মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৪৮৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک امام کو لقمہ دینے کی اجازت ہے
(٤٨٣٣) حضرت محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابن مغفل نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ بھولیں تو انھیں لقمہ دے۔
(۴۸۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ؛ أَنَّ ابْنَ مُغَفَّلٍ أَمَرَ رَجُلاً یُلَقِّنُہُ إذَا تَعَایَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک امام کو لقمہ دینے کی اجازت ہے
(٤٨٣٤) حضرت ہلال بن ابی حمید فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عکیم جب نماز میں بھولتے تو میں ان کو لقمہ دیا کرتا تھا ۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا کہ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ تبھی تو رات کو مجھے بہت تکلیف ہوئی، مجھے ایک مقام پر شک ہوا لیکن مجھے لقمہ دینے والا کوئی نہ تھا ؟ !
(۴۸۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی ہِلاَلُ بْنُ أَبِی حُمَیْدٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَفْتَحُ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُکَیْمٍ إذَا تَعَایَی فِی الصَّلاَۃ ، فَقَالَ لِی یَوْمًا : أَمَا صَلَّیْتَ مَعَنَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : لاَ ،قَالَ : قَدِ اسْتَنکَرْتُ ذَلِکَ ، تَرَدَّدْت الْبَارِحَۃَ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا یَفْتَحُ عَلَیَّ ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک امام کو لقمہ دینے کی اجازت ہے
(٤٨٣٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ امام کو لقمہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
(۴۸۳۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِتَلْقِینِ الإِمَام۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک امام کو لقمہ دینے کی اجازت ہے
(٤٨٣٦) حضرت یزید بن رومان فرماتے ہیں کہ میں حضرت نافع بن جبیر بن مطعم کے ساتھ پڑھا کرتا تھا، وہ کسی مقام پر بھولتے تو میں نماز میں انھیں لقمہ دیا کرتا تھا۔
(۴۸۳۶) حَدَّثَنَا معن بْنُ عِیسَی ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنَ رُومَانَ ، قَالَ : کُنْتُ أُصَلِّی إلَی جَنْبِ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، فَیَغْمِزُنِی فَأَفْتَحُ عَلَیْہِ وَہُوَ یُصَلِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک امام کو لقمہ دینے کی اجازت ہے
(٤٨٣٧) حضرت نافع فرماتے ہیں حضرت ابن عمر نے ہمیں نماز پڑھائی، ایک مقام پر انھیں تردد ہوا تو میں نے انھیں لقمہ دیا اور انھوں نے میرا لقمہ قبول فرمایا۔
(۴۸۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : فَتَرَدَّدَ ، قَالَ : فَفَتَحْتُ عَلَیْہِ فَأَخَذَ عَنِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٣٨) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے ہم دورانِ نماز نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرتے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ جب ہم حبشہ سے واپس آئے تو میں نے دورانِ نماز نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ جب آپ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات کو جب چاہتے ہیں لاگو فرماتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم نماز میں بات چیت نہ کرو۔
(۴۸۳۸) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عن أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُصَلِّی فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، قَبْلَ أَنْ نَأْتِیَ أَرْضَ الْحَبَشَۃِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، فَأَخَذَنِی مَا قَرُبَ ، وَمَا بَعُدَ ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ یُحْدِثُ مِنْ أَمْرِہِ مَا شَائَ ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لاَ تَکَلَّمُوا فِی الصَّلاَۃ۔ (ابوداؤد ۹۲۱۔ احمد ۱/۳۷۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٣٩) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے سلام کیا لیکن آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔
(۴۸۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ أبی الزُّبَیْرِ ، عن جابر ، قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَاجَۃٍ ، فَجِئْت وَہُوَ یُصَلِّی ، فَسَلَّمْت عَلَیْہِ ، فَلاَ یَرُدُّ عَلَیَّ السَّلاَمَ ۔(ابوداؤد ۹۲۳۔ احمد ۳/۳۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٤٠) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ نمازی کو سلام کرنا بےوقوفی ہے۔
(۴۸۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : السَّلاَمُ عَلَی الْمُصَلِّی عَجْز۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٤١) حضرت زکریا کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر میں کچھ لوگوں سے ملاقات کروں اور وہ اکیلے نماز پڑھ رہے ہوں تو کیا میں انھیں سلام کروں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۴۸۴۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : أَدْخُلُ عَلَی قَوْمٍ وَہُمْ یُصَلُّونَ فُرَادَی ، أَأُسَلِّمُ عَلَیْہِمْ ؟ قَالَ : لاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٤٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر نمازی کو کوئی سلام کرے تو وہ اپنے دل میں جواب دے۔
(۴۸۴۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یَرُدُّ عَلَیْہِ فِی نَفْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٤٣) بنو عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ذر کے پاس جا کر کھڑا ہوا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے انھیں سلام کیا لیکن انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔
(۴۸۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ ، قَالَ : قُمْتُ إلَی جَنْبِ أَبِی ذَرٍّ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَسَلَّمْت عَلَیْہِ ، فَمَا رَدَّ عَلَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٤٤) حضرت بسر بن سعید روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا، آپ نے اسے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا جیسے اسے منع کررہے ہوں۔
(۴۸۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ یَعْقُوبَ بن عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسر بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : سَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَأَشَارَ إلَیْہِ بِیَدِہِ ، کَأَنَّہُ یَنْہَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
(٤٨٤٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نجاشی کے پاس جانے سے پہلے ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا لیکن آپ نے سلام کا جواب نہ دیا اور نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا کہ نماز کی اپنی ایک مصروفیت ہوتی ہے۔
(۴۸۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ قَبْلَ أَنْ نَخْرُجَ إلَی النَّجَاشِیِّ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ سَلَّمْت عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ ، وَقَالَ : إنَّ فِی الصَّلاَۃ شُغْلاً۔ (بخاری ۱۱۹۹۔ ابوداؤد ۹۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٤٦) حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت صہیب سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص دورانِ نماز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرتا تو آپ کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا کہ آپ ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے۔
(۴۸۴۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ صُہَیْبًا ، کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ حَیْثُ کَانَ یُسَلَّمُ عَلَیْہِ ؟ قَالَ : کَانَ یُشِیرُ بِیَدِہِ۔ (ابوداؤد ۹۲۲۔ ترمذی ۳۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٤٧) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس کو سلام کیا، اس وقت وہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، انھوں نے جواب میں میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
(۴۸۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : سَلَّمْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ یُصَلِّی فِی وَجْہِ الْکَعْبَۃِ ، فَأَخَذَ بِیَدِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٤٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس کو سلام کیا، وہ نماز پڑھ رہے تھے، انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا کر مجھ سے مصافحہ فرمایا۔
(۴۸۴۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : سَلَّمْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ ،فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ ، وَبَسَطَ یَدَہُ إلَیَّ وَصَافَحَنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٤٩) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کوئی سلام کرے اور تم نماز پڑھ رہے ہو تو اس کے سلام کا جواب دو ۔
(۴۸۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ ، عَنْ أَبِی عِیَاضٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إذَا سُلِّمَ عَلَیْک وَأَنْتَ فِی الصَّلاَۃ ، فَرُدَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٠) حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں کسی نمازی کو سلام نہیں کروں گا۔ ابو معاویہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر کوئی مجھے نماز میں سلام کرے تو میں اس کے سلام کا جواب دوں گا۔
(۴۸۵۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَا کُنْتُ لِأُسَلِّمُ عَلَی رَجُلٍ وَہُوَ یُصَلِّی ، زَادَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ : وَلَوْ سَلَّمَ عَلَیَّ لَرَدَدْت عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥١) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں تم میں سے کسی کو سلام کیا جائے تو ہاتھ سے اشارہ کرے۔
(۴۸۵۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إذَا سُلِّمَ علی أَحَدِکُمْ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ فَلْیُشِرْ بِیَدِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات ہاتھ یا سر سے سلام کا جواب دیا کرتے تھے
(٤٨٥٢) حضرت ابو مجلز سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ سر کو دائیں طرف جھکا کر جواب دے۔
(۴۸۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یُسَلَّمُ عَلَیْہِ فِی الصَّلاَۃ ؟ قَالَ : یَرُدُّ بِشِقِّ رَأْسِہِ الأَیْمَنِ۔
তাহকীক: