মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৭২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٢٩) حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا بلاشبہ قیامت سے پہلے ایسے ایام آئیں گے جن میں جہالت اتاری جائے گی اور علم ان میں اٹھا لیا جائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی اپنی ماں کی طرف کھڑا ہوگا اور جہالت کی وجہ سے اسے تلوار سے ماردے گا۔
(۳۸۷۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ وَاقِعِ بْنِ سَحْبَانَ ، عَنْ طَرِیفِ بْنِ یَزِیدَ ، أَوْ یَزِیدَ بْنِ طَرِیفٍ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : إِنَّ بَیْنَ یَدَیَ السَّاعَۃِ أَیَّامًا یَنْزِلُ فِیہَا الْجَہْلُ وَیُرْفَعُ فِیہَا الْعِلْمُ حَتَّی یَقُومَ الرَّجُلُ إِلَی أُمِّہِ فَیَضْرِبُہَا بِالسَّیْفِ مِنَ الْجَہْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٠) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” واذا وقع القول علیہم اخرجنا الایۃ “ اور جب ہماری بات پوری ہونے کا وقت ان پر آن پہنچے گا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کے بارے میں ارشاد فرمایا یہ اس وقت ہوگا جب لوگ بھلائی کا حکم نہیں دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے۔
(۳۸۷۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِی قَوْلِہِ {وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ أَخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّۃً مِنَ الأَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ} قَالَ : حِینَ لاَ یَأْمُرُونَ بِمَعْرُوفٍ وَلاَ یَنْہَوْنَ عَنْ مُنْکَرٍ۔ (عبدالرزاق ۸۵۔ طبری ۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣١) حضرت علی سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا اے کوفہ والو ضرور تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو وگرنہ تم اللہ کے امر کو پاؤ گے یا اللہ تعالیٰ تم پر ایسی قوموں کو مسلط کریں گے جو تم کو عذاب دیں گی اور اللہ ان کو عذاب دیں گے۔
(۳۸۷۳۱) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ، عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ، عَنِ الْمُسْتَظِلِّ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: یَا أَہْلَ الْکُوفَۃِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ وَلَتَجِدُنَّ فِی أَمْرِ اللہِ أَو لِیَسُومَنَّکُمْ أَقْوَامًا یُعَذِّبُونَکُمْ وَیُعَذِّبُہُمُ اللَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٢) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا زندہ لوگوں میں سے مردہ کون سے ہوتے ہیں ارشاد فرمایا وہ آدمی جو اپنے دل سے نیکی کو اچھا نہ جانے اور برائی کو اپنے دل سے ناپسند نہ کرے۔
(۳۸۷۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، قَالَ قِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : مَا مَیِّتُ الأَحْیَائِ ، قَالَ : مَنْ لَمْ یَعْرِفِ الْمَعْرُوفَ بِقَلْبِہِ وَیُنْکِرِ الْمُنْکَرَ بِقَلْبِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٣) حضرت علی سے روایت ہے ارشاد فرمایا بلاشبہ جہاد میں سے پہلی وہ قسم جس سے تم پر غلبہ پالیا جائے گا وہ ہاتھوں سے جہاد ہے پھر تمہارا زبان سے جہاد کرنا ہے پھر دل سے جہاد کرنا ہے پس جو کوئی دل بھلائی کو اچھا نہ جانے اور برائی کو برا نہ سمجھے اسے اوندھا کردیا جائے گا اور اس کے اوپر کی جانب کو نیچے کی جانب کردیا جائے گا۔
(۳۸۷۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا تُغْلَبُونَ عَلَیْہِ مِنَ الْجِہَادِ الْجِہَادُ بِأَیْدِیکُمْ ، ثُمَّ الْجِہَادُ بِأَلْسِنَتِکُمْ ، ثُمَّ الْجِہَادُ بِقُلُوبِکُمْ ، فَأَیُّ قَلْبٍ لَمْ یَعْرِفَ الْمَعْرُوفَ وَلاَ یُنْکِرُ الْمُنْکَرَ نُکِّسَ فَجُعِلَ أَعْلاَہُ أَسْفَلَہُ۔ (نعیم ۱۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٤) حضرت علی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا (امر بالمعروف اور نھی عن المنکر نہ کرنے والا) اس کا دل پلٹ دیا جاتا ہے جیسا کہ مشکیزے کو اوندھا کردیا جاتا ہے پس جو اس مشکیزے میں ہوتا ہے وہ بکھر جاتا ہے۔
(۳۸۷۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : فَیُنَکَّسُ کَمَا یُنَکَّسُ الْجِرَابُ فَیَنْثُرُ مَا فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٥) حضرت درہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا لوگوں میں سب سے زیادہ متقی کون ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان میں نیکی کا زیادہ حکم دینے والا اور ان میں سے برائی سے زیادہ روکنے والا اور ان میں سے رشتے داری کو زیادہ جوڑنے والا۔
(۳۸۷۳۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عَبْدِ االْمَلِکِ بْنِ عَمِیرَۃَ ، عَنْ زَوْجِ دُرَّۃَ ، عَنْ دُرَّۃَ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِی الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : مَنْ أَتْقَی النَّاسِ ؟ قَالَ : آمَرُہُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْہَاہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَوْصَلُہُمْ لِلرَّحِمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٦) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عتریس نے حضرت عبداللہ سے کہا جس آدمی نے بھلائی کا حکم نہیں دیا اور برائی سے روکا نہیں وہ ہلاک ہوگیا حضرت عبداللہ نے فرمایا بلکہ ہلاک تو وہ آدمی ہوا جس نے بھلائی کو دل سے اچھا نہ جانا اور برائی کو دل سے برا نہ سمجھا۔
(۳۸۷۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ ، قَالَ عِتْرِیسٌ لِعَبْدِ اللہِ : ہَلَکَ مَنْ لَمْ یَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : بَلْ ہَلَکَ مَنْ لَمْ یَعْرِفِ الْمَعْرُوفَ بِقَلْبِہِ وَیُنْکِرِ الْمُنْکَرَ بِقَلْبِہِ۔ (طبرانی ۸۵۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٧) حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ عنقریب فتنے اور فتنے ہوں گے کسی بھی آدمی کے لیے جو ایسے منکر اور برائی کو دیکھے جس کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یہ بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لیں کہ وہ اس برائی کو ناپسند کرتا ہے۔
(۳۸۷۳۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ عُمَیْلَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إِنَّہَا سَتَکُونُ ہَنَاتٌ وَہَنَاتٌ ، فَبِحَسْبِ امْرِئٍ إِذَا رَأَی مُنْکَرًا لاَ یَسْتَطِیعُ لَہُ غَیْر أَنْ یَعْلَمُ اللَّہُ مِنْ قَلْبِہِ ، أَنَّہُ لَہُ کَارِہٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٨) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی پھر ارشاد فرمایا اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو (ترجمہ) اہل ایمان ! تم پر تمہاری جانیں لازم ہیں جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں دے گی اور بلاشبہ جب لوگ برائی کو دیکھ کر اسے بدلیں گے نہیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب بھیج دیں ابو امامہ راوی فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ارشاد سنا ہے۔
(۳۸۷۳۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، قَالاَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : قَامَ أَبُو بَکْرٍ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إنَّکُمْ تَقْرَؤُونَ ہَذِہِ الآیَۃَ : (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ) وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْکَرَ لاَ یُغَیِّرُونَہُ أَوْشَکَ اللَّہُ أَنْ یَعُمَّہُمْ بِعِقَابِہِ ، قَالَ أَبُو أُسَامَۃَ : وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی : وَأَنَا سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ۔ (ابوداؤد ۴۳۳۸۔ احمد ۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٣٩) حضرت شداد بن معقل سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ تم کوفہ سے کوئی رقم اور کوئی درہم نہیں لوگے میں نے عرض کیا یہ کیسے ہوگا اے عبداللہ بن مسعود انھوں نے فرمایا ایسے لوگ آئیں گے جن کے چہرے پھولی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے یہاں تک کہ وہ اپنے گھوڑوں کو اطراف میں باندھیں گے اور تمہیں گھاس اگنے کی جگہوں کی طرف نکال دیں گے یہاں تک کہ اونٹ اور زاد راہ تم میں سے کسی ایک کو تمہارے ان محلات میں سے محل سے زیادہ محبوب ہوگا۔
(۳۸۷۳۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : یُوشِکُ أَنْ لاَ تَأْخُذُوا مِنَ الْکُوفَۃِ نَقْدًا وَلاَ دِرْہَمًا ، قُلْتُ : وَکَیْفَ یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : یَجِیئُ قَوْمٌ کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ حَتَّی یَرْبِطُوا خُیُولَہُمْ عَلَی السَّوَادِ فَیُجْلُوکُمْ إِلَی مَنَابِتِ الشِّیحِ حَتَّی یَکُونَ الْبَعِیرُ وَالزَّادُ أَحَبَّ إِلَی أَحَدِکُمْ مِنَ الْقَصْرِ مِنْ قُصُورِکُمْ ہَذِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٠) حضرت شداد بن معقل اسدی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے سنا فرمایا کہ پہلی وہ چیز جو تم اپنے دین سے گم کرو گے امانت ہے اور آخری چیز جو تم دین سے گم کرو گے نماز ہے اور عنقریب لوگ نماز پڑھیں گے اور ان کے پاس دین نہیں ہوگا اور یہ قرآن جو تمہارے درمیان موجود ہے گویا کہ تم سے لے لیا جائے گا فرمایا کہ میں نے عرض کیا یہ کیسے ہوگا اے عبداللہ ! حالانکہ اللہ نے اس کو ہمارے قلوب میں جمایا ہے انھوں نے فرمایا کہ ایک رات میں ان مصاحف کو اٹھا لا جائے گا اور جو قرآن کا حصہ قلوب میں ہوگا اسے نکال لیا جائے گا پھر یہ آیت تلاوت کی (ترجمہ) اور اگر ہم چاہیں تو جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اسے لے جائیں آیت کے اخیر تک۔
(۳۸۷۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ مَعْقِلٍ الأَسَدِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ : أَوَّلُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْ دِینِکُمُ الأَمَانَۃُ ، وَآخِرُ مَا تَفْقِدُونَ مِنْہُ الصَّلاَۃُ ، وَسَیُصَلِّی قَوْمٌ وَلاَ دَیْنَ لَہُمْ ، وَإِنَّ ہَذَا الْقُرْآنَ الَّذِی بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ کَأَنَّہُ قَدْ نُزِعَ مِنْکُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : کَیْفَ یَا عَبْدَ اللہِ ، وَقَدْ أَثْبَتَہُ اللَّہُ فِی قُلُوبِنَا ، قَالَ : یُسْرَی عَلَیْہِ فِی لَیْلَۃٍ فَتُرْفَعُ الْمَصَاحِفُ وَیُنْزَعُ مَا فِی الْقُلُوبِ ، ثُمَّ تَلاَ : {وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِی أَوْحَیْنَا إلَیْک} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤١) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا وہ مساجد میں مجتمع ہوں گے اور نماز پڑھیں گے اور ان میں کوئی مومن (ایمان والا) نہیں ہوگا۔
(۳۸۷۴۱) حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَجْتَمِعُونَ وَیُصَلُّونَ فِی الْمَسَاجِدِ وَلَیْسَ فِیہِمْ مُؤْمِنٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٢) حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ (اخیر میں) رذیل قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے جو حق کو نہیں پہچانیں گے اور برائی کو ناپسند نہیں کریں گے چوپاؤں اور جانوروں کی طرح ایک دوسرے پر ڈھیر ہوتے جائیں گے۔
(۳۸۷۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، قَالَ: حدَّثَنَا زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلِمَۃَ الْہَمْدَانِیِّ، عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ، قَالَ: تَبْقَی رِجْرِجَۃٌ مِنَ النَّاسِ لاَ یَعْرِفُونَ حَقًّا وَلاَ یُنْکِرُونَ مُنْکَرًا یَتَرَاکَبُونَ تَرَاکُبَ الدَّوَابِّ وَالأَنْعَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٣) حضرت امام شعبی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم جہالت اور جہالت علم ہوجائے گی۔
(۳۸۷۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَصِیرَ الْعِلْمُ جَہْلاً وَالْجَہْلُ عِلْمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٤) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا فتنے کثرت سے ہوجائیں گے اور ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا چیز ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قتل اور علم کم ہوجائے گا ارشاد فرمایا باقی یہ (علم) آدمیوں کے قلوب سے نہیں نکالا جائے گا لیکن علماء کی موت کی وجہ سے (علم کم ہوجائے گا)
(۳۸۷۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تَکْثُرُ الْفِتَنُ وَیَکْثُرُ الْہَرْجُ قُلْنَا : وَمَا الْہَرْجُ ؟ قَالَ : الْقَتْلُ وَیَنْقُصُ الْعِلْمُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّہُ لَیْسَ یُنْزَعُ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ ، وَلَکِنْ بقبض الْعُلَمَائِ۔ (احمد ۴۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٥) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے کھینچ کر نہیں اٹھائیں گے لیکن علم کو اٹھائیں گے علماء کو (دنائ سے) اٹھا کر یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پوشیا بنالیں گے ان سے پوچھا جائے گا وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے پس وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔
(۳۸۷۴۵) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّہَ لاَ یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یُنْزَعُ مِنَ النَّاسِ ، وَلَکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ ، حَتَّی إِذَا لَمْ یَبْقَ عَالِمٌ، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالاً، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا۔(بخاری ۱۰۰۔ مسلم ۲۰۸۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٦) حضرت عمر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا عرب اس وقت ہلاک ہوں گے جب فارس کی لڑکیوں کی اولاد بالغ ہوجائے گی۔
(۳۸۷۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَبَرَۃَ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : تَہْلَکُ الْعَرَبُ حِینَ تَبْلُغُ أَبْنَائُ بَنَاتِ فَارِسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٧) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کی حالت میں ہمیشہ اعتدال رہا یہاں تک کہ ان میں دوسری قوموں کی باندیوں کی اولاد پیدا ہوگئی پھر انھوں نے اپنی رائے سے باتیں بنائیں، وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
(۳۸۷۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍوَ قَالَ : لَمْ یَزَلْ أَمْرُ بَنِی إسْرَائِیلَ مُعْتَدِلاً حَتَّی نَشَأَ فِیہِمْ أَبْنَائُ سَبَایَا الأُمَمِ ، فَقَالُوا فِیہِمْ بِالرَّأْیِ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا۔ (ابن ماجہ ۵۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٧٤٨) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ دن کے اول حصے میں کسی آدمی کا ہاتھ (مال کی وجہ سے) کاٹا جائے گا اور دن کے اخیر میں اس کے لیے مال کثرت سے ہوجائے گا وہ کوئی ایسا آدمی نہیں پائے گا جو مال قبول کرے وہ اس مال کو دیکھ کر کہے گا ہائے میری حسرت اس کی وجہ سے گزشتہ کل میرا ہاتھ کاٹا گیا۔
(۳۸۷۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : یُقْطَعُ رَجُلٌ أوَّلَ النَّہَارِ ، وَیَفِیضُ الْمَالُ مِنْ آخِرِہِ ، فَلاَ یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ ، فَیَرَاہُ فَیَقُولُ : یَا حَسْرَتِی فِی ہَذَا قُطِعَتْ یَدِی بِالأَمْسِ۔
তাহকীক: