মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ২৯৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٣) حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اس آدمی کی نماز درست نہیں ہوتی جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
(۲۹۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَوَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُجْزِیء صَلاَۃٌ لاَ یُقِیمُ الرَّجُلُ فِیہَا صُلْبَہُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ۔

(ابوداؤد ۵۸۱۔ احمد ۴/۱۲۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٤) حضرت علی بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ دورانِ نماز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کن اکھیوں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہیں تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کرلی تو فرمایا کہ اے مسلمانو کی جماعت ! اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
(۲۹۷۴) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرِو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَدْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ ، عَنْ أَبِیہِ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ ، وَکَانَ مِنَ الْوَفْدِ ، قَالَ : خَرَجْنَا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَی نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَایَعْنَاہُ ، وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، فَلَمَحَ بِمُؤْخَرِ عَیْنِہِ إلَی رَجُلٍ لاَ یُقِیمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلاَۃَ ، قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ، لاَ صَلاَۃَ لمن لاَ یُقِیمُ صُلْبَہُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ۔

(احمد ۴/۲۳۔ ابن حبان ۲۲۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٥) حضرت علی بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے انتہائی پھرتی سے نماز پڑھی اور رکوع اور سجود بھی ٹھیک طرح نہ کیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے گھور کر دیکھ رہے تھے جبکہ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوا۔ جب وہ نماز پڑھ کر حاضر خدمت ہوا اور اس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے ایسا تین مرتبہ کیا لیکن ہر مرتبہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے یہی فرماتے کہ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، جب وہ چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے نماز سکھا دیجئے، خدا کی قسم ! میں نے تو پوری کوشش کرکے دیکھ لی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرو۔ پھر تکبیر کہو، پھر قراءت کرو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر رکوع سے اٹھو تو اطمینان سے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو اور اطمینان سے سجدہ کرو۔ پھر بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر کھڑے ہوجاؤ۔ اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز مکمل ہوگئی اور اگر اس میں سے کسی عمل میں کمی کی تو سمجھو وہ کمی تمہاری نماز میں پائی جارہی ہے۔
(۲۹۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ یَحْیَی بْنِ خَلاَّدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَمِّہِ ، وَکَانَ بَدْرِیًّا ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی صَلاَۃً خَفِیفَۃً لاَ یُتِمُّ رُکُوعًا ، وَلاَ سُجُودًا ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْمُقُہُ وَنَحْنُ لاَ نَشْعُرُ ، قَالَ : فَصَلَّی ، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَیْہِ فَقَالَ : أَعِدْ فَإِنَّک لَمْ تُصَلِّ ، قَالَ : فَفَعَلَ ذَلِکَ ، ثَلاَثًا ، کُلَّ ذَلِکَ یَقُولُ لَہُ : أَعِدْ فَإِنَّک لَمْ تُصَلِّ ، فَلَمَّا کَانَ فِی الرَّابِعَۃِ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَلِّمْنِی ، فَقَدْ وَاللَّہِ اجْتَہَدْتُ ، فَقَالَ : إذَا قُمْتَ إلَی الصَّلاَۃِ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ ، ثُمَّ کَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ ، ثُمَّ ارْکَعْ ، حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ ساجدًا ، ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ قُمْ ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُک ، وَمَا نَقَصْتَ مِنْ ذَلِکَ ، نَقَصْتَ مِنْ صَلاَتِک۔

(ابوداؤد ۸۵۶۔ احمد ۴/۳۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٦) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ وہ آیا اور اس نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جاؤ اور نماز پڑھو، تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ وہ گیا اور آکے دوبارہ اس نے سلام کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جاؤ، تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ پھر تیسری مرتبہ اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے نماز سکھا دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہو، پھر قرآن مجید کی جو تلاوت تمہارے لیے ممکن ہو وہ کرلو۔ پھر اطمینان سے رکوع کرلو، پھر پورے اعتدال سے کھڑے ہوجاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سیدھے کھڑے ہوجاؤ یا فرمایا کہ پھر سیدھے بیٹھ جاؤ۔ پھر یہ اعمال اپنی پوری نماز میں کرو۔
(۲۹۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّی ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ ،فَجَائَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، وَقَالَ لَہُ : وَعَلَیْک ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّک لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ ، فَرَجَعَ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ فَإِنَّک لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ فِی الثَّالِثَۃِ : فَعَلِّمْنِی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : إذَا قُمْتَ إلَی الصَّلاَۃِ فَأسْبِغِ الْوُضُوئَ ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَیَسَّرَ مَعَک مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْکَعْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ رَاکِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّی تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّی تَسْتَوِیَ قَائِمًا ، أَو قَالَ : قَاعِدًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِکَ فِی صَلاَتِکَ کُلِّہَا۔ (بخاری ۶۶۶۷۔ مسلم ۲۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٧) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! نماز میں کیسے چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے۔
(۲۹۷۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِی یَسْرِقُ صَلاَتَہُ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ یَسْرِقُہَا ؟ قَالَ : لاَ یُتِمُّ رُکُوعَہَا ، وَلاَ سُجُودَہَا۔ (احمد ۳/۵۶۔ ابویعلی ۱۳۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٨) حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انسنے ہمارے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا طریقہ بیان کیا، پہلے وہ نماز کے لیے سیدھے کھڑے ہوئے، پھر انھوں نے رکوع کیا، پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا، پھر سیدھا کھڑے ہوگئے۔ اور اتنی دیر کھڑے رہے ہم میں سے بعض لوگ سمجھے کہ آپ بھول گئے ہیں۔ پھر حضرت انس نے سجدہ کیا پھر سیدھے بیٹھ گئے اور اتنی دیربیٹھے رہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ سمجھے کہ آپ بھول گئے ہیں۔
(۲۹۷۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : وَصَفَ لَنَا أَنَسٌ صَلاَۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی ، فَرَکَعَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَاسْتَوَی قَائِمًا حَتَّی رَأَی بَعْضُنَا أَنَّہُ قَدْ نَسِیَ ، قَالَ : ثُمَّ سجد فَاسْتَوَی قَاعِداً حَتَّی رَأَی بَعْضُنَا أَنَّہُ قَدْ نَسِیَ۔

(بخاری ۸۲۱۔ مسلم ۱۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٧٩) حضرت سالم براد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو مسعود کے گھر حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز سکھا دیجئے۔ وہ ہمارے سامنے نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پھر انھوں نے رکوع کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے رکھا۔ اپنی کہنیوں کو جسم سے اس طرح دور رکھا کہ جسم کا ہر عضو سیدھا ہوگیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا۔ پھر اس طرح کھڑے ہوئے کہ جسم کے ہر عضو میں اعتدال آگیا پھر سجدہ کیا اور سجدے میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر آپ نے دو رکعات نماز پڑھیں۔ جب فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
(۲۹۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ ، قَالَ : أَتَیْنَا أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیَّ فِی بَیْتِہِ فَقُلْنَا لَہُ : حَدِّثْنَا عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ یُصَلِّی بَیْنَ أَیْدِینَا ، فَلَمَّا رَکَعَ وَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَجَعَلَ أَصَابِعَہُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِکَ ، وَجَافَی بِمِرْفَقَیْہِ حَتَّی اسْتَوَی کُلُّ شَیْئٍ مِنْہُ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، فَقَامَ حَتَّی اسْتَوَی کُلُّ شَیْئٍ مِنْہُ ، ثُمَّ سَجَدَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ، فَلَمَّا قَضَاہا قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْنا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٠) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آدمی ساٹھ سال نماز پڑھتا رہتا ہے لیکن اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، کیونکہ کبھی وہ رکوع ٹھیک طرح کرتا ہے لیکن سجدہ ٹھیک نہیں کرتا اور کبھی سجدہ ٹھیک طرح کرتا ہے لیکن رکوع ٹھیک نہیں کرتا۔
(۲۹۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إنَّ الرَّجُلَ لَیُصَلِّی سِتِّینَ سَنَۃً مَا تُقْبَلُ لَہُ صَلاَۃٌ ، لَعَلَّہُ یُتِمُّ الرُّکُوعَ ، وَلاَ یُتِمُّ السُّجُودَ ، وَیُتِمُّ السُّجُودَ ، وَلاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨١) حضرت محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمید ساعدی کو دس صحابہ کرام کے ساتھ دیکھا۔ حضرت ابو حمید نے کہا کہ میں تمہارے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ نماز نہ بیان کروں ؟ انھوں نے کہا ضرور بیان کریں۔ انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر ٹھہرتے کہ ہر ہڈی اپنی جگہ آجاتی پھر سجدے میں جاتے ہوئے جھکتے اور پھر تکبیر کہتے۔
(۲۹۸۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا حُمَیْدٍ السَّاعِدِیَّ مَعَ عَشَرَۃِ رَہْطٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُم : أَلاَ أُحَدِّثُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : ہَاتِ ، قَالَ : رَأَیْتُہُ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ مَکَثَ قَائِمًا حَتَّی یَقَعَ کُلُّ عَظْمٍ مَوْضِعَہُ ، ثُمَّ یَنْحَطُّ سَاجِدًا وَیُکَبِّرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کرتے تو اپنے سر مبارک کو نہ کمر سے نیچا رکھتے اور نہ ہی اونچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی کیفیت میں رکھتے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک اعتدال سے کھڑے نہ ہوجاتے۔ اور جب سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ہر دو رکعات کے بعد التحیہ پڑھا کرتے تھے۔
(۲۹۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا رَکَعَ لَمْ یَشْخَصْ رَأْسَہُ ، وَلَمْ یُصَوِّبْہُ وَلَکِنْ بَیْنَ ذَلِکَ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ قَائِمًا ، وَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ جَالِسًا ، وَکَانَ یَقُولُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ التَّحِیَّۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٣) حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ابوابِ کندہ کی طرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے لیکن رکوع سجدہ ٹھیک طرح نہیں کررہا۔ جب اس نے نماز مکمل کرلی تو حضرت حذیفہ نے اس سے فرمایا کہ تم ایسی نماز کتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ تم نے چالیس سال سے نماز نہیں پڑھی، اگر ایسی نماز پڑھتے ہوئے تمہارا انتقال ہوجاتا تو تم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر دنیا سے جاتے۔ پھر حضرت حذیفہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا کہ آدمی نماز میں تخفیف کرسکتا ہے لیکن رکوع اور سجود میں کمی نہ کرے۔
(۲۹۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ؛ أَنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ یُصَلِّی نَاحِیَۃً مِنْ أَبْوَابِ کِنْدَۃَ ، فَجَعَلَ لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَہُ حذَیْفَۃُ : مُذْ کَمْ ہَذِہِ صَلاَتُک ؟ قَالَ : مُذْ أَرْبَعِینَ سَنَۃً ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا صَلَّیْتَ مُذْ أَرْبَعِینَ سَنَۃً ، وَلَوْ مِتَّ وَہَذِہِ صَلاَتُک مِتَّ عَلَی غَیْرِ الْفِطْرَۃِ الَّتِی فُطِرَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِ یُعَلِّمُہُ ، فَقَالَ : إنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ الصَّلاَۃَ وَیُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ۔ (بخاری ۸۹۱۔ احمد۵/۳۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٤) حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد نے فرمایا کہ بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! نماز میں کیسے چوری کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ اس کا رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرے۔
(۲۹۸۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخبرنَا یُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَۃً الَّذِی یَسْرِقُ صَلاَتَہُ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَکَیْفَ یَسْرِقُ صَلاَتَہُ ؟ قَالَ : لاَ یُتِمُّ رُکُوعَہَا ، وَلاَ سُجُودَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٥) حضرت حملہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع اور سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ انھوں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ آدمی ڈر گیا۔ حضرت عبادہ نے فرمایا کہ اس کی اور اس جیسوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ اور یاد رکھو کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(۲۹۸۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی النَّضْرِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَمْلَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : رَأَی عُبَادَۃُ رَجُلاً لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ ، وَلاَ السُّجُودَ ، فَأَخَذَ بِیَدِہِ ، فَفَزِعَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : لاَ تَشَبَّہُوا بِہَذَا ، وَلاَ بِأَمْثَالِہِ ، إِنَّہُ لاَ تُجْزِیٔ صَلاَۃٌ إِلاَّ بِأُمِّ الْکِتَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٦) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا جو اس طرح سجدہ کررہا تھا جیسے زمین پر اپنا سر مارہا ہو، آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اگر یہ شخص اس نماز پر مرا تو اس کا انتقال میرے دین پر نہیں ہوگا۔
(۲۹۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلاً یَنْکُتُ بِرَأْسِہِ فِی سُجُودِہِ، فَقَالَ: لَوْ مَاتَ ہَذَا، وَہَذِہِ صَلاَتُہُ ، مَاتَ عَلَی غَیْرِ دِینِی۔ (بخاری ۲۶۹۰۔ ابن خزیمۃ ۶۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٧) حضرت ابو یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہنے ایک عورت کو دیکھا جو یوں نماز پڑھ رہی تھی جیسے مرغی چونچ مار رہی ہو۔ آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ تو جھوٹ بولتی ہے۔
(۲۹۸۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَأَی امْرَأَۃً تُصَلِّی وَہِیَ تَنْقُرُ، فَقَالَ : کَذَبْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجود پوری طرح نہیں کررہا تھا، انھوں نے اسے ڈانٹا اور فرمایا کہ تو نے اپنی نماز کو تباہ کردیا۔
(۲۹۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ قُرَّۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : رَأَی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ رَجُلاً یُصَلِّی ، وَلاَ یُتِمُّ رُکُوعَہُ ، وَلاَ سُجُودَہُ ، فَحَصَبَہُ ، وَقَالَ : أَغْلَقْتَ صَلاَتَک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٨٩) حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک کو مکہ میں خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھا، میں ان کے سامنے نہ آیا۔ وہ انتہائی اطمینان کے ساتھ نماز ادا فرما رہے تھے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بالکل سیدھا کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ ان کے پیٹ کی رگیں بھی سیدھی ہوجاتیں۔
(۲۹۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَعْمَش یَقُولُ : رَأَیْت أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ بِمَکَّۃَ قَائِمًا یُصَلِّی عِنْدَ الْکَعْبَۃِ ، فَمَا عَرَضْتُ لَہُ ، قَالَ : فَکَانَ قَائِمًا یُصَلِّی مُعْتَدِلاً فِی صَلاَتِہِ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ انْتَصَبَ قَائِمًا ، حَتَّی تَسْتَوِیَ غُضُونُ بَطْنِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٠) حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ مسجد میں ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے اس طرح نماز پڑھی کہ رکوع و سجود ٹھیک طرح نہ کیا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عبداللہ بن یزید سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس سے بہتر تھا کہ وہ نماز ادا ہی نہ کرتا۔
(۲۹۹۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : دَخَلَ الْمَسْجِدَ رَجُلٌ فَصَلَّی صَلاَۃً لاَ یُتِمُّ رُکُوعَہَا ، وَلاَ سُجُودَہَا ، قَالَ : فَذَکَرْت ذَلِکَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، فَقَالَ : ہِیَ عَلَی مَا فِیہَا خَیْرٌ مِنْ تَرْکِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩١) حضرت علی بن زید کہتے ہیں کہ حضرت مسور بن مخرمہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجدہ ٹھیک طرح نہ کررہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو۔ اس نے دوبارہ نماز پڑھنے سے انکار کیا۔ لیکن انھوں نے اسے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک اس نے دوبارہ نماز نہ پڑھ لی۔
(۲۹۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ؛ أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً لاَ یُتِمُّ رُکُوعَہُ ، وَلاَ سُجُودَہُ ، فَقَالَ لَہُ : أَعِدْ ، فَأَبَی ، فَلَمْ یَدَعْہُ حَتَّی أَعَادَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے ؟
(٢٩٩٢) حضرت موسیٰ بن مسلم کہتے ہیں کہ حضرت طاوس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور رکوع و سجود ٹھیک طرح نہیں کررہا تھا۔ ایک آدمی نے کہا کہ اس کی نماز نہیں ہے۔ حضرت طاوس نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ، جتنی نماز اس نے ادا کی ہے اس کا ثواب تو اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا گیا۔
(۲۹۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ یُصَلِّی وَطَاوُوس جَالِسٌ فَجَعَلَ لاَ یُتِمُّ الرُّکُوعَ ، وَلاَ السُّجُودَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : مَا لِہَذَا صَلاَۃٌ ، فَقَالَ طَاوُوس : مَہْ ،یُکْتَبُ لَہُ مِنْہَا بِقَدْرِ مَا أَدَّی۔
tahqiq

তাহকীক: