨) بہت سے بزرگ فرماتے ہیں کہ دودھ تھوڑا پیے یا زیادہ حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔
(۱۷۳۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ وَعن حُمَیْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ وعَمَّنْ سَمِعَ عَطَائً ، قَالَ زَمْعَۃُ : وَسَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ یَقُولُ : قَالُوا : یُحَرِّمُ قَلِیلُ الرَّضَاعِ وَکَثِیرُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣١٩) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمائش کی گئی کہ آپ حضرت حمزہ بنت عبد المطلب (رض) کی صاحبزادی سے نکاح کرلیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میری رضاعی بہن ہیں اور جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۱۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُرِیدَ عَلَی ابْنَۃِ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : إنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَإِنَّہُ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔ (بخاری ۲۶۴۵۔ مسلم ۱۳ )
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ قریش میں شادی کی رغبت رکھتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ایسی خاتون ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں، حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں، کیونکہ وہ میری رضاعی بہن ہیں۔
(۱۷۳۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ مَا لَکَ تَنوَّقُ فِی قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ : عِنْدَکُمْ شَیْئٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، ابنْۃ حَمْزَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ، إنَّہَا بِنْتُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ (مسلم ۱۱۔ احمد ۱/۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میرے پاس میرے رضاعی چچا افلح بن ابی القعیس آئے۔ اس وقت پردے کے احکام نازل ہوچکے تھے انھوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انھیں منع کردیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں، تم انھیں ملاقات کی اجازت دے دو ۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے عجیب بات کہی ہے۔
(۱۷۳۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أَتَانِی عَمِّی مِنَ الرَّضَاعَۃِ أَفْلَحُ بن أَبِی الْقُعَیْسِ یَسْتَأْذِنُ عَلَیَّ بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَیْتُ أَنْ آذَنَ لَہُ حَتَّی دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّہُ عَمُّک فَأْذَنِی لَہُ قالت : إنَّمَا أَرْضَعْتنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِی الرَّجُلُ قَالَ : تَرِبَتْ یَدَاک، أَوْ یَمِینُک۔ (مسلم ۱۰۶۹۔ ابن ماجہ ۱۹۴۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২১
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٢) حضرت ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ میری بہن یعنی ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کرنا پسند کریں گے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں۔ حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے درہ بنت ابی سلمہ کے لیے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استفسار فرمایا کہ ابو سلمہ کی بیٹی ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ میری پرورش میں نہ بھی ہوتی تو میرے لیے حلال نہیں تھی، کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھے اور اس کے والد کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ مجھے اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح کی دعوت نہ دو ۔
(۱۷۳۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أن أُمَّ حَبِیبَۃَ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ لَکَ فِی أُخْتِی ابْنَۃِ أَبِی سُفْیَانَ ؟ قَالَ : إنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی قَالَتْ : فَإِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِی أَنَّک تَخْطُبُ دُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : بِنْتُ أَبِی سَلَمَۃَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : وَاللَّہِ إِنْ لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حِجْرِی مَا حَلَّتْ لِی ، إنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ، أَرْضَعَتْنِی وَأَبَاہَا ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ۔
(بخاری ۵۱۰۶۔ مسلم ۱۰۷۲)
(بخاری ۵۱۰۶۔ مسلم ۱۰۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২২
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٣) حضرت عائشہ (رض) کا مذہب یہ تھا کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَتْ عَائِشَۃُ تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا تُحَرِّمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৩
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ اس عورت سے شادی نہ کرو جسے تمہارے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو، نہ اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرو اور نہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرو۔
(۱۷۳۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَیُّوبَ قَالَ : حدَّثَنِی عَمِّی إیَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : لاَ تَنْکِحْ مَنْ أَرْضَعَتْہُ امْرَأَۃُ أَخِیک وَلاَ امْرَأَۃُ أَبِیک وَلاَ امْرَأَۃُ ابْنِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৪
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۲۵) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৫
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ: یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৬
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٧) حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ : أُرَاہُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৭
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٨) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔ (مسلم ۹۔ ابن ماجہ ۱۹۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৮
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٢٩) حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔
(۱۷۳۲۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بن عَبْدِ الأَعْلَی ، قَالَ : سَمِعْتُ سُوَیْد بْنَ غَفَلَۃَ یَقُولُ : یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২৯
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
(١٧٣٣٠) حضرت براء فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ آپ حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی سے نکاح کرلیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں۔ وہ میری رضاعی بہن ہے۔
(۱۷۳۳۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ أَنَّہُ قِیلَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَلْ لَکَ فِی بِنْتِ حَمْزَۃَ ؟ فَقَالَ : إنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ، إنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ (بخاری ۴۲۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩০
نکاح سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو
(١٧٣٣١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ صرف اس بچے کے دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے جس کی عمر دو سال سے کم ہو۔
(۱۷۳۳۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لاَ رَضَاعَ إلاَّ مَا کَانَ فِی الْحَوْلَیْنِ۔
তাহকীক: