মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৮ টি
হাদীস নং: ১২৬৭১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت نذر مانے کہ وہ پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے گی
(١٢٦٧٢) حضرت ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے گی اور پچاس گھروں سے صدقہ جمع کر کے پھر اس کو صدقہ کرے گی، اس کو حکم دیا کہ وہ صدقہ جمع نہ کرے کیونکہ یہ معصیت ہے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے کیونکہ نماز طاعات میں سے ہے۔
(۱۲۶۷۲) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی امْرَأَۃٍ جَعَلَتْ عَلَی نَفْسِہَا أوْ نَذَرَتْ أَنْ تصَلِّیَ فِی خَمْسِینَ مَسْجِدًا وَأَنْ تَصَدَّقَ مِنْ خَمْسِینَ بَیْتًا وَأَنْ تَصَدَّقَ بِہِ ، فَأَمَرَہَا أَنْ لاَ تَصَدَّقَ فَإِنَّہَا مَعْصِیَۃٌ تُکَفِّرُ یَمِینَہَا وَتُصَلِّی فِی خَمْسِینَ مَسْجِدًا لأَنَّ الصَّلاَۃَ مِنْ طَاعَۃِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت نذر مانے کہ وہ پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے گی
(١٢٦٧٣) حضرت حسن سے مروی ہے کہ کوئی عورت نذر مانے کہ بصرہ کی مسجد کے ہر ستون پر نماز ادا کرے گی، تو وہ ایک ہی جگہ کھڑی ہو کر مسجد کے ستونوں کے بقدر نماز ادا کرے۔
(۱۲۶۷۳) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی امْرَأَۃٍ نَذَرَتْ عَلَیْہَا أَنْ تُصَلِّیَ إلَی کُلِّ سَارِیَۃٍ مِنْ سِوَارِی مَسْجِدِ الْبَصْرَۃِ ، قَالَ : تُصَلِّی بِعَدَدِ سِوَارِی الْمَسْجِدِ فِی مَقَامٍ وَاحِدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت نذر مانے کہ وہ پچاس مسجدوں میں نماز ادا کرے گی
(١٢٦٧٤) حضرت مرہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ میں ہر ستون کے پاس دو رکعتیں ادا کروں گا ایک شخص مجھے ترچھی نگاہ سے گھور رہا تھا میں اس کو نہیں جانتا تھا، جب میں بیٹھا تو میں نے دیکھا حضرت عبداللہ بن مسعود تشریف فرما ہیں، میں ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا، تو وہ شخص مجھے دیکھ رہا تھا وہ ان کے پاس تھا اور وہ میری جگہ کو نہیں جانتا تھا، اس نے کہا اے ابو عبد الرحمن ! ایک مسجد میں داخل ہوتا اور کہتا ہے کہ میں ہر ستون کے پاس دو رکعتیں ادا کروں گا، آپ نے فرمایا اگر وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی ستون کے پاس ہیں تو وہاں سے نہیں پھرے گا یہاں تک کہ اپنی نماز مکمل کرے گا، حضرت مرہ کہتے ہیں کہ میں نے جو پڑھنے کا ارادہ کیا تھا وہ ترک کردیا۔
(۱۲۶۷۴) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : دَخَلْت الْمَسْجِدَ وَأَنَا أُحَدِّثُ نَفْسِی أَنْ أُصَلِّیَ عِنْدَ کُلِّ أُسْطُوَانَۃٍ رَکْعَتَیْنِ ، وَرَجُلٌ یَرْمُقُنِی لاَ أَشْعُرُ بِہِ ، فَلَمَّا جَلَسْت نَظَرْت فَإِذَا عَبْدُ اللہِ جَالِسًا ، فَأَتَیْتُہُ فَجَلَسْت إلَیْہِ ، فَإِذَا الرَّجُلُ الَّذِی یَرْمُقُنِی عِنْدَہُ ، قَالَ : وَلاَ یَشْعُرُ بِمَکَانِی قَالَ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إنَّ رَجُلاً دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَجَعَلَ یُصَلِّی عِنْدَ کُلِّ أُسْطُوَانَۃٍ رَکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ : لَوْ عَلِمَ ، أَنَّ اللَّہَ عِنْدَ الأُسْطُوَانَۃٍ لَمْ یَتَحَوَّلْ حَتَّی یَقْضِیَ صَلاَتَہُ ، قَالَ : فَتَرَکْت بَقِیَّۃَ مَا أَرَدْت أَنْ أُصَلِّیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٧٥) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ولد الزنی اور اس کی ماں کو آزاد کیا۔
(۱۲۶۷۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ أَعْتَقَ وَلَدَ الزِّنَا وَأُمَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٧٦) حضرت نافع سے اسی طرح منقول ہے۔
(۱۲۶۷۶) حدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عن عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ أَعْتَقَ وَلَدَ زِنَا وَأُمَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٧٧) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد ولد الزنی آزاد کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۲۶۷۷) أبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی بِعِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٧٨) حضرت طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ولد الزنی کو آزاد کرنے کے متعلق فرمایا کہ اس کو آزاد کرنے میں کچھ حرج نہیں۔
(۱۲۶۷۸) وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ فِی عِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا ، قَالَ لَہُ : مَا احْتَسَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٧٩) حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ سے دریافت کیا گیا کہ ولد الزنی آزاد کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس کا آزاد کرنا اچھا ہے۔
(۱۲۶۷۹) حدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، قَالَ : سُئِلَ عَطَائٌ عَنْ عِتْقِ وَلَدِ الزِّنَا أَعْتِقُہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ عِتْقُہُ حَسَنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٨٠) حضرت ام نجید سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت ابو امامہ سے ولد الزنی آزاد کرنے سے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا وہ کھوٹے دراھم کی طرح ہے اس کے ساتھ صدقہ ادا کرو۔
(۱۲۶۸۰) حدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَرِیزٍ ، عَنْ مَرْیَمَ بِنْتِ أَبِی یَزِیدَ ، عَنْ أُمِّ نُجَیْدٍ ، أَنَّہَا سَأَلَتْ أَبَا أُمَامَۃَ ، عَنْ وَلَدِ الزِّنَا تُعْتِقُہُ ، قَالَ : ہُوَ کَالدِّرْہَمِ الزَّائِفِ ، تَصَدَّقِی بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٨١) حضرت عمر بن عبد الرحمن بن سعد سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ میرے پاس دو غلام ہیں، ایک صحیح النسب ہے اور دوسرا ولد الزنی، اور میں ایک غلام آزاد کرنا چاہتا ہوں، آپ کے خیال میں کونسا آزاد کروں ؟ آپ نے فرمایا دیکھو جو قیمتی ہو اس کو آزاد کرو، انھوں نے پایا کہ ولد الزنی زیادہ قیمتی ہے، پس آپ نے ان کو اس کے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔
(۱۲۶۸۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ثَوْرِ الشَّامِیِّ ، عَنْ عُمَر بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إنَّ لِی غُلاَمَیْنِ ، أَحَدُہُمَا رَشْدَۃٌ وَالآخَرُ غِیَّۃٌ وَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ أُعْتِقَ أَحَدَہُمَا ، فَأَیُّہُمَا تَرَی أَنْ أُعْتِقَ ؟ قَالَ : انظر أَکْثَرُہُمَا ثَمَنًا فوجدوا ولد وَلَدَ الزِّنا أکثرہما ثمنا فأمرہم بہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮১
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٨٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جو دونوں میں زیادہ قیمتی ہو اس کو آزاد کر۔
(۱۲۶۸۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : أَعْتِقْ أَکْثَرَہُمَا ثَمَنًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮২
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٨٣) حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ سے ولد الزنی کو آزاد کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا اس کے والدین کا گناہ اس پر نہیں ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی { وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی }۔
(۱۲۶۸۳) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا سُئِلَتْ ، عَنْ وَلَدِ الزِّنَا ، فَقَالَتْ ، لَیْسَ عَلَیْہِ مِنْ خَطِیئَۃِ أَبَوَیْہِ شَیْئٌ ، {لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৩
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کی اجازت دی ہے
(١٢٦٨٤) حضرت عیسیٰ الخباط فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ولد الزنی تین میں بہترین ہے، بیشک یہ وہ ہے جس کے بارے میں حضرت کعب فرماتے ہیں یہ تین میں بدترین ہے۔
(۱۲۶۸۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِیسَی الْخَبَّاطُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ : وَلَدُ الزِّنَا خَیْرُ الثَّلاَثَۃِ ، إنَّمَا ہذا شَیْئٌ قَالَہُ کَعْبٌ ہُوَ شَرُّ الثَّلاَثَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৪
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کیا ہے
(١٢٦٨٥) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں دو جوتوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں مدد کروں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں ولد الزنی آزاد کروں۔
(۱۲۶۸۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : لأَنْ أَحْمِلَ عَلَی نَعْلَیْنِ فِی سَبِیلِ اللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৫
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کیا ہے
(١٢٦٨٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں تین گٹھلیاں صدقہ کروں یا ایک کوڑا اللہ کے راستہ میں دوں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں ولد الزنی کو آزاد کروں۔
(۱۲۶۸۶) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ ، لأَنْ أَتَصَدَّقَ بِثَلاَثَۃِ نَوَیَاتٍ ، أَوْ أُمَتِّعَ بِسَوْطٍ فِی سَبِیلِ اللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৬
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کیا ہے
(١٢٦٨٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نے اپنے مرض میں کچھ غلاموں کو آزاد کیا، پھر ان میں سے دو غلاموں کو حضرت ابن عباس نے واپس کردیا، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دونوں ولد الزنی ہیں۔
(۱۲۶۸۷) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ أَعْتَقَ الْعَبَّاسُ بَعْضَ رَقِیقِہِ فِی مَرَضِہِ ، فَرَدَّ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْہُمَا اثْنَیْنِ کَانُوا یَرَوْنَ أَنَّہُمَا أَوْلاَدُ زِنًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৭
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کیا ہے
(١٢٦٨٨) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص نے اپنے غلاموں کو مرض میں آزاد کیا، حضرت عبداللہ بن عمرو نے ان میں سے چھ غلاموں کو واپس کردیا، وہ سمجھتے تھے کہ وہ اولاد الزنی میں سے ہیں۔
(۱۲۶۸۸) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَعْتَقَ رَقِیقَہُ فِی مَرَضِہِ ، فَرَدَّ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو مِنْہُمْ سِتَّۃً کَانُوا یَرَوْنَ أَنَّہُمَا أَوْلاَدُ الزِّنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৮
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ بعض حضرات نے ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کیا ہے
(١٢٦٨٩) حضرت ابن الحنفیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ولد الزنی آزاد کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
(۱۲۶۸۹) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ کَرِہَ عِتْقَ وَلَدِ الزِّنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৯
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ یہودی اور نصرانی غلام کا آزاد کرنا
(١٢٦٩٠) حضرت اسق فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر کا غلام تھا، انھوں نے اس پر اسلام پیش کیا اور فرمایا دین میں داخل ہونے میں سختی نہیں ہے، پھر جب وہ حاضر کیا گیا تو اس کو آزاد کردیا۔
(۱۲۶۹۰) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ أُسَّقٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَمْلُوکًا لِعُمَرَ ، فَکَانَ یَعْرِضُ عَلَیْہِ الإِسْلاَمَ وَیَقُولُ : {لاَ إکْرَاہَ فِی الدِّینِ} فَلَمَّا حُضِرَ أَعْتَقَہ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯০
قسموں اور نذروں سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ یہودی اور نصرانی غلام کا آزاد کرنا
(١٢٦٩١) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے یہودی یا نصرانی غلام آزاد کیا۔
(۱۲۶۹۱) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ أَعْتَقَ یَہُودِیًّا ، أَوْ نَصْرَانِیًّا۔
তাহকীক: