মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৬২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٩) ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں رو رہی تھی انھوں نے پوچھا تمہیں کونسی چیز رلا رہی ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے تذکرے کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہ رو اگر وہ میری زندگی میں نکلا تو میں تمہاری کفایت کرونگا اور اگر میری وفات ہوجائے تو بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے بلاشبہ اصبہان کے یہود نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ کے بیرونی کنارے میں آئے گا اور اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے مدینہ کے شریر لوگ اس کی طرف نکلیں گے وہ چلے گا یہاں تک کہ مقام لد پر پہنچے گا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ زمین میں چالیس سال کا عرصہ ٹھہریں گے یا راوی فرماتے ہیں یوں فرمایا کہ چالیس سال کے قریب کا زمانہ امام عادل اور انصاف کرنے والے فیصل بن کر ٹھہریں گے۔
(۳۸۶۲۹) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ: حدَّثَنَا شَیْبَانُ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنِ الْحَضْرَمِیِّ بْنِ لاَحِقٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِی ، فَقَالَ : مَا یُبْکِیک ؟ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ذَکَرْت الدَّجَّالَ ، قَالَ : فَلاَ تَبْکِی فَإِنْ یَخْرُجْ وَأَنَا حَیٌّ أَکْفِیکُمُوہُ ، وَإِنْ أَمُتْ فَإِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِنَّہُ یَخْرُجُ مَعَہُ یَہُودُ أَصْبَہَانَ ، فَیَسِیرُ حَتَّی یَنْزِلَ بِضَاحِیَۃِ الْمَدِینَۃِ ، وَلَہَا یَوْمَئِذٍ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ ، عَلَی کُلِّ بَابٍ مَلَکَانِ ، فَیَخْرُجُ إلَیْہِ شِرَارُ أَہْلِہَا ، فَیَنْطَلِقُ حَتَّی یَأْتِیَ لُدَّ ، فَیَنْزِلُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ فَیَقْتُلُہُ ، ثُمَّ یَمْکُثُ عِیسَی فِی الأَرْضِ أَرْبَعِینَ سَنَۃً ، أَوْ قَرِیبًا مِنْ أَرْبَعِینَ سَنَۃً إمَامًا عَادِلاً وَحَکَمًا مُقْسِطًا۔ (احمد ۷۵۔ ابن حبان ۶۸۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٠) حضرت ابن حوالہ ازدی ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا جو آدمی تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا یہ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا صحابہ نے عرض کیا یہ کیا چیزیں ہیں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میری وفات اور دجال اور ایسے خلیفہ کا قتل جو حق پر جمنے والا اور حق دینے والا ہو۔
(۳۸۶۳۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدِ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ لَقِیطٍ التُّجِیبِیِّ ، عَنِ ابْنِ حَوَالَۃَ الأَزْدِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : مَنْ نَجَا مِنْ ثَلاَثٍ فَقَدْ نَجَا ، قَالَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا : مَا ذَاکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : مَوْتِی ، وَالدَّجَّالُ ، وَمِنْ قَتْلِ خَلِیفَۃٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ مُعْطِیہِ۔ (احمد ۲۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣١) ابو عبیدہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا حضرت نوح کے بعد ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے۔ اور بلاشبہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں (راوی فرماتے ہیں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے اس کے بارے میں بیان کیا اور ارشاد فرمایا عنقریب اسے پائے گا وہ شخص جس نے مجھے دیکھا یا فرمایا جس نے میرے کلام کو سنا صحابہ کرام نے عرض کیا اس وقت ہمارے قلوب کیسے ہوں گے کیا آج کے دن جیسے ہوں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے بہتر ہوں گے۔
(۳۸۶۳۱) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُرَاقَۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَہُ الدَّجَّالَ ، وَإِنِّی أُنْذِرُکُمُوہُ ، وَصَفَہُ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : سَیُدْرِکُہُ بَعْضُ مَنْ رَآنِی ، أَوْ سَمِعَ کَلاَمُی ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ قُلُوبُنَا یَوْمَئِذٍ أَمِثْلُہَا الْیَوْمَ ؟ قَالَ : أَوْ خَیْر۔ (ابوداؤد ۴۷۲۳۔ ترمذی ۲۲۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٢) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بیت المقدس کی آبادی یثرب کی بربادی ہے اور یثرب کی بربادی بڑی لڑائی کا (جو رومیوں کے ساتھ ہوگی) ظاہر ہونا ہے اور بڑی لڑائی کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کی ران یا فرمایا اس کے دونوں کندھوں پر اپنا ہاتھ مارا پھر فرمایا یہ حق ہے جیسے تم یہاں ہو یا فرمایا جیسے تم بیٹھے ہو مراد حضرت معاذ خود تھے۔
(۳۸۶۳۲) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ یَخَامِرٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عِمْرَانُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ یَثْرِبَ ، وَخَرَابُ یَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَۃِ ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَۃِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِینِیَّۃ وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِینِیَّۃ خُرُوجُ الدَّجَّالِ ، ثُمَّ یَضْرِبُ بِیَدِہِ عَلَی فَخِذِ الَّذِی حَدَّثَہُ ، أَوْ مَنْکِبَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ہَذَا ہُوَ الْحَقُّ کَمَا أَنَّک ہَاہُنَا ، أَوْ کَمَا أَنْتَ قَاعِدٌ ، یَعْنِی مُعَاذًا۔ (ابوداؤد ۴۲۹۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٣) حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم جمعے والے دن حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس آئے تاکہ ہم اپنے (لکھے ہوئے) صحیفے کا ان کے صحیفے کے ساتھ موازنہ کریں پھر حضرت عثمان بن ابوالعاص تشریف لائے ہم ان کے گرد جمع ہوگئے حضرت عثمان نے ارشاد فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ایک شہر تو دو سمندروں کے سنگھم پر ہوگا اور ایک شہر جزیرہ میں ہوگا ایک شہر شام میں ہوگا پس لوگ تین مرتبہ گھبرائیں گے پھر دجال جنگی لشکروں میں نکلے گا اور مشرق کی جانب شکست کھاجائے گا پہلا شہر جس میں وہ جائے گا وہ شہر ہوگا جو دو سمندروں کے سنگھم میں پر ہوگا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں ہوجائیں گے ایک گروہ وہاں اقامت اختیار کرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہو کر دیکھتے ہیں وہ کیا ہے اور ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور ایک گروہ ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا اس کے (یعنی دجال کے ساتھ) ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جن پر سبز چادریں ہوں گی اس کے اکثر متبعین یہودی اور عورتیں ہوں گی پھر ان کے پاس والے شہر میں آئے گا اس کے رہنے والے تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک گروہ تو وہیں ٹھہرے گا اور کہے گا ہم اس کے قریب ہوں گے اور دیکھیں گے وہ کیا ہے ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ مل جائے گا اور تیسرا گروہ اپنے پاس والے شہر میں چلا جائے گا پھر شام جائے گا مسلمان عقبہ افیق مقام میں جمع ہوجائیں گے وہ اپنے مویشیوں کو بھیجیں گے ان کے مویشیوں کو نقصان پہنچے گا یہ بات ان پر گراں ہوجائے گی ان کو سخت بھوک اور مشقت پہنچے گی یہاں تک کہ ان میں ایک اپنی کمان کی تانت کو جلائے گا اور اسے کھالے گا لوگ اس حالت پر ہوں گے سحر کے وقت ایک پکارنے والا پکارے گا اے لوگو تمہاری مدد آگئی یہ تین مرتبہ ندا دے گا وہ ایک دوسرے سے کہیں گے بلاشبہ یہ آواز ایک سیر شدہ آدمی کی آواز ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فجر کی نماز کے وقت اتریں گے اور ان سے لوگوں کے امیر کہیں گے اے روح اللہ ! آگے بڑھیں ہمیں نماز پڑھائیں (ان سے) حضرت عیسیٰ فرمائیں گے تم اس امت کی جماعت ایک دوسرے پر امراء ہو تم آگے بڑھو اور ہمیں نماز پڑھاؤ وہ امیر آگے بڑھیں گے اور ان کو نماز پڑھائیں گے جب نماز پڑھ کر فارغ ہوں گے عیسیٰ اپنا نیزہ پکڑیں گے اور دجال کی طرف جائیں گے وہ دجال ان کو دیکھے گا تو پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے اس کے سینے کے درمیان اپنا نیزہ رکھیں گے اور اسے قتل کردیں گے پھر اس کے ساتھی شکست خوردہ ہوجائیں گے۔
(۳۸۶۳۳) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، قَالَ : أَتَیْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِی الْعَاصِ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ لِنَعْرِضَ مُصْحَفًا لَنَا بِمُصْحَفِہِ ، فَجَلَسْنَا إِلَی رَجُلٍ یُحَدِّثُ ، ثُمَّ جَائَ عُثْمَان بْنُ أَبِی الْعَاصِ فَتَحَوَّلْنَا إلَیْہِ ، فَقَالَ عُثْمَان : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : یَکُونُ لِلْمُسْلِمِینَ ثَلاَثَۃُ أَمْصَارٍ : مِصْرٌ بِمُلْتَقَی الْبَحْرَیْنِ ، وَمِصْرٌ بِالْجَزِیرَۃِ ، وَمِصْرٌ بِالشَّامِ ، فَیَفْزَعُ النَّاسُ ثَلاَثَ فَزَعَاتٍ ، فَیَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِی أعْرَاضِ جَیْشٍ ، فَیَہَزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَأَوَّلُ مِصْرٍ یَرِدُہُ الْمِصْرُ الَّذِی بِمُلْتَقَی الْبَحْرَیْنِ، فَیَصِیرُ أَہْلُہُ ثَلاَثَ فِرَقٍ: فِرْقَۃٌ تُقِیمُ تَقُولُ: نُشَامُّہُ وَنَنْظُرُ مَا ہُوَ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِالأَعْرَابِ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِی یَلِیہِمْ ، وَمَعَہُ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَیْہِمُ السِّیجَانُ ، فَأَکْثَرُ تُبَّاعِہِ الْیَہُودُ وَالنِّسَائُ ۔
۲۔ ثُمَّ یَأْتِی الْمِصْرَ الَّذِی یَلِیہِمْ فَیَصِیرُ أَہْلُہُ ثَلاَثَ فِرَقٍ : فِرْقَۃٌ تُقِیمُ وَتَقُولُ : نُشَامُّہُ وَنَنْظُرُ مَا ہُوَ ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِالأَعْرَابِ ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِی یَلِیہِمْ ۔
۳۔ ثُمَّ یَأْتِی الشَّامَ فَیَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَی عَقَبَۃِ أَفِیقَ ، یَبْعَثُونَ سَرْحًا لَہُمْ فَیُصَابُ سَرْحُہُمْ ، وَیَشْتَدُّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ، وَتُصِیبُہُمْ مَجَاعَۃٌ شَدِیدَۃٌ وَجَہْدٌ ، حَتَّی إِنَّ أَحَدَہُمْ لَیُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِہِ فَیَأْکُلُہُ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ نَادَی مُنَادٍ مِنَ السَّحَرِ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، أَتَاکُمُ الْغَوْثُ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَیَقُولُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ ہَذَا الصَّوْتَ لِرَجُلٍ شَبْعَانَ ، فَیَنْزِلُ عِیسَی بْنُ مَرْیَمَ عِنْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ فَیَقُولُ لَہُ أَمِیرُ النَّاسِ : تَقَدَّمْ یَا رُوحَ اللہِ فَصَلِّ بِنَا ، فَیَقُولُ : إنَّکُمْ مَعْشَرَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ أُمَرَائُ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ ، تَقَدَّمْ أَنْتَ فَصَلِّ بِنَا ، فَیَتَقَدَّمُ الأَمِیرُ فَیُصَلِّی بِہِمْ ، فَإِذَا انْصَرَفَ أَخَذَ عِیسَی حَرْبَتَہُ فَیَذْہَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ ، فَإِذَا رَآہُ ذَابَ کَمَا یَذُوبُ الرَّصَاصُ ، وَیَضَعُ حَرْبَتَہُ بَیْنَ ثدییہ فَیَقْتُلُہُ ، ثُمَّ یَنْہَزِمُ أَصْحَابُہُ۔ (احمد ۲۱۶۔ طبرانی ۸۳۹۲)
۲۔ ثُمَّ یَأْتِی الْمِصْرَ الَّذِی یَلِیہِمْ فَیَصِیرُ أَہْلُہُ ثَلاَثَ فِرَقٍ : فِرْقَۃٌ تُقِیمُ وَتَقُولُ : نُشَامُّہُ وَنَنْظُرُ مَا ہُوَ ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِالأَعْرَابِ ، وَفِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِی یَلِیہِمْ ۔
۳۔ ثُمَّ یَأْتِی الشَّامَ فَیَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَی عَقَبَۃِ أَفِیقَ ، یَبْعَثُونَ سَرْحًا لَہُمْ فَیُصَابُ سَرْحُہُمْ ، وَیَشْتَدُّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ، وَتُصِیبُہُمْ مَجَاعَۃٌ شَدِیدَۃٌ وَجَہْدٌ ، حَتَّی إِنَّ أَحَدَہُمْ لَیُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِہِ فَیَأْکُلُہُ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ نَادَی مُنَادٍ مِنَ السَّحَرِ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، أَتَاکُمُ الْغَوْثُ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَیَقُولُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ ہَذَا الصَّوْتَ لِرَجُلٍ شَبْعَانَ ، فَیَنْزِلُ عِیسَی بْنُ مَرْیَمَ عِنْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ فَیَقُولُ لَہُ أَمِیرُ النَّاسِ : تَقَدَّمْ یَا رُوحَ اللہِ فَصَلِّ بِنَا ، فَیَقُولُ : إنَّکُمْ مَعْشَرَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ أُمَرَائُ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ ، تَقَدَّمْ أَنْتَ فَصَلِّ بِنَا ، فَیَتَقَدَّمُ الأَمِیرُ فَیُصَلِّی بِہِمْ ، فَإِذَا انْصَرَفَ أَخَذَ عِیسَی حَرْبَتَہُ فَیَذْہَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ ، فَإِذَا رَآہُ ذَابَ کَمَا یَذُوبُ الرَّصَاصُ ، وَیَضَعُ حَرْبَتَہُ بَیْنَ ثدییہ فَیَقْتُلُہُ ، ثُمَّ یَنْہَزِمُ أَصْحَابُہُ۔ (احمد ۲۱۶۔ طبرانی ۸۳۹۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٤) حضرت سفینہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا بلاشبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا وہ بائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی دائیں آنکھ میں ایک موٹا سا ناخنہ ہوگا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر (لکھا ہوا) ہے اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ان میں ایک جنت اور دوسری آگ اس کی جنت آگ ہے اور اس کی آگ جنت ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ میں سے دو فرشتے ہوں گے جو انبیاء میں سے دو نبیوں کے مشابہہ ہوں گے ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کی بائیں جانب ہوگا وہ لوگوں سے کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا میں زندہ نہیں کرتا اور مارتا نہیں دو فرشتوں میں سے ایک کہے گا تو نے جھوٹ کہا پس لوگوں میں سے کوئی ایک اس کی بات نہیں سنے گا مگر اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ) وہ اپنے ساتھی (فرشتے سے) سے کہے گا تو نے سچ کہا لوگ اس کی بات سن لیں گے اور یہ گمان کریں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے اور یہ آزمائش ہوگی پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ کہے گا یہ تو اس آدمی کی بستی ہے چلے گا یہاں تک کہ شام جائے گا پس اللہ تعالیٰ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردیں گے۔
(۳۸۶۳۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَشْرَجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ ، عَنْ سَفِینَۃَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ إِلاَّ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَہُ ، ہُوَ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی ، بِعَیْنِہِ الْیُمْنَی ظَفَرَۃٌ غَلِیظَۃٌ ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ مَعَہُ وَادِیَانِ أَحَدُہُمَا جَنَّۃٌ وَالآخَرُ نَارٌ ، فَجَنَّتُہُ نَارٌ وَنَارُہُ جَنَّۃٌ ، وَمَعَہُ مَلَکَانِ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ یُشْبِہَانِ نَبِیَّیْنِ مِنَ الأَنْبِیَائِ أَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِہِ وَالآخَرُ ، عَنْ شِمَالِہِ ، فَیَقُولُ لأُنَاسٍ : أَلَسْت بِرَبِّکُمْ أَلَسْت أُحْیِی وَأُمِیتُ فَیَقُولُ لَہُ أَحَدُ الْمَلَکَیْنِ : کَذَبْت فَمَا یَسْمَعُہُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ صَاحِبُہُ ، فَیَقُولُ صَاحِبُہُ : صَدَقْت ، فَیَسْمَعُہُ النَّاسُ فَیَحْسَبُونَ إنَّمَا صَدَّقَ الدَّجَّالَ ، وَذَلِکَ فِتْنَۃٌ ، ثُمَّ یَسِیرُ حَتَّی یَأْتِیَ الْمَدِینَۃَ فَلاَ یُؤْذَنُ لَہُ فِیہَا ، فَیَقُولُ : ہَذِہِ قَرْیَۃُ ذَاکَ الرَّجُلِ ، ثُمَّ یَسِیرُ حَتَّی یَأْتِیَ الشَّامَ فَیَقْتُلُہُ اللَّہُ عِنْدَ عَقَبَۃِ أَفِیقَ۔ (احمد ۲۲۱۔ طبرانی ۶۴۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٥) حضرت اسیر بن جابر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کوفہ میں سرخ ہواچلی ایک صاحب آئے ان کی عادت نہیں تھی مگر یہ کہ اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ٹیک لگائے بیٹھے تھے پس بیٹھ گئے اور فرمایا بلاشبہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میراث تقسیم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی غنیمت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا جائے گا اور فرمایا دشمن ہوں گے جو اہل اسلام کے لیے جمع ہوجائیں گے اور اہل اسلام ان کے مقابلے کے لیے ہوں گے اور ہاتھ سے اشارہ کیا شام کی طرف (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا آپ کی مراد روم ہے انھوں نے نے فرمایا ہاں لڑائی اس وقت زور پر ہوگی مسلمان موت کی شرط قائم کرلیں گے کہ نہیں لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ رات ان کے درمیان حائل ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ لڑائی سے لوٹیں گے مگر غالب ہو کر وہ لڑائی کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی یہ بھی رک جائیں گے اور وہ بھی رک جائیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور شرط ختم ہوجائے گی پس جب چوتھا دن ہوگا اہل اسلام کا لشکر ان پر حملہ کرے گا پس اللہ تعالیٰ ان (دشمنان اسلام) پر شکست مقررکر دیں گے ان کے درمیان زبردست لڑائی ہوگی جس کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی یہاں تک کہ پرندہ ان پر سے گزرے گا ان سے آگے نہیں بڑھے گا یہاں تک کہ مر کر گرجائے گا ایک باپ کی اولاد جو سو ہوگی وہ واپس لوٹیں گے ان میں سے صرف ایک آدمی بچے گا کس غنیمت پر خوشی ہوگی اور کونسی میراث تقسیم ہوگی۔ اس اثناء میں کہ وہ اسی طرح ہوں گے کہ ناگاہ اس سے بڑی لڑائی کے بارے میں سنیں گے ایک چیخنے والا ان کے پاس آئے گا اور (کہے گا) کہ دجال اپنی ذریت میں موجود ہے جو چیزیں ان کے قبضے میں ہوں گی انھیں چھوڑ کر متوجہ ہوں گے اور دس سواروں کو بطور دشمن کے حالات معلوم کرنے والوں کے پاس بھیجے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ میں ان کے اور ان کے آباء کے ناموں کو اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو بھی پہچانتا ہوں وہ زمین کی پشت پر بہترین شہ سواروں میں ہوں گے۔
(۳۸۶۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أُسَیرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : ہَاجَتْ رِیحٌ حَمْرَائُ بِالْکُوفَۃِ ، فَجَائَ رَجُلٌ لَیْسَ لَہُ ہِجِّیرَی إِلاَّ یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ جَائَتِ السَّاعَۃُ ، قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللہِ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : إِنَّ السَّاعَۃَلاَ تَقُومُ حَتَّی لاَ یُقْسَمَ مِیرَاثٌ وَلاَ یُفْرَحَ بِغَنِیمَۃٍ ، وَقَالَ : عَدُوٌّ یَجْمَعُونَ لأَہْلِ الإِسْلاَم وَیَجْمَعُ لَہُمْ أَہْلُ الإِسْلاَم ، وَنَحَّا بِیَدِہِ نَحْوَ الشَّامِ قُلْتُ : الرُّومَ تَعْنِی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَیَکُونُ عِنْدَ ذَاکُمُ الْقِتَالِ رَدَّۃٌ شَدِیدَۃٌ ، فَیَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَۃً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَۃً ، فَیَقْتَتِلُونَ حَتَّی یَحْجُزَ بَیْنَہُمُ اللَّیْلُ ، فَیَفِیئُ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَی الشُّرْطَۃُ ۔
۲۔ ثُمَّ یَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَۃً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَۃً ، فَیَقْتَتِلُونَ حَتَّی یُمْسُوا فَیَفِیئُ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَی الشُّرْطَۃُ ، فَإِذَا کَانَ الْیَوْمُ الرَّابِعُ نَہَدَ إلَیْہِمْ جُنْدُ أَہْلِ الإِسْلاَم ، فَیَجْعَلُ اللَّہُ الدَّبَرَۃَ عَلَیْہِمْ ، فَیَقْتَتِلُونَ مَقْتَلَۃً عَظِیمَۃً ، إمَا قَالَ : لاَ یُرَی مِثْلُہَا ، أَوَ قَالَ : لَمْ یُرَ مِثْلُہَا ، حَتَّی إِنَّ الطَّیْرَ لَیَمُرُّ بِجَنْبَاتِہِم مَا یُخَلِّفُہُمْ حَتَّی یَخِرَّ مَیِّتًا فَیَتَعَادُّ بَنُو الأَبِ کَانُوا مِئَۃ فَلاَ یَجِدُونَہُ بَقِیَ مِنْہُمْ إِلاَّ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ ، فَبِأَیِّ غَنِیمَۃٍ یَفْرَحُ ، أَوْ بِأَیِّ مِیرَاثٍ یُقَاسَمُ ۔
۳۔ فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ ہُوَ أَکْبَرُ مِنْ ذَلِکَ ، إذْ جَائَہُمَ الصَّرِیخُ ، إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خُلِّفَ فِی ذَرَارِیِّہِمْ ، فَرَفَضُوا مَا فِی أَیْدِیہِمْ وَیُقْبِلُونَ فَیَبْعَثُونَ عَشَرَۃَ فَوَارِسَ طَلِیعَۃً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی لأَعْرِفُ أَسْمَائَہُمْ وَأَسْمَائَ آبَائِہِمْ وَأَلْوَانَ خُیُولِہِمْ ہُمْ خَیْرُ فَوَارِسَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ ، أَوَ قَالَ : ہُمْ خَیْرُ فَوَارِسَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ یومئذ۔ (مسلم ۲۲۲۳۔ احمد ۳۸۴)
۲۔ ثُمَّ یَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَۃً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَۃً ، فَیَقْتَتِلُونَ حَتَّی یُمْسُوا فَیَفِیئُ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ کُلٌّ غَیْرُ غَالِبٍ ، وَتَفْنَی الشُّرْطَۃُ ، فَإِذَا کَانَ الْیَوْمُ الرَّابِعُ نَہَدَ إلَیْہِمْ جُنْدُ أَہْلِ الإِسْلاَم ، فَیَجْعَلُ اللَّہُ الدَّبَرَۃَ عَلَیْہِمْ ، فَیَقْتَتِلُونَ مَقْتَلَۃً عَظِیمَۃً ، إمَا قَالَ : لاَ یُرَی مِثْلُہَا ، أَوَ قَالَ : لَمْ یُرَ مِثْلُہَا ، حَتَّی إِنَّ الطَّیْرَ لَیَمُرُّ بِجَنْبَاتِہِم مَا یُخَلِّفُہُمْ حَتَّی یَخِرَّ مَیِّتًا فَیَتَعَادُّ بَنُو الأَبِ کَانُوا مِئَۃ فَلاَ یَجِدُونَہُ بَقِیَ مِنْہُمْ إِلاَّ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ ، فَبِأَیِّ غَنِیمَۃٍ یَفْرَحُ ، أَوْ بِأَیِّ مِیرَاثٍ یُقَاسَمُ ۔
۳۔ فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ ہُوَ أَکْبَرُ مِنْ ذَلِکَ ، إذْ جَائَہُمَ الصَّرِیخُ ، إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خُلِّفَ فِی ذَرَارِیِّہِمْ ، فَرَفَضُوا مَا فِی أَیْدِیہِمْ وَیُقْبِلُونَ فَیَبْعَثُونَ عَشَرَۃَ فَوَارِسَ طَلِیعَۃً ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی لأَعْرِفُ أَسْمَائَہُمْ وَأَسْمَائَ آبَائِہِمْ وَأَلْوَانَ خُیُولِہِمْ ہُمْ خَیْرُ فَوَارِسَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ ، أَوَ قَالَ : ہُمْ خَیْرُ فَوَارِسَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ یومئذ۔ (مسلم ۲۲۲۳۔ احمد ۳۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٦) حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال کے والدین تیس سال تک ٹھہریں گے ان کی اولاد نہیں ہوگی پھر ان کا کانا بیٹا پیدا ہوگا جس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم ہوگا اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کا دل نہیں سوئے گا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دجال کے ماں باپ کے بارے میں بتلایا اور ارشاد فرمایا اس کا باپ لمبا اور دبلا اور لمبے ناک والا ہوگا گویا کہ اس کا ناک چونچ کی (کی طرح) ہوگا اور اس کی ماں بڑے پستانوں والی ہوگی۔
(۳۸۶۳۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَمْکُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلاَثِینَ عَامًا لاَ یُولَدُ لَہُمَا، ثُمَّ یُولَدُ لَہُمَا غَُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَیْئٍ وَأَقَلُّہُ نَفْعًا ، تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ ، ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَیْہِ ، فَقَالَ : أَبُوہُ رَجُلٌ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ طَوِیلُ الأَنْفِ ، کَأَنَّ أَنْفَہُ مِنْقَارٌ وَأُمُّہُ امْرَأَۃٌ فِرْضَاخِیَّۃٌ عَظِیمَۃُ الثَّدْیَیْنِ۔ (احمد ۴۰۔ طیالسی ۸۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ارشاد سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے بارے میں ایسی حدیث نہ سناؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے بیان نہیں کی بلاشبہ وہ کانا ہے اور بلاشبہ اس کے ساتھ جنت اور جہنم کی مثل آئے گی جس کے بارے میں وہ کہے گا وہ جنت ہے وہ آگ ہوگی اور میں تمہیں اس سے ایسے ڈراتا ہوں جیسے نوح نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا۔
(۳۸۶۳۷) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی، قَالَ: حدَّثَنَا شَیْبَانُ، عَنْ یَحْیَی، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ أُحَدِّثُکُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِیثًا مَا حَدَّثَہُ نَبِیٌّ قَوْمَہُ : إِنَّہُ أَعْوَرُ وَإِنَّہُ یَجِیئُ مَعَہُ بِمِثْلِ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، فَالَّتِی یَقُولُ: ہِیَ الْجَنَّۃُ، ہِیَ النَّارُ، وَإِنِّی أُنْذِرُکُمْ بِہِ کَمَا أَنْذَرَ بِہِ نُوحٌ قَوْمَہُ۔ (بخاری ۳۳۳۸۔ مسلم ۲۲۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٨) حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مدینہ منورہ میں مسیح دجال کا رعب و دبدبہ داخل نہ ہوگا مدینہ کے اس وقت سات دروازے ہوں گے ہر دروازے کے لیے دو فرشتے مقرر ہوں گے۔
(۳۸۶۳۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْمَدِینَۃَ رُعْبُ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ ، لَہَا یَوْمَئِذٍ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ، لِکُلِّ بَابٍ مَلَکَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٣٩) حضرت رجاء بن ابی رجاء سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت بریدہ مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت محجن مسجد کے دروازے پر تھے اور سکبہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت بریدہ نے فرمایا کیا تم نماز پڑھو گے جیسے سکبہ نماز پڑھ رہے ہیں حضرت محجن نے فرمایا بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا پس احد پر چڑھے اور مدینہ کی طرف جھانکا اور ارشاد فرمایا اس کی ماں کے لیے ہلاکت ہے مدینہ اس کو وہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ وہ پہلے سے زیادہ بہتر ہوگا ( یا راوی فرماتے ہیں) یوں فرمایا مدینہ منورہ پہلے سے زیادہ آباد ہوگا دجال وہاں آئے گا پس اس کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتہ پائے گا جو اپنے پر کھولے ہوئے ہوگا پس وہ مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔
(۳۸۶۳۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إیَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ أَبِی رَجَائٍ ، قَالَ : دَخَلَ بُرَیْدَۃُ الْمَسْجِدَ وَمِحْجَنٌ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ وَسَکَبَۃُ یُصَلِّی ، فَقَالَ : بُرَیْدَۃُ وَکَانَ فِیہِ مِزَاحٌ : أَلاَ تُصَلِّی کَمَا یُصَلِّی سَکَبَۃُ ، فَقَالَ مِحْجَنٌ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِی فَصَعِدَ عَلَی أُحُدٍ وَأَشْرَفَ عَلَی الْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ : وَیْلُ أُمِّہَا مَدِینَۃٌ یَدَعُہَا أَہْلُہَا وَہِیَ خَیْرُ مَا کَانَتْ ، أَوْ أَعْمَرُ مَا کَانَتْ ، یَأْتِیہَا الدَّجَّالُ فَیَجِدُ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِہَا مَلَکًا مُصْلِتًا بِجَنَاحَیْہِ فَلاَ یَدْخُلُہَا۔ (احمد ۳۳۸۔ طیالسی ۱۲۹۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٠) حضرت ابو ذر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں دس مرتبہ قسم کھاؤں کہ ابن صیاد وہی دجال ہے مجھے یہ زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں ایک مرتبہ قسم کھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلے میں کچھ سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ابن صیاد کی ماں کے پاس بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھنا وہ اس سے کتنی دیر حاملہ رہی اس نے کہا میں اس سے بارہ مہینے حاملہ رہی راوی فرماتے ہیں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بتلایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے پوچھوا س کے چیخنے کے بارے میں تو اس کے ماں نے بتلایا یہ چیخا دو مہینے کی طرح اس ابن صیاد نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے اس نے کہا کہ آپ نے میرے لیے سفید بکری کی ہڈی کو چھپایا ہے اور یہ کہنا چاہتا تھا کہ دخان حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دور ہوجا تو تقدیر سے نہیں بڑھ سکتا۔
(۳۸۶۴۰) حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِیرَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَقُولُ : لأَنْ أَحْلِفَ عَشْرًا ، أَنَّ ابْنَ صَیَّادٍ ہُوَ الدَّجَّالُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَۃً ، إِنَّہُ لَیْسَ بِہِ ، وَذَلِکَ لِشَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّ ابْنِ صَیَّادٍ ، فَقَالَ : سَلْہَا کَمْ حَمَلَتْ بِہِ ، فَقَالَتْ : حَمَلْت بِہِ اثْنَیْ عَشَرَ شَہْرًا فَأَتَیْتہ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : سَلْہَا عَنْ صَبِیحَتِہِ حَیْثُ وَقَعَ ، قَالَتْ صَاحَ صِیَاحَ صَبِیِّ ابْنِ شَہْرَیْنِ ، قَالَ : أَوَ قَالَ لَہُ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی قَدْ خَبَّأْت لَکَ خَبِیئًا ، فَقَالَ : خَبَّأْت لِی عَظْمَ شَاۃٍ عَفْرَائَ، وَأَرَادَ أَنْ یَقُولَ : وَ(الدُّخَانَ) ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ فَإِنَّک لَنْ تَسْبِقَ الْقَدَرَ۔
(احمد ۱۴۸۔ بزار ۳۹۸۳)
(احمد ۱۴۸۔ بزار ۳۹۸۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤١) حضرت علی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے تھے ہم نے دجال کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اس حال میں کہ چہرہ سرخ تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال کے علاوہ لوگوں سے مجھے تمہارے بارے میں دجال سے زیادہ خوف ہے اور وہ گمراہ کرنے والے ائمہ ہیں۔
(۳۸۶۴۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُجَیٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا وَہُوَ نَائِمٌ ، فَذَکَرْنَا الدَّجَّالَ فَاسْتَیْقَظَ مُحْمَرًّا وَجْہُہُ ، فَقَالَ : غَیْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَیْکُمْ عِنْدِی مِنَ الدَّجَّالِ : أَئِمَّۃٌ مُضِلُّونَ۔ (احمد ۹۸۔ ابویعلی ۴۶۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٢) حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ لوگ دجال کے نکلنے کے بعد چالیس سال ٹھہریں گے اور کھجور اگائی جائے گی اور بازار قائم ہوں گے۔
(۳۸۶۴۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مَسْعَدَۃَ ، عَنْ رِیَاحِ بْنِ عَبِیْدَۃَ ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ : یَمْکُثُ النَّاسُ بَعْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ أَرْبَعِینَ عَامًا ، وَیُغْرَسُ النَّخْلُ وَتَقُومُ الأَسْوَاقُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٣) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا دجال کا فتنہ بنایا جا چکا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقید حیات تھے۔
(۳۸۶۴۳) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَقَدْ صُنِعَ بَعْضُ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَحَیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا دجال کا نکلنا مجھ پر میری سواری کی لگام گم ہونے سے زیادہ سخت نہیں ہے۔
(۳۸۶۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ بِأَکْرَثَ لِی مِنْ قِیْسِ اللِّجَامِ۔ (نعیم ۱۵۵۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٥) حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں میں حضرت حذیفہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا یہاں تک کہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کیا دجال نکل آیا ہے حضرت حذیفہ نے اس سے کہا دجال کیا ہے بلاشبہ دجال سے پہلے کی چیزوں سے مجھے زیادہ خوف ہے دجال کی بہ نسبت بلاشبہ اس کا فتنہ تو چالیس راتیں ہوگا۔
(۳۸۶۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو یَعْفُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّیْبَانِیَّ یَقُولُ : کُنْت عِنْدَ حُذَیْفَۃَ جَالِسًا إذْ جَائَ أَعْرَابِیٌّ حَتَّی جَثَا بَیْنَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : أَخَرَجَ الدَّجَّالُ ؟ فَقَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ : وَمَا الدَّجَّالُ إِنَّ مَا دُونَ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ مِنَ الدَّجَّالِ ، إنَّمَا فِتْنَتُہُ أَرْبَعُونَ لَیْلَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٦) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دجال کے لیے ساری دنیا سمٹ جائے گی سوائے مکہ اور مدینہ کے پس وہ مدینہ منورہ آئے گا اس کے راستوں میں سے ہر راستے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا مقام سبخۃ الجرف میں آئے گا اس کے کھلے میدان میں ضرب لگائے گا مدینہ میں تین مرتبہ بھونچال آئے گا ہر منافق مرد اور منافقہ عورت اس کے ساتھ مل جائیں گے۔
(۳۸۶۴۶) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الدَّجَّالَ یَطْوِی الأَرْضَ کُلَّہَا إِلاَّ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃَ ، قَالَ : فَیَأْتِی الْمَدِینَۃَ فَیَجِدُ بِکُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِہَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ ، فَیَأْتِی سَبْخَۃَ الْجُرْفِ فَیَضْرِبُ رِوَاقَہُ ، ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِینَۃُ ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ ، فَیَخْرُجُ إلَیْہِ کُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٧) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اگر دجال نکل آئے تو کچھ لوگ اس پر اپنی قبروں میں ایمان لے آئیں۔
(۳۸۶۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَرِّعِ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَجْلَحُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : لَوْ خَرَجَ الدَّجَّالُ لآمَنَ بِہِ قَوْمٌ فِی قُبُورِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٤٨) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے یہود میں سے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا اور فرمایا میں نے تمہیں سچا پایا ہے پس مجھ سے دجال کے بارے میں بیان کرو اس نے کہا یہود کے معبود کی قسم عیسیٰ بن مریم ضرور بالضرور مقام لد کے قریب اسے قتل کریں گے۔
(۳۸۶۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَجُلاً مِنَ الْیَہُودِ عَنْ أَمْرٍ فَقَالَ : قَدْ بَلَوْتُ مِنْکَ صِدْقًا ، فَحَدِّثْنِی عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ : وَإِلَہُ یَہُودٍ ، لَیَقْتُلَنَّہُ ابْنُ مَرْیَمَ بِفِنَائِ لُدٍّ۔
তাহকীক: