মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৫৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٩) حضرت شمر سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ گناہ گار کو قتل کرو انھوں نے کہا جی ہاں حضرت حذیفہ نے فرمایا اس وقت تم سب سے گناہ گار ہوگے۔
(۳۸۵۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : أَیَسُرُّک أَنْ تَقْتُلَ أَفْجَرَ النَّاسِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إذًا تَکُونُ أَفْجَرَ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا دل چار قسم کے ہوتے ہیں ایک تو الٹا دل یہ منافق کا دل ہے اور غلاف میں لپٹا ہوا دل یہ کافر کا دل ہے اور صاف دل گویا کہ اس میں چراغ چمک رہا ہے یہ مومن کا دل ہے اور جس دل میں نفاق اور ایمان ہے اس کی مثال پھوڑے کی ہے جس میں پیپ اور خون ہو اور اس کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کو خراب پانی اور عمدہ پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جو پانی اس پر غالب ہوگا وہ ویسا ہی ہوگا۔
(۳۸۵۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : الْقُلُوبُ أَرْبَعَۃٌ : قَلْبٌ مُصَفَّحٌ فَذَاکَ قَلْبُ الْمُنَافِقِ ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ ، فَذَاکَ قَلْبُ الْکَافِرِ ، وَقَلْبٌ أَجْرَدُ کَأَنَّ فِیہِ سِرَاجًا یَزْہر ، فَذَاکَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ، وَقَلْبٌ فِیہِ نِفَاقٌ وَإِیمَانٌ فَمِثْلُہُ مِثْلُ قُرْحَۃٍ یَمُدُّہَا قَیْحٌ وَدَمٌ ، وَمِثْلُہُ مِثْلُ شَجَرَۃٍ یَسْقِیہَا مَائٌ خَبِیثٌ وَمَائٌ طَیِّبٌ ، فَأَیُّ مَائٍ غَلَبَ عَلَیْہَا ؛ غَلَبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥١) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ آج کل جو منافق تمہارے اندر ہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے منافقین سے زیادہ برے ہیں راوی نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے ابو عبداللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے انھوں نے فرمایا اس لیے کہ وہ اپنے نفاق کو چھپاتے تھے اور یہ اسے ظاہر کرتے ہیں۔
(۳۸۵۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : الْمُنَافِقُونَ الَّذِینَ فِیکُمَ الْیَوْمَ شَرٌّ مِنَ الْمُنَافِقِینَ الَّذِینَ کَانُوا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، وَکَیْفَ ذَاکَ ، قَالَ : إِنَّ أُولَئِکَ کَانُوا یُسِرُّونَ نِفَاقَہُمْ ، وَإِنَّ ہَؤُلاَئِ أَعْلَنُوہُ۔ (طیالسی ۴۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٢) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا سترویں (٧٠) سال کے بعد مجھے اس کی پروا نہیں کہ میں کوئی پتھر تمہاری مسجد کے اوپر سے لڑھکا دوں جو تم میں سے دس آدمیوں کو کچل دے۔
(۳۸۵۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقِیسِ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا أُبَالِی بَعْدَ سَنَۃِ سَبْعِینَ لَوْ دَہْدَہْت حَجَرًا مِنْ فَوْقِ مَسْجِدِکُمْ ہَذَا فَقَتَلَتْ مِنْکُمْ عَشْرَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٣) حضرت مخول ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ ہم حضرت حذیفہ کے ساتھ تھے انھوں نے کچھ کنکریاں لیں اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا پھر انھوں نے ہم سے ارشاد فرمایا کہ دیکھو اس روشنی کو جو تمہیں نظر آرہی ہے ہم نے عرض کیا کہ ہم تو مخفی چیز دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ اسی طرح باطل حق پر بلند ہوگا یہاں تک کہ تم حق کو نہیں دیکھو گے مگر اس حالت میں جو حالت تم ان کنکریوں کی دیکھ رہے ہو۔
(۳۸۵۵۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِیسَی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ فَأَخَذَ حَصًی فَوَضَعَ بَعْضَہُ فَوْقَ بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَ لَنَا : انْظُرُوا مَا تَرَوْنَ مِنَ الضَّوْئِ قُلْنَا : نَرَی شَیْئًا خَفِیًّا ، قَالَ : وَاللہِ لَیَرْکَبَنَّ الْبَاطِلُ عَلَی الْحَقِّ حَتَّی لاَ تَرَوْنَ مِنَ الْحَقِّ إِلاَّ مَا تَرَوْنَ مِنْ ہَذَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ آسمان سے برائی تم پر اتار دی جائے یہاں تک کہ وہ فیافی تک پہنچ جائے ان سے عرض کیا گیا اے ابو عبداللہ یہ فیافی کیا ہے ؟ انھوں نے کہا۔ ویران زمین۔
(۳۸۵۵۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَیُوشِکَنَّ أَنْ یُصَبَّ عَلَیْکُمُ الشَّرُّ مِنَ السَّمَائِ حَتَّی یَبْلُغَ الْفَیَافِیَ ، قَالَ : قِیلَ : وَمَا الْفَیَافِیُ یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : الأَرْضُ الْقَفْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٥) ابو الطفیل سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو محارب میں سے ایک صاحب جن کو عمرو بن صلیع کہا جاتا تھا حضرت حذیفہ کے پاس آئے انھوں نے حضرت حذیفہ سے عرض کیا اے ابو عبداللہ ہم سے وہ بیان کیجیے جو آپ نے دیکھا اور مشاہدہ کیا حضرت حذیفہ نے فرمایا اے عمرو بن صلیع محارب کے بارے میں مجھے بتلاؤ کیا وہ مضر میں سے ہے اس نے کہا جی ہاں تو حضرت حذیفہ نے فرمایا بلاشبہ مضر مسلسل ہر مومن کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کو فتنے میں ڈالیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ ہر جگہ کثرت سے ہونے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکیں گے محارب کے بارے میں بتلاؤ کیا وہ قیس عیلان سے ہیں انھوں نے کہا جی ہاں ارشاد فرمایا جب تم قبیلہ عیلان کو دیکھو جب وہ شام میں آگئے ہیں تو اپنا بچاؤ کرنا۔
(۳۸۵۵۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ مُحَارِبٍ یُقَالُ لَہُ عَمْرُو بْنُ صُلَیعٍ إِلَی حُذَیْفَۃَ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، حَدِّثْنَا مَا رَأَیْت وَشَہِدْت ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : یَا عَمْرُو بْنَ صُلَیعٍ ، أَرَأَیْت مُحَارِبَ ؟ أَمِنْ مُضَرَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ مُضَرَ لاَ تَزَالُ تَقْتُلُ کُلَّ مُؤْمِنٍ وَتَفْتِنُہُ ، أَوْ یَضْرِبُہُمَ اللَّہُ وَالْمَلاَئِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّی لاَ یَمْنَعُوا بَطْنَ تَلْعَۃٍ ، أَرَأَیْت مُحَارِبَ ؟ أَمِنْ قَیْسَ عَیْلاَنَ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَإِذَا رَأَیْت عَیْلاَنَ قَدْ نَزَلَتْ بِالشَّامِ فَخُذْ حِذْرَک۔ (طیالسی ۴۲۰۔ احمد ۳۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٦) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا اے مضر کی جماعت قریب ہوجاؤ اللہ کی قسم تم ہر مومن کو قتل کرو گے اور ان کو فتنے میں ڈالو گے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور مومنین تمہیں ماریں گے یہاں تک کہ تم ہر جگہ کثرت سے رہنے کے باوجود اپنا دفاع نہیں کرسکو گے ان کے اصحاب نے عرض کیا جب ہم اس حالت پر ہوں گے تو کیوں ہم ایسا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ! یقیناً تم میں سے ایک سردار ہوگا اور تم میں کچھ آگے نکلنے والے ہوں گے گھوڑوں میں سے آگے نکلنے والوں کی طرح۔
(۳۸۵۵۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ: ادْنُوا یَا مَعْشَرَ مُضَرَ ، فَوَاللہِ لاَ تَزَالُونَ بِکُلِّ مُؤْمِنٍ تَفْتِنُونَہُ ، وَتَقْتُلُونَہُ حَتَّی یَضْرِبَکُمُ اللَّہُ وَمَلاَئِکَتُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ ، حَتَّی لاَ تَمْنَعُوا بَطْنَ تَلْعَۃٍ ، قَالُوا : فَلِمَ تُدْنِینَا وَنَحْنُ کَذَلِکَ ، قَالَ : إِنَّ مِنْکُمْ سَیِّدَ وَلَدِ آدَمَ ، وَإِنَّ مِنْکُمْ سَوَابِقَ کَسَوَابِقِ الْخَیْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٧) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا مضر کسی اللہ تعالیٰ کے مومن بندے کو نہیں چھوڑیں گے مگر اسے یا تو فتنے میں ڈال دیں گے یا اس کو قتل کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور مومنین ان کو ماریں گے یہاں تک کہ وہ اپنا دفاع نہ کرسکیں گے ایک صاحب نے ان سے عرض کیا اے ابو عبداللہ آپ یہ بات کر رہے ہیں حالانکہ آپ بھی مضر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے فرمایا میں وہ کہہ رہا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔
(۳۸۵۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَنْظَلَۃَ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : لاَ تَدْعُ مُضَرُ عَبْدا للہِ مُؤْمِنًا إِلاَّ فَتَنُوہُ ، أَوْ قَتَلُوہُ ، أَوْ یَضْرِبَہُمَ اللَّہُ وَالْمَلاَئِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّی لاَ یَمْنَعُوا ذَنبَ تَلْعَۃٍ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، تَقُولُ ہَذَا وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ ، قَالَ : أَلاَ أَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۲۵۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٨) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بصرہ کے رہنے والے کوئی ہدایت کا دروازہ کھولیں گے نہیں اور کوئی گمراہی کا دروازہ چھوڑیں گے نہیں اور طوفان ساری زمین سے اٹھا دیا گیا ہے سوائے بصرہ کے۔
(۳۸۵۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : إِنَّ أَہْلَ الْبَصْرَۃِ لاَ یَفْتَحُونَ بَابَ ہُدَی وَلاَ یَتْرُکُونَ بَابَ ضَلاَلَۃٍ ، وَإِنَّ الطُّوفَانَ قَدْ رُفِعَ مِنَ الأَرْضِ کُلِّہَا إلاَّ عَنِ الْبَصْرَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٥٩) حضرت ربیعہ بن جو شن سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں شام کے علاقے میں گیا اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی مجلس میں حاضر ہوا۔ انھوں نے پوچھا کہ تم کن میں سے ہو ؟ ہم نے عرض کیا اہل بصرہ میں سے انھوں نے فرمایا اے اہل بصرہ لڑائی کی تیاری کرو ہم نے عرض کیا کہ کس چیز کے ساتھ ؟ انھوں نے فرمایا توشہ دان اور مشکیزوں کے ساتھ آج بہترین مال وہ اونٹ ہیں جن پر آدمی اپنے گھر والوں کو سوار کرتا ہے اور جن پر غلہ لے کرجاتا ہے اور بہترین مال وہ مضبوط کھروں والا گھوڑا ہے (یہ آج کل بہترین مال ہے) اللہ کی قسم عنقریب بنو قنطورا تمہیں بصرہ سے نکال دیں گے یہاں تک کہ تمہیں ایک جماعت بنادیں گے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ بنو قنطورا کون ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ کتاب کے اندر تو میں اسی طرح پاتا ہوں باقی یہ صفت تر کیوں کی ہے۔
(۳۸۵۵۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُیَیْنَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَخِیہِ رَبِیعَۃَ بْنِ جَوْشَنٍ، قَالَ: قَدِمْت الشَّامَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ، قَالَ: إِمَّا لاَ فَاسْتَعِدُّوا یَا أَہْلَ الْبَصْرَۃِ، قُلْنَا: بِمَاذَا، قَالَ: بِالمَزَادِ وَالْقِرَبِ، خَیْرُ الْمَالِ الْیَوْمَ أَجْمَالٌ یَحْتَمِلُ الرَّجُلُ عَلَیْہِنَّ أَہْلَہُ وَیَمِیرُہُمْ عَلَیْہَا ، وَفَرَسٌ وَقَاحٌ شَدِید ، فَوَاللہِ لَیُوشِکَ بَنُو قَنْطُورَائَ أَنْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْہَا حَتَّی یَجْعَلُوکُمْ بِرُکْبَۃ، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا بَنُو قَنْطُورَائَ، قَالَ: أَمَّا فِی الْکِتَابِ فَہَکَذَا نَجِدُہُ، وَأَمَّا فِی النَّعْتِ فَنَعْتُ التُّرْکِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے تمہاری کیا حالت ہوگی اس وقت جب کوئی دینار اور کوئی درہم اور کوئی قفیز تمہیں نہیں دیا جائے گا۔
(۳۸۵۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ یَجِبْ لَکُمْ دِینَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ وَلاَ قَفِیزٌ۔ (مسلم ۲۲۲۰۔ احمد ۳۳۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦١) حضرت ابو مجلز سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر نے تمام شہروں کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا حضرت کعب نے ان سے عرض کیا کہ آپ عراق نہ جانا کیونکہ وہاں دس حصوں میں سے نو حصے شر ہے۔
(۳۸۵۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : أَرَادَ عُمَرُ أَنْ لاَ یَدَعَ مِصْرًا مِنَ الأَمْصَارِ إِلاَّ أَتَاہُ ، فَقَالَ لَہُ کَعْبٌ : لاَ تَأْتِ الْعِرَاقَ فَإِنَّ فِیہِ تِسْعَۃَ أَعْشَارِ الشَّرِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٢) حضرت قسامہ بن زبیر سے روایت ہے میں نے حضرت ابو موسیٰ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس بصرہ کے چار نام ہیں (بصرہ، خریبہ، تدمر، مؤتفکہ)
(۳۸۵۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَۃَ بْنِ زُہَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی یَقُولُ : إِنَّ لِہَذِہِ ، یَعْنِی الْبَصْرَۃَ أَرْبَعَۃَ أَسْمَائٍ : الْبَصْرَۃُ وَالْخُرَیْبَۃُ وَتَدْمُرُ وَالْمُؤْتَفِکَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٣) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے کثیر بن افلح (یہ حرہ کے دن شہید کیے گئے) کو خواب میں دیکھا میں نے ان سے کہا اے ابن افلح تم کیسے ہو انھوں نے فرمایا بھلائی میں ہوں میں نے پوچھا کیا تم شہداء میں ہو انھوں نے فرمایا کہ نہیں مسلمانوں کے مقتول شہداء نہیں ہیں لیکن ہم زیرک و ہوشیار ہیں۔
(۳۸۵۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : رَأَیْتُ کَثِیرَ بْنَ أَفْلَحَ فِی الْمَنَامِ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا ابْنَ أَفْلَحَ ، کَیْفَ أَنْتُمْ ، قَالَ : بِخَیْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : أَنْتُمُ الشُّہَدَائُ ، قَالَ : لاَ ، إِنَّ قَتْلَی الْمُسْلِمِینَ لَیْسُوا بِشُہَدَائَ وَلَکِنَّا النُّدَبَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٤) حضرت ابی سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے کہا کہ آپ کو کونسی چیز لڑائی سے روکتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ کوئی چیز نہیں روکتی یہاں تک کہ تم مجھے ایسی تلوار دو جو مومن اور کافر کو پہچانتی ہو (حضرت سعد بن ابی وقاص فتنوں سے جدا رہتے تھے اور جمل، صفین، تیمں ، اور حضرت عثمان کی شہادت ان تمام مواقع میں الگ رہے)
(۳۸۵۶۴) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : سَمِعَتِ الْحَیَّ غَیْرَ وَاحِدٍ یُحَدِّثُونَ ، عَنْ أُبَیّ ، أَنَّہُ قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ: مَا یَمْنَعُک مِنَ الْقِتَالِ، قَالَ: لاَ، حَتَّی تُعْطُونِی سَیْفًا یَعْرِفُ الْمُؤْمِنَ مِنَ الْکَافِرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٥) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ لوگ آپس میں جاہلیت کی پکار کے تقاضوں پر لڑائی کریں گے کسی امیر کے قتل ہونے یا اس کے نکالنے کے وقت پس دونوں گروہوں میں سے ایک غالب آجائیگا جب کہ وہ ذلیل تھا تو ان کے پاس والے دشمن ان میں رغبت کریں گے اور ان پر حلہ کردیں گے اور لوگ کفر میں گرتے چلے جائیں گے۔
(۳۸۵۶۵) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ، قَالَ: حدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: یَقْتَتِلُ النَّاسُ بَیْنَہُمْ عَلَی دَعْوَی جَاہِلِیَّۃٍ عِنْدَ قَتْلِ أَمِیرٍ ، أَوْ إخْرَاجِہِ فَتَظْہَرُ إحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ حِینَ تَظْہَرُ وَہِیَ ذَلِیلَۃٌ فَیَرْغَبُ فِیہِمْ مَنْ یَلِیہِمْ مِنَ الْعَدُوِّ فَیَسِیرُونَ إلَیْہِمْ وَیَتقَحَّمُ أُنَاسٌ فِی الْکُفْرِ تَقَحُّمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٦) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ سر کی دونوں جانبوں کے لیے ہلاکت ہے سر کی دونوں جانبوں کے لیے ہلاکت ہے شعبہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ دونوں جانبوں سے کیا مراد ہے انھوں نے فرمایا عراق، مصر اور سر سے مراد شام ہے۔
(۳۸۵۶۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ خَرَّبُوذَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّہُ قَالَ : وَیْلٌ لِلْجَنَاحَیْنِ مِنَ الرَّأْسِ ، وَیْلٌ لِلرَّأْسِ مِنَ الْجَنَاحَیْنِ ، قَالَ شُعْبَۃُ : فَقُلْتُ : وَمَا الْجَنَاحَانِ ، قَالَ : الْعِرَاقُ وَمِصْرُ ، وَالرَّأْسُ : الشَّامُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٧) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے فرمایا ایک گھر کو اس کے پاس والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا دوسرے گھر کو اس کے پاس والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا جہاں پر یہ مظالم ہوں گے۔
(۳۸۵۶۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَیْرِیِّ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: لَیُخْسَفَنَّ بِالدَّارِ إِلَی جَنْبِ الدَّارِ وَبِالدَّارِ إِلَی جَنْبِ الدَّارِ حَیْثُ تَکُونُ الْمَظَالِمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٦٨) حضرت غالب بن عجرد سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ساتھی حضرت ابو عبداللہ بن عمرو کے پاس آئے جبکہ وہ لوگوں کے سامنے (احادیث) بیان کر رہے تھے تو انھوں نے پوچھا کہ تم دونوں کون ہو ؟ انھوں نے عرض کیا کہ بصرہ والوں میں سے انھوں نے فرمایا تم دونوں پر بصرہ کے متصل علاقے لازم ہیں جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے تو ہم ان کے قریب ہوئے ہم نے ان سے عرض کیا کیا خیال ہے آپ کا اپنی بات (تم کہاں سے ہو) اور آپ کی بات کہ تم پر لازم ہے بصرہ کے متصل علاقے انھوں نے فرمایا بیشک بصرہ اور اس کے ارد گرد کے مملوکہ گھر وہاں کے باشندوں کے درمیان مشترک ہوجائیں ۔ ثابت راوی کہتے ہیں کہ غالب بن عجرد جب کسی کشادہ مقام میں داخل ہوئے تو دوڑتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے نکل جاتے۔
(۳۸۵۶۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ غَالِبِ بْنِ عَجْرَدٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو أَنَا وَصَاحِبٌ لِی وَہُوَ یُحَدِّثُ النَّاسَ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتُمَا فَقُلْنَا : مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ ، قَالَ : فَعَلَیْکُمَا إذًا بضواحیہا ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْہُ دَنَوْنَا مِنْہُ فَقُلْنَا : رَأَیْت قَوْلَک مِمَّنْ أَنْتُمَا وَقَوْلَک عَلَیْکُمَا بِضَوَاحِیہَا إذًا ، قَالَ : إِنَّ دَارَ مَمْلَکَتِہَا ، وَمَا حَوْلَہَا مَشُوبٌ بِہِمْ ، قَالَ ثَابِتٌ : فَکَانَ غَالِبُ بْنُ عَجْرَدٍ إِذَا دَخَلَ عَلَی الرَّحْبَۃِ سَعَی حَتَّی یَخْرُجَ مِنْہَا۔
tahqiq

তাহকীক: