মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৪৫৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٣) حضرت عطاء اس شخص کے بارے میں جو فرض نماز کی دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے فرماتے ہیں اگر وہ پوری طرح کھڑا ہوجائے تو اپنی نماز کو جاری رکھے۔ اور جب نماز مکمل کرلے تو سلام پھیرنے کے بعد دوسجدے کرے۔
(۴۵۳۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ مِنَ الْمَکْتُوبَۃِ ، ثُمَّ یَقُومُ ، قَالَ : إنِ استتم قَائِمًا مَضَی فِی صَلاَتِہِ ، فَإِذَا ہُوَ أَکْمَلَ صَلاَتَہُ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا یُسَلِّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٤) حضرت حسن اس شخص کے بارے میں جو فرض کی دو رکعتںّ پڑھ رہا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑ ا ہونے لگے فرماتے ہیں کہ اگر وہ پوری طرح کھڑا ہوگیا ہے تو نماز جاری رکھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔
(۴۵۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ مِنَ الْمَکْتُوبَۃِ وَنَسِیَ أَنْ یَتَشَہَّدَ حَتَّی نَہَضَ ، قَالَ : إذَا اسْتَوَی قَائِمًا مَضَی فِی صَلاَتِہِ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْو۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٥) حضرت ثابت بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہوگئے اور فارغ ہوئے تو انھوں نے سہو کے دو سجدے کئے۔
(۴۵۳۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَیْدٍ ، قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ، فَقَامَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَلَمْ یَجْلِسْ ، فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٦) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین نے ہمیں مسجد میں نماز پڑھائی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے یا تین رکعتیں پڑھ کر بھٹص گئے۔ ہشام کا غالب گمان یہ ہے کہ وہ دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ گئے تھے۔ جب انھوں نے نماز مکمل کرلی تو سہو کے دو سجدے فرمائے۔
(۴۵۳۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فِی الْمَسْجِدِ فَنَہَضَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، أَوْ قَعَدَ فِی ثَلاَثٍ ، وَأَکْثَرُ ظَنِّ ہِشَامٍ أَنَّہُ قَعَدَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ ، فَلَمَّا أَتَمَّ الصَّلاَۃ سَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٧) حضرت شعبی کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعتوں کے بعد نہیں بیٹھے۔ جب سلام پھیرا تو بیٹھ کر سہو کے دو سجدے کئے۔
(۴۵۳۷) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : صَلَّی الضَّحَّاکُ بْنُ قَیْسٍ بِالنَّاسِ الظُّہْرَ ، فَلَمْ یَجْلِسْ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر یاد آئے کہ نماز پوری نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے نماز پڑھائی اور دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجراسود کے پاس جا کر اس کا استلام کیا۔ لوگوں نے تسبیح کہی تو وہ واپس آگئے اور دو سجدے کئے۔ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابن عباس سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ابن زبیر کے کیا کہنے ! وہ اپنے نبی کی سنت سے دور نہیں ہوئے۔
(۴۵۳۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : صَلَّی ابْنُ الزُّبَیْرِ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ إلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ ، فَسَبَّحَ بِہِ الْقَوْمُ ، فَرَجَعَ فَأَتَمَّ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، قَالَ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لِلَّہِ أَبُوہُ ، مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّۃِ نَبِیِّہِ۔ (احمد ۱/۳۵۱۔ ابو یعلی ۲۵۹۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر یاد آئے کہ نماز پوری نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٣٩) حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، پھر کھڑے ہو کر نماز مکمل کی اور دو سجدے کئے۔
(۴۵۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہُ سَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، فَقَامَ فَأَتَمَّ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر یاد آئے کہ نماز پوری نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٤٠) حضرت ابراہیم اس شخص کے بارے میں جسے نماز میں سہو ہوجائے اور وہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے فرماتے ہیں کہ وہ نماز جاری رکھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔
(۴۵۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی رَجُلٍ سَہَا فِی صَلاَتِہِ فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ؟ قَالَ : ثُمَّ ذَکَرَ ، قَالَ : یَمْضِی فِی صَلاَتِہِ ، وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر یاد آئے کہ نماز پوری نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٤١) حضرت ابن اصبہانی کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابن ابی لیلیٰ نے نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ ہم نے تسبیح کہی تو وہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے نماز کو مکمل فرمایا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے دو سجدے کئے۔ ابن اصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت عکرمہ سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ بہت اچھا طریقہ ہے۔
(۴۵۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَہَانِیِّ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی فَسَلَّمَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَسَبَّحْنَا بِہِ ، فَقَامَ فَأَتَمَّ الصَّلاَۃ ، فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، قَالَ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعِکْرِمَۃَ ، فَقَالَ : أَحْسَنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر یاد آئے کہ نماز پوری نہیں ہوئی تو وہ کیا کرے ؟
(٤٥٤٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب دو رکعتیں پڑھ کر کوئی سلام پھیر دے تو نماز مکمل کرے اور سہو کے دو سجدے کرے۔
(۴۵۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا سَلَّمَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ أَتَمَّ وَسَجَدَ سَجْدَتَیِ السَّہْوِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٣) حضرت معاویہ بن حدیج کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چل دیئے حالانکہ ابھی ایک رکعت باقی رہتی تھی۔ ایک آدمی حضور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے گئے اور جا کر عرض کیا کہ آپ نماز کی ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کر حضرت بلال کو حکم دیا کہ اقامت کہیں۔ انھوں نے اقامت کہی اور نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ میں نے لوگوں کو یہ بات بتائی تو انھوں نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا ؟ میں نے کہا کہ ویسے تو میں نہیں جانتا لیکن اگر دیکھوں گا تو پہچان لوں گا۔ پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھ کر کہا کہ یہی وہ آدمی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ طلحہ بن عبید اللہ ہیں۔
(۴۵۴۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ؛ أَنَّ سُوَیْد بْنَ قَیْسٍ أَخْبَرَہُ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حُدِیجٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی یَوْمًا فَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ الصَّلاَۃ رَکْعَۃٌ ، فَأَدْرَکَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : نَسِیتَ مِنَ الصَّلاَۃ رَکْعَۃً ، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَۃ فَصَلَّی بِالنَّاسِ رَکْعَۃً ، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِکَ النَّاسَ فَقَالُوا : أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ ؟ فَقُلْتُ : لاَ ، إِلاَّ أَنْ أَرَاہُ ، فَمَرَّ بِی ، فَقُلْتُ : ہُوَ ہَذَا ، فَقَالُوا : ہَذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ۔ (ابوداؤد ۱۰۱۵۔ احمد ۴۰۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھ کر غلطی سے سلام پھیر دیا۔ جب آپ چل پڑے تو ذوشمالین نے جاکر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ؟ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہ میں نے نماز کو کم کیا ہے اور نہ میں بھولا ہوں ! ذوشمالین نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! ایسا کچھ ہوگیا ہے۔ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذو الیدین (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) سچ کہتا ہے ؟ انھوں نے تصدیق کی تو رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں۔
(۴۵۴۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْن أَبِی أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی یَوْمًا فَسَلَّمَ فِی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَکَہُ ذُو الشِّمَالَیْنِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَنَقَصَتِ الصَّلاَۃُ أَمْ نَسِیتَ ؟ قَالَ : لَمْ تَنْقُصِ الصَّلاَۃ ، وَلَمْ أَنْسَ ، فَقَالَ : بَلَی ، وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَصَدَقَ ذُو الْیَدَیْنِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ۔ (بخاری ۷۲۵۔ ابوداؤد ۱۰۰۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٥) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ظہر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے ؟ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر دوسری دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے فرمائے۔
(۴۵۴۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقِیلَ لَہُ : أَنَقَصَ مِنَ الصَّلاَۃ ؟ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أُخْرَاوَیْنِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ (بخاری ۱۲۲۷۔ ابوداؤد ۱۰۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٦) حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو تین رکعات نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے صرف تین ہی رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا اے ذو الدمین ! (انہی کو ذو الشمالین بھی کہا جاتا تھا) کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں ۔ اس پر نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر دو سجدے کئے۔
(۴۵۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : صَلَّی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ : حَدَثَ فِی الصَّلاَۃ شَیْئٌ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالُوا : لَمْ تُصَلِّ إِلاَّ ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ ، فَقَالَ : أَکَذَلِکَ یَا ذَا الْیَدَیْنِ ؟ وَکَانَ یُسَمَّی ذا الشِّمَالَیْنِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَصَلَّی رَکْعَۃً وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٧) حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے۔ خرباق نامی ایک آدمی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آج ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے سے اپنی چادر مبارک گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا یہ سچ کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا۔
(۴۵۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنِ أبی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِی ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ دَخَلَ فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ، یُقَالُ لَہُ: الْخِرْبَاقُ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَذَکَّرَ لَہ الَّذِی صَنَعَ ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا یَجُرُّ رِدَائَہُ حَتَّی انْتَہَی إلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : صَدَقَ ہَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَصَلَّی تِلْکَ الرَّکْعَۃَ ثُمَّ سَلَّمَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٨) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور غلطی سے سلام پھیر دیا۔ ذو الیدین نامی ایک آدمی نے کہا کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا پھر دوسجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
(۴۵۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ فَسَہَا فَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ ، یُقَالُ لَہُ ذُو الْیَدَیْنِ ، فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَہِشَامٍ ، وَحَدِیثُہُمَا أَنَّہُ قَالَ : نَقَصَتِ الصَّلاَۃُ ؟ فَقَالَ : لاَ ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ أُخْرَاوَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٤٩) حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر بن عوام نے نماز پڑھی، پھر بات کی پھر اسی نماز کو مکمل فرمایا۔
(۴۵۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ رَافِعٍ ؛ أَنَّ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ صَلَّی فَتَکَلَّمَ، فَبَنَی عَلَی صَلاَتِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٥٠) حضرت محمد بن یوسف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کی کچھ نماز فوت ہوگئی۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے مجھ سے دریافت فرمایا کہ کتنی نماز فوت ہوئی ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نہیں سمجھ رہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ تم نے کتنی نماز پڑھ لی ہے ؟ میں نے کہا کہ اتنی نماز پڑھ لی ہے۔ پھر انھوں نے نماز پڑھی اور سہو کے دو سجدے کئے۔
(۴۵۵۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : فَاتَ ابْنَ الزُّبَیْرِ بَعْضُ الصَّلاَۃ ، فَقَالَ لِی بِیَدِہِ : کَمْ فَاتَنِی ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ أَدْرِی مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : کَمْ صَلَّیْتُم ؟ قُلْتُ : کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : فَصَلَّی وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٥١) حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت ابو الددراء نے لوگوں کو شام میں نماز پڑھائی، حضرت ابو الدرداء ایک چھت کے نیچے تھے اور لوگ باہر تھے۔ اتنے میں بارش ہوگئی اور لوگ بھیگ گئے۔ جب حضرت ابو الدرداء نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے فرمایا کہ کیا لوگوں میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو یہ کہہ دیتا کہ ” اے امام ! نماز کو مختصر کردے ہم پر بارش ہورہی ہے “
(۴۵۵۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مَکْحُولٍ ؛ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ صَلَّی بِہِمْ فِی سَقِیفَۃٍ بِالشَّامِ وَہُمْ خَارِجُونَ ، قَالَ : فَمُطِرُوا مَطَرًا بَلَغَ مِنْہُمْ ، فَلَمَّا صَلَّی أَوَ سَلَّمَ ، قَالَ : أَمَا کَانَ فِی الْقَوْمِ فَقِیہٌ یَقُولُ : یَا ہَذَا ، خَفِّفْ ، فَإِنَّا قَدْ مُطِرْنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص نامکمل نماز پڑھ کر سلام پھیر دے اور کسی سے گفتگو بھی کرلے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٥٥٢) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز میں دو رکعتیں پڑھادیں۔ پھر سلام پھیر کر گھر تشریف لے گئے۔ آپ کے صحابہ میں سے ذوالیدین نامی ایک صاحب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ! انھوں نے کہا کہ آپ نے آج دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ باہر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا ذو الیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں اور سہو کے دو سجدے کئے۔
(۴۵۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَہَانِیِّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ ، یُقَالُ لَہُ : ذُو الشِّمَالَیْنِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَصُرَتِ الصَّلاَۃ ؟ قَالَ : مَاذَا ؟ قَالَ : صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ ، فَخَرَجَ ، فَقَالَ : مَا یَقُولُ ذُو الْیَدَیْنِ ؟ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، نَعَمْ ، فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔
তাহকীক: