মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ২৬৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ابن آدم کی ہڈیوں کو سجدوں کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا سجدہ کرو یہاں تک کہ کہنیوں کو بھی سجدہ میں شامل کرو۔
(۲۶۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : ہُیِّئَتْ عِظَامُ ابْنِ آدَمَ لِسجُودِہِ ، اسْجُدُوا حَتَّی بِالْمَرَافِقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٤) حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد سے کہا کہ کیا آدمی سجدہ کرتے ہوئے اپنی ہتھیلیوں سے گھٹنوں پر سہارا لے سکتا ہے ؟ فرمایا میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
(۲۶۷۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ: الرَّجُلُ یَسْجُدُ یَعْتَمِدُ بِمِرْفَقَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ؟ قَالَ : مَا أَعْلَمُ بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٥) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمرسجدہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو پہلوؤں سے ملایا کرتے تھے۔
(۲۶۷۵) حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَضُمُّ یَدَیْہِ إلَی جَنْبَیْہِ إذَا سَجَدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٦) حضرت قیس بن سکن فرماتے ہیں کہ اسلاف یہ تمام کام کیا کرتے تھے، وہ اعضاء کو ملا کر بھی رکھتے تھے اور علیحدہ بھی رکھتے تھے، بعض حضرات اعضاء کو ملا کر رکھتے تھے اور بعض اعضاء کو علیحدہ علیحدہ رکھتے تھے۔
(۲۶۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَکَن ، قَالَ : کُلَّ ذَلِکَ قَدْ کَانُوا یَفْعَلُونَ ، یَنْضَمُّونَ وَیَتَجَافَوْنَ ، کَانَ بَعْضُہُمْ یَنْضَمُّ وَبَعْضُہُمْ یُجَافِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٧) حضرت نعمان بن ابی عیاش فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز میں سہارا لینے کی پابندیوں کی شکایت کی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں رخصت دے دی کہ آدمی اپنی کہنیوں کو گھٹنوں یا رانوں پر رکھ کے سہارا لے سکتا ہے۔
(۲۶۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ سُمَیٍّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِی عَیَّاشٍ ، قَالَ : شَکَوْا إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الإِدِّعَامَ وَالإِعْتِمَادَ فِی الصَّلاَۃِ ، فَرَخَّصَ لَہُمْ أَنْ یَسْتَعِینَ الرَّجُلُ بِمِرْفَقَیْہِ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، أَوْ فَخِذَیْہِ۔
(عبدالرزاق ۲۹۲۸)
(عبدالرزاق ۲۹۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٨) حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر سے سوال کیا کہ کیا میں سجدہ کرتے ہوئے اپنی کہنی کو اپنی ران پر رکھ سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا جس طرح تمہارے لیے آسان ہو سجدہ کرلو۔
(۲۶۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِیبٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ : أَضَعُ مِرْفَقَیَّ عَلَی فَخْذِی إذَا سَجَدْت ؟ فَقَالَ : اُسْجُدْ کَیْفَ تَیَسَّرَ عَلَیْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک سجدے کے دوران کہنیوں کو زمین پر ٹیکناجائز ہے
(٢٦٧٩) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تم سجدہ کرو تو بھر پور سجدہ کرو، یہاں تک کہ کہنیوں کو بھی سجدے میں شامل کرو۔
(۲۶۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إذَا سَجَدْتُمْ فَاسْجُدُوا حَتَّی بِالْمَرَافِقِ ، یَعْنِی یَسْتَعِینُ بِمِرْفَقَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں ہاتھوں کو کہاں رکھنا ہے ؟
(٢٦٨٠) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت براء سے سوال کیا گیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے ؟ فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا کرتے تھے۔
(۲۶۸۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : سُئِلَ : أَیْنَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ وَجْہَہُ ؟ قَالَ : کَانَ یَضَعُہُ بَیْنَ کَفَّیْہِ ، أَوَ قَالَ : یَدَیْہِ ، یَعْنِی فِی السُّجُودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں ہاتھوں کو کہاں رکھنا ہے ؟
(٢٦٨١) حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ غور سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ نماز کا مشاہدہ کروں گا، چنانچہ میں نے دیکھا کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا تو اپنے سر مبارک کو دونوں ہاتھوں کے درمیان اس جگہ رکھا جس جگہ وہ تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا اور ہاتھ دونوں کانوں کے قریب تھے۔
(۲۶۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لأَنْظُرَنَّ إلَی صَلاَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَجَدَ ، فَرَأَیْتُ رَأْسَہُ مِنْ یَدَیْہِ عَلَی مِثْلِ مِقْدَارِہِ حَیْثُ اسْتَفْتَحَ ۔ یَقُولُ : قَرِیبًا مِنْ أُذُنَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں ہاتھوں کو کہاں رکھنا ہے ؟
(٢٦٨٢) حضرت وائل بن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کرتے دیکھا آپ کے دونوں ہاتھ کانوں کے قریب تھے۔
(۲۶۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ سَجَدَ وَیَدَیْہِ قَرِیبًا مِنْ أُذُنَیْہِ۔ (احمد ۴/۳۱۶۔ ابن حبان ۱۸۶۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں ہاتھوں کو کہاں رکھنا ہے ؟
(٢٦٨٣) حضرت سالم براد فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو مسعود کے کمرے میں ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ نماز سکھا دیجئے۔ چنانچہ انھوں نے نماز پڑھی، جب سجدہ کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو سر کے قریب رکھا۔
(۲۶۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ ، قَالَ : أَتَیْنَا أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیَّ فِی بَیْتِہِ ، فَقُلْنَا : عَلِّمْنَا صَلاَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ کَفَّیْہِ قَرِیبًا مِنْ رَأْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں ہاتھوں کو کہاں رکھنا ہے ؟
(٢٦٨٤) حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا گیا کہ آدمی جب سجدہ کرے تو اپنے ہاتھ کہاں رکھے ؟ فرمایا کہ جہاں آسانی سے رکھ سکے رکھ لے۔
(۲۶۸۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ إذَا سَجَدَ کَیْفَ یَضَعُ یَدَیْہِ ؟ قَالَ : یَضَعُہُمَا حَیْثُ تَیَسَّرا ، أَوْ کَیْفَمَا جَائَتَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ میں ہاتھوں کو کہاں رکھنا ہے ؟
(٢٦٨٥) حضرت ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ بعض اوقات صف میں جگہ کم ہوتی ہے تو میں ہاتھ کہاں رکھوں ؟ فرمایا جہاں سہولت ہو رکھ لو۔
(۲۶۸۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : أَکُونُ فِی الصَّفِّ وَفِیہِ ضِیقٌ ، کَیْفَ أَضَعُ یَدَیَّ ؟ قَالَ : ضَعْہُمَا حَیْثُ تَیَسَّرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلانے اور بچھانے کا حکم
(٢٦٨٦) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ جب آدمی سجدہ کرے تو ہاتھوں کو یوں رکھے۔ یہ کہہ کر راوی ازہر نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
(۲۶۸۶) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانُوا یَسْتَحِبُّونَ إذَا سَجَدَ الرَّجُلُ أَنْ یَقُولَ بِیَدَیْہِ ہَکَذَا، وَضَمَّ أَزْہَرُ أَصَابِعَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلانے اور بچھانے کا حکم
(٢٦٨٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو نہ ملاؤ اور اپنی انگلیوں کو پھیلا کر رکھو۔
(۲۶۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا سَجَدْت فَلاَ تَضُمَّ کَفَّیْک ، وَابْسُطْ أَصَابِعَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلانے اور بچھانے کا حکم
(٢٦٨٨) حضرت عبد الرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حفص بن عاصم کے ساتھ نماز پڑھی، جب میں سجدے میں گیا تو میں نے اپنی انگلیوں کو کھول کر رکھا اور اپنی ہتھیلیوں کو قبلے سے پھیرلیا۔ جب میں نے سلام پھیرا تو انھوں نے فرمایا ” اے بھتیجے ! جب تم سجدہ کرو اپنی انگلیوں کو ملا کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو قبلہ رخ رکھو، کیونکہ چہرے کے ساتھ ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔
(۲۶۸۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : صَلَّیْت إلَی جَنْبِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، فَلَمَّا سَجَدْت فَرَّجْت بَیْنَ أَصَابِعِی وَأَمَلْت کَفِّی عَنِ الْقِبْلَۃِ ، فَلَمَّا سَلَّمْت ، قَالَ : یَا ابْنَ أخِی ، إذَا سَجَدْت فَاضْمُمْ أَصَابِعَک ، وَوَجِّہْ یَدَیْک قِبَلَ الْقِبْلَۃِ ، فَإِنَّ الْیَدَیْنِ تَسْجُدَانِ مَعَ الْوَجْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہاتھ کی انگلیوں کو پھیلانے اور بچھانے کا حکم
(٢٦٨٩) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ آدمی رکوع میں انگلیوں کو کھلا اور سجدہ میں ملا کر رکھے گا۔
(۲۶۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ سُفْیَانُ : یُفَرِّجُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فِی الرُّکُوعِ ، وَیَضُمُّ فِی السُّجُودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہتھیلیوں کو زمین پر لگانا چاہیے
(٢٦٩٠) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ سجدہ ہتھیلیوں کے پر گوشت حصہ پر ہوتا ہے۔
(۲۶۹۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَان ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : السُّجُودُ عَلَی أَلْیَۃِ الْکَفِّ۔
(ابن خزیمۃ ۶۳۹۔ ابن حبان ۱۹۱۵)
(ابن خزیمۃ ۶۳۹۔ ابن حبان ۱۹۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہتھیلیوں کو زمین پر لگانا چاہیے
(٢٦٩١) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ سجدہ ہتھیلیوں کے پر گوشت حصہ پر ہوتا ہے۔
(۲۶۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُولُ : السُّجُودُ عَلَی أَلْیَۃِ الْکَفَّیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے میں ہتھیلیوں کو زمین پر لگانا چاہیے
(٢٦٩٢) حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ میں ہاتھوں کو زمین پر بچھانے اور پاؤں کو کھڑا رکھنے کا حکم دیا ہے۔
(۲۶۹۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : أَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِوَضْعِ الْکَفَّیْنِ وَنَصْبِ الْقَدَمَیْنِ فِی السُّجُودِ۔
(ترمذی ۲۷۲۔ ابوداؤد ۸۸۸)
(ترمذی ۲۷۲۔ ابوداؤد ۸۸۸)
তাহকীক: