মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৫২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٩) حضرت فسیلہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں فرمایا کہ میں نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اے اللہ کے رسول کیا یہ عصبیت ہے کہ انسان اپنی قوم سے محبت کرے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں لیکن عصبیت یہ ہے کہ انسان ظلم پر اپنی قوم کی اطاعت کرے۔
(۳۸۵۲۹) حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ الرَّبِیعِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ کَثِیرٍ الشَّامِیِّ ، عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْہُمْ یُقَالُ لَہَا فُسیلۃ ، عَنْ أَبِیہَا ، قَالَتْ: سَمِعْت أَبِی یَقُولُ : سَأَلْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَمِنَ الْعَصَبِیَّۃِ أَنْ یُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَہُ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ مِنَ الْعَصَبِیَّۃِ أَنْ یُعِینَ الرَّجُلُ قَوْمَہُ عَلَی الظُّلْمِ۔ (ابوداؤد ۵۰۷۸۔ طبرانی ۲۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٠) حضرت ابو واقد اللیثی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین تشریف لائے تو ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے جسے ذات انواط کہا جاتا تھا (انواط نوط کی جمع ہے حاجت معلقہ کو کہتے ہیں یہ وہ درخت تھا جس کے ساتھ مشرکین اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے اور اس کا گرد ٹھہرتے تھے) صحابہ اکرام نے عرض کیا ہمارے لیے ذات انواط بنادیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایسے ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا۔ ہمارے لیے بھی معبود بنادیں جیسا کہ ان کے لیے معبود ہے یقیناً تم اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے۔
(۳۸۵۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ أَبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِین أَتَی حُنَیْنًا مَرَّ بِشَجَرَۃٍ یُعَلِّقُ الْمُشْرِکُونَ بِہَا أَسْلِحَتَہُمْ یُقَالُ لَہَ : ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، فَقَالُوا : اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا کَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَی لِمُوسَی : {اجْعَلْ لَنَا إلَہًا کَمَا لَہُمْ آلِہَۃً} ، لَتَرْکَبُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ۔ (احمد ۲۱۸۔ طیالسی ۱۳۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣١) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے کی پیروی کرو گے دو ہاتھ میں دو ہاتھ کی ایک ہاتھ میں ایک ہاتھ کی اور ایک بالشت میں ایک بالشت کی یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کی بل میں داخل ہوئے ہوں تو تم بھی اس میں داخل ہوگے صحابہ کرام نے عرض کیا یہود اور نصاری کی ؟ آپ نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(۳۸۵۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَتَتَّبِعُنَّ سُنَّۃَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بَاعًا بِبَاعٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ وَشِبْرًا بِشِبْرٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوا فِی جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ فِیہِ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، الْیَہُودِ وَالنَّصَارَی ، قَالَ : فَمَنْ إذَنْ۔

(بخاری ۷۳۱۹۔ احمد ۴۵۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٢) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقیناً تم اپنے سے پہلے والوں کی میٹھے اور کڑوے طریقے کی پیروی کرو گے۔
(۳۸۵۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو یَقُولُ : لَتَرْکَبُنَّ سُنَّۃَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حُلْوَہَا وَمُرَّہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٣) حضرت عبداللہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا تم طریقہ اور سیرت میں بنی اسرائیل کے بہت مشابہہ ہو تم ضرور ان کے طریقے پر چلو گے جیسے تیر کا پر دوسرے پر کے برابر ہوتا ہے اور جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا کچھ بیان جادو ہوتے ہیں۔
(۳۸۵۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ، عَنْ ہُزَیْلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ: أَنْتُمْ أَشْبَہُ النَّاسِ سَمْتًا وَہَدْیًا بِبَنِی إسْرَائِیلَ لِتَسْلُکُنَّ طَرِیقَہُمْ حَذْو القذۃ بِالْقُذَّۃِ وَالنَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، وَقَالَ عَبْدُ اللہِ : إِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔ (بزار ۲۰۴۸۔ طبرانی ۹۸۸۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل میں کوئی چیز واقع نہیں ہوئی مگر اس کی مثل تمہارے اندر بھی واقع ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہمارے اندر قوم لوط کی طرح ہوگا آپ نے فرمایا ہاں تیرے لیے تیری ماں نہ رہے اس سلسلے میں جو بات پہنچی ہے اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔
(۳۸۵۳۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِیسَی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : لاَ یَکُونُ فِی بَنِی إسْرَائِیلَ شَیْئٌ إِلاَّ کَانَ فِیکُمْ مِثْلُہُ ، فَقَالَ رَجُلٌ یکون فِینَا قَوْمُ لُوطٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَمَا تَرَی بَلَغَ ذَلِکَ لاَ أُمَّ لَک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٥) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ تم ضرور بنی اسرائیل والے اعمال کرو گے ان میں کوئی چیز واقع نیں ہوئی مگر تمہارے اندر اس کی مثل ہوگی ایک صاحب نے عرض کیا کیا ہم میں بندر اور خنزیر بھی ہوں گے ارشاد فرمایا تیرے لیے ماں نہ ہو اس سے تمہیں کس نے بری کیا ہے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اے ابو عبداللہ ہم سے بیان کرو حضرت حذیفہ نے فرمایا اگر میں تم سے بیان کروں تو تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے اور ایک گروہ مجھ سے لڑائی کرے گا اور دوسرا گروہ میری مدد نہیں کرے گا اور ایک گروہ میری تکذیب کرے گا باقی میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں اور میں نہیں کہتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنی کتاب کو لے کر اسے جلا دو گے اور اسے بیت الخلاؤں میں پھینک دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انھوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ بھی ہوگا حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تم اپنے قبلہ کو توڑ دو گے کیا تم میری تصدیق کرو گے انھوں نے سبحان اللہ کیا یہ ہوگا (پھر) فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی اگر میں تم سے بیان کروں کہ تمہاری ماں مسلمانوں کے ایک گروہ میں خروج کرے گی اور تم سے لڑائی کرے گی کیا تم میری تصدیق کرو گے انھوں نے کہا سبحان اللہ کیا یہ ہوگا۔
(۳۸۵۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ بْن عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ : قَالَ : لَتَعْمَلُنَّ عَمَلَ بَنِی إسْرَائِیلَ فَلاَ یَکُونُ فِیہِمْ شَیْئٌ إِلاَّ کَانَ فِیکُمْ مِثْلُہُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : تَکُونُ منَّا قِرَدَۃٌ وَخَنَازِیرُ ، قَالَ : وَمَا یُبْرِیکَ مِنْ ذَلِکَ ، لاَ أُمَّ لَکَ ، قَالُوا : حَدِّثْنَا یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَوْ حَدَّثْتُکُمْ لاَفْتَرَقْتُمْ عَلَی ثَلاَثِ فِرَقٍ : فِرْقَۃٍ تُقَاتِلنِی ، وَفِرْقَۃٍ لاَ تَنْصُرُنِی ، وَفِرْقَۃٍ تُکَذِّبُنِی أَمَا إنِّی سَأُحَدِّثُکُمْ وَلاَ أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَرَأَیْتُکُمْ لَوْ حَدَّثْتُکُمْ أَنَّکُمْ تَأْخُذُونَ کِتَابَکُمْ فَتُحَرِّقُونَہُ وَتُلْقُونَہُ فِی الْحُشُوشِ ، صَدَّقْتُمُونِی ، قَالُوا : سُبْحَانَ اللہِ ، وَیَکُونُ ہَذَا ، قَالَ : أَرَأَیْتُکُمْ لَوْ حَدَّثْتُکُمْ أَنَّکُمْ تَکْسِرُونَ قِبْلَتَکُمْ ، صَدَّقْتُمُونِی ، قَالُوا : سُبْحَانَ اللہِ ، وَیَکُونُ ہَذَا ، قَالَ : أَرَأَیْتُکُمْ لَوْ حَدَّثْتُکُمْ ، أَنَّ أُمَّکُمْ تَخْرُجُ فِی فِرْقَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَتُقَاتِلُکُمْ ، صَدَّقْتُمُونِی ، قَالُوا : سُبْحَانَ اللہِ وَیَکُونُ ہَذَا۔ (ابو نعیم ۱۹۲۔ حاکم ۴۶۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٦) حضرت ابن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ اے اہل عراق تم مشکل راستوں پر چلو گے۔
(۳۸۵۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ ، تَأْتُونَ بِالْمُعْضِلاَتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٧) حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے داخل ہونے کی اجازت لی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا داخل ہوجاؤ میں نے عرض کیا میں سارا داخل ہوجاؤں یا کچھ (یہ مزاقاً کہا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سارا داخل ہوجا میں آپ کے پاس گیا آپ آہستہ سے وضو کر رہے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عوف بن مالک چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت یہ ایک لے لے (راوی نے فرمایا) اس بات سے گویا انھوں نے میرا دل کھینچ لیا اور (دوسری) بیت المقدس کی فتح حاصل ہوگی اور (تیسری) موت ہوگی تو تمہیں آن لے گی تم اس سے جلدی مرجاؤ گے جیسے بکریاں قعاص کی بیماری سے جلدی مرجاتی ہیں اور (چوتھا) مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے وہ انھیں ناپسند کرے گا کفار کا شہر فتح ہوگا اور صلح ہوگی تمہارے اور رومیوں کے درمیان وہ تمہارے پاس اسی جھنڈیوں کے نیچے آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے وہ تم سے عذر کرنے میں آگے ہوں گے۔
(۳۸۵۳۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْت عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ادْخُلْ ، قُلْتُ : فَأَدْخُلُ کُلِّی ، أَوْ بَعْضِی ، قَالَ : ادْخُلْ کُلَّک ، فَدَخَلْت عَلَیْہِ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ وُضُوئًا مَکِیثًا ، فَقَالَ : یَا عَوْفَ بْنَ مَالِکَ ، سِتٌّ قَبْلَ السَّاعَۃِ مَوْتُ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذْ إحْدَی ، فَکَأَنَّمَا انْتُزِعَ قَلْبِی مِنْ مَکَانِہِ ، وَفَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ یَأْخُذُکُمْ تُقْعَصُونَ بِہِ کَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ ، وَأَنْ یَکْثُرَ الْمَالُ حَتَّی یُعْطَی الرَّجُلُ مِئَۃَ دِینَارٍ فَیَسْخَطُہَا ، وَفَتْحُ مَدِینَۃِ الْکُفْرِ ، وَہُدْنَۃٌ تَکُونُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِی الأَصْفَرِ ، فَیَأْتُونَکُمْ تَحْتَ ، ثَمَانِینَ غَایَۃً ، تَحْتَ کُلِّ غَایَۃٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ، فَیَکُونُونَ أَوْلَی بِالْغَدْرِ مِنْکُمْ۔ (بخاری ۳۱۷۶۔ ابوداؤد ۴۹۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے اس سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٨) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چھ چیزیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں میری وفات اور بیت المقدس کی فتح، ایک صاحب کو ہزار اشرفیاں دی جائیں گی وہ ان کو ناپسند کرے گا اور ایسا فتنہ ہوگا جس کا غم ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوگا اور موت ہوگی جو لوگوں کو ایسے پکڑ لے گی جیسے قعاص (سینے کی بیماری) بکریوں کو پکڑتی ہے رومی تم سے دھوکا کریں گے وہ بارہ ہزار کی تعداد میں آئیں گے اور ہر بڑے پرچم کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔
(۳۸۵۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ النَّہَّاسِ بْنِ قَہْمٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ: مَوْتِی وَفَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَنْ یُعْطَی الرَّجُلُ أَلْفَ دِینَارٍ فَیَسْخَطُہَا ، وَفِتْنَۃٌ یَدْخُلُ حَزْنُہَا بَیْتَ کُلِّ مُسْلِمٍ ، وَمَوْتٌ یَأْخُذُ فِی النَّاسِ کَقُعَاصِ الْغَنَمِ ، وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ فَیَسِیرُونَ باثْنَی عَشَرَ أَلْفًا ، تَحْتَ کُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا۔(احمد ۲۲۸۔ طبرانی ۲۴۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٣٩) حضرت اسید بن متشمس سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے پاس تھے انھوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہارے سامنے ایسی حدیث نہ بیان کروں جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے بیان کرتے تھے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں راوی نے بتلایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ہرج کثرت سے ہوجائے گا ہم نے عرض کیا ہرج کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قتل قتل ہم نے عرض کیا اب بھی تو ہم قتل کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم کفار کو قتل نہیں کرو گے بلکہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو قتل کرے گا اور اپنے بھائی کو اور اپنے چچا کے بیٹے کو راوی کہتے ہیں ہمارے لیے یہ بات پیچیدہ ہوگئی یہاں تک کہ عرض کیا کیا اس دن ہمیں عقل و شعور ہوگا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس زمانے کے اکثر لوگوں کی عقلیں اڑا دی جائیں گی اور ان کے بعد کم عقل لوگ ان کے نائب بن جائیں گے جن میں سے اکثر یہ گمان کریں گے کہ وہ کسی امر (دینی) پر ہیں حالانکہ وہ کسی شے پر نہیں ہوں گے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے خوف ہے کہ مجھے اور تمہیں چند امور آن لینگے اور اگر ان امور نے ہمیں پا لیا تو میرے اور تمہارے لیے ان سے نکلنے کا راستہ نہیں ہوگا مگر ایسا ہی کہ جے سل ہم داخل ہوئے تھے (مطلب یہ ہے کہ ہم ان فتنوں میں محفوظ نہ رہیں گے ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم اس دن محفوظ تھے کہ جس دن ہم اسلام میں داخل ہوئے تھے) ۔
(۳۸۵۳۹) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَسِیدِ بْنِ الْمُتَشَمِّسِ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ أَبِی مُوسَی ، فَقَالَ : أَلاَ أُحَدِّثُکُمْ حَدِیثًا کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَدِّثُنَاہُ ، قُلْنَا : بَلَی ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَکْثُرَ الْہَرْجُ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَمَا الْہَرْجُ ، قَالَ : الْقَتْلُ الْقَتْلُ ، قُلْنَا : أَکْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ الْیَوْمَ ، قَالَ : لَیْسَ بِقَتْلِکُمُ الْکُفَّارَ ، وَلَکِنْ یِقَتْلُ الرَّجُلِ جَارَہُ وَأَخَاہُ ، وَابْنَ عَمِّہِ ، قَالَ : فَأُبْلَسْنَا حَتَّی مَا یُبْدِی أَحَدٌ مِنَّا عَنْ وَاضِحَۃٍ : قَالَ : قُلْنَا : وَمَعنَا عُقُولُنَا یَوْمَئِذٍ ، قَالَ : تُنْزَعُ عُقُولُ أَکْثَرِ أَہْلِ ذَلِکَ الزَّمَانِ ، وَیَخْلُفُ ہَبَائٌ مِنَ النَّاسِ یَحْسِبُ أَکْثَرُہُمْ أَنَّہُمْ عَلَی شَیْئٍ ، وَلَیْسُوا عَلَی شَیْئٍ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَقَدْ خَشِیت أَنْ یُدْرِکَنِی وَإِیَّاکُمُ الأُمُورُ ، وَلَئِنْ أَدْرَکَتْنَا مَا لِی وَلَکُمْ مِنْہَا مَخْرَجٌ إِلاَّ أَنْ نَخْرُجَ مِنْہَا کَمَا دَخَلْنَا۔ (احمد ۴۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٠) حضرت ابو بکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب دو مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی کے خلاف اسلحہ اٹھائے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان دونوں میں ایک دوسرے کو قتل کردے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔
(۳۸۵۴۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صلیِّ اللہ علیہ وسلم ، أَنَّہُ قَالَ : إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُہُمَا عَلَی أَخِیہِ بِالسِّلاَحِ فَہُمَا عَلَی جُرْف جَہَنَّمَ ، فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ دَخَلاَہَا جَمِیعًا۔ (مسلم ۲۲۱۴۔ طیالسی ۸۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤١) حضرت ابوہریرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے فرشتے تم میں سے اس پر لعنت کرتے ہیں اس شخص پر جو لوہے سے اشارہ کرے اگرچہ وہ شخص جس کی طرف اس نے اشارہ کیا وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
(۳۸۵۴۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمَلاَئِکَۃُ تَلْعَنُ أَحَدَکُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِیدَۃٍ ، وَإِنْ کَانَ أَخَاہُ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ۔ (مسلم ۲۰۲۰۔ ترمذی ۲۱۶۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٢) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا یقیناً تم بنی اسرائیل کے طریقے پر چلو گے جیسا کہ جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے اور تیر کا پر دوسرے تیر کے برابر ہوتا ہے مگر میں یہ نہیں جانتا کہ تم بچھڑے کی عبادت کرو گے یا نہیں۔
(۳۸۵۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ طُفَیْلٍ ، أَبِی سِیدَان ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : قَالَ حذَیْفَۃُ : لَتَرْکَبُنَّ سُنَّۃَ بَنِی إسْرَائِیلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ وَالْقُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ غَیْرَ أَنِّی لاَ أَدْرِی تَعْبُدُونَ الْعِجْلَ أَمْ لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٣) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا کہ جب شام کے جوان (غلام) کثرت سے ہوجائیں تو جو تم میں سے مرسکتا ہے مرجائے۔
(۳۸۵۴۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : إِذَا فَشَتْ بُقْعَانُ أَہْلِ الشَّامِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَمُوتَ فَلْیَمُتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٤) حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں شام گیا اور میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس جاؤں اور ان کو سلام کروں پس میں ان کے پاس آیا اور انھیں سلام کیا انھوں نے پوچھا کہ تو کون ہے میں نے عرض کیا کہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ ہوں انھوں نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ بنی قنطورا (ترک یا روم کے نصاریٰ ) تمہیں عراق کی زمین سے نکالدیں میں نے عرض کیا پھر کیا ہم لوٹیں گے ؟ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس بات کو چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں انھوں نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے زندگی کی بہار ہوگی وہ لوٹنا۔
(۳۸۵۴۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ: قَدِمْت الشَّامَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَوْ دَخَلْتَ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو فَسَلَّمْتَ عَلَیْہِ ، فَأَتَیْتہ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لِی : مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ: یُوشِکُ بَنُو قنطوراء أَنْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ أَرْضِ الْعِرَاقِ، قُلْتُ: ثُمَّ نَعُودُ ؟ قَالَ : أَنْتَ تَشْتَہِی ذَاکَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتَکُونُ لَکُمْ سَلْوَۃٌ مِنْ عَیْشٍ۔ (نعیم ۱۹۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٥) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ منافقین میں سے ایک آدمی فوت ہوا حضرت حذیفہ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ منافقین میں سے ہے ؟ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ! حضرت عمر نے ان سے پوچھا اللہ کے لیے مجھے بتاؤ کیا میں ان منافقین میں سے ہوں ؟ تو انھوں نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اور ہرگز میں اس بارے میں آئندہ نہیں بتاؤں گا (کہ کون منافق ہے اور کون نہیں)
(۳۸۵۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ حُذَیْفَۃُ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَمِنَ الْقَوْمِ ہُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : بِاللہِ مِنْہُمْ أَنَا ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَنْ أُخْبِرَ بِہِ أَحَدًا بَعْدَک۔ (وکیع ۴۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٦) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا منافقین میں سے سوائے چار کے کوئی بھی باقی نہیں رہا ان میں سے ایک بوڑھا ہے جو بڑھاپے کی وجہ سے پانی کی ٹھنڈک کو نہیں پاتا راوی کہتے ہیں ایک شخص نے حضرت حذیفہ سے عرض کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں اور ہمارے مالوں کو چوری کرتے ہیں انھوں نے ارشاد فرمایا کہ تیرے لیے ہلاکت ہو یہ تو فساق لوگ ہیں۔
(۳۸۵۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَا بَقِیَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ ، أَحَدُہُمْ شَیْخٌ کَبِیرٌ لاَ یَجِدُ بَرْدَ الْمَائِ مِنَ الْکِبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : فَمَنْ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ یَنْقُبُونَ بُیُوتَنَا وَیَسْرِقُونَ عَلاَئِقَنَا ، قَالَ : وَیْحَک ، أُولَئِکَ الْفُسَّاقُ۔ (بخاری ۴۶۵۸۔ بزار ۲۸۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٧) حضرت زید سے روایت ہے حضرت حذیفہ نے { فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ } (یعنی کفر کے سرداروں کو قتل کرو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس آیت کے مصداق لوگ ابھی تک قتل نہیں کیے گئے۔
(۳۸۵۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدٍ ، قَالَ : قرَأَ حُذَیْفَۃُ {فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ} ، قَالَ ، مَا قُوتِلَ أَہْلُ ہَذِہِ الآیَۃِ بَعْدُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٤٨) حضرت ابو البختری سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے کہا کہ اے اللہ منافقین کو ہلاک کردے حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ اگر وہ ہلاک کردیے گئے تو پھر تم نے اپنے دشمن سے انتقام نہ لیا۔
(۳۸۵۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : اللَّہُمَّ أَہْلِکِ الْمُنَافِقِینَ ، فَقَالَ : حُذَیْفَۃُ : لَوْ ہَلَکُوا مَا انْتَصَفْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক: