মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৬৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٩) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے جب دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے چربی پگھلتی ہے فرمایا کہ دجال لڑائی کرے گا اور یہود اس سے جدا ہوجائیں گے ان یہود کو قتل کیا جائے گا یہاں تک کہ پتھر کہے گا اے اللہ کے مسلمان بندے یہ یہودی ہے آؤ اور اسے قتل کرو۔
(۳۸۶۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: یَنْزِلُ الْمَسِیحُ بْنُ مَرْیَمَ، فَإِذَا رَآہُ الدَّجَّالُ ذَابَ کَمَا تَذُوبُ الشَّحْمَۃُ ، قَالَ : فَیَقْتُلُ الدَّجَّالَ ، وَتَفَرَّقَ عَنْہُ الْیَہُودُ ، فَیُقْتَلُونَ حَتَّی إِنَّ الْحَجَرَ یَقُولُ : یَا عَبْدَ اللہِ الْمُسْلِمُ ، ہَذَا یَہُودِی ، فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ۔ (نعیم ۱۶۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٠) حضرت ابوہریرہ مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم اتریں گے انصاف کرنے والے فیصل اور عادل امام ہوں گے پس صلیب توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے اور مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔
(۳۸۶۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَفَعَہُ ، قَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَنْزِلَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ علیہما السلام حَکَمًا مُقْسِطًا ، وَإِمَامًا عَادِلاً ، فَیَکْسِرُ الصَّلِیبَ ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیرَ ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ ، وَیَفِیضُ الْمَالُ ، حَتَّی لاَ یَقْبَلَہُ أَحَدٌ۔ (بخاری ۴۴۱۸۔ مسلم ۲۱۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥١) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے حضرت عیسیٰ بن مریم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرے کا احرام باندھیں گے یا دونوں کو ملا کر دونوں کا احرام باندھیں گے۔
(۳۸۶۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ الأَسْلَمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، لَیُہِلَّنَّ ابْنُ مَرْیَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَائِ حَاجًّا ، أَوْ مُعْتَمِرًا ، أَوْ لَیُثَنِّیَنَّہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٢) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا مسجدیں حضرت عیسیٰ کے آنے پر نئی ہوں گی وہ عنقریب نکلیں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور ان پر ایمان لائے گا جو ان کو پائے گا جو کوئی تم میں سے ان کو پالے تو ان کو میری جانب سے سلام کہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے (یہ راوی حضرت عقار بن مغیرہ کا قول ہے) اور فرمایا اے بھتیجے ! میں تمہیں لوگوں میں سب سے زیادہ نو عمر سمجھتا ہوں۔ لہٰذا اگر تو ان کو پالے تو ان کو میرا سلام کہنا۔
(۳۸۶۵۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إِنَّ الْمَسَاجِدَ لَتُجَدَّدُ لِخُرُوجِ الْمَسِیحِ وَإِنَّہُ سَیَخْرُجُ فَیَکْسِرُ الصَّلِیبَ ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیرَ ، وَیُؤْمِنُ بِہِ مَنْ أَدْرَکَہُ ، فَمَنْ أَدْرَکَہُ مِنْکُمْ فَلْیُقْرِئْہُ مِنِّی السَّلاَمَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیَّ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ، إنِّی أَرَاک مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ ، فَإِنْ أَدْرَکْتہ فَأَقْرِئْہُ مِنِّی السَّلاَمَ۔ (نعیم ۱۶۰۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٣) حضرت سماک سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابراہیم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ حضرت عیسیٰ نکلنے والے ہیں وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ اٹھا دیں گے۔
(۳۸۶۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إبْرَاہِیمَ یَقُولُ : إِنَّ الْمَسِیحَ خَارِجٌ فَیَکْسِرُ الصَّلِیبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیرَ ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٤) حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر نے پوچھا کیا عراق میں ایسی زمین ہے جسے خراسان کہا جاتا ہے لوگوں نے عرض کیا جی ہاں تو حضرت ابوبکر نے ارشاد فرمایا یقیناً وہاں سے دجال نکلے گا۔
(۳۸۶۵۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ : ہَلْ بِالْعِرَاقِ أَرْضٌ یُقَالُ لَہَا خُرَاسَانُ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ الدَّجَّالَ یَخْرُجُ مِنْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٥) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت ابوبکر روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال خراسان سے نکلے گا۔
(۳۸۶۵۵) حُدِّثْتُ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ سُبَیْعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الدَّجَّالُ یَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ۔ (ترمذی ۲۲۳۷۔ بزار ۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٦) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ دجال مقام خوز اور کرمان سے اترے گا اس کے ساتھ اسی ہزار لوگ ہوں گے جن پر سبز رنگ کی چادریں ہوں گی ان کے بال ان کے پاؤں تک ہوں گے اور ان کے چہرے گویا کہ پھولی ہوئی ڈھال کی طرح ہوں گے (یعنی وہ ڈھال جس پر کرتے لپٹے ہوں)
(۳۸۶۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : یَہْبِطُ الدَّجَّالُ مِنْ خوز وَکَرْمَانَ مَعَہُ ثَمَانُونَ أَلْفًا عَلَیْہِمُ الطَّیَالِسَۃُ ، یَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ کَأَنَّ وُجُوہَہُمْ مَجَانٌّ مُطْرَقَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٧) حضرت عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا یقیناً دجال کے گدھے کے کان ستر ہزار کو ڈھانپ لیں گے۔
(۳۸۶۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَوَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ حَوْطٍ الْعَبْدِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إِنَّ أُذُنَ حِمَارِ الدَّجَّالِ لَتُظِلُّ سَبْعِینَ أَلْفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٨) حضرت انس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا بلاشبہ دجال سے پہلے ستر سے اوپر دجال ہوں گے (یعنی چھوٹے دجال)
(۳۸۶۵۸) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : إِنَّ بَیْنَ یَدَی الدَّجَّالِ لنیفا وَسَبْعِینَ دَجَّالاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٥٩) حضرت نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم جزیرۃ العرب سے لڑائی کرو گے اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیں گے پھر تم فارس والوں سے لڑائی کرو گے اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائیں گے پھر تم روم والوں سے لڑائی لڑوگے اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے اللہ تعالیٰ اس پر تمہیں فتح عطا کریں گے حضرت جابر بن سمرہ نے فرمایا دجال خروج نہیں کرے گا یہاں تک کہ روم فتح ہوجائے ۔
(۳۸۶۵۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُقَاتِلُونَ جَزِیرَۃَ الْعَرَبِ فَیَفْتَحُہَا اللَّہُ ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ فَارِسَ فَیَفْتَحُہَا اللَّہُ ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الرُّومَ فَیَفْتَحُہَا اللَّہُ ، ثُمَّ تُقَاتِلُونَ الدَّجَّالَ فَیَفْتَحُہُ اللَّہُ ، قَالَ جَابِرٌ : فَلاَ یَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّی تُفْتَحَ الرُّومُ۔ (احمد ۱۷۸۔ ابن حبان ۶۸۰۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٠) حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عقبہ بن عمرو نے حضرت حذیفہ سے کہا کیا ہمیں وہ باتیں نہیں سناتے جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنیں انھوں نے فرمایا کیوں نہیں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دجال جب نکلے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی باقی وہ جسے لوگ آگ خیال کریں گے وہ میٹھا اور ٹھنڈا پانی ہوگا جو تم میں سے یہ صورتحال پالے تو وہ جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں گرجائے یقیناً وہ میٹھا ٹھنڈا پانی ہوگا حضرت عقبہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے ہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔
(۳۸۶۶۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَیْفَۃَ : أَلاَ تُحَدِّثُنَا بِمَا سَمِعْت من رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلَی سَمِعْتہ یَقُولُ : إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَائً وَنَارًا ، فَأَمَّا الَّذِی یَرَی النَّاسُ مَائً فَنَارٌ تُحْرِقُ ، وَأَمَّا الَّذِی یَرَی النَّاسُ ، أَنَّہُ نَارٌ فَمَائٌ عَذْبٌ بَارِد ، فَمَنْ أَدْرَکَ مِنْکُمْ ذَلِکَ فَلْیَقَعْ فِی الَّذِی یَرَی ، أَنَّہُ نَارٌ فَإِنَّہُ مَائٌ عَذْبٌ بَارِدٌ ، قَالَ عُقْبَۃُ : وَأَنَا سَمِعْتُہُ یَقُولُ ذَلِکَ۔ (بخاری ۳۴۵۰۔ مسلم ۲۲۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦١) حضرت جنادہ بن ابی امیہ دوسی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں اور میرا ایک ساتھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک کے پاس گیا فرمایا کہ ہم نے کہا ہم سے وہ بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے اور کسی سے کوئی بات بیان نہ کریں اگرچہ وہ تمہارے نزدیک سچا ہو انھوں نے فرمایا ہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں بلاشبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرے مگر انھوں نے اپنی امت کو ڈرایا اور اے امت بلاشبہ وہ تمہارے اندر ہوگا بلاشبہ وہ گنگھریالے بالوں والا ہے گندمی رنگ والا ہے اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی اور اس کے ساتھ جنت اور آگ ہوگی اس کی آگ جنت ہوگی اور اس کی جنت آگ ہوگی اور بلاشبہ اس کے ساتھ پانی کی نہر اور روٹی کا پہاڑ ہوگا اور اسے ایک جان پر مسلط کیا جائے گا وہ اسے قتل کرے گا پھر اسے زندہ کرے گا کسی اور پر اسے مسلط نہیں کیا جائے گا وہ آسمان سے بارش اتارے گا اور زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی اور وہ زمین میں چالیس صبحیں ٹھہرے گا یہاں تک کہ زمین میں ہر گھاٹ پر پہنچے گا اور وہ چار مساجد کے قریب نہیں جائے گا مسجد الحرام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد اور بیت المقدس کی مسجد اور طور کی مسجد اور کوئی چیز تم پر مشتبہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے یہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا (اور وہ کانا ہے)
(۳۸۶۶۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، قَالَ: حدَّثَنَا جُنَادَۃُ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ الدَّوْسِیُّ، قَالَ : دَخَلْت أَنَا وَصَاحِبٌ لِی عَلَی رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْت مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلاَ تُحَدِّثْنَا عَنْ غَیْرِہِ ، وَإِنْ کَانَ عِنْدَکَ مُصَدَّقًا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَامَ فِینَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ، فَقَالَ : أُنْذِرُکُمُ الدَّجَّالَ ، أُنْذِرُکُمُ الدَّجَّالَ ، أُنْذِرُکُمُ الدَّجَّالَ ، فَإِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَہُ أُمَّتَہُ ، وَإِنَّہُ فِیکُمْ أَیَّتُہَا الأُمَّۃُ ، وَإِنَّہُ جَعْدٌ آدَم مَمْسُوحُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی ، وَإِنَّ مَعَہُ جَنَّۃً وَنَارًا ، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہُ نَارٌ ، وَإِنَّ مَعَہُ نَہْرَ مَائٍ وَجَبَلَ خُبْزٍ ، وَإِنَّہُ یُسَلَّطُ عَلَی نَفْسٍ فَیَقْتُلُہَا ، ثُمَّ یُحْیِیہَا ، لاَ یُسَلَّطُ عَلَی غَیْرِہَا ، وَإِنَّہُ یُمْطِرُ السَّمَائَ وَلاَ تُنْبِتُ الأَرْضُ ، وَإِنَّہُ یَلْبَثُ فِی الأَرْضِ أَرْبَعِینَ صَبَاحًا حَتَّی یَبْلُغَ مِنْہَا کُلَّ مَنْہَلٍ ، وَإِنَّہُ لاَ یَقْرَبُ أَرْبَعَۃَ مَسَاجِدَ : مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ وَمَسْجِدَ الْمَقْدِسِ وَالطُّورِ، وَمَا شُبِّہَ عَلَیْکُمْ مِنَ الأَشْیَائِ فَإِنَّ اللَّہَ لَیْسَ بِأَعْوَرَ مَرَّتَیْنِ۔ (احمد ۴۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٢) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا دجال نہیں نکلے گا یہاں تک اس کا غائب ہونا مومن کو اس کے نکلنے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہوگا اور اس کا نکلنا مومن کو اس کنکری سے زیادہ نقصان نہیں پہنچائے گا جو زمین سے اٹھاتا ہے اور مومنین میں سے قریبوں اور دور والوں کا علم (دجال کے بارے میں) برابر ہوگا۔
(۳۸۶۶۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لاَ یَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّی لاَ یَکُونَ غَائِبٌ أَحَبَّ إِلَی الْمُؤْمِنِ خُرُوجًا مِنْہُ ، وَمَا خُرُوجُہُ بِأَضَرَّ لِلْمُؤْمِنِ مِنْ حَصَاۃٍ یَرْفَعُہَا مِنَ الأَرْضِ ، وَمَا عَلِمَ أَدْنَاہُمْ وَأَقْصَاہُمْ إِلاَّ سَوَائً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٣) حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور ان کے ساتھی بیٹھے تھے ان کی آوازیں بلند ہوگئیں راوی نے فرمایا حضرت حذیفہ تشریف لائے اور فرمایا اے ابن ام عبد یہ آوازیں کیسی ہیں انھوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ انھوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑا اور ہم اس سے ڈر گئے حضرت حذیفہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں پروا نہیں کرتا کہ میں اس سے ملوں یا اس سیاہ بکری کے بچے سے عبدالملک راوی کہتے ہیں اس بکری کے بچے کے بارے میں کہا جو مسجد کی ایک جانب میں کھجور کی گٹھلیاں کھا رہا تھا راوی نے کہا حضرت حذیفہ سے حضرت عبداللہ نے کہا کیوں اللہ کی جانب سے آپ کے باپ کی خوبی حضرت حذیفہ نے فرمایا ہم مومن لوگ ہیں اور وہ کافر آدمی ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے خلاف نصرت اور کامیابی عطا کریں گے اور اللہ کی قسم وہ نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمان آدمی کے لیے پیاس میں مشروب کی ٹھنڈک سے زیادہ محبوب ہوگا حضرت عبداللہ نے پوچھا کس وجہ سے اللہ کی جانب سے خوبی ہے آپ کے باپ کے لیے حضرت حذیفہ نے فرمایا مصیبتوں کی شدت اور برائی کی آفات کی وجہ سے۔
(۳۸۶۶۳) حدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ جَالِسًا وَأَصْحَابُہُ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمْ ، قَالَ : فَجَائَ حُذَیْفَۃُ ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ الأَصْوَاتُ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، قَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، ذَکَرُوا الدَّجَّالَ وَتَخَوَّفْنَاہُ ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : وَاللہِ مَا أُبَالِی أَہُوَ لَقِیت أَمْ ہَذِہِ الْعَنْزَ السَّوْدَائَ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لِعَنْزٍ تَأْکُلُ النَّوَی فِی جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ : لِمَ ؟ لِلَّہِ أَبُوک ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : لأَنَّا قَوْمٌ مُؤْمِنُونَ وَہُوَ امْرُؤٌ کَافِرٌ ، وَإِنَّ اللَّہَ سَیُعْطِینَا عَلَیْہِ النَّصْرَ وَالظَّفَرَ ، وَایْمُ اللہِ ، لاَ یَخْرُجُ حَتَّی یَکُونَ خُرُوجُہُ أَحَبَّ إِلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ مِنْ بَرْدِ الشَّرَابِ عَلَی الظَّمَأِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : لِمَ ؟ لِلَّہِ أَبُوک ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : مِنْ شِدَّۃِ الْبَلاَئِ وَجَنَادِعِ الشَّرِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٤) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن صیاد سے ملے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر تھے یا فرمایا دو آدمی تھے اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ابن صیاد نے جواب میں کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم کیا دیکھتے ہو ابن صیاد نے کہا میں عرش کو پانی پر دیکھتا ہوں اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ابلیس کے تخت کو سمندر پر دیکھ رہے ہو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تم کیا دیکھتے ہو اس نے کہا دو سچے یا دو جھوٹے دیکھتا ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا پس اسے چھوڑ دو ۔
(۳۸۶۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِیَ ابْنَ صَیَّادٍ وَمَعَہُ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، أَوَ قَالَ : رَجُلاَنِ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، فَقَالَ : ابْنُ صَیَّادٍ : أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آمَنْت بِاللہِ وَرَسُولِہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَی ، فَقَالَ : ابْنُ صَیَّادٍ : أَرَی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَرَی عَرْشَ إبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ ، قَالَ : مَا تَرَی ، قَالَ : أَرَی صَادِقَینِ ، أَوْ کَاذِبَینِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لُبِسَ عَلَیْہِ لُبِسَ عَلَیْہِ فَدَعُوہُ۔ (مسلم ۲۲۴۱۔ احمد ۳۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٥) حضرت اسمائ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گئی تو لوگ قیام میں کھڑے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں میں نے عرض کیا لوگوں کی کیا حالت ہے انھوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا یا انھوں نے سبحان اللہ کہا میں نے عرض کیا کیا نشانی ہے انھوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لمبا قیام کیا (یہ نماز کسوف کا موقع تھا) میں کھڑی رہی یہاں تک کہ مجھے غشی ہوگئی میں اپنے سر پر پانی ڈالنا شروع ہوگئی حضرت اسماء نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف کی اور جس کا اہل ہے وہ اس کی تعریف و ثنا کی اور ارشاد فرمایا کوئی بھی چیز جو میں نے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اپنے اس مقام میں دیکھی یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی اور مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے تمہیں قبروں کے اندر فتنے میں مبتلا کیا جائے گا دجال کے فتنے کی مثل یا یوں فرمایا دجال کے فتنے کے قریب راوی فرماتے ہیں مثل یا قریب کے الفاظ میں سے میں نہیں جانتا کہ حضرت اسمائ نے کیا ارشاد فرمایا۔
(۳۸۶۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَائَ ، قَالَتْ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ فَإِذَا النَّاسُ قِیَامٌ وَإِذَا ہِیَ تُصَلِّی ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِیَدِہَا نَحْوَ السَّمَائِ ، أَوْ قَالَتْ : سُبْحَانَ اللہِ ، فَقُلْتُ : آیَۃٌ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِہَا أَنْ نَعَمْ ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُمْت حَتَّی تَجَلاَّنِی الْغَشْی ، وَجَعَلْت أَصُبُّ عَلَی رَأْسِی الْمَائَ ، قَالَتْ : فَحَمِدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ وَقَالَ : مَا مِنْ شَیْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَیْتُہُ إِلاَّ قَدْ رَأَیْتُہُ فِی مَقَامِی ہَذَا حَتَّی الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ ، وَقَدْ أُوحِیَ إلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِی الْقُبُورِ مِثْلَ ، أَوْ قَرِیبًا لاَ أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ ، قَالَتْ أَسْمَائُ : مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (مسلم ۶۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٦) حضرت ہیثم بن اسود سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں وفد کی صورت میں حضرت معاویہ کے زمانے میں نکلا پس ان کے ساتھ تخت پر ایک آدمی تھے جو سرخ رنگ والے چہرے پر بہت زیاد ہ شکن والے تھے مجھ سے حضرت معاویہ نے فرمایا جانتے ہو یہ کون ہیں یہ عبداللہ بن عمرو ہیں راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت عبداللہ نے کہا تم کہاں سے ہو میں نے عرض کیا اہل عراق سے ہوں انھوں نے فرمایا کیا تم اپنی جانب بہت زیادہ سباخ والی زمین پہچانتے ہو جسے کو ثی کہا جاتا ہے فرمایا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں انھوں نے فرمایا کہ وہیں سے دجال نکلے گا فرمایا کہ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا بلاشبہ شریر لوگوں کے لیے اچھے لوگوں کے بعد ایک سو بیس سال کا عرصہ ہوگا لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا پہلا (سال) کب داخل ہوگا۔
(۳۸۶۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، عَنِ الْہَیْثَم بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : خَرَجْت وَافِدًا فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ فَإِذَا مَعَہُ عَلَی السَّرِیرِ رَجُلٌ أَحْمَرُ کَثِیرُ غُضُونِ الْوَجْہِ ، فَقَالَ لِی مُعَاوِیَۃُ : تَدْرِی مَنْ ہَذَا ؟ ہَذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : فَقَالَ لِی عَبْدُ اللہِ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقُلْتُ : مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : ہَلْ تَعْرِفُ أَرْضًا قِبَلَکُمْ کَثِیرَۃَ السِّبَاخِ یُقَالُ لَہَا کُوثی ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مِنْہَا یَخْرُجُ الدَّجَّالُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : إِنَّ لِلأَشْرَارِ بَعْدَ الأَخْیَارِ عِشْرِینَ وَمِئَۃَ سَنَۃٍ ، لاَ یَدْرِی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ مَتَی یَدْخُلُ أَوَّلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٧) حضرت معرور بن سوید سے روایت ہے کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا عرب کے قبائل میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت تیری قوم ہے مراد بنو تمیم تھے۔
(۳۸۶۶۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَیْد ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : إِنَّ أَشَدَّ أَحْیَائِ الْعَرَبِ عَلَی الدَّجَّالِ لَقَوْمُک ، یَعْنِی بَنِی تَمِیمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٦٨) حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی جوا ہل بصرہ میں سے ہیں ان سے روایت ہے کہ وہ ایک دن حضرت سمرہ بن جندب کے خطبہ میں موجود تھے پس انھوں نے اپنے خطبہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کی انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال نکلیں گے ان میں سے آخری کانا دجال ہوگا اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی گویا کہ ابی تحیی یا ابو یحییٰ کی آنکھ کی طرح جو کہ انصار میں ایک بوڑھا تھا اور وہ جب نکلے گا وہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے جو آدمی اس پر ایمان لے آیا اور اس کی تصدیق کی اور اس کی پیروی کرے گا پس اسے اس کے گزشتہ نیک عمل نفع نہ پہنچائیں گے اور جس آدمی نے اس کا انکار کیا اور اس کی تکذیب کی پس اسے اس کے گزشتہ (برے) عملوں پر سزا نہ دی جائے گی اور وہ ساری زمین پر غالب آجائے گا سوائے مسجد حرام اور بیت المقدس پر اور وہ مومنین کو بیت المقدس میں روک دے گا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے لشکر کو شکست دیں گے یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد یا فرمایا درخت کی جڑ پکارے گی اے مومن یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے مار دو اور یہ اس طرح ہرگز نہیں ہوگا یہاں تک کہ تم دیکھو گے ایسے امور جنہیں تم اپنے نفسوں میں بھیڑیا سمجھتے ہو تم آپس میں پوچھو گے کیا تمہارے نبی نے اس سلسلہ میں کوئی تذکرہ کیا ہے اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں گے پھر اس کے بعد قبض ہوگی اور ہاتھ سے اشارہ کیا (قبض سے مراد واللہ اعلم عام موت اور قیامت کا وقوع ہے) راوی نے فرمایا پھر میں ان کے دوسرے خطبے میں شریک ہوا فرمایا کہ اسی حدیث کو ذکر کیا ایک بات نہ آگے کی اور نہ ہی پیچھے کی۔
(۳۸۶۶۸) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ثَعْلَبَۃُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِیُّ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، أَنَّہُ شَہِدَ یَوْمًا خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، فَذَکَرَ فِی خُطْبَتِہِ حَدِیثًا عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : وَاللہِ لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَخْرُجَ ثَلاَثُونَ کَذَّابًا آخِرُہُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی کَأَنَّہَا عَیْنُ أَبِی تِحْیَی ، أَوْ یَحْیَی لِشَیْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَخْرُجُ فَإِنَّہُ یَزْعُمُ أَنَّہُ اللَّہُ ، فَمَنْ آمَنَ بِہِ وَصَدَّقَہُ وَاتَّبَعَہُ فَلَیْسَ یَنْفَعُہُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلٍ لَہُ سَلَفَ وَمَنْ کَفَرَ بِہِ وَکَذَّبَہُ ، فَلَیْسَ یُعَاقَبُ بِشَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ سَلَفَ ، وَإِنَّہُ سَیَظْہَرُ عَلَی الأَرْضِ کُلِّہَا إِلاَّ الْحَرَمَ وَبَیْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّہُ یَحْصُرُ الْمُؤْمِنِینَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : فَیَہْزِمُہُ اللَّہُ وَجُنُودَہُ حَتَّی إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ أو أَصْلَ الشَّجَرَۃِ یُنَادِی : یَا مُؤْمِنُ ، ہَذَا کَافِرٌ یَسْتَتِرُ بِی ، تَعَالَ اقْتُلْہُ ، قَالَ : وَلَنْ یَکُونَ ذَاکَ کَذَاک حَتَّی تَرَوْنَ أُمُورًا یتفاقم شَأْنُہَا فِی أَنْفُسِکُمْ ، تَسَائَلُونَ بَیْنَکُمْ : ہَلْ کَانَ نَبِیُّکُمْ ذَکَرَ لَکُمْ مِنْہَا ذِکْرًا ، وَحَتَّی تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِہَا ، ثُمَّ عَلَی أَثَرِ ذَلِکَ الْقَبْضُ وَأَشَارَ بِیَدِہِ ، قَالَ : ثُمَّ شَہِدَتْ لَہُ خُطْبَۃٌ أُخْرَی ، قَالَ : فَذَکَرَ ہَذَا الْحَدِیثَ مَا قَدَّمَ کَلِمَۃً وَلاَ أَخَّرَہَا۔ (احمد ۱۳)
তাহকীক: