মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৬০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٦٠٩) حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے انھوں نے فرمایا مجھے اہل مکہ سے ایک شیخ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو حضرت ابن زبیر کے لڑائی کے ایام میں دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے وہاں اسلحہ تھا تو وہ یہ کہنا شروع ہوگئے کہ تم نے دنیا کو بڑی چیز سمجھ لیا تم نے دنیا کو بڑی چیز سمجھ لیا یہاں تک کہ حجر اسود کا استلام کیا۔
(۳۸۶۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ فِی أَیَّامِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا السِّلاَحُ فَجَعَلَ یَقُولُ : لَقَدْ أَعْظَمْتُمُ الدُّنْیَا ، لَقَدْ أَعْظَمْتُمُ الدُّنْیَا ، حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٠) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور یقیناً کوئی نبی (علیہ السلام) کسی قوم کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا مگر اس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے ڈرایا اور بلاشبہ میرے لیے اس کے بارے میں وہ بات واضح ہوئی ہے جو کسی کے لیے واضح نہیں ہوئی اور وہ (یہ کہ وہ) کانا ہے اور بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔
قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ :

(۳۸۶۱۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَخْتِمُ أَلْفَ نَبِیٍّ ، أَوْ أَکْثَرَ ، وَأَنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ بُعِثَ إِلَی قَوْمٍ إِلاَّ یُنْذِرُ قَوْمَہُ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّہُ قَدْ بُیِّنَ لِی مَا لَمْ یُبَیَّنْ لأَحَدٍ ، وَإِنَّہُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِأَعْوَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١١) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ (اعور) کانا نہیں اور دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہے۔
(۳۸۶۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الْمَسِیحَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ النَّاسِ ، وَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ لَیْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِنَّ الْمَسِیحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُمْنَی کَأَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ۔ (بخاری ۷۱۲۳۔ مسلم ۲۲۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٢) حضرت سعد سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں تھے مگر انھوں نے دجال کے بارے میں اپنی امت کو بتلایا اور میں اس کے بارے میں ایسی صفت بتلاتا ہوں جو کہ مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی یہ کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ اعور (کانے) نہیں ہیں۔
(۳۸۶۱۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِی إِلاَّ وَقَدْ وَصَفَ الدَّجَّالَ لأُمَّتِہِ ، وَلاَصِفَنَّہُ صِفَۃً لَمْ یَصِفْہَا أَحَدٌ قَبْلِی ، إِنَّہُ أَعْوَرُ ، وَلَیْسَ اللَّہُ بِأَعْوَرَ۔ (احمد ۱۷۶۔ ابویعلی ۷۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٣) فلتان بن عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا گمراہی کا مسیح (دجال) وہ ایسا آدمی ہے جس کی پیشانی بہت واضح ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی چوڑے سینے والا ہوگا اور اس میں جھکاؤ ہوگا گویا کہ وہ ابن عبدالعزی کا فلاں بیٹا ہے یا یوں فرمایا کہ عبدالعزی بن فلاں کی طرح ہے۔ (صحیح بخاری میں عبدالعزی بن قطن آتا ہے)
(۳۸۶۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ خَالِہ ، یَعْنِی الْفَلَتَانَ بْنَ عَاصِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَمَّا مَسِیحُ الضَّلاَلَۃ ، فَرَجُلٌ أَجْلَی الْجَبْہَۃِ مَمْسُوحُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی ، عَرِیضُ النَّحْرِ فِیہِ دَفَائٌ کَأَنَّہُ فُلاَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّی ، أَوْ عَبْدُ الْعُزَّی بْنُ فُلاَنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٤) حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی تم میں سے دجال کے نکلنے کے بارے میں سنے وہ اس سے اتنا زیادہ دور رہے بلاشبہ آدمی اس کے پاس اس گمان سے آئے گا کہ وہ مومن ہے پھر مسلسل اس کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ جو بھی اس کی جانب سے ڈالے جانے والی شہادت دیکھے گا وہ اس میں ان کی پیروی کرے گا۔
(۳۸۶۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ أَبِی الدَّہْمَانِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمِعَ مِنْکُمْ بِخُرُوجِ الدَّجَّالِ فَلْیَنْأَ عَنْہُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ یَأْتِیہِ وَہُوَ یَحْسِبُ ، أَنَّہُ مُؤْمِنٌ ، فَمَا یَزَالُ بِہِ حَتَّی یَتَّبِعَہُ مِمَّا یَرَی مِنَ الشُّبُہَاتِ۔

(ابوداؤد ۴۳۱۹۔ احمد ۴۳۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٥) حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ کسی نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مجھ سے زیادہ دجال کے بارے میں نہیں پوچھا حضرت مغیرہ نے کہا کہ تم نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا راوی قیس کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانے اور پینے کی چیزیں ہوں گی تو انھوں نے فرمایا کہ دجال کا امر اللہ تعالیٰ پر اس سے زیادہ آسان ہے (دجال کے لیے حقیقتاً یہ چیزیں ثابت نہیں ہوں گی اور جو ہوں گی وہ آزمائش اور امتحان کے لیے ملمع سازی ہوگی۔
(۳۸۶۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، قَالَ : مَا کَانَ أَحَدٌ یَسْأَلُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الدَّجَّالِ أَکْثَرَ مِنِّی ، قَالَ : وَمَا تَسْأَلُنِی عَنْہُ قُلْتُ : إِنَّ النَّاسَ یَقُولُونَ : إِنَّ مَعَہُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، قَالَ : ہُوَ أَہْوَنُ عَلَی اللہِ مِنْ ذَلِکَ۔ (بخاری ۷۱۲۲۔ مسلم ۱۶۹۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٦) حضرت زید بن ثابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو۔ ہم نے کہا ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
(۳۸۶۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَعَوَّذُوا بِاللہِ مِنْ فِتْنَۃِ المسیح الدَّجَّالِ ، قُلْنَا : نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایک تشہد پڑھے تو وہ مسیح دجال کے فتنے سے بھی پناہ مانگے۔
(۳۸۶۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَعَنْ یَحْیَی ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا تَشَہَّدَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَعِذْ بِاللہِ مِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ۔ (مسلم ۴۱۲۔ ابوداؤد ۹۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٨) حضرت عائشہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ ! میں آپ سے مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔
(۳۸۶۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦١٩) حضرت ابو سریحہ حذیفہ بن اسد سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف جھانکا اور ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہوجائں ہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا تذکرہ فرمایا اور دجال کا تذکرہ فرمایا۔
(۳۸۶۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنْ أَبِی سَرِیحَۃَ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ ، قَالَ : اطَّلَعَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَکُونَ عَشْرُ آیَاتٍ ، ذَکَرَ طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ، وَالدَّجَّالَ۔ (مسلم ۲۲۲۵۔ ابوداؤد ۴۳۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٠) حضرت ابو سید خدری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں ہزار نبیوں یا اس سے زیادہ فرمایا کے بعد آیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نبی اپنی قوم کی طرف نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس نے انھیں دجال سے ڈرایا اور بلاشبہ میرے لیے وہ بات بیان کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی ایک سے بھی بیان نہیں کی گئی بلاشبہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے اور اس کی دائیں آنکھ کانی ہے اس کی پتلی نہیں ہے اور ابھری ہوئی ہے اور دوسری ایسے ہے گویا کہ چمکتا ہوا روشن ستارہ ہر قوم میں سے جو اس کی پیروی کرینگے وہ اس کو اپنی زبان میں اِلٰہ کے ساتھ پکاریں گے۔
(۳۸۶۲۰) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِی الْوَدَّاکِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : أَنَا أَخْتِمُ أَلْفَ نَبِیٍّ ، أَوْ أَکْثَرَ ، مَا بَعَثَ اللَّہُ مِنْ نَبِیٍّ إِلَی قَوْمِہِ إِلاَّ حَذَّرَہُمَ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّہُ قَدْ بُیِّنَ لِی مَا لَمْ یُبَیَّنْ لأَحَدٍ قَبْلِی ، إِنَّہُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّہَ لَیْسَ بِأَعْوَرَ ، وَإِنَّہُ أَعْوَرُ عَیْنِ الْیُمْنَی ، لاَ حَدَقَۃَ لَہُ ، جَاحِظَۃٌ ، وَالأُخْرَی کَأَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّی ، وَإِنَّہُ یَتَّبِعُہُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ یَدْعُونَہُ بِلِسَانِہِمْ إلَہًا۔

(حاکم ۵۹۷۔ احمد ۲۶۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢١) حضرت مجاہد سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس دجال کا تذکرہ کیا تو حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہوگا مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات نہیں سنی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ رہے ابراہیم تو ان کی شبیہ دیکھو اپنے صاحب میں یزید راوی کہتے ہیں کہ صاحب سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنی ذات ہے اور رہے موسیٰ تو وہ ایک گندمی رنگ کے گھنگریالے بالوں والے لمبے قد کے مرد ہیں گویا کہ وہ شنوء ہ قبیلے کے مردوں میں سے ہیں سرخ اونٹ پر جس کی لگام خشک گھاس کی ہوگی پر سوار ہوں گے گویا کہ میں ان کو وادی سے تلبیہ پڑھتے ہوئے آتا دیکھ رہا ہوں۔
(۳۸۶۲۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : ذَکَرُوہُ ، یَعْنِی الدَّجَّالَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ : ک ف ر ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْہُ یَقُولُ ذَلِکَ ، وَلَکِنَّہُ قَالَ : أَمَّا إبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ ، قَالَ یَزِیدُ : یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا مُوسَی فَرَجُلٌ آدَم جَعْدٌ طُوَالٌ کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَۃَ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَۃٍ ، فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إلَیْہِ قَد انْحَدَرَ مِنَ الْوَادِی یُلَبِّی۔ (بخاری ۱۵۵۵۔ مسلم ۱۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٢) حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس دجال سے تم پر کوئی خوف نہیں ہے اگر وہ نکلا میری زندگی میں تو میں اس کا مقابلہ کرنے والا ہوں گا اور اگر وہ میری وفات کے بعد نکلا تو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر محافظ ہوں گے۔
(۳۸۶۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ بَہْرَامَ عْن شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَائَ ابْنَۃِ یَزِیدَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْہُ بَأْسٌ ، إِنْ خَرَجَ وَأَنَا حَیٌّ فَأَنَا حَجِیجُہُ ، وَإِنْ خَرَجَ بَعْدَ مَوْتِی فَاللَّہُ خَلِیفَتِی عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ۔ (ابوداؤد ۴۳۲۱۔ ترمذی ۲۲۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٣) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہم مسیح دجال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
(۳۸۶۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٤) حضرت انس سے روایت ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی آنکھ پر ناخنہ ہے (یعنی ایک بیماری جس میں آنکھ پر ناک کی طرح جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔
(۳۸۶۲۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُمْنَی ، عَلَیْہَا ظَفَرَۃٌ ، مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ۔ (بخاری ۷۱۳۱۔ مسلم ۲۲۴۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٥) حضرت عبداللہ بن عباس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ دجال گھنگریالے بالوں والا بہت زیادہ سفید ہے اس کے سر کے بال گویا درخت کی شاخیں ہیں لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے بہت زیادہ مشابہہ ہے اگر لوگ اس کی مشابہت کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانے نہیں ہیں (مراد یہ ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں جہالت کی بناء پر تو پھر بھی وہ اپنے سے کانے پن کا عیب دور نہیں کرسکتا جبکہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک و منزہ ہیں) ۔
(۳۸۶۲۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ جَعْدٌ ہِجَانٌ أَقْمَرُ ، کَأَنَّ رَأْسَہُ غَصْنَۃُ شَجَرَۃٍ ، أَشْبَہُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قَطَنٍ ، فَإِمَّا ہَلَکَ الْہُلُکُ فَإِنَّہُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّہَ لَیْسَ بِأَعْوَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٦) حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ہشام بن عامر انصاری کچھ لوگوں کو دیکھتے تھے کہ وہ حضرت عمران بن حصین اور دوسرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے پاس جاتے تھے وہ غصے میں آگئے اور ارشاد فرمایا اللہ کی قسم تم ان لوگوں کے پاس جاتے ہو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ تو مجھ سے زیادہ حاضر باش تھے اور نہ ان کی احادیث کو مجھ سے زیادہ یادر کھنے والے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حضرت آدم کی پیدائش اور قیامت قائم ہونے تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔
(۳۸۶۲۶) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ، قَالَ: حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ، قَالَ: کَانَ ہِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الأَنْصَارِیُّ یَرَی رِجَالاً یَتَخَطَّوْنَہُ إِلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ وَغَیْرِہِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ ، وَقَالَ : وَاللہِ إنَّکُمْ لَتَخْطَوْنَ إِلَی مَنْ لَمْ یَکُنْ أَحْضَرَ لِرَسُولِ اللہِ مِنِّی وَلاَ أَوْعَی لِحَدِیثِہِ مِنِّی ، لَقَدْ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا بَیْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ فِتْنَۃٌ أَکْبَرُ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (احمد ۲۰۔ طبرانی ۲۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٧) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں اس فریب کو جو دجال کے ساتھ ہوگا اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ان میں سے ایک بظاہر دیکھنے میں سفید پانی معلوم ہوگی اور دوسری بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ معلوم ہوگی اگر کوئی اس صورتحال میں مبتلا ہو تو جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں چلا جائے اور آنکھیں بند کرے پھر پینے کے لیے سر جھکائے تو وہ ٹھنڈاپانی ہوگا اور بلاشبہ دجال مٹی ہوئی آنکھ والا ہے اس کی آنکھ پر موٹا ناخنہ سا ہوگا (ایک ظفرہ بیماری جس کی وجہ سے آنکھ پر ناک کی طرح کی جھلی آجاتی ہے) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا جس کو ہر مومن پڑھ لے گا لکھنے (پڑھنے) والا ہو یا نہ لکھنے (پڑھنے) والا نہ ہو۔
(۳۸۶۲۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّالِ ، مَعَہُ نَہْرَانِ یَجْرِیَانِ أَحَدُہُمَا رَأْیَ الْعَیْنِ مَائٌ أَبْیَضُ ، وَالآخَرُ رَأْیَ الْعَیْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ ، فَإِمَّا أَدْرَکَ أَحَدٌ ذَلِکَ فَلْیَأْتِ النَّارَ الَّذِی یَرَاہُ فَلْیُغْمِضْ ، ثُمَّ لِیُطَأْطِئْ رَأْسَہُ لِیَشْرَبَ فَإِنَّہُ مَائٌ بَارِدٌ ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَیْنِ ، عَلَیْہَا ظَفَرَۃٌ غَلِیظَۃٌ مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ ، یقرؤہ کُلُّ مُؤْمِنٍ کَاتِبٍ وَغَیْرِ کَاتِبٍ۔ (مسلم ۲۲۴۹۔ احمد ۴۰۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ باب دجال کے فتنے کے بیان میں ہے
(٣٨٦٢٨) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں دجال کے ساتھ جو فریب ہوگا اس کو خوب جانتا ہوں اس کے ساتھ جلانے والی آگ اور ٹھنڈے پانی کی نہر ہوگی پس تم میں کوئی اسے پالے تو اس کے ساتھ ہلاک نہ ہو اپنی آنکھیں بند کر کے جسے آگ سمجھ رہا ہے اس میں کود جائے بلاشبہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا۔
(۳۸۶۲۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدَّجَّالِ إِنَّ مَعَہُ نَارًا تُحْرِقُ ، وَنَہْرَ مَائٍ بَارِدٍ ، فَمَنْ أَدْرَکَہُ مِنْکُمْ فَلاَ یَہْلِکَنَّ بِہِ فَلْیُغْمِضْ عَیْنَیْہِ ، وَلْیَقَعْ فِی الَّذِی یَرَی أَنَّہُ نَارٌ ، فَإِنَّہُ نَہْرُ مَائٍ بَارِدٍ۔ (ابوداؤد ۴۳۱۵)
tahqiq

তাহকীক: