মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৫০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٩) حضرت طارق سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے صحابہ کثرت سے شہید کیے جائیں گے۔
(۳۸۵۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیُّ یَقُولُ : بِحَسْبِ أَصْحَابِی الْقَتْلُ۔ (احمد ۴۷۲۔ بزار ۳۲۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٠) اسید بن حضیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے فرمایا کہ تم عنقریب میرے بعد یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر مل لینا۔
(۳۸۵۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُسَیْدَ بْنِ حُضَیْرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلأَنْصَارِ : إنَّکُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١١) حضرت ربیع بن خثیم سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسین کی شہادت کا وقت آیا تو انھوں نے فرمایا اے اللہ ! آپ فیصلہ کریں گے اپنے بندوں کے درمیان اس سلسلے میں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔
(۳۸۵۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَأَبُو نُعَیْمٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ نُسَیْرٍ ، عَنْ ہُبَیْرَۃَ بْنِ حُزیمَۃَ ، عَنْ رَبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، قَالَ : لَمَّا جَائَ قَتْلُ الْحُسَیْنِ ، قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَخْتَلِفُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٢) حضرت ابو غریف سے روایت ہے کہ ہم حضرت حسن بن علی کے مقدمۃ الجیش میں بارہ ہزار کی مقدار میں مقام مسکن میں تھے اس حال میں کہ موت کے متمنی تھے ہماری تلواروں سے اہل شام کے ساتھ سخت لڑائی کی وجہ سے (خون کے) قطرات ٹپک رہے تھے ہم پر ابو عمرطہ امیر تھے ابو غریف فرماتے ہیں جب ہمارے پاس حضرت حسن بن علی اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح کی خبر پہنچی تو اس خبر پر غم اور غصے سے گویا ہماری کمریں ٹوٹ گئیں ابو غریف راوی نے فرمایا جب حضرت حسن بن علی کوفہ تشریف لائے تو ہم میں سے ایک آدمی جس کی کنیت ابو عامر تھی کھڑا ہوا اور کہنے لگا السلام علیک اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے حضرت حسن بن علی نے فرمایا اے ابو عامر یہ بات نہ کرو لیکن میں نے ناپسند سمجھا تھا اس بات کو کہ میں ان کو ملک کی طلب میں قتل کروں۔
(۳۸۵۱۲) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا زُہَیْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْہَمْدَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْغَرِیف قَالَ: کُنَّا مُقَدَّمَۃَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا بِمَسْکَنٍ مُسْتَمِیتِینَ تَقْطُرُ سُیُوفُنَا مِنَ الْجِدِّ عَلَی قِتَالِ أَہْلِ الشَّامِ وَعَلَیْنَا أَبُو الْعَمَرَّطۃ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَانَا صُلْحُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَمُعَاوِیَۃَ کَأَنَّمَا کُسِرَتْ ظُہُورُنَا مِنَ الْحُزْنِ وَالْغَیْظِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْکُوفَۃَ قَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ مِنَّا یُکْنَی أَبَا عَامِرٍ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَیْک یَا مُذِلَّ الْمُؤْمِنِینَ، فَقَالَ: لاَ تَقُلْ ذَاکَ یَا أَبَا عَامِرٍ، وَلَکِنِّی کَرِہْت أَنْ أَقْتُلَہُمْ طَلَبَ الْمُلْکِ، أَوْ عَلَی الْمُلْکِ۔ (عبدالبر ۳۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٣) حضرت ریاح بن حارث سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسن بن علی حضرت علی کی وفات کے بعد کھڑے ہوئے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کی پھر فرمایا یقیناً جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا حکم واقع ہونے والا ہے اگرچہ لوگ اسے ناپسند کریں اور اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند نہیں کہ مجھے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امر سے رائی کے دانے کے برابر حاصل ہو جس میں تھوڑا سا خون بہایا گیا ہو جو میں نے جان لیا کہ یہ امر مجھے نقصان پہنچانے والی چیزوں سے کوئی نفع دینے والا نہیں ہے پس اپنی سواریوں کے ساتھ مل جاؤ۔
(۳۸۵۱۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ، قَالَ: حدَّثَنِی صَدَقَۃُ بْنُ الْمُثَنَّی، عَنْ جَدِّہِ رِیَاحِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ بَعْدَ وَفَاۃِ عَلِی ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ مَا ہُوَ آتٍ قَرِیبٌ ، وَإِنَّ أَمْرَ اللہِ وَاقِعٌ وَإِنْ کَرِہَ النَّاسُ ، وَإِنِّی وَاللہِ مَا أُحِبُّ أَنْ إِلَیَّ مِنْ أَمْرِ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَزِنُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ یُہْرَاقُ فِیہَا مِحْجَمَۃٌ مِنْ دَمٍ مُنْذُ عَلِمْت مَا یَنْفَعُنِی مِمَّا یَضُرُّنِی ، فَالْحَقُوا بِمَطِیِّکُمْ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٤) حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں اور ایک آدمی حضرت حسن بن علی کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے حضرت حسن بن علی اس آدمی سے کہنے لگے مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ تم مجھ سے نہ پوچھ سکو۔ ان صاحب نے کہا میں آپ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو عافیت عطا کرے راوی نے فرمایا حضرت حسن کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے پھر ہمارے پاس تشریف لائے پھر ارشاد فرمایا میں تمہاری طرف نہیں نکلا یہاں تک کہ میں نے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا پھینکا ہے جس کو اس لکڑی سے الٹ پلٹ رہا ہوں مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا اس مرتبہ سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں تھی حضرت عمیر نے کہا اگلے دن ہم صبح کو ان کے پاس گئے وہ جان کنی کی حالت میں تھے راوی عمیر نے فرمایا حضرت حسین آئے پس ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا اے بھائی جان آپ کو زہر دینے والا کون ہے انھوں نے فرمایا تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو انھوں نے فرمایا ہاں حضرت حسن نے فرمایا اگر تو وہی ہے جس کے بارے میں میرا گمان ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت سزا دینے والے ہیں اور اگر بری ہے تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک بری آدمی کو قتل کیا جائے۔
(۳۸۵۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : دَخَلْت أَنَا وَرَجُلٌ علَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ نَعُودُہُ ، فَجَعَلَ یَقُولُ لِذَلِکَ الرَّجُلِ : سَلْنِی قَبْلَ أَنْ لاَ تَسْأَلنِی ، قَالَ : مَا أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَک شَیْئًا ، یُعَافِیک اللَّہُ ، قَالَ : فَقَامَ فَدَخَلَ الْکَنِیفَ ، ثُمَّ خَرَجَ إلَیْنَا ، ثُمَّ قَالَ : مَا خَرَجْت إلَیْکُمْ حَتَّی لَفَظْت طَائِفَۃً مِنْ کَبِدِی أُقَلِّبُہَا بِہَذَا الْعُود ، وَلَقَدْ سُقِیت السُّمَّ مِرَارًا مَا شَیْئٌ أَشَدُّ مِنْ ہَذِہِ الْمَرَّۃِ ، قَالَ : فَغَدَوْنَا عَلَیْہِ مِنَ الْغَدِ فَإِذَا ہُوَ فِی السُّوقِ ، قَالَ : وَجَائَ الْحُسَیْنُ فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِہِ ، فَقَالَ : یَا أَخِی ، مَنْ صَاحِبُک ؟ قَالَ : تُرِیدُ قَتْلَہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : لَئِنْ کَانَ الَّذِی أَظُنَّ ، لَلَّہُ أَشَدُّ نِقْمَۃً ، وَإِنْ کَانَ بَرِیئًا فَمَا أُحِبُّ أَنْ یُقْتَلَ بَرِیئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٥) حضرت بشر بن غالب سے روایت ہے فرمایا کہ عبداللہ بن زبیر حضرت حسین بن علی سے مکہ مکرمہ میں ملے حضرت عبداللہ نے پوچھا اے ابو عبداللہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ عراق کا ارادہ رکھتے ہیں انھوں نے فرمایا ہاں حضرت عبداللہ نے کہا ایسا نہ کرنا بلاشبہ وہ آپ کے والد کے قاتلین ہیں اور آپ کے بھائی کے پیٹ پر نیزہ مارنے والے ہیں اگر آپ ان کے پاس گئے تو وہ آپ کو قتل کردیں گے۔
(۳۸۵۱۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ ، قَالَ : لَقِیَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ بِمَکَّۃَ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، بَلَغَنِی أَنَّک تُرِیدُ الْعِرَاقَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ فَإِنَّہُمْ قَتَلَۃُ أَبِیک ، الطَّاعِنُونَ فِی بَطْنِ أَخِیک ، وَإِنْ أَتَیْتَہُمْ قَتَلُوک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٦) حضرت جبلہ بنت مصفح سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت مالک بن ضمرہ نے مجاہدین کو اپنے اسلحہ کے بارے میں وصیت کی خبردار اس سے کشیدگی کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی جائے گی راوی محمد بن موسیٰ نے فرمایا ان کے بھائی نے ان کے سر کے پاس کہا اے بھائی موت کے وقت آپ یہ کہہ رہے ہیں انھوں نے کہا یہ ایسے ہی ہے ان کے بھائی نے کہا اگر آپ کی اولاد کو ضرورت ہو بیچنے کی تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہوگا انھوں نے فرمایا ہاں وہ اسلحہ لے گئے ایک نیزے کے سوا کوئی چیز نہ رہی، راویہ فرماتی ہیں اس لشکر میں سے جو حضر تحسین کے مقابلے میں گیا ایک آدمی آیا مالک بن ضمرہ کے بھائی نے کہا اے مالک کے بیٹے اے موسیٰ مجھے اپنے والد کا نیزہ عاریۃ دینا میں اسے ماروں روای فرماتے ہیں مالک کے بیٹے نے کہا اے لڑکی ان کو نیزہ دے دوان کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا اے موسیٰ کیا تمہیں اپنے والد کی وصیت یاد نہیں۔ اور وہ آدمی آپ کے والد کا نیزہ مانگ کرلے گیا۔ پس وہ اس کے پیچھے گئے اور اس سے نیزہ لے کر اسے توڑ دیا۔
(۳۸۵۱۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْعِتْرِیُّ ، عَنْ جَبَلَۃَ بِنْتِ المصفح ، قَالَتْ : أَوْصَی مَالِکُ بْنُ ضَمْرَۃَ بِسِلاَحِہِ لِلْمُجَاہِدِینَ مِنْ بَنِی ضَمْرَۃَ أَلاَّ یُقَاتَلُ بِہِ أَہْلُ نُبُوَّۃٍ ، قَالَ : فَقَالَ : أَخُوہُ عِنْدَ رَأْسِہِ : یَا أَخِی عِنْدَ الْمَوْتِ تَقُولُ ہَذَا ، قَالَ : ہُوَ ذَاکَ ، قَالَ : فَنَحْنُ فِی حِلٍّ إِنِ احْتَاجَ وَلَدُک أَنْ یَبِیعَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَذَہَبَ السِّلاَحُ فَلَمْ یَبْقَ مِنْہُ إِلاَّ رُمْحٌ ، قَالَتْ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِکَ الْبَعْثِ الَّذِینَ سَارُوا إِلَی الْحُسَیْنِ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ مَالِکَ ، یَا مُوسَی ، أَعِرْنِی رُمْحَ أَبِیک أَعْتَرِضْ بِہِ ، قَالَ : فَقَالَ : یَا جَارِیَۃُ ، أَعْطِہِ الرُّمْحَ ، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِہِ : یَا مُوسَی ، أَمَا تَذْکُرُ وَصِیَّۃَ أَبِیک ، قَالَتْ : وَقَدْ مَرَّ الرَّجُلُ بِالرُّمْحِ ، قَالَتْ : فَلَحِقَ الرَّجُلُ فَأَخَذَ الرُّمْحَ مِنْہُ فَکَسَرَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٧) حضرت حسن سے روایت ہے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن بن علی کو اپنے ساتھ منبر پر اٹھایا اور فرمایا میرا بیٹا سردار اور امیر ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔
(۳۸۵۱۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : رَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ مَعَہُ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنِی ہَذَا سَیِّد ، وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٨) حضرت محمد بن حنفیہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جو آدمی فتنے کے روبرو آتا ہے جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔
(۳۸۵۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِیِّ، عَنِ ابْن الْحَنَفِیَّۃِ، قَالَ: الْفِتْنَۃُ مَنْ قَابَلَہَا اجْتِیحَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥١٩) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین میرے پاس عراق کی طرف جانے کے سلسلے میں مشورہ کے لیے آئے میں نے ان سے کہا اگر وہ میرے اور آپ کی ذات پر عیب نہ لگائیں تو میں مضبوطی کے ساتھ آپ سے چمٹ جاتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو نیزے مارے میرے ساتھ جو انھوں نے بات کے سلسلے میں سخاوت فرمائی اس میں یوں فرمایا یہ حرم کسی آدمی کے لیے لڑائی کے سلسلے میں حلال کیا جائے میں فلاں فلاں زمین میں قتل کردیا جاؤں اگرچہ وہ دور ہے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس آدمی کی طرح ہوں جس کے ساتھ لڑائی کرنے میں حرم کو حلال سمجھا جائے۔
(۳۸۵۱۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: جَائَنِی حُسَیْنٌ یَسْتَشِیرُنِی فِی الْخُرُوجِ إِلَی مَا ہَاہُنَا یَعْنِی الْعِرَاقَ ، فَقُلْتُ : لَوْلاَ أَنْ یُزْرُوا بِی وَبِکَ لَشَبَّثْتُ یَدِی فِی شَعْرِکَ ، إِلَی أَیْنَ تَخْرُجُ ؟ إِلَی قَوْمٍ قَتَلُوا أَبَاک وَطَعَنُوا أَخَاک ، فَکَانَ الَّذِی سَخَا بِنَفْسِی عَنْہُ أَنْ قَالَ لِی : إِنَّ ہَذَا الْحَرَمَ یُسْتَحَلُّ بِرَجُلٍ ، وَلأَنْ أُقْتَلَ فِی أَرْضِ کَذَا وَکَذَا غَیْرَ أَنَّہُ یُبَاعِدُہُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَکُونَ أَنَا ہُوَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٠) حضرت علی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقیناً حسین کو قتل کیا جائے گا اور بلاشبہ میں اس زمین کی مٹی کو پہچانتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا دو نہروں کے درمیان شہید کیا جائے گا۔
(۳۸۵۲۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہَانِئِ بْنِ ہَانِئٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : لَیُقْتَلَنَّ الْحُسَیْنُ قَتْلاً ، وَإِنِّی لأَعْرِفُ تُرْبَۃَ الأَرْضِ الَّتِی بِہَا یُقْتَلُ ، یُقْتَلُ قَرِیبًا مِنَ النَّہْرَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢١) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے میں دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی میں نے غور کیا اور دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہتھیلی میں کوئی چیز تھی جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے اور حضرت حسین آپ کے پیٹ پر سوئے ہوئے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے غور کیا اور دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی پر کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور بچہ آپ کے پیٹ پر سویا ہوا ہے اور آپ کے آنسو جاری ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ جبرائیل میرے پاس وہ مٹی لے کر آیا تھا جہاں اسے شہید کیا جائے گا اس نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت اسے قتل کرے گی۔
(۳۸۵۲۱) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَرْبَدَ النَّخَعِیِّ ، قَالَ : قالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ : دَخَلَ الْحُسَیْنُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسَۃٌ عَلَی الْبَابِ ، فَتَطَلَّعْت فَرَأَیْتُ فِی کَفِّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا یُقَلِّبُہُ وَہُوَ نَائِمٌ عَلَی بَطْنِہِ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، تَطَلَّعْتُ فَرَأَیْتُکَ تُقَلِّبُ شَیْئًا فِی کَفِّکَ ، وَالصَّبِیُّ نَائِمٌ عَلَی بَطْنِکَ وَدُمُوعُکَ تَسِیلُ ، فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِیلَ أَتَانِی بِالتُّرْبَۃِ الَّتِی یُقْتَلُ عَلَیْہَا ، وَأَخْبَرَنِی أَنَّ أُمَّتِی یَقْتُلُونَہُ۔ (طبرانی ۲۸۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٢) حضرت نجی حضرمی سے روایت ہے فرمایا کہ انھوں نے حضرت علی کے ساتھ سفر کیا وہ حضرت علی کے لیے وضو وغیرہ کا انتظام کرنے لگے یہاں تک کہ وہ نینوی شہر کے برابر ہوگئے ارادہ ان کا صفین کی طرف جانے کا تھا تو انھوں نے پکارا ٹھہرو ابو عبداللہ ٹھہرو ابوعبداللہ میں نے کہا کیا ہوگیا ابو عبداللہ کو انھوں نے فرمایا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اس حال میں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے حضرت علی نے بتلایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی آنکھیں بہہ رہی ہیں کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جبرائیل میرے پاس کھڑے ہوئے ہیں انھوں نے مجھے بتلایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کیا جائے گا پس اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا وہ بہہ پڑیں۔
(۳۸۵۲۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی شُرَحْبِیلُ بْنُ مُدْرِکٍ الْجُعْفِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُجَیٍّ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ سَافَرَ مَعَ عَلِی ، وَکَانَ صَاحِبَ مَطْہَرَتِہِ حَتَّی حَاذَی نِینَوَی وَہُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَی صِفِّینَ فَنَادَی: صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، صَبْرًا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، فَقُلْتُ : مَاذَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَیْنَاہُ تَفِیضَانِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا لِعَیْنَیْک تَفِیضَانِ أَأَغْضَبَک أَحَدٌ ، قَالَ : قَامَ مِنْ عِنْدِی جِبْرِیلُ فَأَخْبَرَنِی ، أَنَّ الْحُسَیْنَ یُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ ، فَلَمْ أَمْلِکْ عَیْنَیَّ أَنْ فَاضَتَا۔ (احمد ۸۵۔ ابویعلی ۳۵۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٣) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ان کی بکری نے مینگنیاں کیں انھوں نے اپنی باندی سے کہا اے کم بالوں والی اس مینگنی نے ایک حدیث یاد کروا دی جو میں نے امیرالمؤمنین (حضرت علی ) سے سنی تھی جبکہ میں ان کے ساتھ مقام کربلا میں تھا وہ ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنی تھی اس زمین سے ایک مشت مٹی لی اور اسے سونگھا پھر فرمایا اس زمین کی پشت سے ستر ہزار کو جمع کیا جائے گا جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
(۳۸۵۲۳) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَلاَّمٍ أَبِی شُرَحْبِیلَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیم ، قَالَ : بَعَرَتْ شَاۃٌ لَہُ ، فَقَالَ لِجَارِیَۃٍ لَہُ : یَا جَرْدَائُ ، لَقَدْ أَذَکَرَنِی ہَذَا الْبَعْرُ حَدِیثًا سَمِعْتہ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَکُنْت مَعَہُ بِکَرْبَلاَئَ فَمَرَّ بِشَجَرَۃٍ تَحْتَہَا بَعْرُ غِزْلاَنٍ فَأَخَذَہُ مِنْہُ قَبْضَۃً فَشَمَّہَا ، ثُمَّ قَالَ : یُحْشَرُ مِنْ ہَذَا الظَّہْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٤) حضرت وائل بن علقمہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں موجود تھے انھوں نے فرمایا کہ ایک آدمی آیا اس نے کہا کیا تمہارے اندر حسین ہے حضرت حسین نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا آگ کی بشارت لو انھوں نے فرمایا بلکہ رب معاف کرنے والا رحم کرنے والا فرمان برداری کیا جانے والا ہے حضرت حسین نے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں ابن حویزہ ہوں آپ نے فرمایا اے اللہ اسے آگ کی طرف جمع کرلے راوی نے فرمایا وہ آدمی گیا اس کا گھوڑا اسے اس کی پنڈلیوں کے بل لے کر بھاگا پس وہ کٹا اس کے جسم سے سوائے اس کے پاؤں کے جو رکاب میں تھے کوئی حصہ باقی نہ رہا۔
(۳۸۵۲۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، أَنَّہُ شَہِدَ الْحُسَیْنَ بِکَرْبَلاَئَ ، قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَفِیکُمْ حُسَیْنٌ ؟ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ بِالنَّارِ ، قَالَ : بَلْ رَبٌّ غَفُورٌ رَحِیمٌ مُطَاعٌ ، قَالَ: وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا ابْنُ حُوَیْزَۃَ ، قَالَ : اللَّہُمَّ حُذْہُ إِلَی النَّارِ ، قَالَ : فَذَہَبَ فَنَفَرَ بِہِ فَرَسُہُ عَلَی سَاقَیْہِ ، فَتَقَطَّعَ فَمَا بَقِیَ مِنْہُ غَیْرُ رِجْلِہِ فِی الرِّکَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٥) حضرت ام حکیم سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ جب حضرت حسین بن علی کو شہید کیا گیا میں ان دنوں لڑکی تھی عورتوں کی عمر کو پہنچ چکی تھی یا فرمایا پہنچنے کے قریب تھی ان کی شہادت کے بعد کئی دن آسمان خون کے جمے ٹکڑے کی طرح رہا۔
(۳۸۵۲۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أُمِّ حَکِیمٍ ، قَالَتْ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، وَأَنَا یَوْمَئِذٍ جَارِیَۃٌ قَدْ بَلَغْت مَبْلَغَ النِّسَائِ ، أَوْ کِدْت أَنْ أَبْلُغَ مَکَثَتِ السَّمَائُ بَعْدَ قَتْلِہِ أَیَّامًا کَالْعَلَقَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٦) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت عثمان کی شہادت کی خبر آئی اور میں اپنے آپ میں جوانی اور قوت کو پہچان رہا تھا اگر میں لڑائی کرتا میں نکلا لوگوں کے ساتھ حاضر تھا جب ہم مقام ربذہ پر پہنچے وہاں پر حضرت علی موجود تھے انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب سلام پھیرا لوگوں کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے حضرت حسن بن علی کھڑے ان سے روتے ہوئے بات کرنے لگے انھوں نے فرمایا بات کرو اور لڑکی کے رونے کی طرح نہ رو۔ حضرت حسن نے فرمایا میں نے آپ سے کہا تھا جب لوگوں نے اس آدمی کا محاصرہ کیا تھا کہ آپ مکہ جا کر وہاں اقامت اختیار کریں آپ نے میری بات نہ مانی پھر جب انھیں شہید کیا گیا میں نے آپ سے کہا تھا اپنے گھر میں رہیں۔ یہاں تک عرب کی عقل مندی واپس آجائے پس اگر آپ گوہ کی بل میں ہوئے تو وہ آپ کو اونٹ کے پہلوں مارتے یہاں تک آپ کو اس بل سے نکالتے آپ نے میری بات نہ مانی اور میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ عراق نہ جائیں کہیں بےتوجہی کی حالت میں آپ کو قتل کردیا جائے راوی نے فرمایا حضرت علی نے فرمایا باقی رہی تمہاری بات کہ میں مکہ جاتا تو میں اس آدمی کے پاس نہیں گیا جو میرے لیے مکہ کو قتال کے لیے حلال کرتا اور تیری یہ بات کہ لوگوں نے عثمان کو شہید کردیا تو میرا کیا گناہ ہے اگر لوگوں نے ان کو قتل کردیا ہے اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عراق نہ جاتا (مدینہ اگر رہتا تو) تو میں اس گوہ کی طرح ہوتا جو (بل میں رہ کر) آواز کو سنتی ہے۔
(۳۸۵۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی عَاصِمٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : جَائَنَا قَتْلُ عُثْمَانَ وَأَنَا أُؤنِسُ مِنْ نَفْسِی شَبَابًا وَقُوَّۃً ، وَلَوْ قَتَلْتُ الْقِتَالَ ، فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ النَّاسَ حَتَّی إِذَا کُنْت بِالرَّبَذَۃِ إِذَا عَلِیٌّ بِہَا ، فَصَلَّی بِہِم الْعَصْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَسْنَدَ ظَہْرَہُ فِی مَسْجِدِہَا ، وَاسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ ، قَالَ : فَقَامَ إلَیْہِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ یُکَلِّمُہُ وَہُوَ یَبْکِی ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : تَکَلَّمْ وَلاَ تخِنَّ خَنِینَ الْجَارِیَۃِ ، قَالَ : أَمَرْتُک حِینَ حَصَرَ النَّاسُ ہَذَا الرَّجُلَ أَنْ تَأْتِیَ مَکَّۃَ فَتُقِیمَ بِہَا فَعَصَیْتنِی ، ثُمَّ أَمَرْتُک حِینَ قُتِلَ أَنْ تَلْزَمَ بَیْتَکَ حَتَّی تَرْجِعَ إِلَی الْعَرَبِ غَوَارِبُ أَحْلاَمِہَا ، فَلَوْ کُنْت فِی جُحْرِ ضَبٍّ لَضَرَبُوا إلَیْک آبَاطَ الإِبِلِ حَتَّی یَسْتَخْرِجُوک مِنْ جُحْرِکَ فَعَصَیْتنِی ، وَأَنَا أُنْشِدُک بِاللہِ أَنْ تَأْتِیَ الْعِرَاقَ فَتُقْتَلَ بِحَالِ مَضْیَعَۃٍ ، قَالَ : فَقَالَ : عَلِیٌّ : أَمَّا قَوْلُک : آتِی مَکَّۃَ ، فَلَمْ أَکُنْ بِالرَّجُلِ الَّذِی تُسْتَحَلُّ لِی مَکَّۃُ ، وَأَمَّا قَوْلُک : قَتَلَ النَّاسُ عُثْمَانَ ، فَمَا ذَنْبِی إِنْ کَانَ النَّاسُ قَتَلُوہُ ، وَأَمَّا قَوْلُک : آتِی الْعِرَاقَ ، فَأَکُون کَالضَّبُعِ تَسْتَمِعُ اللَّدْمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٧) حضرت شعبی سے روایت ہے فرمایا کہ جب حضرت حسن بن علی اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح ہوئی حضرت حسن نے مدینہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا مجاہد نے شعبی سے نقل کیا شعبی نے فرمایا میں نے ان سے منبر پر سنا کہ انھوں نے اللہ کی تعریف کی اور اس کی ثناء بیان کی پھر فرمایا یقیناً سب سے عقلمندی کی بات تقوٰی ہے اور سب سے عجز کی بات فسق و فجور ہے اور یہ امر (خلافت) جس میں میرے اور معاویہ کے درمیان اختلاف ہوا یہ میرا حق تھا میں نے معاویہ کے لیے چھوڑ دیا یا یوں فرمایا یہ میرا حق تھا جس کے معاویہ مجھ سے زیادہ حق دار ہیں اور میں نے یہ تمہارے خونوں کی حفاظت کے لیے ایسا کیا ہے اور میں نہیں جانتا ہوسکتا ہے تمہارے لیے آزمائش ہو اور مقررہ مدت تک نفع ہو پھر نیچے اتر آئے۔
(۳۸۵۲۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ الصُّلْحُ بَیْنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَمُعَاوِیَۃَ أَرَادَ الْحَسَنُ الْخُرُوجَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ : مَا أَنْتَ بِاَلَّذِی تَذْہَبُ حَتَّی تَخْطُبَ النَّاسَ ، قَالَ : قَالَ الشَّعْبِیُّ : فَسَمِعْتہ عَلَی الْمِنْبَرِ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أما بعد فَإِنَّ أَکْیَسَ الْکَیْسِ التُّقَی ، وَإِنَّ أَعْجَزَ الْعَجْزِ الْفُجُورُ ، وَإِنَّ ہَذَا الأَمْرَ الَّذِی اخْتَلَفْتُ أَنَا فِیہِ وَمُعَاوِیَۃُ حَقٌّ کَانَ لِی ، فَتَرَکْتُہُ لِمُعَاوِیَۃَ ، أَوْ حَقٌّ کَانَ لامْرِیئٍ أَحَقَّ بِہِ مِنِّی ، وَإِنَّمَا فَعَلْت ہَذَا لِحَقْنِ دِمَائِکُمْ {وَإِنْ أَدْرِی لَعَلَّہُ فِتْنَۃٌ لَکُمْ وَمَتَاعٌ إِلَی حِین} ثُمَّ نَزَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٢٨) حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس آدمی نے میری امت میں تفریق ڈالی جبکہ وہ مجتمع ہوں اس کی گردن مار دو جو کوئی ہو۔
(۳۸۵۲۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ شریک ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ أُمَّتِی وَہُمْ جَمِیعٌ فَاضْرِبُوا رَأْسَہُ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔ (نسائی ۴۸۸۔ طبرانی ۴۸۷)
tahqiq

তাহকীক: