মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ২৯৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٣) حضرت ابراہیم نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے اور اس طرح بیٹھنے کو مکروہ خیال فرمایا کہ نمازی اپنے دائیں کولہے کو دائیں پاؤں پر اس طرح رکھے کہ وہ کھڑا ہو اور انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، نیز بائیں کولہے کو زمین پر ٹیکے اور بائیں پاؤں کو پھیلا کر دائیں طرف کونکالے۔
(۲۹۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ الإِقْعَائَ ، وَالتَّوَرُّکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٤) حضرت حسن اور حضرت محمد نما زمین پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
(۲۹۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ ؛ کَرِہَا الإِقْعَائَ فِی الصَّلاَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے دونوں سجدوں کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ بتایا ہے۔
(۲۹۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ الإِقْعَائَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے سے منع کیا ہے۔
(۲۹۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَی عَنْ عُقْبَۃِ الشَّیْطَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ تم اپنے کو لہوں کو اپنے پیچھے کے حصہ والی زمین کی طرف رکھو۔
(۲۹۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مِنَ السُّنَّۃِ أَنْ تَضَعَ أَلْیَتَیْک عَلَی عَقِبَیْک فِی الصَّلاَۃِ۔ (ترمذی ۲۸۳۔ ابوداؤد ۸۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٥٨) حضرت عطا فرماتے ہیں کہ حضرت جابر اور حضرت ابو سعید نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھا کرتے تھے۔
(۲۹۵۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ لَیْثٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِی سَعِیدٍ؛ أَنَّہُمَا کَانَا یُقْعِیَانِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٥٩) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھا کرتے تھے۔
(۲۹۵۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَ یُقْعِی بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٦٠) حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس کو دیکھا وہ دونوں سجدوں کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھتے تھے۔
(۲۹۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ الْعَبَادَلَۃَ یُقْعُونَ فِی الصَّلاَۃِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ ، یَعْنِی عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ، وَابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٦١) حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطیہ کو دیکھا کہ وہ دونوں سجدوں کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھے ہوئے تھے، میں نے اس بارے میں ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس کو دیکھا وہ دونوں سجدوں کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھتے تھے۔
(۲۹۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَطِیَّۃَ یُقْعِی بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ ، فَقُلْتُ لَہُ ، فَقَالَ : رَأَیْت ابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ الزُّبَیْرِ ، یُقْعُونَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٦٢) حضرت سقیف بن بشر فرماتے ہیں کہ میں حضرت طاوس کو دیکھا کہ چار رکعات والی نماز کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھے دیکھا ہے۔
(۲۹۶۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ سُقَیفِ بْنِ بِشْرٍ الْعِجْلِیّ ، قَالَ : رَأَیْتُ طَاوُوسًا یُقْعِی بَیْنَ أَرْبَعِ رَکَعَاتٍ حِینَ یَجْلِسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٦٣) حضرت موسیٰ طحان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو دونوں سجدوں کے درمیان پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھے دیکھا ۔
(۲۹۶۳) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُوسَی الطَّحَّانِ ، قَالَ : رَأَیْتُ مُجَاہِدًا یُقْعِی بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٩٦٤) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر دونوں سجدوں کے درمیان اپنے کو لہوں کے بل بیٹھا کرتے تھے۔
(۲۹۶۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ، عَنْ إسْرَائِیلَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ؛ أَنَّہُ کَانَ یَجْلِسُ عَلَی عَقِبَیْہِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنے کی اجازت دی ہے
(٢٤٦٥) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے قدموں کو موڑ لیتے تھے۔
(۲۹۶۵) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ إذَا جَلَسَ ثَنَی قَدَمَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٦٦) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور ان کے آگے سے کوئی عورت گذر جاتی تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور حضرت ابن سیرین کی عادت تھی کہ اگر کوئی عورت ان کے برابر آکر کھڑی ہوجاتی تو اسے ہٹانے کے لیے تسبیح پڑھا کرتے تھے۔
(۲۹۶۶) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی وَالْمَرْأَۃُ تَمُرُّ بِہِ یَمِینًا وَشِمَالاً ، فَلاَ یَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا ، قَالَ : وَکَانَ ابْنُ سِیرِینَ إذَا قَامَتْ بِحِذَائِہِ ، سَبَّحَ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٦٧) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ نماز پڑھتے ہوئے آدمی کے دائیں یا بائیں جانب سے کوئی عورت گذر جائے۔
(۲۹۶۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخبرنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَۃُ ، عَلی یَمِینِ الرَّجُلِ ، وَعَنْ یَسَارِہِ ، وَہُوَ یُصَلِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٦٨) حضرت حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اس میں کوئی حرج نہ ہونے کا فتوی دیا جبکہ حضرت ابراہیم سے سوال کرنے والے شخص نے بتایا کہ وہ اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۹۶۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً عَنْہُ ؟ فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا ، قَالَ: وَحَدَّثَنِی مَنْ سَأَلَ إبْرَاہِیمَ، فَکَرِہَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٦٩) حضرت میمونہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے برابر میں ہوتی تھی، اور بعض اوقات تو سجدے میں آپ کا کپڑا بھی میرے ساتھ لگ جاتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجور کی چھال کی بنی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۲۹۶۹) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : حدَّثَتْنِی مَیْمُونَۃُ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی وَأَنَا بِحِذَائِہِ ، فَرُبَّمَا أَصَابَنِی ثَوْبُہُ إذَا سَجَدَ ،وَکَانَ یُصَلِّی عَلَی الْخُمْرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٧٠) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد کے قبلے کی جانب ایک الماری تھی، خادمہ ان کے دائیں اور بائیں جانب سے اپنی ضرورت کی چیز لینے کے لیے آیا کرتی تھی لیکن وہ اپنی نماز نہ توڑتے تھے۔
(۲۹۷۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : کَانَ حِذَائَ قِبْلَۃِ سَعْدٍ تَابُوتٌ ، وَکَانَتِ الْخَادِمُ تَجِیئُ فَتَأْخُذُ حَاجَتَہَا عَنْ یَمِینِہِ ، وَعَنْ شِمَالِہِ لاَ تَقْطَعُ صَلاَتَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٧١) حضرت عثمان بن غیاث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی عورت اس کے پاس سے گذر جائے تو کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا اگر اس کے آگے سے نہ گذرے تو کوئی حرج نہیں۔
(۲۹۷۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِیَاثٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَمُرُّ بِجَنْبِ الرَّجُلِ وَہُوَ یُصَلِّی ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ إِلاَّ أَنْ تَعِنَّ بَیْنَ یَدَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے ؟
(٢٩٧٢) حضرت ابن سیرین اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ کوئی عورت نماز میں آدمی کے ساتھ کھڑی ہو۔
(۲۹۷۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ یُکْرَہُ أَنْ تُصَلِّیَ الْمَرْأَۃُ بِحِذَائِ الرَّجُلِ إذَا کَانَ یُصَلِّی۔
তাহকীক: