মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৫৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٩) حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں بصرہ جانا چاہتا ہوں حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا اگر تمہارے لیے جانا ضروری ہے تو اس کے کنارے میں ٹھہرنا اس کے درمیان میں نہ ٹھہرنا۔
(۳۸۵۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی حُذَیْفَۃَ ، فَقَالَ : إنِّی أُرِیدُ الْخُرُوجَ إِلَی الْبَصْرَۃِ ، فَقَالَ : إِنْ کُنْت لاَ بُدَّ لَکَ مِنَ الْخُرُوجِ فَانْزِلْ عَرَوَاتِہَا وَلاَ تَنْزِلْ سُرَّتَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٠) حضرت ابو یحییٰ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت حذیفہ سے پوچھو کہ منافق کون ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا جو اسلام کو بیان کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔
(۳۸۵۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ ہُرْمُزَ أَبِی الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِی یَحْیَی ، قَالَ : سُئِلَ حُذَیْفَۃُ : مَن الْمُنَافِقُ ، قَالَ : الَّذِی یَصِفُ الإِسْلاَمَ وَلاَ یَعْمَلُ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧١) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم راستوں میں چوپایوں کی طرح زنا کرو گے ان پر ابلیس مسلط ہوگا اور ان کو بتوں کی عبادت کی طرف پھیر دے گا۔
(۳۸۵۷۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنَ الطَّائِفِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَتَہَارَجُونَ فِی الطُّرُقِ تَہَارُجَ الْحَمِیرِ فَیَأْتِیہِمْ إبْلِیسُ فَیَصْرِفُہُمْ إِلَی عِبَادَۃِ الأَوْثَانِ۔ (حاکم ۴۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٢) حضرت کعب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا قرآن اور بادشاہ کے درمیان مقابلہ ہوگا وہ بادشاہ قرآن کے احکامات کو روند دے گا ہائے میری مصیبت ہائے میری مصیبت تم اس سے چھٹکارا نہیں پا سکو گے۔
(۳۸۵۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : یَقْتَتِلُ الْقُرْآنُ وَالسُّلْطَانُ ، قَالَ : فَیَطَأُ السُّلْطَانُ عَلَی سِمَاخِ الْقُرْآنِ ، فَلأْیًا بِلأْی وَلأْیًا بِلأْی ، مَا تَنْفَلِتنَّ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٣) حضرت کعب سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا عنقریب یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانکے گی صبح کے وقت جب وہ ٹھہریں گے وہ ان کے ساتھ اسی مقام پر ٹھہرے گی اور جہاں دوپہر کے وقت آرام کے لیے ٹھہریں گے وہاں وہ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی اور پچھلے پہر جب وہ سفر کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ چلے گی جب تم اس کے بارے میں سن لو تو شام کی طرف چلے جانا۔
(۳۸۵۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : یُوشِکُ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ ، قَالَ : تَسُوقُ النَّاسَ تَغْدُو مَعَہُمْ إِذَا غَدَوْا ، وَتَقِیلُ مَعَہُمْ إِذَا قَالُوا : وَتَرُوحُ مَعَہُمْ إِذَا رَاحُوا ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ فَاخْرُجُوا إِلَی الشَّامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٤) حضرت عبداللہ بن عباس حضرت کعب سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا جب تم دیکھو بارش روک دی گئی ہے تو جان لینا لوگوں نے زکوۃ روک دی ہے اللہ تعالیٰ نے جو اس کے پاس چیز تھی (یعنی بارش) وہ روک لی۔ اور جب تم دیکھو تلواریں ننگی ہوگئی ہیں تو جان لینا اللہ تعالیٰ کا حکم ضائع کیا جارہا ہے تو وہ ایک دوسرے سے انتقام لینے لگے اور جب تو دیکھے زنا عام ہوگیا تو جان لینا کہ سود پھیل چکا ہے۔
(۳۸۵۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : إِذَا رَأَیْت الْقَطْرَ قَدْ مُنِعَ فَاعْلَمْ ، أَنَّ النَّاسَ قَدْ مَنَعُوا الزَّکَاۃَ فَمَنَعَ اللَّہُ مَا عِنْدَہُ ، وَإِذَا رَأَیْت السُّیُوفَ قَدْ عَرِیَتْ فَاعْلَمْ أَنَّ حُکْمَ اللہِ قَدْ ضُیِّعَ فَانْتَقَمَ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ ، وَإِذَا رَأَیْت الزِّنَا قَدْ فَشَا فَاعْلَمْ ، أَنَّ الرِّبَا قَدْ فَشَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٥) حضرت زید بن صوحان سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ مجھ سے سلمان نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب قرآن اور بادشاہ کی لڑائی ہوگی انھوں نے جواب میں فرمایا اس وقت میں قرآن کے ساتھ ہوں گا انھوں نے فرمایا اس وقت زید تم بہت ہی اچھے ہوگے ابو قرہ جو فتنوں کو ناپسند کرتے تھے کہا میں اس وقت اپنے گھر میں بیٹھوں گا حضرت سلمان نے فرمایا اگر تو نوکروں کے اندر بھی ہوا تو تو دو گروہوں میں سے ایک کے ساتھ ہوگا۔
(۳۸۵۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ ، قَالَ : قَالَ لِی سَلْمَانُ : کَیْفَ أَنْتَ إِذَا اقْتَتَلَ الْقُرْآنُ وَالسُّلْطَانُ ، قَالَ : إذًا أَکُونُ مَعَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : نِعْمَ الزوید أَنْتَ إذًا ، فَقَالَ أَبُو قُرَّۃَ وَکَانَ یَبْغَضُ الْفِتَنَ : إذًا أَجْلِسُ فِی بَیْتِی ، فَقَالَ سَلْمَانُ : لَوْ کُنْت فِی أَقْصَی تِسْعَۃِ أَبْیَاتٍ کُنْت مَعَ إحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٦) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ جب ہم نہروان سے لوٹے حضرت علی نے فرمایا یمن میں ہمارے ساتھ کچھ لوگ شریک تھے ہم نے عرض کیا ان کی شرکت وغیرہ کی کیا صورت تھی ارشاد فرمایا خواہش نفس (تھی)
(۳۸۵۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عن مالک بن مغول : قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعنَا مِنَ النَّہْرَوَانِ ، قَالَ عَلِیٌّ : لَقَدْ شَہِدَنَا قَوْمٌ بِالْیَمَنِ ، قُلْنَا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، کَیْفَ ذَاکَ ، قَالَ : بِالْہَوَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٧) حضرت عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا بلاشبہ کوئی آدمی برائی کے وقت موجود ہوتا ہے اور اسے ناپسند کرتا ہے تو وہ اس آدمی کی طرح ہوتا ہے جو برائی کے وقت موجود نہیں ہے اور برائی کے وقت موجود نہیں ہوتا اور اسے پسند کرتا ہے وہ اس آدمی کی طرح ہوتا ہے جو برائی کے وقت حاضر ہو۔
(۳۸۵۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیَشْہَدُ الْمَعْصِیَۃَ فَیُنْکِرُہَا ، فَیَکُونُ کَمَنْ غَابَ عَنْہَا ، وَیَکُونُ یَغِیبُ عَنْہَا فَیَرْضَاہَا فَیَکُونُ کَمَنْ شَہِدَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٨) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا بلاشبہ ایک آدمی فتنے کے اندر شریک ہوگا لیکن اس میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہوگا۔
(۳۸۵۷۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیَکُونُ مِنَ الْفِتْنَۃِ ، وَمَا ہُوَ فِیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٧٩) حضرت عبداللہ بن سبیع سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت علی نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور ارشاد فرمایا اس حصہ کو یہاں تک خون آلود کردیا جائے گا اور مراد تھی داڑھی سے سر تک کا حصہ لوگوں نے عر ض کیا ہمیں اس شخص کے بارے میں بتلائیں ہم اسے قتل کردیں گے حضرت علی نے فرمایا بخدا پھر تو تم میرے لیے اس آدمی کو قتل کرو گے جو میرا قاتل نہیں پھر لوگوں نے عرض کیا ہم پر خلیفہ مقرر کردیں حضرت علی نے فرمایا نہیں بلکہ میں تمہیں اسی حالت پر چھوڑوں گا جس حالت پر تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھوڑا (یعنی بغیر خلیفہ مقرر کرنے کے) لوگوں نے عرض کیا آپ اپنے رب سے کیا کہیں گے جب آپ کی اس سے ملاقات ہوگی انھوں نے ارشاد فرمایا میں کہوں گا کہ اے اللہ ! جب ان میں موجود تھا تو آپ بھی ان میں موجود تھے اگر آپ چاہتے تو ان کی اصلاح کردیتے اور اگر آپ چاہتے تو ان کی حالت خراب کردیتے۔
(۳۸۵۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُبَیعٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عَلِیٌّ ، فقَالَ : لَتُخْضَبَنَّ ہَذِہِ مِنْ ہَذَا ، یَعْنِی لِحْیَتَہُ مِنْ رَأْسِہِ ، قَالُوا : أَخْبِرْنَا بِہِ نَقْتُلُہُ ، قَالَ : إذًا تَاللہِ تَقْتُلُونَ بِی غَیْرَ قَاتِلِی ، قَالُوا : فَاسْتَخْلِفْ عَلَیْنَا ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی أَتْرُکُکُمْ إِلَی مَا تَرَکَکُمْ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إِذَا لَقِیتہ ، قَالَ : أَقُولُ : اللَّہُمَّ کُنْت فِیہِمْ ، وَأَنْتَ فِیہِمْ ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتہمْ وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتہمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٠) حضرت عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں مضبوط پہاڑ کو ہٹاؤں یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہے بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے بادشاہ کو ہٹاؤں جس کی مدت حکومت مقرر کی گئی ہو۔
(۳۸۵۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : وَاللہِ لأَنْ أُزَاوِلَ جَبَلاً رَاسِیًا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أُزَاوِلَ مَلِکًا مُؤَجَّلاً۔ (نعیم ۳۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨١) حضرت عامربن مطر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت حذیفہ کے ساتھ تھا انھوں نے فرمایا قریب ہے کہ تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اپنے دین ارزاں کردیں گے جیسے عورت اپنی شرمگاہ کو ارزاں کردیتی ہے جس طریقے پر آج تم ہو اس پر ٹھہرے رہو کیونکہ وہ واضح راستہ ہے اے عامر بن مطر تمہاری کیا حالت ہوگی جب لوگ ایک راستہ اختیار کرلیں گے اور قرآن کا ایک راستہ ہوگا تم دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا قرآن کے ساتھ رہوں گا اسی کے ساتھ زندہ رہوں گا اور اس کے ساتھ مروں گا حضرت حذیفہ نے فرمایا اس وقت تو تو ہی ہوگا۔
(۳۸۵۸۱) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَبَلَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ بْنِ مَطَرٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ حُذَیْفَۃَ ، فَقَالَ : یُوشِکُ أَنْ تَرَاہُمْ یَنْفَرِجُونَ ، عَنْ دِینِہِمْ کَمَا تَنْفَرِجُ الْمَرْأَۃُ ، عَنْ قُبُلِہَا ، فَأَمْسِکْ بِمَا أَنْتَ عَلَیْہِ الْیَوْمَ فَإِنَّہُ الطَّرِیقُ الْوَاضِحُ ، کَیْفَ أَنْتَ یَا عَامِرُ بْنُ مَطَرٍ إِذَا أَخَذَ النَّاسُ طَرِیقًا وَالْقُرْآنُ طَرِیقًا ، مَعَ أَیُّہُمَا تَکُونُ قُلْتُ : مَعَ الْقُرْآنِ ، أَحْیَا مَعَہُ وَأَمُوتُ مَعَہُ ، قَالَ : فَأَنْتَ أَنْتَ إذًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٢) حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا بلاشبہ تم سے پہلے لوگ متحیر ہوئے اور متفرق ہوگئے یہاں تک کہ ہلاک ہوگئے ان میں سے کسی ایک کو جب پیچھے کی جانب سے پکارا جاتا تو سامنے کی جانب جواب دیتا تھا اور اگر سامنے کی جانب سے پکارا جا تھا تھا تو پیچھے کی جانب جواب دیتا تھا۔
(۳۸۵۸۲) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی یَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، إِنَّ قَوْمًا مِنْ قَبْلِکُمْ تَحَیَّرُوا وَنَفَرُوا حَتَّی تَاہُوا ، فَکَانَ أَحَدُہُمْ إِذا نُودِیَ مِنْ خَلْفِہِ أَجَابَ مِنْ أَمَامِہِ ، وَإِنْ نُودِیَ مِنْ أَمَامِہِ أَجَابَ مِنْ خَلْفِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٣) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے کوئی اپنے کمرے سے نکل کر اپنے بیت الخلاء جائے گا وہ لوٹے گا اس حال میں کہ اس کا چہرہ مسخ کر کے اسے بندر بنادیا گیا ہوگا وہ اپنی بیٹھنے کی جگہ تلاش کرے گا لیکن اسے نہیں پا سکے گا۔
(۳۸۵۸۳) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا أَتَاکُمْ زَمَانٌ یَخْرُجُ أَحَدُکُمْ مِنْ حَجَلَتِہِ إِلَی حُشِّہِ فَیَرْجِعُ وَقَدْ مُسِخَ قِرْدًا فَیَطْلُبُ مَجْلِسَہُ فَلاَ یَجِدُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٤) حضرت وابصہ اسدی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں کوفہ میں اپنے گھر میں تھا اچانک میں نے اپنے دروازے پر یہ بات سنی السلام علیکم کیا میں داخل ہوجاؤ میں نے کہا وعلیکم السلام داخل ہوجاؤ پس وہ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے عرض کیا اے ابو عبدالرحمن ! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے یہ عین دوپہر کی بات تھی انھوں نے فرمایا دن مجھ پر لمبا ہوگیا تھا میں نے سوچا کہ کسی سے بات چیت کروں پھر مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سنانے لگے اور میں بھی ان کو احادیث سنانے لگا حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ ایک فتنہ ہوگا اس میں سونے والا اس میں پہلو کے بل لیٹنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں لیٹنے والا بھنے ا والے سے بہتر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس فتنے میں مارے جانے والے سارے جہنم میں جائیں گے راوی حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا یہ کب ہوگا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ارشاد فرمایا یہ ہرج کے ایام میں ہوگا میں نے عرض کیا یہ ایام ہرج کب ہوں گے انھوں نے فرمایا جب کسی آدمی کو اپنے ہمنشین سے امن نہیں ہوگا حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر میں یہ زمانہ پالوں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا میں نے عرض کیا اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوجائے تو آپ کی کیا رائے ہے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنی کوٹھڑی میں گھس جا میں نے کہا اگر وہ وہاں بھی داخل ہوجائے تو آپ کا کیا خیال ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس طرح کرنا (یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ کیا تھا جس کی تفصیل مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے کہ راوی نے دائیں ہاتھ سے کلائی کی ہڈی کو پکڑ کر اشارے کی تفصیل کی) اور کہنا میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹ اور اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔
(۳۸۵۸۴) حَدَّثَنَا یَعْمَرُ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَۃَ الأَسَدِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : إنِّی بِالْکُوفَۃِ فِی دَارِی إذْ سَمِعْت عَلَی بَابِ الدَّارِ : السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ ، أَلِجُ ؟ فَقُلْتُ : وَعَلَیْکُمَ السَّلاَمُ ، فَلِجْ ، فَإِذَا ہُوَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَیَّۃُ سَاعَۃِ زِیَارَۃٍ ، وَذَلِکَ فِی نَحْرِ الظَّہِیرَۃِ ، قَالَ : طَالَ عَلَیَّ النَّہَارُ فَتَذَکَّرْت مَنْ أَتَحَدَّثُ إلَیْہِ ، فَجَعَلَ یُحَدِّثُنِی عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُہُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تَکُونُ فِتْنَۃٌ النَّائِمُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ وَالْمُضْطَجِعُ خَیْرٌ مِنَ الْقَاعِد ، وَالْقَاعِدُ خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی ، وَالْمَاشِی خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی ، قَتْلاَہَا کُلُّہَا فِی النَّارِ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَتَی ذَاکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ ذَاکَ أَیَّامَ الْہَرْجِ، قُلْتُ: وَمَتَی أَیَّامُ الْہَرْجِ ، قَالَ: حِینَ لاَ یَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِیسَہُ، قَالَ: قُلْتُ، فَبِمَ تَأْمُرُنِی إِنْ أَدْرَکْتُ ذَلِکَ ، قَالَ : اُدْخُلْ بَیْتَکَ ، قُلْتُ : أَفَرَأَیْت إِنْ دُخِلَ عَلَیَّ ، قَالَ : تُوَالِ مَخْدَعَک ، قَالَ : قُلْتُ : أَفَرَأَیْت إِنْ دُخِلَ عَلَیَّ ، قَالَ : قُلْ ہَکَذَا ، وَقُلْ : بُؤْ بِإِثْمِی وَإِثْمِکَ ، وَکُنْ عَبْدَ اللہِ الْمَقْتُولَ۔ (احمد ۴۴۹۔ عبدالرزاق ۲۰۷۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٥) حضرت جندب بن سفیان سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح لوگ انھیں ایسے ٹکرائیں گے جیسے نر بیلوں کی جماعتیں ٹکراتی ہیں ان میں انسان مسلمان ہونے کی حالت میں صبح کرے گا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مسلمان ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اس وقت کیا کریں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے گھروں میں داخل ہوجانا اور اپنے آپ کو گمنام کرلینا مسلمانوں میں ایک صاحب نے عرض کیا آپ کا کیا خیال ہے اگر ہم میں سے کسی ایک کے گھر میں کوئی داخل ہوجائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اپنا ہاتھ روکے اور اللہ کا مقتول بندہ بن جائے اور اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے بلاشبہ انسان کا دین قوی ہوتا ہے پس وہ اپنے بھائی کا مال کھاتا ہے اور اس کا خون بہاتا ہے اور اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔
(۳۸۵۸۵) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ بَہْرَامُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی جُنْدُبُ بْنُ سُفْیَانَ ، رَجُلٍ مِنْ بَجِیلَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَتَکُونُ بَعْدِی فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، تَصْدِمُ الرَّجُلَ کَصَدْمِ جِبَاہِ فُحُولِ الثِّیرَانِ ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیہَا مُسْلِمًا وَیُمْسِی کَافِرًا ، وَیُمْسِی مُسْلِمًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَکَیْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِکَ ؟ قَالَ : ادْخُلُوا بُیُوتَکُمْ وَأَخْمِلُوا ذَکَرَکُمْ ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ : أَفَرَأَیْت إِنْ دَخَلَ عَلَی أَحَدِنَا بَیْتَہُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَلْیُمْسِکْ بِیَدَیْہِ وَلْیَکُنْ عَبْدَ اللہِ الْمَقْتُولَ ، وَلاَ یَکُنْ عَبْدَ اللہِ الْقَاتِلَ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ یَکُونُ فِی قُبَّۃِ الإِسْلاَم فَیَأْکُلُ مَالَ أَخِیہِ وَیَسْفِکُ دَمَہُ وَیَعْصِی رَبَّہُ وَیَکْفُرُ بِخَالِقِہِ فَتَجِبُ لَہُ جَہَنَّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٦) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایک عاجز ہے اس بات سے کہ جب اس کے پاس کوئی آدمی اس کو قتل کرنے کے لیے آئے مراد ان کی یہ تھی کہ فلاں لوگوں میں سے کوئی کہے کہ وہ یوں کرے اور اشارہ کیا اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف پس وہ ہوجائے گا اولاد آدم میں سے بہترین لوگوں کی طرح اور وہ آدمی جنت میں ہوگا اور اس کا قاتل جہنم میں ہوگا۔
(۳۸۵۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ إِذَا أَتَاہُ الرَّجُلُ یَقْتُلُہُ ، یَعْنِی مِنْ أَہْلِ کَذَا أَنْ یَقُولَ ہَکَذَا ، وَقَالَ بِإِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی فَیَکُونُ کَالْخَیْرِ مِنِ ابْنَیْ آدَمَ ، وَإِذَا ہُوَ فِی الْجَنَّۃِ وَإِذَا قَاتِلُہُ فِی النَّارِ۔ (مسند ۴۳۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٧) حضرت شریح سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ جب سے فتنہ شروع ہوا نہ میں نے اس کی خبر دی اور نہ مجھ سے اس کے بارے میں خبر طلب کی گئی ان سے مسروق نے کہا : اگر میں آپ کی طرح ہوتا تو مجھے یہ بات پسند ہوتی کہ میں مرجاؤں شریح نے اس سے کہا کیا ہوگی اس وقت حالت جب کہ زیادہ ہوجائے وہ فتنہ اس سے بھی زیادہ دو گروہوں کی لڑائی ہوگی اور ان دونوں میں ایک مجھے دوسرے سے زیاد ہ محبوب ہوگا۔
(۳۸۵۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : مَا أَخْبَرْت وَلاَ اُسْتُخْبِرْت مُذْ کَانَتِ الْفِتْنَۃُ ، قَالَ لَہُ مَسْرُوقٌ : لَوْ کُنْتُ مِثْلَک لَسَرَّنِی أَنْ أَکُونَ قَدْ مِتُّ ، قَالَ لہ شُرَیْحٌ : فَیَکْفِ بِأَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ مَا فِی الصُّدُورِ ، وَتَلْتَقِی الْفِئَتَانِ وَإِحْدَاہُمَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ الأُخْرَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٨٨) حضرت صفوان بن محرز سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک اس بات سے بچے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہتھیلی کے بھراؤ کے برابر مسلمان کا خون حائل نہ ہو۔
(۳۸۵۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، قَالَ : حدَّثَنِی صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ ، قَالَ: لِیَتَّقِ أَحَدُکُمْ، لاَ یَحُولَنَّ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ مِلْئُ کَفٍّ مِنْ دَمِ مُسْلِمٍ۔ (نعیم ۳۷۵)
তাহকীক: