মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ২৯৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٣) حضرت ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی میرے آگے سے گذرے تو کیا میں اسے گذرنے دوں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا اگر وہ گذرنے پر اصرار کرنے لگے۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ پھر تم کیا کرو گے ؟ میں نے کہا کہ مجھے حضرت ابن عمر کا یہ قول پہنچا ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو توا پنے آگے سے کسی کو نہ گذرنے دے۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ اگر تم حضرت ابن عمر کے عمل کو اپنانا چاہتے ہو تو اپنا ناک توڑ دو !
(۲۹۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَدَعُ أَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیَّ ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ: فَإِنْ أَبَی ، قَالَ : فَمَا تَصْنَعُ ؟ قُلْتُ : بَلَغَنِی أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ لاَ یَدَعُ أَحَدًا یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ ، قَالَ : إِنْ ذَہَبْتَ تَصْنَعُ صَنِیعَ ابْنِ عُمَرَ دُقَّ أَنْفُکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی بکری کا بچہ بھی آپ کے آگے سے گذرنے لگتا تو آپ آگے بڑھ کر اس کو روک لیتے۔
(۲۹۳۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّی فَجَعَلَ جَدْیٌ یُرِیدُ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ یَتَقَدَّمُ حَتَّی نَزَا الْجَدْیُ۔ (ابوداؤد ۷۰۹۔ احمد ۱/۲۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٥) حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے آگے سے عبداللہ بن ابی سلمہ یا عمر بن ابی سلمہ گذرنے لگا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ رک گئے۔ پھر زینب بنت ابی سلمہ گذرنے لگیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بھی ہاتھ سے اشارہ کیا لیکن وہ نہیں رکیں اور آگے سے گذر گئیں۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ یہ لڑکیاں ہم پر غالب ہیں۔
(۲۹۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أُمِّہِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی فَمَرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ عَبْدُ اللہِ ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، فَقَالَ : بِیَدِہِ ، فَرَجَعَ ، فَمَرَّتْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ أُمِّ سَلَمَۃَ ، فَقَالَ : بِیَدِہِ ہَکَذَا ، فَمَضَتْ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ہُنَّ أَغْلَبُ۔ (احمد ۶/۲۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٦) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں ایک بلی کو اپنے آگے سے گذرنے سے روکا تھا۔
(۲۹۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ سُلَیْمَانُ بْنِ حَیَّانَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : بَادَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِہِرٍّ ، أَوْ ہِرَّۃٍ أَنْ تَمُرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ۔ (طبرانی ۴۹۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٧) حضرت یزید بن نمران کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک اپاہج شخص نے بیان کیا میں ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے سے گذرا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں گدھے پر سوار تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! یہ اپنے پاؤں پر نہ چل سکے۔ بس اس کے بعد سے میں اپنے قدموں پر چلنے کے قابل نہ رہا۔
(۲۹۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ التَّنُوخِیُّ ، عَنْ مَوْلًی لِیَزِیدَ بْنِ نِمْرَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ نِمْرَانَ ، قَالَ : رَأَیْتُ رَجُلاً مُقْعَدًا ، فَقَالَ : مَرَرْتُ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَی حِمَارٍ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اقْطَعْ أَثَرَہُ ، فَمَا مَشَیْتُ عَلَیْہَا۔ (ابوداؤد ۷۰۶۔ احمد ۴/۳۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٨) حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے آگے سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، وہ اپنے قعود سے کھڑے ہوئے اور میرے سینے سے مجھے دھکا دیا۔
(۲۹۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ ، قَالَ : مَرَرْت بَیْنَ یَدَیِ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَارْتَفَعَ مِنْ قُعُودِہِ ، ثُمَّ دَفَعَ فِی صَدْرِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو ناپسند کیا ہے
(٢٩٣٩) حضرت وبرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نماز میں آگے سے گذرنے والوں کو روکنے کے معاملے میں حضرت ابراہیم نخعی اور حضرت عبدالرحمن بن اسود سے زیادہ شدت کسی کو برتتے نہیں دیکھا۔
(۲۹۳۹) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہُرَیْمٌ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنْ وَبَرَۃَ ، قَالَ : مَا رَأَیْت أَحَدًا أَشَدَّ عَلَیْہِ أَنْ یُمَرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ فِی صَلاَۃٍ مِنْ إبْرَاہِیمَ النَّخَعِیِّ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٠) حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اس طرح بیٹھے کہ آپ نے اپنے بائیں پاؤں کو بچھایا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا۔
(۲۹۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ، فَثَنَی الْیُسْرَی وَنَصَبَ الْیُمْنَی ، یَعْنِی فِی الصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرے سجدے میں نہ جاتے جب تک پوری طرح بیٹھ نہ جاتے، آپ بیٹھتے ہوئے بائیں پاؤں کو نیچے بچھاتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔
(۲۹۴۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ لَمْ یَسْجُدْ حَتَّی یَسْتَوِیَ جَالِسًا ، وَکَانَ یَفْرِشُ رِجْلَہُ الْیُسْرَی، وَیَنْصِبُ رِجْلَہُ الْیُمْنَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھا کر رکھتے تھے، یہاں تک کہ اس عمل کی وجہ سے آپ کے پاؤں کا ظاہری حصہ سیاہ ہوگیا تھا۔
(۲۹۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ افْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی حَتَّی اسْوَدَّ ظَہْرُ قَدَمَیْہِ۔ (ابوداؤد ۴۵۔ عبدالرزاق ۳۰۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٣) حضرت یزید بن عبداللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بائیں پاؤں کو بچھاتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔
(۲۹۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْتَرِشُ الْیُسْرَی ، وَیَنْصِبُ الْیُمْنَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٤) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نما زکی سنت یہ ہے کہ بائیں پاؤں کو بچھایا جائے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے۔
(۲۹۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : إنَّ مِنْ سُنَّۃِ الصَّلاَۃِ أَنْ تَفترِشَ الْیُسْرَی ، وَأَنْ تَنْصِبَ الْیُمْنَی۔ (بخاری ۸۲۷۔ ابوداؤد ۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٥) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب تم نماز میں بیٹھو تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھاؤ ، کیونکہ اس میں تمہاری نماز اور تمہاری کمر کے لیے زیادہ بہتری ہے۔
(۲۹۴۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : إذَا قَعَدْتَ فَافْترِشْ رِجْلَک الْیُسْرَی ، فَإِنَّہُ أَقْوَمُ لِصَلاَتِکَ وَلِصُلْبِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٦) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر رکھتے تھے۔
(۲۹۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ وَالْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَنْصِبُ الْیُمْنَی ، وَیَفْترِشُ الْیُسْرَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٧) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بعض اوقات اپنے دونوں پاؤں بچھا لیتے تھے اور بعض اوقات دائیں پاؤں کو بچھاتے اور بائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔ اور حضرت محمد جب نماز میں بیٹھتے تو دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے اور بائیں کو بچھا لیتے تھے۔
(۲۹۴۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ رُبَّمَا أَضْجَعَ رِجْلَیْہِ جَمِیعًا ، وَرُبَّمَا أَضْجَعَ الْیُمْنَی وَنَصَبَ الْیُسْرَی ۔ وَکَانَ مُحَمَّدٌ إذَا جَلَسَ نَصَبَ الْیُمْنَی وَأَضْجَعَ الْیُسْرَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بائیں پاؤں کو بچھایا جائے گا اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھا جائے گا
(٢٩٤٨) ایک اور سند سے یہی بات منقول ہے۔
(۲۹۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحِلٍّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ مِثْلُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٤٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا کہ میں بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھوں۔
(۲۹۴۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : نَہَانِی خَلِیلِی أَنْ أُقْعِیَ کَإِقْعَائِ الْقِرْدِ۔ (بخاری ۱۹۸۱۔ مسلم ۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٠) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے اور یہ کہتے کہ یہ شیطان کا انداز ہے۔
(۲۹۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ الإِقْعَائَ فِی الصَّلاَۃِ ، وَقَالَ : عُقْبَۃُ الشَّیْطَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥١) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت علی نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کر کو لہوں کے بل بیٹھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۲۹۵۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ الإِقْعَائَ فِی الصَّلاَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک نماز میں پنڈلی اور رانوں کو ملا کرکولہوں کے بل بیٹھنا مکروہ ہے
(٢٩٥٢) حضرت سعید بن مقبری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کے ساتھ نماز پڑھی، میں اپنے قدموں کے اگلے حصہ پر بیٹھا تو انھوں نے مجھے کھینچا یہاں تک کہ میں ا طمینان سے بیٹھ گیا۔
(۲۹۵۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، قَالَ : صَلَّیْت إلَی جَنْبِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، فَانْتَصَبْتُ عَلَی صُدُورِ قَدَمِی ، فَجَذَبَنِی حَتَّی اطْمَأْنَنْت۔
tahqiq

তাহকীক: