মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৬৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٩) حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جس پر امور مشتبہ ہوجائیں وہ آنکھ سے کانے یعنی دجال کی پیروی نہ کرے۔
(۳۸۶۶۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ یَزِیدَ الدِّمَشْقِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ الْیَحْصُبِیِّ ، أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ یَقُولُ : مَن الْتَبَسَتْ عَلَیْہِ الأُمُورُ فَلاَ یَتَّبِعَنْ مُشَاقًا وَلاَ أَعْوَرَ الْعَیْنِ ، یَعْنِی الدَّجَّالَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٠) حضرت حسن سے روایت ہے انھوں نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال سمندر میں گھسے گا گھٹنوں تک اور بادل کو پکڑ لے گا اور سورج سے پہلے اس کے غروب کی جگہ پہنچ جائے گا اور اس کی پیشانی میں سینگ ہوگا جس سے سانپ نکلیں گے اس کے جسم میں ہر طرح کے اسلحہ کی تصویریں بنائی گئیں ہیں یہاں تک کہ تلوار اور نیزہ اور ڈھال کا تذکرہ کیا فرمایا کہ میں نے کہا درق کیا چیز ہے انھوں نے فرمایا ڈھال۔
(۳۸۶۷۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الدَّجَّالُ یَخُوضُ الْبِحَارَ إِلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَیَتَنَاوَلُ السَّحَابَ ، وَیَسْبِقُ الشَّمْسَ إِلَی مَغْرِبِہَا ، وَفِی جَبْہَتِہِ قَرْنٌ یَخْرُصُ مِنْہُ الْحَیَّاتُ ، وَقَدْ صُوِّرَ فِی جَسَدِہِ السِّلاَحُ کُلُّہُ ، حَتَّی ذَکَرَ السَّیْفَ وَالرُّمْحَ وَالدَّرَقَ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الدَّرَقُ ، قَالَ : التُّرْسُ۔ (ابن کثیر ۱۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧١) حضرت عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ دجال زمین میں چالیس دن ٹھہرے گا وہ زمین کے ہر گھاٹ میں پہنچے گا ان چالیس دنوں کا دن ہفتے کی طرح ہوگا اور ہفتہ مہینے کی طرح ہوگا اور مہینہ سال کی طرح ہوگا پھر ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب وہ لوگ روشنی میں ہوں گے اور تم ہوا میں ہو گے وہ سیر ہوں گے اور تم بھوکے ہوگے وہ سیراب ہوں گے اور تم پیاسے ہوگے۔
(۳۸۶۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَیَمْکُثُ فِی الأَرْضِ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا یَبْلُغُ مِنْہَا کُلَّ مَنْہَلٍ الْیَوْمُ مِنْہَا کَالْجُمُعَۃِ ، وَالْجُمُعَۃُ کَالشَّہْرِ وَالشَّہْرُ کَالسَّنَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ وَقَوْمٌ فِی ضِحٍ وَأَنْتُمْ فِی رِیحٍ ، وَہُمْ شِبَاعٌ وَأَنْتُمْ جِیَاعٌ ، وَہُمْ رِوَائٌ وَأَنْتُمْ ظِمَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٢) حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود مسجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے اس آیت پر پہنچے ” کزرع اخرج شطاہ “ حضرت عبداللہ نے فرمایا تم کھیتی ہو اور تمہارے کٹنے کا وقت قریب ہوچکا ہے پھر لوگوں نے دجال کا تذکرہ کیا اپنی اس مجلس میں کچھ نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں وہ نکلے اور ہم اسے پتھروں سے ماریں حضرت عبداللہ نے فرمایا تم یہ کہتے ہو اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اگر تم اس کے بارے میں سنو کہ بابل میں ہے تو تم میں کوئی اس کے پاس آئے گا تو وہ اس کی طرف پاؤں گھسنے کی شکایت کرے گا تیزی سے اس تک پہنچنے کی وجہ سے۔
(۳۸۶۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَۃَ، عَنْ خَیْثَمَۃ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ اللہِ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ فِی الْمَسْجِدِ فَأَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ} فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : أَنْتُمَ الزَّرْعُ وَقَدْ دَنَا حَصَادُکُمْ ، ثُمَّ ذَکَرُوا الدَّجَّالَ فِی مَجْلِسِہِمْ ذَلِکَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : لَوَدِدْنَا أَنَّہُ قَدْ خَرَجَ حَتَّی نَرْمِیَہُ بِالْحِجَارَۃِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: أَنْتُمْ تَقُولُونَ ، وَالَّذِی لاَ إلَہَ غَیْرُہُ ، لَوْ سَمِعْتُمْ بِہِ بِبَابِلَ لأَتَاہُ أَحَدُکُمْ وَہُوَ یَشْکُو إلَیْہِ الْحَفَا مِنَ السُّرْعَۃِ۔

(طبری ۲۶۔ حاکم ۴۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٣) حضرت عبداللہ بن مغنم سے روایت ہے کہ انھوں نے دجال کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا دجال کے بارے میں کوئی خفاء نہیں ہے اور جو دجال سے پہلے فتنے وقوع پذیر ہوں گے ان سے تمہارے بارے میں زیادہ اندیشہ ہے بہ نسبت دجال کے فتنے کے یقیناً دجال کے بارے میں خفاء نہیں ہے بلاشبہ دجال ایسے امر کی طرف بلائے گا جسے لوگ جانتے ہیں یہاں تک کہ یہ بات اس سے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
(۳۸۶۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ نُمَیْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا حَلاَّمُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ شِہَابٍ الْعَبْسِیِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُاللہِ بْنُ مغنم وَذَکَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنَّ الدَّجَّالَ لَیْسَ بِہِ خَفَائٌ، وَمَا یَکُونُ قَبْلَہُ مِنَ الْفِتْنَۃِ أَخْوَفُ عَلَیْکُمْ مِنَ الدَّجَّالِ ، إِنَّ الدَّجَّالَ لاَ خَفَائَ فِیہِ ، إِنَّ الدَّجَّالَ یَدْعُو إِلَی أَمْرٍ یَعْرِفُہُ النَّاسُ حَتَّی یَرَوْنَ ذَلِکَ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا دجال نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمانوں کو پیاس میں پانی پینے سے زیادہ محبوب ہوگا۔
(۳۸۶۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: لاَ یَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّی یَکُونَ خُرُوجُہُ أَشْہَی إِلَی الْمُسْلِمِینَ مِنْ شُرْبِ الْمَائِ عَلَی الظَّمَأِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٥) حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے لوگوں نے اس بات کو اوپرا جانا وہ بیٹھنے والوں اور کھڑے ہونے والوں کے درمیان تھے (یعنی کچھ بیٹھے تھے اور کچھ کھڑے تھے) اور اس سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن کے علاوہ منبر پر نہ تشریف رکھتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ پھر ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اس جگہ کسی ایسے امر کے لیے کھڑا نہیں ہوا جو رغبت اور خوف کی وجہ سے تمہیں نفع پہچانے والا ہو لیکن تمیم داری میرے پاس آیا اور مجھے خبر دی یہاں تک کہ اس خبر کی وجہ سے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی بناء پر میں دوپہر کو آرام نہیں کرسکا غور سے سنو تمیم داری کے چچا زادوں کو سمندر میں تیز ہوا نے آن لیا ان کو ہوا نے ایسے جزیرے میں پہنچا دیا جسے وہ پہچانتے نہیں تھے وہ قریبی کشتویں میں سوار ہوئے اور جزیرے میں پہنچ گئے اچانک انھوں نے ایک سیاہ شے دیکھی جو لمبی پلکوں والی اور کثیر بالوں والی تھی انھوں نے اس سے کہا تو کیا ہے وہ شے بولی میں جساسہ ہوں (جاسوسی کرنے والی ہوں) انھوں نے کہا ہمیں بتلاؤ اس نے کہا میں نہ تو تمہیں بتلاتی ہوں اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں لیکن یہ راہب خانہ ہے جس کے تم قریب ہوچکے ہو تم اس میں جاؤبلاشبہ اس میں ایک آدمی ہے جسے یہ شوق ہیں تمہیں بتلائے اور تم اس کو بتلاؤ پس وہ وہاں گئے اور اس آدمی کے پاس گئے پس اچانک انھوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے بہت اچھلنے والا بہت زیادہ بالوں والا اس نے ان سے کہا کس زمین سے نکل کر آئے ہو انھوں نے کہا شام سے اس آدمی نے کہا عرب والوں کی کیا حالت ہے وہ بولے ہم عرب کے لوگ ہیں اس نے کہا ان صاحب کا کیا حال ہے جو تمہارے اندر نکلے ہیں انھوں نے کہا بھلائی کی حالت میں ہیں ان سے لوگوں نے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان پر غلبہ عطا کردیا آجکل سب جمع ہیں ان کا معبود ایک ہے اور ان کا دین ایک ہے اس نے کہا یہ ان کے لیے بہتر ہے اس نے کہا مقام نغر کے چشمے کی کیا حالت ہے انھوں نے کہا اس سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور پیاس کے وقت اس سے پیتے ہیں اس نے پوچھا عمان اور بیسان کے درمیان کھجوروں کی کیا حالت ہے انھوں نے کہا وہ ہر سال اپنا پھل کھلاتی ہیں اس نے پوچھا بحیرہ طبریہ کی کیا حالت ہے انھوں نے بتلایا کہ اس کے دونوں کنارے پانی کی کثرت کی وجہ سے جوش مارتے ہیں پھر اس نے تین مرتبہ لمبا سانس لیا پھر کہا بلاشبہ اگر میں ان بیڑیوں سے چھوٹ گیا تو میں کوئی زمین نہیں چھوڑوں گا مگر اسے اپنے ان دونوں قدموں سے روندوں گا سوائے مدینہ منورہ کے کہ مجھے اس پر غلبہ حاصل نہ ہوگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہاں تک میری خوشی مکمل ہوگئی۔ یہ طیبہ ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے اس مدینہ کا کوئی تنگ اور کھلا راستہ نہیں مگر اس پر ایک فرشتہ قیامت تک تلوار سونتے ہوئے (کھڑا) ہے۔
(۳۸۶۷۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ ، قَالَتْ : صَلَّی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ الظُّہْرَ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَاسْتَنْکَرَ النَّاسُ ذَلِکَ فَبَیْنَ قَائِمٍ وَجَالِسٍ ، وَلَمْ یَکُنْ یَصْعَدُہُ قَبْلَ ذَلِکَ إِلاَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَأَشَارَ إلَیْہِمْ بِیَدِہِ أَن اجْلِسُوا ، ثُمَّ قَالَ : وَاللہِ مَا قُمْت مَقَامِی ہَذَا لأَمْرٍ ینفعکم لِرَغْبَۃٍ وَلاَ لِرَہْبَۃٍ ، وَلَکِنَّ تَمِیمًا الدَّارِیَّ أَتَانِی فَأَخْبَرَنِی حتی مَنعَنِی الْقَیْلُولَۃَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّۃِ الْعَیْنِ، أَلاَ إِنَّ بَنِی عَمٍّ لِتَمِیمٍ الدَّارِیِّ أَخَذَتْہُمْ عَاصِفٌ فِی الْبَحْرِ ، فَأَلْجَأَتْہُمَ الرِّیحُ إِلَی جَزِیرَۃٍلاَ یَعْرِفُونَہَا ، فَقَعَدُوا فِی قَوَارِبِ السَّفِینَۃِ فَصَعِدُوا فَإِذَا ہُمْ بِشَیْئٍ أَسْوَدَ أَہْدَبَ کَثِیرِ الشَّعْرِ ، قَالُوا لَہَا : مَا أَنْتَ ، قَالَتْ : أَنَا الْجَسَّاسَۃُ ، قَالُوا : فَأَخْبِرِینَا ، قَالَتْ : مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِکُمْ وَلاَ سَائِلَتِکُمْ عَنْہُ ، وَلَکِنَّ ہَذَا الدَّیْرَ قَدْ رَہَقْتُمُوہُ فَأْتُوہُ ، فَإِنَّ فِیہِ رَجُلاً بِالأَشْوَاقِ إِلَی أَنْ یُخْبِرَکُمْ وَتُخْبِرُوہُ ۔

۲۔ فَأَتَوْہُ فَدَخَلُوا علَیْہِ ، فَإِذَا ہُمْ بِشَیْخٍ مُوَثَّقٍ فِی الْحَدِیدِ شَدِیدِ الْوَثَاقِ کَثِیرِ الشَّعْرِ ، فَقَالَ لَہُمْ : مِنْ أَیْنَ نَبَأْتُم، قَالُوا : مِنَ الشَّامِ ، قَالَ : مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ : مَا فَعَلَ ہَذَا الرَّجُلُ الَّذِی خَرَجَ فِیکُمْ ، قَالُوا : خَیْرًا ؛ نَاوَأَہُ قَوْمٌ فَأَظْہَرَہُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ فَأَمْرُہُمَ الْیَوْمَ جَمِیعٌ ، وَإِلَہُہُمْ الْیَوْمَ وَاحِدٌ وَدِینُہُمْ وَاحِدٌ ، قَالَ : ذَلِکَ خَیْرٌ لَہُمْ ، قَالَ : مَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ ؟ قَالُوا : یَسْقُونَ مِنْہَا زُرُوعَہُمْ وَیَشْرَبُونَ مِنْہَاِبشَفَتِہِمْ ، قَالَ : مَا فَعَلَ نَخْلٌ بَیْنَ عَمَّانَ وَبَیْسَانَ ، قَالُوا : یُطْعِمُ جَنَاہُ کُلِّ عَامٍ ، قَالَ : مَا فَعَلَتْ بُحَیْرَۃُ طَبَرِیَّۃَ ؟ قَالُوا : تَدَفَّقُ جَانِبَاہَا مِنْ کَثْرَۃِ الْمَائِ ، قَالَ : فَزَفَرَ ثَلاَثَ زَفَرَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : إنِّی لَوْ قَدِ انْفَلَتُّ مِنْ وَثَاقِی ہَذَا لَمْ أَتْرُکْ أَرْضًا إِلاَّ وَطِئْتہَا بِقَدَمِی ہَاتَیْنِ إِلاَّ طِیبَۃً ، لَیْسَ لِی عَلَیْہَا سُلْطَانٌ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلَی ہَذَا انْتَہَی فَرَحِی ، ہَذِہِ طِیبَۃٌ ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، مَا مِنْہَا طَرِیقٌ ضَیِّقٌ وَلاَ وَاسِعٌ إِلاَّ عَلَیْہِ مَلَکٌ شَاہِرٌ بِالسَّیْفِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٦) حضرت قابوس بن ابی ظبیان سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ ہم نے دجال کا تذکرہ کیا ہم نے حضرت علی سے پوچھا اس کا خروج کب ہوگا انھوں نے فرمایا مومن پر مخفی نہیں ہے کہ اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے کافر کے حروف کے ہمارے سامنے ہجے فرمائے ہم نے عرض کیا یہ کب ہوگا فرمایا جب پڑوسی پڑوسی پر فخر کرے گا اور سخت کمزور کو کھاجائے گا اور شتے داریاں توڑی جائیں گے اور وہ آپس میں اختلاف کریں گے میری ان انگلیوں کے اختلاف کی طرح اور انھوں نے انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور اس طرح ان کو بلند کیا لوگوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے امیرالمؤمنین ! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں انھوں نے فرمایا تیرا باپ نہ رہے تم یہ زمانہ نہ پاؤ گے راوی نے فرمایا پھر ہم خوش ہوگئے۔
(۳۸۶۷۶) وَحَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِی ظَبْیَانَ ، أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ ، قَالَ: ذَکَرْنَا الدَّجَّالَ فَسَأَلْنَا عَلِیًّا مَتَی خُرُوجُہُ، قَالَ: لاَ یَخْفَی عَلَی مُؤْمِنٍ، عَیْنُہُ الْیُمْنَی مَطْمُوسَۃٌ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَتَہَجَّاہَا لَنَا عَلِیٌّ، قَالَ: فَقُلْنَا: وَمَتَی یَکُونُ ذَلِکَ، قَالَ: حِینَ یَفْخَرُ الْجَارُ عَلَی جَارِہِ ، وَیَأْکُلُ الشَّدِیدُ الضَّعِیفَ وَتُقْطَعُ الأَرْحَامُ ، وَیَخْتَلِفُونَ اخْتِلاَفَ أَصَابِعِی ہَؤُلاَئِ وَشَبَّکَہَا وَرَفَعَہَا ہَکَذَا ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : کَیْفَ تَأْمُرُنَا عِنْدَ ذَلِکَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : لاَ أَبَا لَکَ ، إنَّک لَنْ تُدْرِکَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَطَابَتْ أَنْفُسُنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ دجال کو مسلمانوں میں سے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کردے گا پھر وہ اسے زندہ کرے گا اور کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا تم دیکھتے نہیں ہو میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں اور وہ آدمی پکار رہا ہوگا اے اہل اسلام بلکہ یہ خبیث کافر اللہ کا دشمن ہے اور بلاشبہ اللہ کی قسم اسے میرے بعد کسی ایک پر بھی مسلط نہیں کیا جائے گا حضرت ابوہریرہ کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم حضرت ابوہریرہ کے ساتھ کتابت سکھانے والوں کے پاس سے گزرتے تھے تو حضرت ابوہریرہ فرماتے اے کتابت سکھانے والے میرے لیے اپنے لڑکوں کو جمع کرو وہ ان کو جمع کرتا تو فرماتے ان سے کہو کہ خاموش ہوجائیں اے بھتیجو ! وہ بات سمجھو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر تم میں سے کوئی عیسیٰ ابن مریم کو پالے تو وہ جوان روشن چہرے والے سرخ رنگ والے ہیں تو وہ ابوہریرہ کی جانب سے ان کو سلام پہنچا دے حضرت ابوہریرہ کسی بھی کتابت سکھانے والے کے پاس سے نہیں گزرتے تھے مگر اس کے بچوں سے یہی ارشاد فرماتے تھے۔
(۳۸۶۷۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : یُسَلَّطُ الدَّجَّالُ عَلَی رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَیَقْتُلُہُ ، ثُمَّ یُحْیِیہِ ، ثُمَّ یَقُولُ : أَلَسْت بِرَبِّکُمْ أَلاَ تَرَوْنَ أَنِّی أُحْیِی وَأُمِیت ، وَالرَّجُلُ یُنَادِی : یَا أَہْلَ الإِسْلاَم ، بَلْ عَدُوُّ اللہِ الْکَافِرُ الْخَبِیثُ ، إِنَّہُ وَاللہِ لاَ یُسَلَّطُ عَلَی أَحَدٍ بَعْدِی ، قَالُوا : وَکُنَّا نَمُرُّ مَعَ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَلَی مُعَلِّمِ الْکِتَابِ فَیَقُولُ : یَا مُعَلِّمَ الْکِتَابِ ، اجْمَعْ لِی غِلْمَانَک فَیَجْمَعُہُمْ فَیَقُولُ : قُلْ لَہُمْ : فَلْیُنْصِتُوا ، أَیْ بَنِی أَخِی افْہَمُوا مَا أَقُولُ لَکُمْ ، أَمَا یُدْرِکْنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّہُ شَابٌّ وَضِیئٌ أَحْمَرُ فَلْیَقْرَأْ عَلَیْہِ مِنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ السَّلاَمَ ، فَلاَ یَمُرُّ عَلَی مُعَلِّمِ کِتَابٍ إِلاَّ قَالَ لِغِلْمَانِہِ مِثْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٨) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرقل قیصر کا شہر فتح کرلیا جائے گا اور اس میں مؤذنین اذانیں دیں گے اور اس میں مال ڈھال کے ذریعے تقسیم ہوگا پس وہ بہت سا مال لے کر لوٹیں گے جسے لوگ دیکھیں گے پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے گھروں میں موجود ہے پس جو ان کے قبضے میں مال ہوگا اسے وہ پھینک دیں گے اور اس سے لڑائی کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں گے۔
(۳۸۶۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُفْتَحَ مَدِینَۃُ ہِرَقْلِ قَیْصَرَ ، وَیُؤَذِّنُ فِیہَا الْمُؤَذِّنُونَ ، وَیُقْسَمُ فِیہَا الْمَالُ بِالتِرَسَۃِ فَیُقْبِلُونَ بِأَکْثَرَ أَمْوَالٍ رَآہَا النَّاسُ ، فَیَأْتِیہِمُ الصَّرِیخُ ، إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَکُمْ فِی أَہْلِیکُمْ ، فَیُلْقُونَ مَا فِی أَیْدِیہِمْ وَیُقْبِلُونَ یُقَاتِلُونَہُ۔ (نعیم بن حماد ۱۴۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٧٩) حضرت علا بن شخیر سے روایت ہے کہ حضرت نوح اور ان کے ساتھ انبیائ ۔ دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔
(۳۸۶۷۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْجُرَیْرِیُّ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، أَنَّ نُوحًا وَمَنْ مَعَہُ مِنَ الأَنْبِیَائِ کَانُوا یَتَعَوَّذُونَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٠) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کے لیے لے جایا گیا تو ان کی ملاقات حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ۔ سے ہوئی انھوں نے آپس میں قیامت کا تذکرہ کیا انھوں نے حضرت ابراہیم سے ابتداء کی اور ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا ان کے پاس بھی قیامت کے بارے میں علم نہ تھا پھر انھوں نے یہ بات حضرت عیسیٰ کی طرف لوٹا دی انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وقوع سے قریب کی باتیں بتلائیں ہیں اور باقی اس کا وقوع وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا انھوں نے دجال کے نکلنے کا تذکرہ کیا پس میں اتروں گا اور اسے قتل کروں گا پھر لوگ اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائیں گے پھر یاجوج وماجوج ان کے سامنے آجائیں گے وہ ہر بلند جگہ سے جلدی سے آئیں گے کسی پانی کے پاس نہیں گزریں گے مگر اسے پی جائیں گے اور کسی چیز کے پاس سے نہیں گزریں گے مگر اسے خراب کردیں گے وہ (دوسرے لوگ) میری طرف بھاگ کر آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو موت دے دیں گے زمین ان کی بدبو کی وجہ سے تعفن زدہ ہوجائے گی پس (دوسرے لوگ) وہ میرے پاس آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش اتاریں گے وہ ان کے جسموں کو اٹھائے گی اور ان کو سمندر میں پھینک دے گی پھر پہاڑ جڑ سے اکھاڑ دیے جائیں گے اور زمین چمڑے کی طرح ہوجائے گی کہ قیامت لوگوں کے ایسے قریب ہے جیسے کہ وہ حاملہ مدت حمل پوری کرچکی ہو اس کے گھر والے نہیں جانتے کب اچانک اس کے ولادت ہوجائے حضرت عوام نے فرمایا میں نے اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے { حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ }۔
(۳۸۶۸۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی جَبَلَۃُ بْنُ سُحَیْمٍ ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِیَ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی فَتَذَاکَرُوا السَّاعَۃَ ، فَبَدَؤُوا بِإِبْرَاہِیمَ فَسَأَلُوہُ عَنْہَا ، فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنْہَا ، فَسَأَلُوا مُوسَی فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ مِنْہَا عِلْمٌ ، فَرَدُّوا الْحَدِیثَ إِلَی عِیسَی ، فَقَالَ : عَہِدَ اللَّہُ إلَیَّ فِیمَا دُونَ وَجْبَتِہَا ، فَأَمَّا وَجْبَتُہَا فَلاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ اللَّہُ فَذَکَرَ مِنْ خُرُوجِ الدَّجَّالِ فَأَہْبِطُ فَأَقْتُلُہُ ، فَیَرْجِعُ النَّاسُ إِلَی بِلاَدِہِمْ فَیَسْتَقْبِلُہُمْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ ، لاَ یَمُرُّونَ بِمَائٍ إِلاَّ شَرِبُوہُ وَلاَ شَیْئٍ إِلاَّ أَفْسَدُوہُ ، فَیَجِرونَ إلَیَّ فَأَدْعُو اللَّہَ فَیُمِیتہُمْ ، فَتجْوَی الأَرْضُ مِنْ رِیحِہِمْ ، فَیَجِرونَ إِلَیَّ ، فَأَدْعُو اللَّہَ ، فَیُرْسِلُ السَّمَائَ بِالْمَائِ فَتَحْمِلُ أَجْسَادَہُمْ فَتَقْذِفُہَا فِی الْبَحْرِ ، ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الأَرْضُ مَدَّ الأَدِیمِ ، ثُمَّ یُعْہَدُ إلَیَّ إِذَا کَانَ ذَلِکَ ، أَنَّ السَّاعَۃَ مِنَ النَّاسِ کَالْحَامِلِ الْمُتِمّ ، لاَ یَدْرِی أَہْلُہَا مَتَی تَفْجَؤُہُمْ بِوِلاَدَتِہَا، قَالَ الْعَوَّامُ : فَوَجَدْت تَصْدِیقَ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللہِ {حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ}۔ (ابن ماجہ ۲۰۸۱۔ ابویعلی ۵۲۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨١) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم کے قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہیں جب تم ان کو دیکھو تو جان لو وہ درمیانے قد کے آدمی ہیں سرخی اور سفیدی کی طرف (ان کا رنگ مائل ہے) ہلکے گھنگریالے بالوں والے ہیں ان کے سر سے (پانی کے) قطرات ٹپکتے معلوم ہوتے ہیں اگرچہ ان کو تری نہ ہی لگی ہو دو ہلکے زرد رنگ سے رنگی ہوئی چادروں کے درمیان ہوں گے پس صلیب کے ٹکڑے کریں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے سوائے اسلام کے اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں گمراہی کے مسیح کذاب دجال کو ہلاک کریں گے اور ان کے زمانے میں زمین کے اندر امن قائم ہوجائے گا یہاں تک کہ کالا سانپ اونٹ کے ساتھ اور چیتا گائے کے ساتھ اور بھیڑیا بکریوں کے ساتھ چرے گا اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے کوئی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائے گا جتنا وقت اللہ تعالیٰ چاہیں گے اتنا وہ زمین میں ٹھہریں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔
(۳۸۶۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الأَنْبِیَائُ إخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ أُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی وَدِینُہُمْ وَاحِد، وَأَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ لأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنِی وَبَیْنَہُ نَبِی ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُ فَاعْرِفُوہُ ، فَإِنَّہُ رَجُلٌ مَرْبُوعُ الْخَلْقِ إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ سَبْطُ الرَّأْسِ ، کَأَنَّ رَأْسَہُ یَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ بَیْنَ مُمَصَّرَتَیْنِ ، فَیَدُقُّ الصَّلِیبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ ، وَیُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الإِسْلاَم حَتَّی یُہْلِکَ اللَّہُ فِی زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّہَا غَیْرَ الإِسْلاَم ، وَیُہْلِکَ اللَّہُ فِی زَمَانِہِ مَسِیحَ الضَّلاَلَۃِ الْکَذَّابَ الدَّجَّالَ ، وَتَقَعُ الأَمَنَۃُ فِی زَمَانِہِ فِی الأَرْضِ حَتَّی تَرْتَعَ الأُسُودُ مَعَ الإِبِلِ، وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَیَلْعَبَ الصِّبْیَانُ، أَوِ الْغِلْمَانُ شَکَّ بِالْحَیَّاتِ، لاَ یَضُرُّ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، فَیَلْبَثُ فِی الأَرْضِ مَا شَائَ اللَّہُ، ثُمَّ یُتَوَفَّی فَیُصَلِّی عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ۔ (احمد ۴۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٢) حضرت ابو وائل سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ دجال کے اکثر اتباع کرنے والے یہود اور بدکار عورتوں کی اولاد ہوگی۔
(۳۸۶۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سفیان، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ، قَالَ: أَکْثَرُ أَتْبَاعِ الدَّجَّالِ الْیَہُودُ وَأَوْلاَدُ الْمُومِسَاتِ۔

(نعیم ۱۵۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٣) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ابن صیاد کی ماں نے اسے اس حال میں جنا کہ وہ مسرور اور مختون تھا۔
(۳۸۶۸۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : وَلَدَتْہُ أُمُّہُ مَسْرُورًا مَخْتُونًا تَعْنِی ابْنَ صَیَّادٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٤) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے میں ابن صیاد سے ملا وہ پھول گیا یہاں تک کہ اس نے راستہ بھر دیا میں نے کہا دفع ہوجا بلاشبہ تو تقدیر سے نہیں بڑھ سکتا اس کے (جسم کے) حصے ایک دوسرے سے ملنے لگے اور مں ر گزر گیا۔
(۳۸۶۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ إدْرِیسَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقِیت ابْنَ صَیَّادٍ فِی طَرِیقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَانْتَفَخَ حَتَّی مَلأَ الطریق، فَقُلْتُ: اخْسَأْ، فَإِنَّکَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَک ، فَانْضَمَّ بَعْضُہُ إِلَی بَعْضٍ وَمَرَرْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٥) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہے تھے پس ہم بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے جب ان بچوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو منتشر ہوگئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا گویا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس نے غصہ دلا دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا تجھے کیا ہے تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضرت عمر نے فرمایا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چھوڑیں میں اس خبیث کو قتل کردوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خوف ہے تو تم ہرگز اس کو قتل نہیں کرسکتے۔
(۳۸۶۸۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نَمْشِی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا عَلَی صِبْیَانٍ یَلْعَبُونَ ، فَتَفَرَّقُوا حِینَ رَأَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ ابْنُ صَیَّادٍ ، فَکَأَنَّہُ غَاظَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ : مَا لَکَ تَرِبَتْ یَدَاک، أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ؟ فَقَالَ : أَتَشْہَدُ أَنْتَ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، فَقَالَ : عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، دَعَنْی فَلأَقْتُلْ ہَذَا الْخَبِیثَ ، قَالَ : دَعْہُ فَإِنْ یَکُنِ الَّذِی تَخَوَّف فَلَنْ تَسْتَطِیعَ قَتْلَہُ۔ (مسلم ۲۲۴۰۔ احمد ۳۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٦) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم نے ابن صیاد کو حرہ والے دن گم پایا۔
(۳۸۶۸۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : فَقَدْنَا ابْنَ صَیَّادٍ یَوْمَ الْحَرَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٧) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن صیاد سے کہا تو کیا دیکھتا ہے تو اس نے کہا میں سمندر پر تخت دیکھتا ہوں اس کے گرد سانپ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تو ابلیس کا تخت ہے۔
(۳۸۶۸۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ لابْنِ صَیَّادٍ : مَا تَرَی ، قَالَ : أَرَی عَرْشًا عَلَی الْبَحْرِ وَحَوْلَہُ الْحَیَّاتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ذَلِکَ عَرْشُ إبْلِیسَ۔ (مسلم ۲۲۴۱۔ احمد ۴۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٨٨) حضرت حسن سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ قیامت سے پہلے جھوٹے ہوں گے ان میں سے ایک یمامہ والا ہوگا (یعنی مسیلمہ کذاب) اور ان میں سے ایک اسود عنسی ہوگا اور ان میں سے ایک حمیر والا ہوگا اور ان میں سے ایک دجال ہوگا اور وہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔
(۳۸۶۸۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُبَارَکٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بَیْنَ یَدَی السَّاعَۃِ کَذَّابِینَ مِنْہُمْ صَاحِبُ الْیَمَامَۃِ وَمِنْہُمُ الأَسْوَدُ الْعَنْسِیُّ وَمِنْہُمْ صَاحِبُ حِمْیَرَ وَمِنْہُمُ الدَّجَّالُ وَہُوَ أَعْظَمُہُمْ فِتْنَۃً۔ (احمد ۳۴۵۔ بزار ۳۳۷۵)
tahqiq

তাহকীক: