মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৮২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٢٩) حضرت عبداللہ بن ثعلبہ عذری سے روایت ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا۔ اے اللہ ! جو آدمی ہم میں سے زیادہ قطع رحمی کرنے والا اور غیر معروف کا زیادہ مرتکب ہے تو اس کو ہلاک کر دے۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات ابو جہل کی طرف سے طلب فتح کی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ ، وَإِنْ تَنْتَہُوا فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ }
(۳۷۸۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ الْعُذْرِیِّ؛ أَنَّ أَبَا جَہْلٍ قَالَ یَوْمَ بَدْرٍ : اللَّہُمَّ أَقْطَعُنَا لِلرَّحِمِ ، وَآتَانَا بِمَا لاَ یُعْرَفُ ، فَأَحِنْہُ الْغَدَاۃَ ، قَالَ : فَکَانَ ذَلِکَ اسْتِفْتَاحًا مِنْہُ ، فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَ کُمَ الْفَتْحُ ، وَإِنْ تَنْتَہُوا فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ} الآیَۃَ۔ (احمد ۴۳۱۔ حاکم ۳۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٠) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ وہ بدر کے دن ابو جہل کے پاس آئے درآنحالیکہ اس میں ہلکی سی رمق باقی تھی۔ تو ابن مسعود نے فرمایا۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل کردیا ہے۔ ابو جہل نے کہا جن لوگوں کو تم نے قتل کیا ہے ان میں سب سے اہم میں ہوں۔
(۳۷۸۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ؛ أَنَّہُ أَتَی أَبَا جَہْلٍ یَوْمَ بَدْرٍ ، وَبِہِ رَمَقٌ ، قَالَ : قَدْ أَخْزَاکَ اللَّہُ ، قَالَ : ہَلْ أَعَمَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوہُ۔ (بخاری ۳۹۶۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣١) حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں، بائیں نظر دوڑائی تو دو کم عمر لڑکے دکھائی دیئے۔ میں نے ان کے کھڑا ہونے کو ناپسند کیا۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے خفیہ مجھ سے کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں۔ دوسرے لڑکے نے بھی اپنے ساتھی سے خفیہ کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمن کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ اس لڑکے نے جواب دیا ۔ میں نے خدا کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمن کہتے ہیں۔ (یہ بات سن کر) مجھے ان دونوں کی جگہ کسی اور کا ہونا پسند نہ آیا۔ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : ابو جہل یہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے ان دونوں کے لیے ابو جہل کی طرف اشارہ کیا ۔ پس وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے گویا کہ وہ شکرے ہیں۔ اور یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ یہاں تک کہ انھوں نے ابو جہل کو مار دیا۔
(۳۷۸۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: إِنِّی لَفِی الصَّفِّ یَوْمَ بَدْرٍ، فَالْتَفَتُّ عَنْ یَمِینِی، وَعَنْ شِمَالِی، فَإِذَا غُلاَمَانِ حَدِیثَا السِّنِّ ، فَکَرِہْتُ مَکَانَہُمَا، فَقَالَ لِی أَحَدُہُمَا سِرًّا مِنْ صَاحِبِہِ : أَیْ عَمِ ، أَرِنِی أَبَا جَہْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا تُرِیدُ مِنْہُ ؟ قَالَ : إِنِّی جَعَلْتُ لِلَّہِ عَلَیَّ إِنْ رَأَیْتُہُ أَنْ أَقْتُلَہُ ، قَالَ : فَقَالَ الآخَرُ أَیْضًا سِرًّا مِنْ صَاحِبِہِ : أَیْ عَمِ ، أَرِنِی أَبَا جَہْلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا تُرِیدُ مِنْہُ ؟ قَالَ : جَعَلْتُ لِلَّہِ عَلَیَّ إِنْ رَأَیْتُہُ أَنْ أَقْتُلَہُ ، قَالَ : فَمَا سَرَّنِی بِمَکَانِہِمَا غَیْرُہُمَا ، قَالَ : قُلْتُ : ہُوَ ذَاکَ ، قَالَ : وَأَشَرْتُ لَہُمَا إِلَیْہِ ، فَابْتَدَرَاہُ کَأَنَّہُمَا صَقْرَانِ ، وَہُمَا ابْنَا عَفْرَائَ حَتَّی ضَرَبَاہُ۔ (بخاری ۳۱۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ ! تو قریش کو پکڑ۔ تین بار۔ ابو جہل بن ہشام کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ کو پکڑ، شیبہ بن ربیعہ کو پکڑ، ولید بن عتبہ کو پکڑ، امیہ بن خلف کو پکڑ، اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ان کفار کو بدر کے کنویں میں مقتول دیکھا۔
(۳۷۸۳۲) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ عَلَیْک بِقُرَیْشٍ ثَلاَثًا : بِأَبِی جَہْلِ بْنِ ہِشَامٍ ، وَعُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ ، وَشَیْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ ، وَالْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ ، وَأُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، وَعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : فَلَقَدْ رَأَیْتُہُمْ قَتْلَی فِی قَلِیبِ بَدْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٣) حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اترے اور مشرکین سامنے آئے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا : اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر (کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں (مسلمانوں) سے لڑائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو (زندہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دو اور لوٹ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا : بخدا ! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ کو دیکھا ہے بزدل ہوگیا ہے۔ بخدا ! (جو یہ کہہ رہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑیں تو وہ کم عدد لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : عتبہ نے کہا : عنقریب اپنی سرین کو زرد کرنے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے۔ بخدا ! میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لیے بقیع کو پکاریں گے۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح (بلند) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہں س ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی۔
(۳۷۸۳۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَخِیہِ یَزِیدَ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ الْمُسْلِمُونَ بَدْرًا وَأَقْبَلَ الْمُشْرِکُونَ ، نَظَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ وَہُوَ عَلَی جَمَلٍ لَہُ أَحْمَرَ ، فَقَالَ : إِنْ یَکُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ خَیْرٌ فَعِنْدَ صَاحِبِ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، إِنْ یُطِیعُوہُ یَرْشُدُوا ، فَقَالَ عُتْبَۃُ : أَطِیعُونِی ، وَلاَ تُقَاتِلُوا ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ ، فَإِنَّکُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَمْ یَزَلْ ذَاکَ فِی قُلُوبِکُمْ ، یَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَی قَاتِلِ أَخِیہِ وَقَاتِلِ أَبِیہِ ، فَاجْعَلُوا فِیَّ جُبْنَہَا وَارْجِعُوا۔
قَالَ : فَبَلَغَتْ أَبَا جَہْلٍ ، فَقَالَ : انْتَفَخَ وَاللہِ سَحْرُہُ حَیْثُ رَأَی مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ ، وَاللہِ مَا ذَاکَ بِہِ ، وَإِنَّمَا ذَاکَ لأَنَّ ابْنَہُ مَعَہُمْ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ أَکْلَۃُ جَزُورٍ لَوْ قَدِ الْتَقَیْنَا ، قَالَ : فَقَالَ عُتْبَۃُ : سَیَعْلَمُ الْمُصَفِّرُ اسْتِہِ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِہِ ، أَمَا وَاللہِ إِنِّی لأَرَی تَحْتَ الْقِشَعِ قَوْمًا لَیَضْرِبُنَّکُمْ ضَرْبًا یَدْعُونَ لَکُمُ الْبَقِیعَ ، أَمَا تَرَوْنَ کَأَنَّ رُؤُوسَہُمْ رُؤُوسُ الأَفَاعِی ، وَکَأَنَّ وُجُوہَہُمَ السُّیُوفُ ؟ قَالَ : ثُمَّ دَعَا أَخَاہُ وَابْنَہُ وَمَشَی بَیْنَہُمَا ، حَتَّی إِذَا فَصَلَ مِنَ الصَّفِّ دَعَا إِلَی الْمُبَارَزَۃِ۔
قَالَ : فَبَلَغَتْ أَبَا جَہْلٍ ، فَقَالَ : انْتَفَخَ وَاللہِ سَحْرُہُ حَیْثُ رَأَی مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ ، وَاللہِ مَا ذَاکَ بِہِ ، وَإِنَّمَا ذَاکَ لأَنَّ ابْنَہُ مَعَہُمْ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَہُ أَکْلَۃُ جَزُورٍ لَوْ قَدِ الْتَقَیْنَا ، قَالَ : فَقَالَ عُتْبَۃُ : سَیَعْلَمُ الْمُصَفِّرُ اسْتِہِ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِہِ ، أَمَا وَاللہِ إِنِّی لأَرَی تَحْتَ الْقِشَعِ قَوْمًا لَیَضْرِبُنَّکُمْ ضَرْبًا یَدْعُونَ لَکُمُ الْبَقِیعَ ، أَمَا تَرَوْنَ کَأَنَّ رُؤُوسَہُمْ رُؤُوسُ الأَفَاعِی ، وَکَأَنَّ وُجُوہَہُمَ السُّیُوفُ ؟ قَالَ : ثُمَّ دَعَا أَخَاہُ وَابْنَہُ وَمَشَی بَیْنَہُمَا ، حَتَّی إِذَا فَصَلَ مِنَ الصَّفِّ دَعَا إِلَی الْمُبَارَزَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٤) حضرت علی سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ میں آئے اور ہم نے وہاں کے پھل کھائے تو وہ ہمیں موافق نہ آئے اور ہمیں شدید بخار آگیا۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب ہمیں یہ بات پہنچی کہ مشرکین آ رہے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف چل پڑے۔ بدر ایک کنویں کا نام ہے۔ سو ہم مشرکین سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تو ہم نے وہاں مشرکین میں سے دو آدمیوں کو پایا۔ ایک آدمی قریش میں سے تھا اور ایک عقبہ بن ابی معیط کا آزاد کردہ غلام تھا۔ جو قریشی تھا وہ تو قریش کی طرف بھاگ گیا اور جو آزاد کردہ غلام تھا اس کو ہم نے پکڑ لیا۔ اور ہم نے اس سے یہ پوچھنا شروع کیا۔ کتنے لوگ ہیں ؟ وہ جواب میں کہتا۔ بخدا ! وہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔ اور ان کی پکڑ بہت سخت ہے۔ جب اس نے یہ بات کہی تو مسلمانوں نے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : کتنے لوگ ہیں ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : بخدا ! یہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں اور شدید پکڑ والے ہیں۔ سو لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ وہ بتادے کہ مشرکین کی تعداد کتنی ہے لیکن اس آدمی نے (مسلسل) انکار کیا۔
٢۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تم کتنے اونٹ ذبح کرتے ہو ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : ہر روز دس اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لوگ ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ ہر ایک اونٹ سو کے لگ بھگ کے لیے (کافی) ہوتا ہے۔
٣۔ پھر ہمیں رات کے وقت ہلکی سی بارش محسوس ہوئی تو ہم درختوں اور ڈھالوں کی طرف بارش سے بچاؤ کرتے ہوئے چل دیے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس رات دعا مانگتے رہے۔ پس جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منادی فرمائی۔ اے بندگان خدا ! نماز کا خیال کرو۔ پس لوگ درختوں اور ڈھالوں میں سے (نکل کر) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور لڑائی پر ابھارا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہاڑوں کی اس سُرخ مثلث کے پاس قریش کی جماعت موجود ہے۔
٤۔ پھر جب یہ لوگ ہمارے قریب ہوئے اور ہم نے صفیں ترتیب دیں تو ان میں سے ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار مشرکین میں چل رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اے علی ! حمزہ کو میری طرف سے آواز دو ۔ یہ مشرکین کے زیادہ قریب تھے۔ کہ یہ سرخ اونٹ والا کون شخص ہے اور یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا۔ اگر لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کے پاس خیر ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (صاحب خیر) یہی سرخ اونٹ والا شخص ہو۔ پھر حضرت حمزہ تشریف لائے اور فرمایا : یہ شخص عتبہ بن ربیعہ ہے۔ اور یہ لوگوں کو لڑائی سے منع کررہا ہے اور انھیں یہ کہہ رہا ہے۔ اے میری قوم ! میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو موت کی متمنی ہے اور تم ان تک اس حالت میں نہیں پہنچ سکتے کہ تم میں کوئی خیر (یعنی فتح) ہو۔ اے میری قوم ! ملامت کو میرے سر باندھو اور یہ کہہ لینا۔ عتبہ بزدل ہوگیا ہے۔ حالانکہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں۔
٥۔ پس یہ بات ابو جہل نے سُنی تو اس نے کہا۔ تُو یہ بات کہہ رہا ہے ؟ اگر تمہارے سوا کوئی اور شخص یہ بات کرتا تو میں اس کو کٹوا دیتا۔ تحقیق تیرا پھیپھڑا اور پیٹ رعب سے بھر دیا گیا ہے۔ عتبہ نے کہا ۔ اے اپنی سرین کو پیلا کرنے والے ! تو مجھے عار دلاتا ہے۔ عنقریب آج کے دن تو جان جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ بزدل ہے ؟
٦۔ راوی کہتے ہیں پھر عتبہ اور اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹاو لید، غیرت کھاتے ہوئے سامنے آئے اور کہنے لگے۔ کون مقابل آئے گا ؟ تو انصاریوں سے چھ جوان باہر نکلے تو عتبہ نے کہا۔ ہمیں ان لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے مقابل ہمارے چچا زاد، بنی عبد المطلب میں سے کوئی آئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے حمزہ ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے عبیدۃ بن الحارث ! کھڑے ہو جاؤ۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کیا اور حضرت عبیدہ بن الحارث کو زخم آگئے۔ اور ہم نے مشرکین میں سے ستر کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا۔
٧۔ راوی کہتے ہیں : پھر انصار میں سے ایک پستہ قد آدمی عباس کو قید کر کے لائے۔ عباس کہنے لگے۔ بلاشبہ، بخدا ! مجھے اس انصاری نے قید نہیں کیا۔ بلکہ مجھے ایک گنجے آدمی نے جو بہت خوبصورت چہرے والا تھا۔ قید کیا ہے اور وہ سفید و سیاہ داغ والے گھوڑے پر سوار تھا۔ مں اس آدمی کو (آپ کے) لشکر میں نہیں دیکھ رہا۔ انصاری نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ہی اس کو قیدی بنایا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصاری سے کہا : خاموش ہو جاؤ۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے معزز فرشتہ کے ذریعہ تمہاری تائید کی ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں بنو عبد المطلب میں سے عباس، عقیل اور نوفل بن الحارث قیدی بنائے گے۔
٢۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تم کتنے اونٹ ذبح کرتے ہو ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : ہر روز دس اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لوگ ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ ہر ایک اونٹ سو کے لگ بھگ کے لیے (کافی) ہوتا ہے۔
٣۔ پھر ہمیں رات کے وقت ہلکی سی بارش محسوس ہوئی تو ہم درختوں اور ڈھالوں کی طرف بارش سے بچاؤ کرتے ہوئے چل دیے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس رات دعا مانگتے رہے۔ پس جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منادی فرمائی۔ اے بندگان خدا ! نماز کا خیال کرو۔ پس لوگ درختوں اور ڈھالوں میں سے (نکل کر) آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور لڑائی پر ابھارا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہاڑوں کی اس سُرخ مثلث کے پاس قریش کی جماعت موجود ہے۔
٤۔ پھر جب یہ لوگ ہمارے قریب ہوئے اور ہم نے صفیں ترتیب دیں تو ان میں سے ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار مشرکین میں چل رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اے علی ! حمزہ کو میری طرف سے آواز دو ۔ یہ مشرکین کے زیادہ قریب تھے۔ کہ یہ سرخ اونٹ والا کون شخص ہے اور یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے فرمایا۔ اگر لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کے پاس خیر ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (صاحب خیر) یہی سرخ اونٹ والا شخص ہو۔ پھر حضرت حمزہ تشریف لائے اور فرمایا : یہ شخص عتبہ بن ربیعہ ہے۔ اور یہ لوگوں کو لڑائی سے منع کررہا ہے اور انھیں یہ کہہ رہا ہے۔ اے میری قوم ! میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو موت کی متمنی ہے اور تم ان تک اس حالت میں نہیں پہنچ سکتے کہ تم میں کوئی خیر (یعنی فتح) ہو۔ اے میری قوم ! ملامت کو میرے سر باندھو اور یہ کہہ لینا۔ عتبہ بزدل ہوگیا ہے۔ حالانکہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں۔
٥۔ پس یہ بات ابو جہل نے سُنی تو اس نے کہا۔ تُو یہ بات کہہ رہا ہے ؟ اگر تمہارے سوا کوئی اور شخص یہ بات کرتا تو میں اس کو کٹوا دیتا۔ تحقیق تیرا پھیپھڑا اور پیٹ رعب سے بھر دیا گیا ہے۔ عتبہ نے کہا ۔ اے اپنی سرین کو پیلا کرنے والے ! تو مجھے عار دلاتا ہے۔ عنقریب آج کے دن تو جان جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ بزدل ہے ؟
٦۔ راوی کہتے ہیں پھر عتبہ اور اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹاو لید، غیرت کھاتے ہوئے سامنے آئے اور کہنے لگے۔ کون مقابل آئے گا ؟ تو انصاریوں سے چھ جوان باہر نکلے تو عتبہ نے کہا۔ ہمیں ان لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے مقابل ہمارے چچا زاد، بنی عبد المطلب میں سے کوئی آئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے حمزہ ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے عبیدۃ بن الحارث ! کھڑے ہو جاؤ۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کیا اور حضرت عبیدہ بن الحارث کو زخم آگئے۔ اور ہم نے مشرکین میں سے ستر کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا۔
٧۔ راوی کہتے ہیں : پھر انصار میں سے ایک پستہ قد آدمی عباس کو قید کر کے لائے۔ عباس کہنے لگے۔ بلاشبہ، بخدا ! مجھے اس انصاری نے قید نہیں کیا۔ بلکہ مجھے ایک گنجے آدمی نے جو بہت خوبصورت چہرے والا تھا۔ قید کیا ہے اور وہ سفید و سیاہ داغ والے گھوڑے پر سوار تھا۔ مں اس آدمی کو (آپ کے) لشکر میں نہیں دیکھ رہا۔ انصاری نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ہی اس کو قیدی بنایا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصاری سے کہا : خاموش ہو جاؤ۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے معزز فرشتہ کے ذریعہ تمہاری تائید کی ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں بنو عبد المطلب میں سے عباس، عقیل اور نوفل بن الحارث قیدی بنائے گے۔
(۳۷۸۳۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ ، فَأَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِہَا اجْتَوَیْنَاہَا وَأَصَابَنَا وَعْکٌ ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ ، قَالَ : فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَدْ أَقْبَلُوا ، سَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بَدْرٍ ، وَبَدْرُ بِئْرٌ ، فَسَبَقْنَا الْمُشْرِکِینَ إِلَیْہَا ، فَوَجَدْنَا فِیہَا رَجُلَیْنِ مِنْہُمْ ؛ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ ، وَمَوْلًی لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ ، فَأَمَّا الْقُرَشِیُّ فَانْفَلَتَ إِلَیْہَا ، وَأَمَّا الْمَوْلَی فَأَخَذْنَاہُ ، فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَہُ : کَمَ الْقَوْمُ؟ فَیَقُولُ : ہُمْ وَاللہِ کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ ، شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَالَ ذَاکَ ضَرَبُوہُ ، حَتَّی انْتَہَوْا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ : کَمَ الْقَوْمُ ؟ فَقَالَ : ہُمْ وَاللہِ کَثِیرٌ عَدَدُہُمْ ، شَدِیدٌ بَأْسُہُمْ ، فَجَہَدَ الْقَوْمُ عَلَی أَنْ یُخْبِرَہُمْ کَمْ ہُمْ ، فَأَبَی۔
ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَأَلَہُ : کَمْ یَنْحَرُونَ ؟ فَقَالَ : عَشْرًا کُلَّ یَوْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْقَوْمُ أَلْفٌ ، کُلُّ جَزُورٍ لِمِئَۃٍ وَتَبَعِہَا۔
ثُمَّ إِنَّہُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّیْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَہَا مِنَ الْمَطَرِ ، قَالَ : وَبَاتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَتَئِذٍ یَدْعُو رَبَّہُ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَی : الصَّلاَۃَ عِبَادَ اللہِ ، فَجَائَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ ، فَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَحَرَّضَ عَلَی الْقِتَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ جَمْعَ قُرَیْشٍ عِنْدَ ہَذِہِ الضِّلَعَۃِ الْحَمْرَائِ مِنَ الْجَبَلِ ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاہُمْ، إِذَا رَجُلٌ مِنْہُمْ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ یَسِیرُ فِی الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَلِیُّ ، نَادِ لِی حَمْزَۃَ ، وَکَانَ أَقْرَبَہُمْ إِلَی الْمُشْرِکِینَ ؛ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، وَمَا یَقُولُ لَہُمْ ۔ ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنْ یَکُ فِی الْقَوْمِ أَحَدٌ، فَعَسَی أَنْ یَکُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، فَجَائَ حَمْزَۃُ، فَقَالَ: ہُوَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ، وَہُوَ یَنْہَی عَنِ الْقِتَالِ، وَیَقُولُ لَہُمْ: یَا قَوْمُ ، إِنِّی أَرَی قَوْمًا مُسْتَمِیتِینَ ، لاَ تَصِلُونَ إِلَیْہِمْ وَفِیکُمْ خَیْرٌ ، یَا قَوْمُ ، اِعْصِبُوا اللَّوْمَ بِرَأْسِی ، وَقُولُوا : جَبُنَ عُتْبَۃُ ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّی لَسْتُ بِأَجْبَنِکُمْ۔
فَسَمِعَ ذَلِکَ أَبُو جَہْلٍ ، فَقَالَ : أَنْتَ تَقُولُ ہَذَا ، لَوْ غَیْرُکَ قَالَ ہَذَا أَعْضَضْتُہُ ، لَقَدْ مُلِئَتْ رِئَتُکَ وَجَوْفُکَ رُعْبًا ، فَقَالَ عُتْبَۃُ : إِیَّایَ تُعَیِّرُ یَا مُصَفِّرَ اسْتِہِ ، سَتَعْلَمُ الْیَوْمَ أَیُّنَا أَجْبَنُ ؟۔
قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَۃُ ، وَأَخُوہُ شَیْبَۃُ ، وَابْنُہُ الْوَلِیدُ حَمِیَّۃً ، فَقَالُوا : مَنْ مُبَارِزٌ ؟ فَخَرَجَ فِتْیَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ سِتَّۃٌ ، فَقَالَ عُتْبَۃُ : لاَ نُرِیدُ ہَؤُلاَئِ ، وَلَکِنْ یُبَارِزُنَا مِنْ بَنِی عَمِّنَا ، مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُمْ یَا عَلِیُّ ، قُمْ یَا حَمْزَۃُ ، قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ بْنَ الْحَارِثِ ، فَقَتَلَ اللَّہُ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ ، وَشَیْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ ، وَالْوَلِیدَ بْنَ عُتْبَۃَ ، وَجُرِحَ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَتَلْنَا مِنْہُمْ سَبْعِینَ وَأَسَرْنَا سَبْعِینَ۔
قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَصِیرٌ بِالْعَبَّاسِ أَسِیرًا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِنَّ ہَذَا وَاللہِ مَا أَسَرَنِی ، لَقَدْ أَسَرَنِی رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْہًا ، عَلَی فَرَسٍ أَبْلَقَ ، مَا أَرَاہُ فِی الْقَوْمِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : أَنَا أَسَرْتُہُ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ لَہُ : اُسْکُتْ ، لَقَدْ أَیَّدَکَ اللَّہُ بِمَلَکٍ کَرِیمٍ ، قَالَ عَلِیٌّ : فَأُسِرَ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسُ، وَعَقِیلٌ ، وَنَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ۔ (ابوداؤد ۲۶۵۸۔ احمد ۱۱۷)
ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَأَلَہُ : کَمْ یَنْحَرُونَ ؟ فَقَالَ : عَشْرًا کُلَّ یَوْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْقَوْمُ أَلْفٌ ، کُلُّ جَزُورٍ لِمِئَۃٍ وَتَبَعِہَا۔
ثُمَّ إِنَّہُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّیْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ ، فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَہَا مِنَ الْمَطَرِ ، قَالَ : وَبَاتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَتَئِذٍ یَدْعُو رَبَّہُ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَی : الصَّلاَۃَ عِبَادَ اللہِ ، فَجَائَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ ، فَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَحَرَّضَ عَلَی الْقِتَالِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ جَمْعَ قُرَیْشٍ عِنْدَ ہَذِہِ الضِّلَعَۃِ الْحَمْرَائِ مِنَ الْجَبَلِ ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَافَفْنَاہُمْ، إِذَا رَجُلٌ مِنْہُمْ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ یَسِیرُ فِی الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَلِیُّ ، نَادِ لِی حَمْزَۃَ ، وَکَانَ أَقْرَبَہُمْ إِلَی الْمُشْرِکِینَ ؛ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، وَمَا یَقُولُ لَہُمْ ۔ ثُمَّ قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنْ یَکُ فِی الْقَوْمِ أَحَدٌ، فَعَسَی أَنْ یَکُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، فَجَائَ حَمْزَۃُ، فَقَالَ: ہُوَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ، وَہُوَ یَنْہَی عَنِ الْقِتَالِ، وَیَقُولُ لَہُمْ: یَا قَوْمُ ، إِنِّی أَرَی قَوْمًا مُسْتَمِیتِینَ ، لاَ تَصِلُونَ إِلَیْہِمْ وَفِیکُمْ خَیْرٌ ، یَا قَوْمُ ، اِعْصِبُوا اللَّوْمَ بِرَأْسِی ، وَقُولُوا : جَبُنَ عُتْبَۃُ ، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّی لَسْتُ بِأَجْبَنِکُمْ۔
فَسَمِعَ ذَلِکَ أَبُو جَہْلٍ ، فَقَالَ : أَنْتَ تَقُولُ ہَذَا ، لَوْ غَیْرُکَ قَالَ ہَذَا أَعْضَضْتُہُ ، لَقَدْ مُلِئَتْ رِئَتُکَ وَجَوْفُکَ رُعْبًا ، فَقَالَ عُتْبَۃُ : إِیَّایَ تُعَیِّرُ یَا مُصَفِّرَ اسْتِہِ ، سَتَعْلَمُ الْیَوْمَ أَیُّنَا أَجْبَنُ ؟۔
قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَۃُ ، وَأَخُوہُ شَیْبَۃُ ، وَابْنُہُ الْوَلِیدُ حَمِیَّۃً ، فَقَالُوا : مَنْ مُبَارِزٌ ؟ فَخَرَجَ فِتْیَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ سِتَّۃٌ ، فَقَالَ عُتْبَۃُ : لاَ نُرِیدُ ہَؤُلاَئِ ، وَلَکِنْ یُبَارِزُنَا مِنْ بَنِی عَمِّنَا ، مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُمْ یَا عَلِیُّ ، قُمْ یَا حَمْزَۃُ ، قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ بْنَ الْحَارِثِ ، فَقَتَلَ اللَّہُ عُتْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ ، وَشَیْبَۃَ بْنَ رَبِیعَۃَ ، وَالْوَلِیدَ بْنَ عُتْبَۃَ ، وَجُرِحَ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَتَلْنَا مِنْہُمْ سَبْعِینَ وَأَسَرْنَا سَبْعِینَ۔
قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَصِیرٌ بِالْعَبَّاسِ أَسِیرًا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِنَّ ہَذَا وَاللہِ مَا أَسَرَنِی ، لَقَدْ أَسَرَنِی رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْہًا ، عَلَی فَرَسٍ أَبْلَقَ ، مَا أَرَاہُ فِی الْقَوْمِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : أَنَا أَسَرْتُہُ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ لَہُ : اُسْکُتْ ، لَقَدْ أَیَّدَکَ اللَّہُ بِمَلَکٍ کَرِیمٍ ، قَالَ عَلِیٌّ : فَأُسِرَ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسُ، وَعَقِیلٌ ، وَنَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ۔ (ابوداؤد ۲۶۵۸۔ احمد ۱۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٥) حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن ایک تلوار ملی تو وہ مجھے پسند آئی۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ مجھے ہدیۃً دے دیجئے ۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ }۔
(۳۷۸۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَصَبْتُ سَیْفًا یَوْمَ بَدْرٍ فَأَعْجَبَنِی ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَبْہُ لِی ، فَنَزَلَتْ : {یَسْأَلُونَک عَنِ الأَنْفَالِ} الآیَۃَ۔
(مسلم ۳۴۔ احمد ۱۸۱)
(مسلم ۳۴۔ احمد ۱۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٦) حضرت زہری : سے روایت ہے کہ ابو جہل ہی نے بدر کے دن فتح کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا۔ اے اللہ ! ہم میں سے جو زیادہ گناہ گار اور زیادہ قطع رحمی کرنے والا ہے تو اس کو آج (بدر) کے دن ہلاک کر دے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا ، فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ }۔
(۳۷۸۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ أَبَا جَہْلٍ ہُوَ الَّذِی اسْتَفْتَحَ یَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ أَیُّنَا کَانَ أَفْجَرَ بِکَ ، وَأَقْطَعَ لِرَحِمِہِ ، فَأَحِنْہُ الْیَوْمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا ، فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٧) حضرت عیزار بن حریث بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے ندا کی۔ لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کو بھی سوائے ابو البختری کے۔ امن نہیں حاصل ہے۔ پس جس کسی نے ابو البختری کو قید کیا ہے وہ اس کو رہا کر دے۔ کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو امان دیا ہے۔ پھر لوگوں نے ان کو مقتول پایا۔
(۳۷۸۳۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ حُرَیْثٍ ، قَالَ : نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ : لَیْسَ لأَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ ، یَعْنِی أَمَانًا إِلاَّ أَبَا الْبَخْتَرِی ، فَمَنْ کَانَ أَسَرَہُ فَلْیُخَلِّ سَبِیلَہُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَّنَہُ ، فَوَجَدُوہُ قَدْ قُتِلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٨) حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں نے ابو ذر کو قسم کھا کر کہتے سُنا کہ یہ (آئندہ) آیات بدر کے دن ان چھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ علی ، حمزہ اور عبیدہ بن الحارث ، اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔ (آیات یہ ہیں) { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ }۔
(۳۷۸۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ الْوَاسِطِیِّ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یُقْسِمُ : لَنَزَلَتْ ہَؤُلاَئِ الآیَاتُ فِی ہَؤُلاَئِ الرَّہْطِ السِّتَّۃِ یَوْمَ بَدْرٍ : عَلِیٍّ ، وَحَمْزَۃَ ، وَعُبَیْدَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَعُتْبَۃَ ، وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ ، وَالْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ : {ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ}۔
(بخاری ۳۹۶۸۔ مسلم ۳۴)
(بخاری ۳۹۶۸۔ مسلم ۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٣٩) حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا۔ تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کو دیکھا تو وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا رُخ مبارک قبلہ کی جانب کرلیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ اور (اس وقت) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر اور ازار بند تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا۔ اے اللہ ! آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ کہاں ہے ؟ اے اللہ ! اگر اہل اسلام میں سے یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو (پھر) آپ کی اس دھرتی پر کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہے اور اللہ سے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر مبارک گرگئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت ابوبکر حاضر ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر پکڑ لی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (دوبارہ) چادر پہنائی۔ پھر حضرت ابوبکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سے ساتھ لگ گئے پھر کہا : اے پیغمبر خدا ! آپ نے اپنے پروردگار سے جو مطالبہ کرلیا ہے کافی ہے۔ آپ کا پروردگار عنقریب آپ کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو پورا کر دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مُرْدِفِینَ }۔
٢۔ پھر جب یہ دن (بدر کا) آیا اور باہم آمنا سامنا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی پس ان میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا گیا اور ستر آدمیوں کو ان میں سے قیدی بنایا گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت علی سے مشورہ کیا۔ تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ (قیدی) لوگ (ہمارے) چچا زاد، قوم اور بھائیوں میں سے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں۔ پس ان سے ہم جو (فدیہ) لیں گے وہ کفار پر قوت ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے تو یہ لوگ ہمارے لیے دست وبازو بن جائیں گے۔
٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میری رائے وہ نہیں ہے جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں شخص ، عمر کا رشتہ دار ، کو میرے حوالہ کریں تاکہ میں اس کی گردن مار ڈالوں۔ اور حضرت علی کے حوالہ عقیل کو کریں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی رحمدلی نہیں ہے۔ یہ لوگ مشرکین کے سرغنہ، لیڈر اور راہنما ہیں۔
٤۔ جو بات حضرت ابوبکر نے پیش فرمائی تھی وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پسند آگئی اور جو بات میں نے عرض کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ پسند نہ آئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے فدیہ وصول کرلیا۔
٥۔ پھر اگلا دن ہوا تو حضرت عمر فرماتے ہیں۔ تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتائیے ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر مجھے رونے کی بات معلوم ہوئی تو میں بھی روؤں گا وگرنہ آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے میں بتکلف ہی رو لوں گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھیوں نے جو فدیہ کے بارے میں میرے سامنے رائے پیش کی تو تحقیق مجھے اس درخت (قریب میں موجود درخت کی طرف اشارہ فرمایا) سے بھی قریب تمہارا عذاب پیش کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا } سے لے کر { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ } یعنی فدیہ { عَذَابٌ عَظِیمٌ} پھر صحابہ کے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا۔
٦۔ پھر جب اگلے سال احد کا دن آیا تو صحابہ کرام نے بدر کے دن جو فدیہ لیا تھا اس کا صحابہ کو بدلہ دیا گیا۔ پس صحابہ میں ستر شہید ہوئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بھاگ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے والی رباعی ٹوٹ گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر موجود خود ٹوٹ گئی اور خون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ے رُخ مبارک پر بہہ پڑا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی { أَوَ لَمَّا أَصَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ أَنَّی ہَذَا ، قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِکُمْ ، إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} یعنی فدیہ لے کر۔
٢۔ پھر جب یہ دن (بدر کا) آیا اور باہم آمنا سامنا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی پس ان میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا گیا اور ستر آدمیوں کو ان میں سے قیدی بنایا گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت علی سے مشورہ کیا۔ تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ (قیدی) لوگ (ہمارے) چچا زاد، قوم اور بھائیوں میں سے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں۔ پس ان سے ہم جو (فدیہ) لیں گے وہ کفار پر قوت ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے تو یہ لوگ ہمارے لیے دست وبازو بن جائیں گے۔
٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میری رائے وہ نہیں ہے جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں شخص ، عمر کا رشتہ دار ، کو میرے حوالہ کریں تاکہ میں اس کی گردن مار ڈالوں۔ اور حضرت علی کے حوالہ عقیل کو کریں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی رحمدلی نہیں ہے۔ یہ لوگ مشرکین کے سرغنہ، لیڈر اور راہنما ہیں۔
٤۔ جو بات حضرت ابوبکر نے پیش فرمائی تھی وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پسند آگئی اور جو بات میں نے عرض کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ پسند نہ آئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے فدیہ وصول کرلیا۔
٥۔ پھر اگلا دن ہوا تو حضرت عمر فرماتے ہیں۔ تو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتائیے ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر مجھے رونے کی بات معلوم ہوئی تو میں بھی روؤں گا وگرنہ آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے میں بتکلف ہی رو لوں گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھیوں نے جو فدیہ کے بارے میں میرے سامنے رائے پیش کی تو تحقیق مجھے اس درخت (قریب میں موجود درخت کی طرف اشارہ فرمایا) سے بھی قریب تمہارا عذاب پیش کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا } سے لے کر { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ } یعنی فدیہ { عَذَابٌ عَظِیمٌ} پھر صحابہ کے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا۔
٦۔ پھر جب اگلے سال احد کا دن آیا تو صحابہ کرام نے بدر کے دن جو فدیہ لیا تھا اس کا صحابہ کو بدلہ دیا گیا۔ پس صحابہ میں ستر شہید ہوئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بھاگ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے والی رباعی ٹوٹ گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر موجود خود ٹوٹ گئی اور خون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ے رُخ مبارک پر بہہ پڑا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی { أَوَ لَمَّا أَصَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ أَنَّی ہَذَا ، قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِکُمْ ، إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} یعنی فدیہ لے کر۔
(۳۷۸۳۹) حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاکٌ الْحَنَفِیُّ أَبُو زُمَیْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ ، نَظَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أَصْحَابِہِ ، وَہُمْ ثَلاَثُ مِئَۃٍ وَنَیِّفٌ ، وَنَظَرَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ فَإِذَا ہُمْ أَلْفٌ وَزِیَادَۃٌ ، فَاسْتَقْبَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَۃَ ، ثُمَّ مَدَّ یَدَیْہِ ، وَعَلَیْہِ رِدَاؤُہُ وَإِزَارُہُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ أَیْنَ مَا وَعَدْتَنِی ، اللَّہُمَّ إِنْ تُہْلِکْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ أَہْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِی الأَرْضِ أَبَدًا ، قَالَ : فَمَا زَالَ یَسْتَغِیثُ رَبَّہُ وَیَدْعُوہُ حَتَّی سَقَطَ رِدَاؤُہُ ، فَأَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ رِدَائَہُ فَرَدَّاہُ ، ثُمَّ الْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، کَفَاکَ مُنَاشَدَتَکَ رَبَّکَ ، فَإِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مُرْدِفِینَ} فَلَمَّا کَانَ یَوْمَئِذٍ وَالْتَقَوْا ، ہَزَمَ اللَّہُ الْمُشْرِکِینَ ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلا ، وَأُسِرَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ رَجُلا ، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ، وَعُمَرَ ، وَعَلِیًّا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، ہَؤُلاَئِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِیرَۃِ وَالإِخْوَانِ ، فَإِنِّی أَرَی أَنْ تَأْخُذَ مِنْہُمَ الْفِدْیَۃَ ، فَیَکُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْہُمْ قُوَّۃً عَلَی الْکُفَّارِ ، وَعَسَی اللَّہُ أَنْ یَہْدِیَہُمْ فَیَکُونُوا لَنَا عَضُدًا۔
فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ قُلْتُ : وَاللہِ مَا أَرَی الَّذِی رَأَی أَبُو بَکْرٍ ، وَلَکِنْ أَرَی أَنْ تُمَکِّنَنِی مِنْ فُلاَنٍ ، قَرِیبًا لِعُمَرَ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ ، وَتُمَکِّنَ عَلِیًّا مِنْ عَقِیلٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ ، وَتُمَکِّنَ حَمْزَۃَ مِنْ أَخِیہِ فُلاَنٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ ، حَتَّی یَعْلَمَ اللَّہُ أَنَّہُ لَیْسَ فِی قُلُوبِنَا ہَوَادَۃٌ لِلْمُشْرِکِینَ ، ہَؤُلاَئِ صَنَادِیدُہُمْ ، وَأَئِمَّتُہُمْ ، وَقَادَتُہُمْ۔
فَہَوِیَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ ، وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ ، فَأَخَذَ مِنْہُمَ الْفِدَائَ۔
فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ ، قَالَ عُمَرُ : غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ ، وَأَبُو بَکْرٍ یَبْکِیَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ : أَخْبِرْنِی مَاذَا یُبْکِیکَ أَنْتَ وَصَاحِبُکَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُکَائً تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکُمْ مِنَ الْفِدَائِ ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنَی مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ، لِشَجَرَۃٍ قَرِیبَۃٍ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ : {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا} إِلَی قَوْلِہِ : {لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ} مِنَ الْفِدَائِ {عَذَابٌ عَظِیمٌ} ثُمَّ أَحَلَّ لَہُمَ الْغَنَائِمَ۔
فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِہِم الْفِدَائَ ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ ، وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَہُشِّمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلَی رَأْسِہِ ، وَسَالَ الدَّمُ عَلَی وَجْہِہِ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ : {أَوَ لَمَّا أَصَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ أَنَّی ہَذَا ، قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِکُمْ ، إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} ، بِأَخْذِکُمُ الْفِدَائَ۔
فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ قُلْتُ : وَاللہِ مَا أَرَی الَّذِی رَأَی أَبُو بَکْرٍ ، وَلَکِنْ أَرَی أَنْ تُمَکِّنَنِی مِنْ فُلاَنٍ ، قَرِیبًا لِعُمَرَ ، فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ ، وَتُمَکِّنَ عَلِیًّا مِنْ عَقِیلٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ ، وَتُمَکِّنَ حَمْزَۃَ مِنْ أَخِیہِ فُلاَنٍ فَیَضْرِبَ عُنُقَہُ ، حَتَّی یَعْلَمَ اللَّہُ أَنَّہُ لَیْسَ فِی قُلُوبِنَا ہَوَادَۃٌ لِلْمُشْرِکِینَ ، ہَؤُلاَئِ صَنَادِیدُہُمْ ، وَأَئِمَّتُہُمْ ، وَقَادَتُہُمْ۔
فَہَوِیَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ ، وَلَمْ یَہْوَ مَا قُلْتُ ، فَأَخَذَ مِنْہُمَ الْفِدَائَ۔
فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ ، قَالَ عُمَرُ : غَدَوْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِذَا ہُوَ قَاعِدٌ ، وَأَبُو بَکْرٍ یَبْکِیَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ : أَخْبِرْنِی مَاذَا یُبْکِیکَ أَنْتَ وَصَاحِبُکَ ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُکَائً بَکَیْتُ ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُکَائً تَبَاکَیْتُ لِبُکَائِکُمَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الَّذِی عَرَضَ عَلَیَّ أَصْحَابُکُمْ مِنَ الْفِدَائِ ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَیَّ عَذَابُکُمْ أَدْنَی مِنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ، لِشَجَرَۃٍ قَرِیبَۃٍ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ : {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا} إِلَی قَوْلِہِ : {لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ} مِنَ الْفِدَائِ {عَذَابٌ عَظِیمٌ} ثُمَّ أَحَلَّ لَہُمَ الْغَنَائِمَ۔
فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا یَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِہِم الْفِدَائَ ، فَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ ، وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَہُشِّمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلَی رَأْسِہِ ، وَسَالَ الدَّمُ عَلَی وَجْہِہِ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ : {أَوَ لَمَّا أَصَابَتْکُمْ مُصِیبَۃٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَیْہَا قُلْتُمْ أَنَّی ہَذَا ، قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِکُمْ ، إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ} ، بِأَخْذِکُمُ الْفِدَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٠) حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رقیہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔ یہ حضرت عثمان کی اہلیہ تھیں۔ پس حضرت عثمان اور حضرت اسامہ بن زید اس دن پیچھے رہ گئے۔ پھر جب یہ لوگ حضرت زید کو دفن کر رہے تھے تو اس دوران حضرت عثمان نے تکبیر کی آواز سُنی۔ تو حضرت عثمان نے کہا : اے اسامہ ! یہ تکبیر کی آواز کیسی ؟ حضرت اسامہ نے دیکھا وہ حضرت زید بن حارثہ تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدعاء (ناک کٹی) اونٹنی پر سوار تھے اور اہل بدر مشرکوں کی ہلاکت کی بشارت دے رہے تھے۔ (اس پر) منافقین نے کہا : بخدا ! یہ کوئی (معتبر) بات نہیں ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے۔ یہاں تک کہ مشرکین کو مقید کر کے اور خوب کس کر لایا گیا۔
(۳۷۸۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رُقَیَّۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُوُفِّیَتْ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بَدْرٍ، وَہِیَ امْرَأَۃُ عُثْمَانَ، فَتَخَلَّفَ عُثْمَان، وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ یَوْمَئِذٍ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ یَدْفِنُونَہَا إِذْ سَمِعَ عُثْمَانُ تَکْبِیرًا ، فَقَالَ : یَا أُسَامَۃُ ، اُنْظُرْ مَا ہَذَا التَّکْبِیرُ؟ فَنَظَرَ، فَإِذَا ہُوَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ عَلَی نَاقَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَائِ ، یُبَشِّرُ بِقَتْلِ أَہْلِ بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : لاَ وَاللہِ مَا ہَذَا بِشَیْئٍ ، مَا ہَذَا إِلاَّ الْبَاطِلُ ، حَتَّی جِیئَ بِہِمْ مُصَفَّدِینَ مُغَلَّلِینَ۔
(حاکم ۲۱۷۔ بیہقی ۱۷۴)
(حاکم ۲۱۷۔ بیہقی ۱۷۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤١) حضرت عبیدہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ بدر کے دن مشرکین میں سے ستر افراد قید کئے گئے اور ستر مشرکین قتل کئے گئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو جمع فرمایا اور ان کو (قیدیوں کے بارے میں) اختیار دیا اور فرمایا۔ جو تم چاہو گے (وہی ہوگا) اگر تم چاہو گے تو تم انھیں قتل کردو اور تم میں سے ان کی تعداد کے بقدر قتل کئے جائیں گے۔ اور اگر چاہو تو تم فدیہ لے لو۔ تاکہ تم اس کے ذریعہ راہ خدا میں تقویت پاؤ۔ انصار نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم فدیہ لیتے ہیں جس کے ذریعہ ہم راہ خدا میں تقویت حاصل کریں گے اور ہم میں اس کے بقدر قتل کئے جائیں۔ راوی کہتے ہیں : پس کفار کی تعداد کے بقدر صحابہ میں سے یوم احد کو قتل ہوگئے۔
(۳۷۸۴۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبِیدَۃَ السَّلْمَانِیِّ ، قَالَ : أُسِرَ یَوْمَ بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ سَبْعُونَ رَجُلاً ، وَقُتِلَ مِنْہُمْ سَبْعُونَ ، فَجَمَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ فَخَیَّرَہُمْ ، فَقَالَ : مَا شِئْتُمْ ، إِنْ شِئْتُمْ اُقْتُلُوہُمْ ، وَیُقْتَلُ مِنْکُمْ عِدَّتُہُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْتُمْ فِدَائَہُمْ ، فَتَقَوَّیْتُمْ بِہِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، نَأْخُذُ الْفِدَائَ نَتَقَوَّی بِہِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، وَیُقْتَلُ مِنَّا عِدَّتُہُمْ ، قَالَ : فَقُتِلَ مِنْہُمْ عِدَّتُہُمْ یَوْمَ أُحُدٍ۔ (عبدالرزاق ۹۴۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٢) حضرت علی بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عبد الرحیم کی حدیث کی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
(۳۷۸۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِیُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ بِنَحْوِ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحِیمِ۔ (ترمذی ۱۵۶۷۔ حاکم ۱۴۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٣) حضرت زید بن یثیع سے روایت ہے کہ بدر کے دن حضرت ابوبکر ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ چھپر پر تھے۔ راوی کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا مانگنی شروع کی اور فرمایا : ” اے اللہ ! اس جماعت کی مدد فرما۔ اگر تو مدد نہیں کرے گا تو دھرتی پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ “ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یہ آپ کی اپنے رب کے ساتھ مناجات ہیں۔ بخدا ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا فرمائے گا۔
(۳۷۸۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ ، قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ عَلَی الْعَرِیشِ ، قَالَ : فَجَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُو ، یَقُولُ : اللَّہُمَّ اُنْصُرْ ہَذِہِ الْعِصَابَۃَ ، فَإِنَّک إِنْ لَمْ تَفْعَلْ لَمْ تُعْبَدْ فِی الأَرْضِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : بَعْضَ مُنَاشَدَتِکَ رَبَّک ، فَوَاللہِ لَیُنْجِزَنَّ لَک الَّذِی وَعَدَکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٤) حضرت یحییٰ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا۔ اس وقت ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ، حضرت سودہ بنت زمعہ ، عفراء کے بیٹوں عوف اور معوِّذ کی سوگ منانے والی عورتوں کے ساتھ آل عفراء کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ یہ عورتوں پر حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سودہ کہتی ہیں : قیدیوں کو لایا گیا۔ تو میں اپنے گھر کی طرف آئی تو مجھے اچانک ، حجرہ کے کونے میں سہیل بن عمرو دکھائی دیا درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جمع (باندھے) کئے ہوئے تھے۔ پس جب میں نے اس کو دیکھا۔ تو میرا خود پر قابو نہ رہا اور میں نے کہہ دیا۔ ابو یزید ! تم نے اپنے ہاتھوں سے (اپنا آپ) حوالہ کردیا ہے۔ تم لوگ عزت کی موت کیوں نہ مرگئے۔ حضرت سودہ فرماتی ہیں۔ بخدا ! مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گھر سے آنے والی آواز کے سوا کسی نے تنبیہ نہیں کی۔ کہ ” اے سودہ ! کیا اللہ اور اس کے رسول سے بھی اوپر ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ بخدا ! جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میرا خود پر قابو نہ رہا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔
(۳۷۸۴۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَۃَ ، قَالَ : قُدِمَ بِأُسَارَی بَدْرٍ ، وَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ آلِ عَفْرَائَ فِی مَنَاحَتِہِمْ، عَلَی عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَیْ عَفْرَائَ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ ، قَالَتْ : قُدِمَ بِالأُسَارَی فَأَتَیْتُ مَنْزِلِی ، فَإِذَا أَنَا بِسُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِی نَاحِیَۃِ الْحُجْرَۃِ ، مَجْمُوعَۃً یَدَاہُ إِلَی عُنُقِہِ ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُ مَا مَلَکْتُ نَفْسِی أَنْ قُلْتُ : أَبَا یَزِیدَ ، أَعْطَیْتُمْ بِأَیْدِیکُمْ ، أَلاَ مُتُّمْ کِرَامًا ، قَالَتْ : فَوَاللہِ مَا نَبَّہَنِی إِلاَّ قَوْلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ دَاخِلِ الْبَیْتِ : أَیْ سَوْدَۃُ : أَعَلَی اللہِ وَعَلَی رَسُولِہِ ؟ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَاللہِ إِنْ مَلَکْتُ نَفْسِی حَیْثُ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ۔ (حاکم ۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٥) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم لوگوں کی اسیران بدر کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! (یہ لوگ) آپ کی قوم و قبیلہ کے ہیں۔ آپ ان کی بقاء اور ان کی توبہ کے طلب گار بنیے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرلے (یعنی ہدایت دے دے) ۔ اور حضرت عمر نے فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور انھوں نے آپ کو (شہر سے) باہر نکالا۔ انھیں آگے کریں تاکہ ہم ان کی گردن زنی کریں۔ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ایسی وادی میں ہیں جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں۔ پس آپ ان پر اس وادی کو آگ سے دہکا دیں پھر آپ انھیں اس دہکتی آگ میں ڈال دیں۔ (اس پر) عباس نے کہا۔ اللہ تیرے رشتہ کو کاٹ دے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور صحابہ کو کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر کا قول لیں گے اور (بعض) لوگوں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عمر کا قول لیں گے ۔ اور (بعض) لوگوں نے کہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عبداللہ بن رواحہ کا قول لیں گے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان (قیدیوں) کے بارے بعض مردوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے۔ یہاں تک وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوگئے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ا ن کے بارے میں سخت کردیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں اور اے ابوبکر ! تیری مثال تو حضرت ابراہیم کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا تھا۔ { فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی ، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ}۔
اور تیری مثال۔ اے ابوبکر ! حضرت عیسیٰ کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا تھا۔ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ }۔
اور تیری مثال، اے عمر ! موسیٰ کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا تھا۔ { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ }
اور اے عمر ! تیری مثال حضرت نوح کی طرح ہے انھوں نے کہا تھا ۔ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا }۔
تم لوگ (اس وقت) مفلس ہو پس ان میں سے کوئی بھی رہائی نہیں پائے گا۔ مگر فدیہ کے ساتھ یا گردن مارنے کے ساتھ۔
حضرت ابن مسعود نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سہیل بن بیضاء کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت اختیار فرما لیا۔ ” پس مجھے اس دن سے زیادہ کسی دن یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ (کہیں) مجھ پر آسمان سے پتھر (نہ) گرپڑیں۔ “ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ سہیل بن بیضاء کو استثناء ہے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } آخر آیت تک۔
” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان (قیدیوں) کے بارے بعض مردوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے۔ یہاں تک وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوگئے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ا ن کے بارے میں سخت کردیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں اور اے ابوبکر ! تیری مثال تو حضرت ابراہیم کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا تھا۔ { فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی ، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ}۔
اور تیری مثال۔ اے ابوبکر ! حضرت عیسیٰ کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا تھا۔ {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ }۔
اور تیری مثال، اے عمر ! موسیٰ کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا تھا۔ { رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوُا الْعَذَابَ الأَلِیمَ }
اور اے عمر ! تیری مثال حضرت نوح کی طرح ہے انھوں نے کہا تھا ۔ { رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا }۔
تم لوگ (اس وقت) مفلس ہو پس ان میں سے کوئی بھی رہائی نہیں پائے گا۔ مگر فدیہ کے ساتھ یا گردن مارنے کے ساتھ۔
حضرت ابن مسعود نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سہیل بن بیضاء کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے۔ ابن مسعود کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت اختیار فرما لیا۔ ” پس مجھے اس دن سے زیادہ کسی دن یہ خوف لاحق نہیں ہوا کہ (کہیں) مجھ پر آسمان سے پتھر (نہ) گرپڑیں۔ “ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ سہیل بن بیضاء کو استثناء ہے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ } آخر آیت تک۔
(۳۷۸۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تَقُولُونَ فِی ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی ؟ قَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَوْمُکَ وَأَصْلُکَ ، اسْتَبْقِہِمْ وَاسْتَتِبْہُمْ ، لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، وَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَذَّبُوکَ وَأَخْرَجُوکَ ، قَدِّمْہُمْ نَضْرِبْ أعَنَاقَہُمْ ، وَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَنْتَ فِی وَادٍ کَثِیرِ الْحَطَبِ ، فَأَضْرِمَ الْوَادِیَ عَلَیْہِمْ نَارًا ، ثُمَّ أَلْقِہِمْ فِیہِ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : قَطَعَ اللَّہُ رَحِمَکَ ، قَالَ ، فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ۔
فَقَالَ أُنَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِی بَکْرٍ ، وَقَالَ أُنَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ ، وَقَالَ أُنَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَیُلَیِّنُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِیہِ ، حَتَّی تَکُونَ أَلْیَنَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَإِنَّ اللَّہَ لَیُشَدِّدُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِیہِ ، حَتَّی تَکُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ ، وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ مَثَلُ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : (فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی ، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ) وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ کَمَثَلِ عِیسَی ، قَالَ : {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ مَثَلُ مُوسَی، قَالَ {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الأَلِیمَ} وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ مَثَلُ نُوحٍ ، قَالَ : {رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا} أَنْتُمْ عَالَۃٌ فَلاَ یَنْفَلِتَنَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ إِلاَّ بِفِدَائٍ ، أَوْ ضَرْبَۃِ عُنُقٍ۔
فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِلاَّ سُہَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ ، فَإِنِّی قَدْ سَمِعْتُہُ یَذْکُرُ الإِسْلاَمَ ، قَالَ : فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَیْتُنِی فِی یَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَیَّ حِجَارَۃٌ مِنَ السَّمَائِ مِنِّی فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ ، حَتَّی قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلاَّ سُہَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
فَقَالَ أُنَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِی بَکْرٍ ، وَقَالَ أُنَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ ، وَقَالَ أُنَاسٌ : یَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَیُلَیِّنُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِیہِ ، حَتَّی تَکُونَ أَلْیَنَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَإِنَّ اللَّہَ لَیُشَدِّدُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِیہِ ، حَتَّی تَکُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ ، وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ مَثَلُ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : (فَمَنْ تَبِعَنِی فَإِنَّہُ مِنِّی ، وَمَنْ عَصَانِی فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ) وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا أَبَا بَکْرٍ کَمَثَلِ عِیسَی ، قَالَ : {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ مَثَلُ مُوسَی، قَالَ {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَی أَمْوَالِہِمْ، وَاشْدُدْ عَلَی قُلُوبِہِمْ، فَلاَ یُؤْمِنُوا حَتَّی یَرَوْا الْعَذَابَ الأَلِیمَ} وَإِنَّ مَثَلَکَ یَا عُمَرُ مَثَلُ نُوحٍ ، قَالَ : {رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا} أَنْتُمْ عَالَۃٌ فَلاَ یَنْفَلِتَنَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ إِلاَّ بِفِدَائٍ ، أَوْ ضَرْبَۃِ عُنُقٍ۔
فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِلاَّ سُہَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ ، فَإِنِّی قَدْ سَمِعْتُہُ یَذْکُرُ الإِسْلاَمَ ، قَالَ : فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَیْتُنِی فِی یَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَیَّ حِجَارَۃٌ مِنَ السَّمَائِ مِنِّی فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ ، حَتَّی قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلاَّ سُہَیْلَ بْنَ بَیْضَائَ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٦) حضرت حکم سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن قید کر کے صرف عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا۔
(۳۷۸۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ: لَمْ یَقْتُلْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ صَبْرًا، إِلاَّ عُقْبَۃَ بْنَ أَبِی مُعَیْطٍ۔ (ابوداؤد ۲۶۷۹۔ بیہقی ۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٧) حضرت سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن تین آدمیوں کو قید کر کے قتل فرمایا۔ عقبہ بن ابی معیط، نضر بن الحارث اور طعیمہ بن عدی کو۔ اور نضر بن حارث کو مقداد نے قید کیا تھا۔
(۳۷۸۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَقْتُلْ یَوْمَ بَدْرٍ صَبْرًا إِلاَّ ثَلاَثَۃً : عُقْبَۃَ بْنَ أَبِی مُعَیْطٍ ، وَالنَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَطُعَیْمَۃَ بْنَ عَدِی ، وَکَانَ النَّضْرُ أَسَرَہُ الْمِقْدَادُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٤٨) حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے امیہ بن خلف کو قید کرلیا۔ پھر اس کو حضرت بلال نے دیکھا تو قتل کردیا۔
(۳۷۸۴۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَسَرَ أُمَیَّۃَ بْنَ خَلَفٍ ، فَرَآہُ بِلاَلٌ فَقَتَلَہُ۔
তাহকীক: