মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ২৯৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٣) حضرت یحییٰ بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن یزید سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز میں رکوع و سجدہ ٹھیک طرح نہیں کرتا تو انھوں نے فرمایا کہ نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے۔
(۲۹۹۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ ، وَلاَ السُّجُودَ ؟ فَقَالَ : ہِیَ خَیْرٌ مِنْ لاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٤) حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ حضرت مسروق نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا اور سجدے میں اس نے اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے تھے۔ حضرت مسروق نے فرمایا کہ اس کی نماز مکمل نہیں ہوئی۔
(۲۹۹۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَمْرٍو الْمُلاَئِیِّ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ؛ أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً یُصَلِّی ، فَأَبْصَرَہُ رَافِعًا رِجْلَیْہِ وَہُوَ سَاجِدٌ ، فَقَالَ : مَا تَمَّتْ صَلاَۃُ ہَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٥) حضرت عمران کہتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ایک آدمی کو دیکھا کہ سجدے کی حالت میں اس نے اپنا ایک پاؤں اٹھایا ہوا تھا، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں چھ بنایا تھا اور تو نے انھیں پانچ کردیا !
(۲۹۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً سَاجِدًا قَدْ رَفَعَ إحْدَی رِجْلَیْہِ ، فَقَالَ : جَعَلَہَا اللَّہُ سِتًّا ، وَجَعَلْتَہَا خَمْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٦) حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ نماز ایک پیمانہ ہے، جس نے اسے پورا کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے بھی پورا بدلہ عطا فرمائیں گے اور تم جانتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے پیمانے کے بارے میں فرمایا ہے { وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ } ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے۔
(۲۹۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ، قَالَ: الصَّلاَۃُ مِکْیَالٌ ، فَمَنْ أَوْفَی أَوْفَی اللَّہُ لَہُ ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا قَالَ اللَّہُ فِی الْکَیْلِ : {وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٧) ایک آدمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو الدرداء ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو رکوع و سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ اس بارے میں حضرت ابو الدرداء سے کہا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ نہ پڑھنے سے تو بہتر ہے۔
(۲۹۹۷) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَۃَ ، عَمَّنْ ذَکَرَہُ ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ؛ أَنَّہُ مَرَّ بِرَجُلٍ لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ ، وَلاَ السُّجُودَ ، فَقِیلَ لَہُ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : شَیْئٌ خَیْرٌ مِنْ لاَ شَیْئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٨) حضرت قیس کہتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر اس کا اس حالت پر انتقال ہوجائے تو یہ عیسیٰ ابن مریم کی ملت سے ہٹ کر مرے گا۔
(۲۹۹۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ مُہَلْہَلٍ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنْ قَیْسٍ ؛ أَنَّ بِلاَلاً رَأَی رَجُلاً لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ ، وَلاَ السُّجُودَ ، فَقَالَ : لَوْ مَاتَ ہَذَا مَاتَ عَلَی غَیْرِ مِلَّۃِ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٢٩٩٩) حضرت قاسم بن مخیمرہ کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ایک مرتبہ میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ حضرت عبداللہ نے میرا ہاتھ پکڑا تھا اور فرمایا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد کے یہ کلمات سکھائے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۲۹۹۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَۃُ بِیَدِی ، فَقَالَ : أَخَذَ عَبْدُ اللہِ بِیَدِی ، فَقَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِی فَعَلِّمنِی التَّشَہُّدَ : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، وَالصَّلَوَاتُ ، وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔
(احمد ۱/۴۵۰۔ ابن حبان ۱۹۶۳)
(احمد ۱/۴۵۰۔ ابن حبان ۱۹۶۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٠) حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے (ترجمہ) اللہ کے بندوں سے پہلے اللہ پر سلامتی ہو، جبرائیل پر سلامتی ہو، میکائیل پر سلامتی ہو، فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کو مکمل کرلیا تو فرمایا اللہ تعالیٰ سلام ہے، جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہا کرے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۰۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَاالأَعْمَش ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نُصَلِّی خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَقُولُ : السَّلاَمُ عَلَی اللہِ قَبْلَ عِبَادِہِ ، السَّلاَمُ عَلَی جِبْرِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی مِیکَائِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ ، فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إنَّ اللَّہَ ہُوَ السَّلاَمُ ، فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَقُلِ : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ یَتَخَیَّرُ۔ (بخاری ۶۲۳۰۔ مسلم ۳۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠١) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۳۰۰۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ مِثْلَ حَدِیثِ أَبِی وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللہِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی التَّشَہُّدِ۔ (احمد ۱/۴۱۳۔ طبرانی ۹۹۳۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٢) حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز میں جب بیٹھا کرتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے (ترجمہ) اللہ پر سلامتی ہو، جبرائیل پر سلامتی ہو، میکائیل پر سلامتی ہو، فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔ پھر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سلام ہے، جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہا کرے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جب تم نے ایسا کرلیا تو زمین و آسمان میں موجود ہر نیک بندے کو سلام کرلیا۔
(۳۰۰۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُغِیرَۃُ ، وَالأَعْمَش ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا إذَا جَلَسْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلاَۃِ نَقُولُ : السَّلاَمُ عَلَی اللہِ ، السَّلاَمُ عَلَی جبریلَ ، السَّلاَمُ عَلَی مِیکَائِیلَ ، السَّلاَمُ عَلَی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إلَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّ اللَّہَ ہُوَ السَّلاَمُ ، فَقُولُوا : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، فَإِنَّکُمْ إذَا فَعَلْتُمْ ذَلِکَ ، فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَی کُلِّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّموَاتِ وَالأَرْضِ۔
(بخاری ۷۳۸۱۔ مسلم ۳۰۲)
(بخاری ۷۳۸۱۔ مسلم ۳۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٣) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد سکھائی، اس حال میں کہ میرا ہاتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھا، آپ نے مجھے تشہد کے کلمات اس طرح سکھائے جس طرح آپ ہمیں قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ وہ کلمات یہ تھے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ کلمات اس وقت تک تھے جب تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں تھے جب آپ نے پردہ فرما لیا تو پھر ہم السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ کے بجائے السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیُّ کہا کرتے تھے۔
(۳۰۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَیْفُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاہِدًا یَقُولُ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ سَخْبَرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : عَلَّمَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّشَہُّدَ ، کَفِّی بَیْنَ کَفَّیْہِ، کَمَا یُعَلِّمُنِی السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، وَہُوَ بَیْنَ ظَہْرَانَیْنَا ، فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا : السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ۔ (بخاری ۶۲۶۵۔ مسلم ۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٤) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں تشہد کے یہ کلمات سکھائے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۰۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التَّشَہُّدَ : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔
(احمد ۱/۳۷۶)
(احمد ۱/۳۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٥) حضرت ابو موسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو یہ کہے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۰۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی قَتَادَۃُ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِکُمْ : التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٦) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے (ترجمہ) اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کے ساتھ، تمام زبانی عبادتیں اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔
(۳۰۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ أَیْمَنَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ : بِسْمِ اللہِ ، وَبِاللَّہِ ، التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، وَالصَّلَوَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، أَسْأَلُ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَأَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ النَّارِ۔ (احمد ۵/۳۶۳۔ ابن ماجہ ۹۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٧) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرمنبر پر تشہد کے کلمات اس طرح سکھایا کرتے تھے جیسے بچوں کو سکھایا جاتا ہے، وہ کلمات یہ تھے (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۰۰۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ النَّاجِی ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ یُعَلِّمُہُمُ التَّشَہُّدَ عَلَی الْمِنْبَرِ ، کَمَا یُعَلِّمُ الصِّبْیَانَ فِی الْکُتَّابِ : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ (طحاوی ۲۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٨) حضرت ابو المتوکل کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو سعید خدری سے تشہد کا طریقہ دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا تشہد کے کلمات یہ ہیں (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابو سعید خدرینے فرمایا کہ ہم سوائے قرآن اور تشہد کے کچھ نہیں لکھا کرتے تھے۔
(۳۰۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ ، قَالَ : سَأَلْنَا أَبَا سَعِیدٍ ، عَنِ التَّشَہُّدِ ؟ فَقَالَ : التَّحِیَّاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ۔ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : کُنَّا لاَ نَکْتُبُ شَیْئًا إِلاَّ الْقُرْآنَ وَالتَّشَہُّدَ۔ (ابوداؤد ۲۴۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠٠٩) حضرت عبدالرحمن بن عبد القاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطابکومنبر پر تشہد سکھاتے دیکھا ہے، اس کے کلمات یہ تھے : (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، تمام پاکیزہ عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
(۳۰۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِی ، قَالَ : شَہِدْت عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَہُّدَ عَلَی الْمِنْبَرِ : التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ ، الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، الطَّیِّبَاتُ ، الصَّلَوَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔ (مالک ۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠١٠) حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہکو دیکھا کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے گنا کرتی تھیں (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں ، مالی عبادتیں اور تمام پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ آدمی نماز میں یہ کہنے کے بعد اپنے لیے جو چاہے دعا مانگے۔
(۳۰۱۰) حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِیبٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَائِشَۃَ تُعِدُّ بِیَدِہَا تَقُولُ : التَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ ، الصَّلَوَاتُ الزَّاکِیَاتُ لِلَّہِ ، السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللہِ ، السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ ، أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : ثُمَّ یَدْعُو لِنَفْسِہِ بِمَا بَدَا لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠١١) حضرت حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ حضرت محمد سے تشہد کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ تشہد کے کلمات یہ ہیں (ترجمہ) تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ پھر انھوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس ان میں البرکات کا اضافہ کیا کرتے تھے۔
(۳۰۱۱) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ ، قَالَ : سُئِلَ مُحَمَّدٌ عَنِ التَّشَہُّدِ ؟ فَقَالَ : التَّحِیَّاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَزِیدُ فِیہَا ، الْبَرَکَاتُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے کلمات
(٣٠١٢) حضرت ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت علقمہ ایک دیہاتی کو تشہد کے کلمات سکھاتے ہوئے کہہ رہے تھے (ترجمہ) اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت نازل ہو۔ اور دیہاتی کہہ رہا تھا کہ اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو اور اللہ کی برکت ہو اور اللہ کی مغفرت ہو۔ اس پر حضرت علقمہ نے فرمایا کہ ہمیں اسی طرح سکھایا گیا ہے۔
(۳۰۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ کَانَ عَلْقَمَۃُ یُعَلِّمُ أَعْرَابِیًّا التَّشَہُّدَ ، فَیَقُولُ عَلْقَمَۃُ : السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ وَمَغْفِرَتُہُ ، فَیُعِیدُ الأَعْرَابِیُّ ، فَقَالَ عَلْقَمَۃُ : ہَکَذَا عُلِّمْنَا۔
তাহকীক: