মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৪৮৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو نماز میں سلام کیا جائے تو وہ فارغ ہونے کے بعد اس کے سلام کا جواب دے۔ اگر وہ جاچکا ہو تو اسے سلام کر بھجوائے۔
(۴۸۵۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یُسَلَّمُ عَلَیْہِ فِی الصَّلاَۃ ، قَالَ : یَرُدُّ عَلَیْہِ السَّلاَمَ إذَا انْصَرَفَ ، فَإِذَا ذَہَبَ اتَّبَعَہُ بِالسَّلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٤) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ جب حبشہ سے واپس آئے تو انھوں نے نماز کے دوران نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا۔ آپ نے سر کے اشارے سے انھیں سلام کا جواب دیا۔
(۴۸۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللہِ مِنَ الْحَبَشَۃِ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَأَوْمَأَ ، وَأَشَارَ بِرَأْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٥) حضرت عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نماز میں حضرت عبداللہ بن عباس کو سلام کیا تو انھوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کیا اور اس کا ہاتھ دبایا۔
(۴۸۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ ، فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَصَافَحَہُ ، وَغَمَزَ یَدَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٦) حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ نماز میں سلام کا جواب نہ دیا جائے گا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اگر قریب ہو تو اس کے سلام کا جواب دے دے اور اگر دور ہو تو اسے سلام کرے۔
(۴۸۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْیَانَ یَقُولُ : لاَ یَرُدُّ السَّلاَمَ حَتَّی یُصَلِّیَ ، فَإِنْ کَانَ قَرِیبًا رَدَّ عَلَیْہِ ، وَإِنْ کَانَ بَعِیدًا تبِعَہُ بِالسَّلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٧) حضرت ابو العالیہ سے پوچھا گیا کہ اگر کسی آدمی کو دورانِ نماز سلام کیا جائے تو وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نماز پوری کرنے کے بعد اسے سلام کرے۔
(۴۸۵۷) حَدَّثَنَا یُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِیَادٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یُسَلَّمُ عَلَیْہِ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ ؟ قَالَ : إذَا قَضَی الصَّلاَۃ أَتْبَعَہُ بِالسَّلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٨) حضرت عمار کہتے ہیں کہ میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔
(۴۸۵۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی فَسَلَّمْت عَلَیْہِ ، قَالَ : فَرَدَّ عَلَیَّ السَّلاَمَ۔ (احمد ۴/۲۶۳۔ ابو یعلی ۱۶۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اور مسجد میں انگلیوں کو چٹخانا مکروہ ہے
(٤٨٥٩) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی کو دیکھا جو مسجد کے درمیان بیٹھا ہوا انگلیوں کو چٹخا رہا تھا اور اپنے آپ سے باتیں کررہا تھا۔ آپ نے اشارے سے اسے منع کیا لیکن وہ نہ سمجھا۔ پھر آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابو سعید خدری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنی انگلیوں کو نہ چٹخائے۔ کیونکہ انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنا شیطان کی طرف سے ہے۔ تم اس وقت تک نماز میں ہوتے ہو جب تک مسجد میں ہوتے ہو۔
(۴۸۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْہَبٍ ، عَنْ عَمِّہِ ، عَنْ مَوْلًی لأَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ مَعَ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ وَہُوَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، قَالَ : فَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأَی رَجُلاً جَالِسًا وَسَطَ الْمَسْجِدِ مُشَبِّکًا أَصَابِعَہُ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ ، قَالَ : فَأَوْمَأَ إلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَفْطِنْ ، فَالْتَفَتَ إلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، فَقَالَ : إذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَلاَ یُشَبِّکَنَّ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، فَإِنَّ التَّشْبِیکَ مِنَ الشَّیْطَانِ ، وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لاَ یَزَالُ فِی صَلاَۃٍ مَا دَامَ فِی الْمَسْجِدِ حَتَّی یَخْرُجَ مِنْہُ۔ (احمد ۳/۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اور مسجد میں انگلیوں کو چٹخانا مکروہ ہے
(٤٨٦٠) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل نہ کرے۔
(۴۸۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی الْمَسْجِدِ ، فَلاَ یُشَبِّکَنَّ أَصَابِعَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اور مسجد میں انگلیوں کو چٹخانا مکروہ ہے
(٤٨٦١) حضرت ابو ثمامہ قماح کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں ، میں حضرت کعب سے ملا، میں نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل کیا تو انھوں نے میرے ہاتھ پر زور سے مارا اور فرمایا کہ ہمیں نماز میں انگلیاں چٹخانے سے منع کیا گیا ہے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! آپ کیا مجھے نماز میں دیکھ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ جو شخص وضو کرکے نماز کے ارادے سے نکلتا ہے وہ نماز میں ہوتا ہے۔
(۴۸۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سعید ، عن أبی ثُمَامَۃَ الْقَمَّاحِ ، قَالَ: لَقِیت کَعْبًا وَأَنَا بِالْبَلاَطِ قَدْ أَدْخَلْت بَعْضَ أَصَابِعِی فِی بَعْضٍ ، فَضَرَبَ یَدِی ضَرْبًا شَدِیدًا ، وَقَالَ : نُہِینَا أَنْ نُشَبِّکَ بَیْنَ أَصَابِعِنا فِی الصَّلاَۃ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : یَرْحَمُک اللَّہُ تَرَانِی فِی صَلاَۃٍ ؟ فَقَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ فَعَمَدَ إلَی الْمَسْجِدِ ، فَہُوَ فِی صَلاَۃٍ۔ (ابوداؤد ۵۶۳۔ احمد ۴/۲۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اور مسجد میں انگلیوں کو چٹخانا مکروہ ہے
(٤٨٦٢) حضرت نعمان بن ابی عیاش فرماتے ہیں کہ اسلاف نماز میں انگلیاں چٹخانے سے منع کرتے تھے۔
(۴۸۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنُ أَبِی عَیَّاشٍ ، قَالَ : کَانُوا یَنْہَوْنَ عَنْ تَشْبِیکِ الأَصَابِعِ ، یَعْنِی فِی الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اور مسجد میں انگلیوں کو چٹخانا مکروہ ہے
(٤٨٦٣) حضرت ابراہیم نے نماز میں انگلیاں چٹخانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔
(۴۸۶۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ مُحِلٍّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُشَبِّکَ أَصَابِعَہُ فِی الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں انگلیاں چٹخانے کی رخصت دی ہے
(٤٨٦٤) حضرت نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو نماز میں انگلیاں چٹخاتے دیکھا ہے۔
(۴۸۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ خَلِیفَۃَ بْنِ غَالِبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُشَبِّکُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فِی الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں انگلیاں چٹخانے کی رخصت دی ہے
(٤٨٦٥) حضرت حسن نماز میں انگلیاں چٹخایا کرتے تھے۔
(۴۸۶۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَصْحَابُنَا ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُشَبِّکُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فِی الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے نماز میں انگلیاں چٹخانے کی رخصت دی ہے
(٤٨٦٦) حضرت اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو نماز میں انگلیاں چٹخاتے دیکھا ہے۔
(۴۸۶۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ یُشَبِّکُ بَیْنَ أَصَابِعِہِ فِی الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٨٦٧) حضرت علی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی نماز میں سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کے بجائے اللَّہُ أَکْبَرُ کہہ دے تو وہ اللہ سے مغفرت طلب کرے۔
(۴۸۶۷) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا أَرَادَ أَنْ یَقُولَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، قَالَ : یَسْتَغْفِرُ اللَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٨٦٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی نماز میں سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کے بجائے اللَّہُ أَکْبَرُ کہہ دے تو اس پر سہو نہیں ہے۔
(۴۸۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا أَرَادَ أَنْ یَقُولَ سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، فَلاَ سَہْوَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٨٦٩) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی نماز میں سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کے بجائے اللَّہُ أَکْبَرُ کہہ دے تو اس پر سہو نہیں ہے۔
(۴۸۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، وَغَیْرِہِ ؛ فِی رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ یَقُولَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، قَالُوا : لَیْسَ عَلَیْہِ سَہْوٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٨٧٠) حضرت محمد بن علی، حضرت عامر اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی نماز میں سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کے بجائے اللَّہُ أَکْبَرُ کہہ دے تو اس پر سہو نہیں ہے۔
(۴۸۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ، وَعَامِرٍ ، وَعَطَائٍ ، قَالُوا : فِی رَجُلٍ أَرَادَ أَنْ یَقُولَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، قَالُوا : لَیْسَ عَلَیْہِ سَہْوٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز میں سمع اللہ لمن حمدہ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٨٧١) حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ایک تکبیر بھول جائے۔ انھوں نے فرمایا کہ وہ سہو کے دو سجدے کرے گا۔
(۴۸۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ عْن رَجُلٍ نَسِیَ تَکْبِیرَۃً ؟ قَالَ : یَسْجُدُ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی مغرب کی چار رکعتیں پڑھ لے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٨٧٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی مغرب کی چار رکعتیں پڑھ لے تو وہ سہو کے دو سجدے کرے گا۔
(۴۸۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ رَبِیعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ صَلَّی الْمَغْرِبَ أَرْبَعًا ، قَالَ : یَسْجُدُ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
তাহকীক: