মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ২৫৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ رکوع کرتے وقت ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا ہے
(٢٥٥٣) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب تم رکوع کرو تو چاہو تو ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ دو اور اگر چاہو تو دونوں گھٹنوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھ دو ۔
(۲۵۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا رَکَعْتَ، فَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ ہَکَذَا ، وَإِنْ شِئْتَ وَضَعْت یَدَیْکَ عَلَی رُکْبَتَیْکَ ، وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ ہَکَذَا، یَعْنِی: طَبَّقْتَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
(٢٥٥٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ حضرت عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ان دونوں نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو، انھوں نے نہ اذان کا حکم دیا اور نہ اقامت کا۔ پھر وہ آگے بڑھے اور انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم پیچھے ہٹنے لگے تو انھوں نے ہمیں پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کرلیا۔ جب ہم نے رکوع کیا تو اسود نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ دیئے۔ جب حضرت عبداللہ نے انھیں ایسا کرتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں پر مارا۔ اسودنے دیکھا کہ حضرت عبداللہ کے دونوں ہاتھ ان کے گھٹنوں کے درمیان تھے اور انھوں نے اپنی انگلیوں کو کھول رکھا تھا۔ جب حضرت عبداللہ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا ” جب تم تین ہو تو تم میں سے ایک آدمی نماز پڑھائے، جب تم رکوع کرو تو اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھا لو، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کی حالت میں انگلیوں کو کھول کر رکھا کرتے تھے اور یہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو نماز کو مردہ کردیں گے۔ وہ ایسی نماز ہوگی جو گدھے سے زیادہ بری ہوگی اور اس نماز کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جب تم میں سے کوئی ایسا زمانہ پالے تو اپنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرلے۔ اور ان کے ساتھ محض نفل کے طورپر شریک ہو۔

راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ کیا اس کے بعد پھر حضرت اسود اور حضرت علقمہ یونہی کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں انھوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کہ بہت سے لوگ تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو معمر کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھا کرتے تھے۔
(۲۵۵۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : دَخَلَ الأَسْوَدُ وَعَلْقَمَۃُ عَلَی عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : صَلَّی ہَؤُلاَئِ بَعْدُ ؟ قَالاَ : لاَ ، قَالَ : فَقُومُوا فَصَلُّوا ، وَلَمْ یَأْمُرْ بِأَذَانٍ ، وَلاَ إقَامَۃٍ ، وَتَقَدَّمَ ہو فَصَلَّی بِنَا ، فَذَہَبْنَا نَتَأَخَّرُ فَأَخَذَ بِأَیْدِینَا فَأَقَامَنَا مَعَہُ ، فَلَمَّا رَکَعْنَا وَضَعَ الأَسْوَدُ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، فَنَظَرَ عَبْدُ اللہِ فَأَبْصَرَہُ فَضَرَبَ یَدَہُ ، فَنَظَرَ الأَسْوَدُ فَإِذَا یَدَا عَبْدِ اللہِ بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ وَقَدْ خَالَفَ بین أَصَابِعِہِ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃَ ، قَالَ : إذَا کُنْتُمْ ثَلاَثَۃً فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ ، وَإِذَا رَکَعْتَ فَأَفْرِشْ ذِرَاعَیْک فَخِذَیْک ، فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إلَی اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ رَاکِعٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّہُ سَیَکُونُ أُمَرَائُ یُمِیتُونَ الصَّلاَۃَ شَرَقَ الْمَوْتَی ، وَأَنَّہَا صَلاَۃُ مَنْ ہُوَ شَرٌّ مِنْ حِمَارٍ ، وَصَلاَۃُ مَنْ لاَ یَجِدُ بُدًّا ، فَمَنْ أَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیُصَلِّ الصَّلاَۃَ لِمِیقَاتِہَا ، وَلْتَکُنْ صَلاَتُکُمْ مَعَہُمْ سُبْحَۃً ، فَقُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : کَانَ عَلْقَمَۃُ وَالأَسْوَدُ یَفْعَلاَنِ ذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : تَفْعَلُ أَنْتَ ذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : إنَّ النَّاسَ یَضَعُونَ أَیْدِیَہُمْ عَلَی رُکَبِہِمْ ؟ فَقَالَ إبْرَاہِیمُ : سَمِعْت أَبَا مَعْمَرٍ یَقُولُ : رَأَیْت عُمَرَ یَضَعُ یَدَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
(٢٥٥٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز اس طرح سکھائی کہ آپ نے تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے، اور پھر رکوع کیا اور رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔
(۲۵۵۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : عَلَّمَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلاَۃَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ رَکَعَ فَطَبَّقَ یَدَیْہِ بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ۔

(نسائی ۶۲۰۔ ابن خزیمہ ۵۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
(٢٥٥٦) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ کیا حضرت عبداللہ رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں ٹانگوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا کرتے تھے اور اپنے بازوؤں کو رانوں پر بچھا لیا کرتے تھے۔ ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں بھی یونہی کیا کروں ؟ فرمایا کہ حضرت عمر اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا کرتے تھے۔
(۲۵۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : أَکَانَ عَبْدُ اللہِ یُطَبِّقُ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی فَیجعلہما بَیْنَ رِجْلَیْہِ وَیُفْرِشُ ذِرَاعَیْہِ فَخْذَیْہِ إذَا رَکَعَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَلاَ أَفْعَلُ ذَلِکَ ؟ قَالَ : إنَّ عُمَرَ کَانَ یُطَبِّقُ بِکَفَّیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
(٢٥٥٧) حضرت عثمان بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبیدہ کو دیکھا کہ رکوع کرتے وقت ہاتھوں کو دونوں ٹانگوں کے درمیان ایک دوسرے پر رکھا کرتے تھے۔
(۲۵۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُثْمَانَ بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ إذَا رَکَعَ طَبَّقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ رکوع میں دونوں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا جائے گا
(٢٥٥٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یونہی کیا ۔ یعنی رکوع میں ہاتھوں کو دونوں ٹانگوں کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر رکھا۔

حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ شاید حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ ایسا کیا ہوگا۔

(
(۲۵۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَہُ ، یَعْنِی : یُطَبِّقُ یَدَیْہِ فِی الرُّکُوعِ ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَذَکَرْتُہُ لابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : لَعَلَّہُ فَعَلَہُ مَرَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٥٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
(۲۵۵۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، أَخْبَرَنَا ہِشَام ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رضی اللہ عنہما ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شِئْت مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، أَہْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ ، لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْت ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْت ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْک الْجَدُّ۔ (مسلم ۳۴۷۔ نسائی ۶۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٠) حضرت ابن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔
(۲۵۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفَی ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔ (مسلم ۲۰۲۔ ابوداؤد ۸۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦١) حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ جب امام رکوع سے سر اٹھاتا تو حضرت عبداللہ یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔
(۲۵۶۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جُحَیْفَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ، إذَا رَفَعَ الإِمَامُ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، مِلْئَ السَّمَاوَاتِ ، وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْت مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٢) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علیجب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہتے (ترجمہ) اللہ نے سن لیا اس کو جس نے اللہ کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیری طرف سے عطا کردہ قوت اور تیری طرف سے عنایت کردہ طاقت کی بنا پر میں اٹھتا اور بیٹھتا ہوں۔
(۲۵۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ، بِحَوْلِکَ وَقُوَّتِکَ أَقُومُ وَأَقْعُدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٣) حضرت قزعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
(۲۵۶۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَزَعَۃُ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْت مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْت ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْت ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْک الْجَدُّ۔ (ابوداؤد ۸۴۳۔ نسائی ۶۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٤) حضرت ابو جحیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اللہ نے سن لیا اس کو جس نے اللہ کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ کلمات کہتے ہوئے آپ آواز بلند کیا کرتے تھے۔
(۲۵۶۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ أَبِی عُمَرَ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَامَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْت مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْت ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْت ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْک الْجَدُّ ، یَمُدُّ بِہَا صَوْتَہُ۔ (ابن ماجہ ۸۷۹۔ ابو یعلی ۸۸۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٥) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! اے ہمارے رب ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔
(۲۵۶۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ ، قَالَ : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٦) حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔ تو تعریف اور بزرگی کا مالک ہے۔ اور تیری تعریف ان بہترین کلمات کے ساتھ جب بندے کہتے ہیں اور ہم سب تیرے بندے ہیں۔ جو چیز تو عطا کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ کسی آدمی کا مال و سرمایہ اور اولاد تیرے مقابلے میں اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
(۲۵۶۶) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ بُرْدٍ ؛ أَنَّ مَکْحُولاً کَانَ یَقُولُ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ : اللَّہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْت مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ ، أَہْلَ الثَّنَائِ وَالْحمدِ ، وَخَیْرُ مَا قَالَ الْعَبْدُ ، وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ ، لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْت ، وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْت ، وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْک الْجَدُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٧) حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے یہ کلمات فرمایا کرتے تھے (ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، آسمان و زمین اور ان دونوں کے علاوہ جتنی بھی چیزیں تیرے علم میں ہیں انھیں بھر کر تیری تعریف ہے۔
(۲۵۶۷) حَدَّثَنَا سُوَیْد بْنُ عَمْرٍو الْکَلْبِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَاجِشُونُ عَمِّی، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَلَک الْحَمْدُ ، مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمِلْئَ مَا شِئْت مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٨) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، آپ کا رکوع آپ کے قیام کے برابر ہوا کرتا تھا، پھر آپ یہ کلمات فرماتے (ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی۔ پھر آپ کافی دیر تک کھڑے رہتے۔
(۲۵۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : صَلَّیْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَانَ رُکُوعُہُ نَحْوًا مِنْ قِیَامِہِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، ثُمَّ قَامَ طَوِیلاً۔ (ترمذی ۲۶۲۔ ابوداؤد ۸۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٦٩) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمررکوع سے سر اٹھاتے ہوئے سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے یہ کلمات کہتے (ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی۔
(۲۵۶۹) حَدَّثَنَا یَعْلَی ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، قَبْلَ أَنْ یُقِیمَ ظَہْرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھا کے کیا کہنا چاہیے ؟
(٢٥٧٠) حضرت اعرج فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ بلند آواز سے یہ کلمات کہا کرتے تھے (ترجمہ) اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔
(۲۵۷۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنِ الأَعْرَجِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ بِـ : اللَّہُمَّ رَبَّنَا وَلَک الْحَمْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟
(٢٥٧١) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں یہ کلمات کہتے تھے (ترجمہ) میرا رب پاک ہے عظمت والا ہے۔ اور سجود میں یہ کلمات کہتے تھے (ترجمہ) میرا رب پاک ہے، بلند ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حفص سے کہا کہ ساتھ ” وبحمدہ “ بھی کہا کرتے تھے، انھوں نے فرمایا ہاں، اگر اللہ چاہتاتوتین مرتبہ کہا کرتے تھے۔ (ترجمہ) میرا رب پاک ہے عظمت والا ہے (ترجمہ) میرا رب پاک ہے، بلند ہے۔
(۲۵۷۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ صِلَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ فِی رُکُوعِہِ : سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیمِ ، وَفِی سُجُودِہِ : سُبْحَانَ رَبِّی ألأَعْلَی ، قُلْتُ أَنَا لحفص : وَبِحَمْدِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ ثَلاَثًا۔ (ابن خزیمۃ ۶۶۸۔ دار قطنی ۳۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟
(٢٥٧٢) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی ہے، جب آپ رکوع میں جاتے تو یہ کلمات کہتے (ترجمہ) میرا رب پاک ہے عظمت والا ہے۔ اور جب سجدے میں جاتے تو یہ کلمات کہتے (ترجمہ) میرا رب پاک ہے، بلند ہے۔
(۲۵۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : صَلَّیْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَکَعَ جَعَلَ یَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّی الْعَظِیمِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ رَبِّی الأَعْلَی۔
tahqiq

তাহকীক: