মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৭৮৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٩) حضرت سلیمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس نے انھیں بیان کیا ۔ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابو جہل کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کو کون دیکھے گا ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن مسعود چل دیئے تو انھوں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کو عفراء کے دو بیٹوں نے ایسا مارا تھا کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ ابن مسعود نے کہا۔ تو ابو جہل ہے۔ اور آپ نے اس کی داڑھی کو پکڑا۔ میں ان لوگوں میں سب سے بلند ہوں جنھیں تم نے قتل کیا ہے۔
(۳۷۸۴۹) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَہُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَہْلٍ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَہُ قَدْ ضَرَبَہُ ابْنَا عَفْرَائَ حَتَّی بَرَدَ ، قَالَ : أَنْتَ أَبُو جَہْلٍ ، فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ ، قَالَ : وَہَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوہُ ، أَوْ : رَجُلٍ قَتَلَہُ قَوْمُہُ۔ (بخاری ۳۹۶۲۔ مسلم ۱۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٠) حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابو جہل پر موت اتارنے والی ضرب تو عفراء کے دو بیٹوں نے لگائی اور اس کو (آخری طور پر) ابن مسعود نے موت کے گھاٹ اتارا۔
(۳۷۸۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : أَقْعَصَ أَبَا جَہْلٍ ابْنَا عَفْرَائَ ، وَذَفَّفَ عَلَیْہِ ابْنُ مَسْعُودٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥١) حضرت ثابت سے منقول ہے کہ ابو جہل کے ساتھیوں نے ابو جہل سے کہا۔ جبکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بدر کے دن چل رہا تھا۔ محمد کی طرف اپنے جانے کا ہمیں بھی بتاؤ۔ کیا تم جانتے ہو کہ وہ نبی ہیں ؟ ابو جہل نے کہا : ہاں ! لیکن ہم عبد مناف کے پیرو کب سے ہیں ؟
(۳۷۸۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ أَبِی جَہْلٍ لأَبِی جَہْلٍ وَہُوَ یَسِیرُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ : أَرَأَیْتَ مَسِیرَکَ إِلَی مُحَمَّدٍ ؟ أَتَعْلَمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَکِنْ مَتَی کُنَّا تَبَعًا لِعَبْدِ مَنَافٍ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : میں بدر والے دن ابو جہل کے پاس پہنچا جبکہ اس کے پاؤں پر ضرب لگی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ حالت میں تھا اور وہ خود سے لوگوں کو اپنی تلوار کے ذریعہ سے ہٹا رہا تھا۔ میں نے کہا۔ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا ہے۔ کہا : کہ وہ ایسا شخص ہے جس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں۔ پس میں نے اس کو اپنی چھوٹی سی تلوار سے لینا شروع کیا اور میں اس کے ہاتھ تک پہنچ گیا تو اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے وہ تلوار پکڑ لی اور ابو جہل کو اسی تلوار کے ذریعہ سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں (وہاں سے) نکلا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں (اس طرح) حاضر ہو اگویا کہ مجھے زمین سے اٹھایا گیا ہے (یعنی تیزی سے گیا) اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبردی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا واقعی ہی ؟ الذی لا الہ الا ھو ؟ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر تین مرتبہ دہرائی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہمراہ چلتے ہوئے باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر کھڑے ہوئے اور فرمایا؛ اے دشمن خدا ! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے رسوا کیا۔ یہ شخص اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ میرے والد نے بواسطہ ابو اسحاق از ابو عبیدہ یہ اضافہ کیا ہے کہ عبداللہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کی تلوار عطا فرمائی۔
(۳۷۸۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبِی ، وَإِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ یَوْمَ بَدْرٍ ، وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُہُ وَہُوَ صَرِیعٌ ، وَہُوَ یَذُبُّ النَّاسَ عَنْہُ بِسَیْفِہِ ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاکَ یَا عَدُوَّ اللہِ ، قَالَ : ہَلْ ہُوَ إِلاَّ رَجُلٌ قَتَلَہُ قَوْمُہُ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُہُ بِسَیْفٍ لِی غَیْرِ طَائِلٍ ، فَأَصَبْتُ یَدَہُ ، فَنَدَرَ سَیْفَہُ ، فَأَخَذْتُہُ فَضَرَبْتُہُ بِہِ حَتَّی بَرَدَ ، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّی أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَأَنَّمَا أَقَلُّ مِنَ الأَرْضِ ، یَعْنِی مِنَ السُّرْعَۃِ ، فَأَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : آللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ ؟ فَرَدَّدَہَا عَلَیَّ ثَلاَثًا ، فَخَرَجَ یَمْشِی مَعِی حَتَّی قَامَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْزَاکَ یَا عَدُوَّ اللہِ ، ہَذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ۔

قَالَ وَکِیعٌ : زَادَ فِیہِ أَبِی ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : فَنَفَّلَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٣) حضرت ابو عبیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ البتہ تحقیق ہماری آنکھوں میں بدر کے دن (کفار کو) کم مقدار میں ظاہر کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اپنے پہلو میں موجود ایک صاحب سے پوچھا : تمہارے خیال میں یہ کتنے ہیں ؟ تمہارے خیال میں یہ ستر ہوں گے۔ اس نے جواب دیا۔ میرے خیال میں یہ ایک سو کی تعداد میں ہیں یہاں تک کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی کو پکڑا اور ہم نے اس سے پوچھا۔ تو اس نے بتایا ۔ کہ ہم ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔
(۳۷۸۵۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَقَدْ قُلِّلُوا فِی أَعْیُنِنَا یَوْمَ بَدْرٍ ، حَتَّی قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِی إِلَی جَنْبِی : کَمْ تَرَاہُمْ ؟ تَرَاہُمْ سَبْعِینَ ۔ قَالَ : أُرَاہُمْ مِئَۃ ، حَتَّی أَخَذْنَا مِنْہُمْ رَجُلاً فَسَأَلْنَاہُ ، فَقَالَ : کُنَّا أَلْفًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٤) حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں، بدر کے دن قریش میں سے پانچ مہاجرین قتل ہوئے حضرت عمر کے آزاد کردہ غلام مہجع۔ یہ صاحب یہ کہتے ہوئے حملہ آور ہوئے۔ میں مہجع ہوں اور اپنے رب کی طرف ہی ڈرتے ہوئے لپکتا ہوں۔ اور ذوالشمالین، ابن بیضائ، عبیدہ بن حارث اور عامر بن ابی وقاص قتل ہوئے۔
(۳۷۸۵۴) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ خَمْسَۃُ رِجَالٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، مِنْ قُرَیْشٍ ؛ مِہْجَعٌ مَوْلَی عُمَرَ ، یَحْمِلُ یَقُولُ : أَنَا مِہْجَعٌ ، وَإِلَی رَبِّی أَجْزَعُ ، وَقُتِلَ ذُو الشِّمَالَیْنِ ، وَابْنُ بَیْضَائَ ، وَعُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَعَامِرُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٥) حضرت ثابت کہتے ہیں کہ بدر کے دن حضرت عمر کے پاس ایک نیزہ تھا۔ جب بھی کوئی قیدی لایا جاتا تو حضرت عمر یہ نیزہ اس کے منہ میں مارتے۔ راوی کہتے ہیں : جب عباس کو پکڑا گیا تو انھوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو ؟ اس آدمی نے جواب دیا۔ نہیں ! عباس نے کہا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا ہوں۔ پس تم مجھے عمر کے پاس نہ لے کر جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : وہ آدمی رک گیا۔ پھر عقیل کو پکڑا گیا تو انھوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ! عقیل نے کہا۔ میں رسول اللہ کا چچا زاد ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگ رک گئے۔
(۳۷۸۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ : إِنَّ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الْحَرْبَۃَ یَوْمَ بَدْرٍ ، وَلاَ یُؤْتَی بِأَسِیرٍ إِلاَّ أَوْجَرَہَا إِیَّاہُ ، قَالَ : فَلَمَّا أُخِذَ الْعَبَّاسُ ، قَالَ لآخِذِہِ : أَتَدْرِی مَنْ أَنَا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : أَنَا عَمُّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلاَ تَذْہَبْ بِی إِلَی عُمَرَ ، قَالَ : فَأَمْسَکَہُ، وَأُخِذَ عَقِیلٌ ، وَقَالَ لآخِذِہِ : تَدْرِی مَنْ أَنَا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمْسَکَ النَّاسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٦) حضرت ذی الجوشن سے روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل بدر سے فارغ ہوگئے تھے۔ اپنے ایک گھوڑے کے بچے کو لے کر حاضر ہوا۔ جس گھوڑے کا نام ۔ القرحائ۔ تھا اور میں نے عرض کیا۔ اے محمد ! میں آپ کے پاس اس قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ یہ آپ لے لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم اس کے بدلہ میں مجھ سے بدر کی زرہ میں سے منتخب ذرہ بدلہ میں لینا چاہتے ہو تو پھر میں یہ لے سکتا ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ میں آج آپ سے اس گھوڑے کے عوض کچھ نہیں لوں گا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ذو الجوشن ! کیا تم اسلام نہیں لے آئے تاکہ تم اس معاملہ (دین) کے پہلوں میں سے ہو جاؤ ؟ میں نے جواب دیا : نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں ؟ میں نے کہا : میں آپ کی قوم کو دیکھتا ہوں کہ وہ آپ کے درپے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں ان کے پچھاڑے ہوئے (مُردوں) کے بارے میں کیسی خبر پہنچی ہے ؟ میں نے کہا : وہ تو مجھے پہنچی ہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر کب تیرے ذریعہ سے ہدایت دی جائے گی ؟ میں نے کہا ۔ اگر آپ کو مکہ پر غلبہ اور وہاں پر آباد ہونا میسر آگیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہوسکتا ہے کہ تو اس بات کو دیکھنے تک زندہ رہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بلال ! اس آدمی کا توشہ دان پکڑو اور اس کو توشہ میں عجوہ دے دو ۔ پھر جب رُخ پھیر کر مڑا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ خبردار ! یہ بنو عامر کا بہترین گھڑ سوار ہے۔ راوی کہتے ہیں : بخدا ! میں عوذاء مقام پر اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا کہ ایک سوار سامنے آیا ۔ میں نے پوچھا۔ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا ۔ مکہ سے میں نے پوچھا۔ (وہاں) لوگوں کا کیا ہوا ؟ اس آدمی نے کہا بخدا ! مکہ پر محمد کا غلبہ ہوگیا ہے اور وہ وہاں پر آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا۔ میری ماں مجھے گم پائے۔ کاش میں اس دن اسلام لے آتا۔ پھر میں ان سے حیرہ کی سلطنت بھی مانگتا تو مجھے مل جاتی۔ خدا کی قسم ! میں کبھی صراحی سے نہیں پیوں گا اور میرے نیچے کبھی گھوڑا نہیں آئے گا۔
(۳۷۸۵۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، یَعْنِی جَدَّہُ ، عَنْ ذِی الْجَوْشَنِ الضَّبَابِیِّ ، قَالَ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِی ، یُقَالُ لَہَا : الْقَرْحَائُ ، فَقُلْتُ : یَا مُحَمَّدُ ، إِنِّی قَدْ أَتَیْتُکَ بِابْنِ الْقَرْحَائِ لِتَتَّخِذَہُ ، قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ أُقِیضَکَ بِہِ الْمُخْتَارَۃَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ ، قُلْتُ : مَا کُنْتُ أُقِیضُکَ الْیَوْمَ بِغُرَّۃٍ لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا ذَا الْجَوْشَنِ ، أَلاَ تُسْلِمُ فَتَکُونَ مِنْ أَوَّلِ ہَذَا الأَمْرِ ، قُلْتُ : لاَ ، قَالَ : وَلِمَ ؟ قُلْتُ : إِنِّی رَأَیْتُ قَوْمَکَ وَلِعُوا بِکَ ، قَالَ : فَکَیْفَ مَا بَلَغَکَ عَنْ مَصَارِعِہِمْ ؟ قُلْتُ : قَدْ بَلَغَنِی ، قَالَ : فَأَنَّی یُہْدَی بِکَ ؟ قُلْتُ : إِنْ تَغْلِبْ عَلَی الْکَعْبَۃِ وَتَقْطُنْہَا، قَالَ : لَعَلَّک إِنْ عِشْتَ أَنْ تَرَی ذَلِکَ۔

ثُمَّ قَالَ : یَا بِلاَلُ ، خُذْ حَقِیبَۃَ الرَّجُلِ ، فَزَوِّدْہُ مِنَ الْعَجْوَۃِ ، فَلَمَّا أَدْبَرْتُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّہُ خَیْرُ فُرْسَانِ بَنِی عَامِرٍ ، قَالَ : فَوَاللہِ ، إِنِّی بِأَہْلِی بِالْعَوْذَائِ إِذْ أَقْبَلَ رَاکِبٌ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَیْنَ أَنْتَ ؟ قَالَ: مِنْ مَکَّۃَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالَ : قَدْ وَاللہِ غَلَبَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ وَقَطَنَہَا ، فَقُلْتُ : ہَبِلَتْنِی أُمِّی ، لَوْ أُسْلِمُ یَوْمَئِذٍ ، ثُمَّ أَسْأَلُہُ الْحِیرَۃَ لأَقْطَعَنِیہَا ، قَالَ : وَاللہِ لاَ أَشْرَبُ الدَّہْرَ مِنْ کُوزٍ ، وَلاَ یَضْرِطُ الدَّہْرَ تَحْتِی بِرْذَوْنٌ۔ (مسند ۵۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٧) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا۔ آپ پر قافلہ لازم ہے اس کے سوا کوئی چیز نہیں ۔ (یعنی قافلہ کو بھی قابو کریں) پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عباس نے۔۔۔ وہ بیڑی میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔ آواز دی۔ یہ درست نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیوں ؟ عباس نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا (کیا ہوا) وعدہ عطا کردیا ہے۔
(۳۷۸۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قیلَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ : عَلَیْکَ بِالْعِیرِ لَیْسَ دُونَہَا شَیْئٌ ، فَنَادَاہُ الْعَبَّاسُ وَہُوَ أَسِیرٌ فِی وَثَاقِہِ : لاَ یَصْلحُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لِمَہْ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ وَعَدَکَ إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ ، وَقَدْ أَعْطَاکَ مَا وَعَدَکَ۔ (ترمذی ۳۰۸۰۔ احمد ۲۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٨) حضرت زبیر کی اولاد میں سے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ یوم بدر میں حضرت زبیر ایک زرد رنگ عمامہ پہنے ہوئے تھے اور اس کا پلہ منہ پر لیا ہوا تھا۔ پس فرشتے بھی اس حالت میں اترے کہ ان پر زرد رنگ کے عمامہ تھے۔
(۳۷۸۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : کَانَ عَلَی الزُّبَیْرِ یَوْمَ بَدْرٍ عِمَامَۃٌ صَفْرَائُ ، مُعْتَجِرًا بِہَا ، فَنَزَلَتِ الْمَلاَئِکَۃُ وَعَلَیْہِمْ عَمَائِمُ صُفْرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٥٩) حضرت زبیر سے بھی ایسی روایت ہے۔
(۳۷۸۵۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَۃَ ، عَنِ الزُّبَیْرِ ؛ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٠) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا : کیا تم نے اس بات کو حق پا لیا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ (مُردے) اس وقت جو بات کہہ رہا ہوں اس کو سُن رہے ہیں۔
(۳۷۸۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ، عَنْ ہِشَامٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَی قَلِیبِ بَدْرٍ، فَقَالَ: ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّہُمَ الآنَ لَیَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ۔(بخاری ۳۹۸۰۔ مسلم ۶۴۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦١) حضرت ہشام سے روایت ہے کہ یوم بدر کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ دو گھوڑے تھے۔ ان میں سے ایک پر حضرت زبیر تھے۔
(۳۷۸۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ إِلاَّ فَرَسَانِ ، کَانَ عَلَی أَحَدِہِمَا الزُّبَیْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٢) حضرت برائ سے روایت ہے کہ یوم بدر کو مجھے اور ابن عمر کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا گیا تو ہمیں چھوٹا سمجھا گیا اور ہم احد میں شریک ہوئے۔
(۳۷۸۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : عُرِضْتُ أَنَا ، وَابْنُ عُمَرَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ فَاسْتُصْغِرْنَا ، وَشَہِدْنَا أُحُدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشورہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر نے کلام شروع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے (بھی) اعراض کیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی مراد ہم ہیں ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں گھوڑے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیں گے تو البتہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم یہ بھی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو آمادہ فرمایا۔

٢۔ راوی کہتے ہیں۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ بدر میں جا کر اترے تو ان کے پاس قریش کے پانی بھرنے والے اونٹ آپہنچے اور ان میں بنو حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ پس صحابہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا ۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (آ رہے) ہیں۔ پس یہ غلام جب یہ بات کہتا تو صحابہ کرام اس کو مارتے۔ اور جب صحابہ کرام اس کو مارتے تو وہ کہتا۔ ہاں ! میں بتاتا ہوں ۔ یہ ابو سفیان (آ رہا) ہے۔ پھر جب صحابہ کرام اس کو چھوڑ دیتے تو وہ پھر کہتا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف لوگوں کے ساتھ (آ رہے) ہیں۔ پھر جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ کرام پھر اس کو مارتے۔

٣۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مڑے اور فرمایا : اور جب یہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے تو تم اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ فلاں کی جائے قتل ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر فرمایا : یہاں ، یہاں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعیین کردہ جگہ سے کوئی کافر ادھر ادھر (قتل) نہیں ہوا۔
(۳۷۸۶۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ حِینَ بَلَغَہُ إِقْبَالُ أَبِی سُفْیَانَ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عُمَرُ ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : إِیَّانَا تُرِیدُ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِیضَہَا الْبَحْرَ لأَخَضْنَاہَا ، وَلَوْ أَمَرْتنَا أَنْ نَضْرِبَ أَکْبَادَہَا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَنَدَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ۔

قَالَ : فَانْطَلَقُوا حَتَّی نَزَلُوا بَدْرًا وَرَدَتْ عَلَیْہِمْ رَوَایَا قُرَیْشٍ ، وَفِیہِمْ غُلاَمٌ أَسْوَدُ لِبَنِی الْحَجَّاجِ ، فَأَخَذُوہُ ، فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُونَہُ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ وَأَصْحَابِہِ ، فَیَقُولُ : مَا لِی عِلْمٌ بِأَبِی سُفْیَانَ ، وَلَکِنْ ہَذَا أَبُو جَہْلٍ ، وَعُتْبَۃُ ، وَشَیْبَۃُ ، وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ ، فَإِذَا قَالَ ذَلِکَ ضَرَبُوہُ ، فَإِذَا ضَرَبُوہُ ، قَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أُخْبِرُکُمْ ، ہَذَا أَبُو سُفْیَانَ ، فَإِذَا تَرَکُوہُ ، قَالَ : مَا لِی بِأَبِی سُفْیَانَ عِلْمٌ ، وَلَکِنْ ہَذَا أَبُو جَہْلٍ ، وَعُتْبَۃُ ، وَشَیْبَۃُ ، وَأُمَیَّۃُ بْنُ خَلَفٍ فِی النَّاسِ ، فَإِذَا قَالَ ہَذَا أَیْضًا ضَرَبُوہُ۔

وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ یُصَلِّی ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ انْصَرَفَ ، قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّکُمْ لَتَضْرِبُونَہُ إِذَا صَدَقَکُمْ ، وَتَتْرُکُونَہُ إِذَا کَذَبَکُمْ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ ، یَضَعُ یَدَہُ عَلَی الأَرْضِ ہَاہُنَا وَہَاہُنَا ، فَمَا مَاطَ أَحَدُہُمْ عَنْ مَوْضِعِ یَدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم ۱۴۰۳۔ ابوداؤد ۲۶۷۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٤) حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ مکہ، مدینہ کے درمیان چاند دیکھ رہے تھے۔ میری نظر تیز تھی۔ سو میں نے چاند دیکھ لیا۔ میں نے حضرت عمر سے کہنا شروع کیا۔ آپ نے چاند نہیں دیکھا ؟ حضرت عمر دیکھتے رہے لیکن انھیں نظر نہیں آیا ۔ تو انھوں نے فرمایا : مجھے بھی عنقریب نظر آجائے گا۔ میں اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا۔ پھر حضرت عمر نے ہمیں اہل بدر کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہل بدر کے قتل گاہ پچھلی رات دکھا دئیے گئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انشاء اللہ یہ جگہ کل فلاں شخص کی مقتل ہوگی اور یہ جگہ انشاء اللہ فلاں شخص کی مقتل ہوگی۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ وہ کفار انہی حدود پر قتل کئے گئے۔ ان سے خطاء نہیں ہوئے۔ پھر مقتولین کفار کو کنویں میں ایک دوسرے پر ڈال کر پھینک دیا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس پہنچے۔ اور فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! اے فلاں بن فلاں ! اللہ، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے تم نے اس کو برحق پایا ؟ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بات میں کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ نہیں سُن رہے ۔ لیکن یہ بات ہے کہ وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔
(۳۷۸۶۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ نَتَرَائَی الْہِلاَلَ ، فَرَأَیْتُہُ وَکُنْتُ حَدِیدَ الْبَصَرِ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ : مَا تَرَاہُ ؟ وَجَعَلَ عُمَرُ یَنْظُرُ وَلاَ یَرَاہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَأَرَاہُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَی فِرَاشِی ، ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُنَا عَنْ أَہْلِ بَدْرٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیُرِی مَصَارِعَ أَہْلِ بَدْرٍ بِالأَمْسِ ، یَقُولُ : ہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّہُ ، وَہَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّہُ ، قَالَ : فَوَالَّذِی بَعَثَہُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأُوا تِلْکَ الْحُدُودَ یُصْرَعُونَ عَلَیْہَا۔

ثُمَّ جُعِلُوا فِی بِئْرٍ ، بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ ، فَانْطَلَقَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَہَی إِِلَیْہِمْ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ ، وَیَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ : ہَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ حَقًّا ؟ فَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لاَ أَرْوَاحَ فِیہَا ؟ قَالَ : مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْہُمْ ، غَیْرَ أَنَّہُمْ لاَ یَسْتَطِیعُونَ یَرُدُّونَ عَلَیَّ شَیْئًا۔ (احمد ۲۶۔ ابویعلی ۱۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٥) حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ حضرت علی ، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن الحارث نے عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کے ساتھ مبارزت کی تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ }۔
(۳۷۸۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : تَبَارَزَ عَلِیٌّ ، وَحَمْزَۃُ ، وَعُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَعُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ ، وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ ، وَالْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ ، فَنَزَلَتْ فِیہِمْ : {ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ}۔ (بخاری ۳۹۶۵۔ نسائی ۱۱۳۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٦) حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے آواز دی کہ جس کسی نے ام حکیم بنت حزام کو قید کیا ہوا ہے وہ اس کو آزاد کر دے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امان دے دی ہے۔ ایک انصاری آدمی نے ان کو قید کیا تھا اور ان کے ہاتھوں کو پچھلی طرف ان کے بالوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ پس جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی کو سُنا تو انھوں نے اس کو آزاد کردیا۔
(۳۷۸۶۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یُونُسُ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، قَالَ : نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ : مَنْ أَسَرَ أُمَّ حَکِیمٍ بِنْتَ حِزَامٍ فَلْیُخَلِّ سَبِیلَہَا ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَّنَہَا ، فَأَسَرَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَتَفَہَا بِذُؤَابَتِہَا ، فَلَمَّا سَمِعَ مُنَادِیَ رَسُولِ اللہِ خَلَّی سَبِیلَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٧) حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے۔ { وَمَنْ یُوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ ، أَوْ مُتَحَیِّزًا إِلَی فِئَۃٍ } یہ آیت یوم بدر کو نازل ہوئی اور اہل ایمان کے لیے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں تھی۔ اور اگر وہ بھاگتے تو مشرکین ہی کی طرف بھاگنا ہوتا۔
(۳۷۸۶۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ : {وَمَنْ یُوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ ، أَوْ مُتَحَیِّزًا إِلَی فِئَۃٍ} نَزَلَتْ یَوْمَ بَدْرٍ ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ أَنْ یَنْحَازُوا ، وَلَوْ انْحَازُوا لَمْ یَنْحَازُوا إِلاَّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ۔

(ابوداؤد ۲۶۴۱۔ نسائی ۸۶۵۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٦٨) حضرت انس سے روایت ہے کہ بدر کے دن میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلا۔ اور یہ لڑکا محض دیکھنے کے لیے چلا تھا۔ یہ لڑائی کے لیے نہیں چلا تھا۔ اس کو ایک تیر لگ گیا اور اس نے اس کو قتل کردیا۔ پس اس کی والدہ جو کہ میری پھوپھی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئی اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید کرتی ہوں ۔ وگرنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام حارثہ ! سُنو ! جنتیں تو بہت سی ہیں۔ لیکن حارثہ فردوس اعلی میں ہے۔
(۳۷۸۶۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَمَّتِی حَارِثَۃُ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ ، فَانْطَلَقَ غُلاَمًا نَظَّارًا ، مَا انْطَلَقَ لِقِتَالٍ ، فَأَصَابَہُ سَہْمٌ فَقَتَلَہُ، فَجَائَتْ عَمَّتِی أُمُّہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ابْنِی حَارِثَۃُ ، إِنْ یَکُ فِی الْجَنَّۃِ صَبَرْتُ وَاحْتَسَبْتُ ، وَإِلاَّ فَسَتَرَی مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ : یَا أُمَّ حَارِثَۃَ ، إِنَّہَا جِنَانٌ کَثِیرَۃٌ ، وَإِنَّ حَارِثَۃَ فِی الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَی۔ (احمد ۲۱۵۔ طبرانی ۳۲۳۴)
tahqiq

তাহকীক: