মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৪৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٩) ابو حصین سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں نے کوئی آدمی عبداللہ بن زبیر سے بڑھ کر برا بھلا کہنے والا نہیں دیکھا۔
(۳۸۴۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، قَالَ : مَا رَأَیْت رَجُلاً ہُوَ أَسَبُّ مِنْہُ ، یَعنی ابْنَ الزُّبَیْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٠) حضرت عروہ سے روایت ہے کہ شام والے حضرت ابن زبیر سے لڑائی کرتے تھے اور چیخ چیخ کر ان کو کہتے تھے اے ذات النطا قین کے بیٹے حضرت ابن زبیر یہ پڑھتے

یہ عیب ہے جس کی عار تم پر واضح ہے حضرت اسمائ نے فرمایا کیا وہ تمہیں اس سے عار دلاتے ہیں حضرت ابن زبیر نے فرمایا جی ہاں انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم وہ حق ہے۔
(۳۸۴۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ أَہْلَ الشَّامِ کَانُوا یُقَاتِلُونَ ابْنَ الزُّبَیْرِ وَیَصِیحُونَ بِہِ : یَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَیْنِ ، فَقَالَ : ابْنُ الزُّبَیْرِ :

وَتِلْکَ شَکَاۃٌ ظَاہِرٌ عَنْک عَارُہَا

قَالَتْ أَسْمَائُ : عَیَّرُوک بِہِ ؟ قَالَ نَعَمْ ، قَالَتْ : فَہُوَ وَاللہِ حَقُّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩١) حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن زبیر ان پر حملہ کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو دروازوں سے نکال دیتے تھے اور کہتے تھے اگر میرا مقابل اکیلا ہو تو میں اس کے لیے کافی ہوں اور شعر بھی پڑھتے۔ وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا ۔۔۔ وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا۔ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں کے خون نہیں گرتے بلکہ ہمارے قدموں پر خون کے قطرات گرتے ہیں (مرادیہ ہے کہ ہم دشمن کا سامنا کرتے ہوئے لڑتے ہیں پشت پھیر کر نہیں بھاگتے)
(۳۸۴۹۱) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَانَ یَشُدُّ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُخْرِجَہُمْ ، عَنِ الأَبْوَابِ وَیَقُولُ :

لَوْ کَانَ قَرْنِی وَاحِدًا کُفِیْتُہ

ویقول :

وَلَسْنَا عَلَی الأَعْقَابِ تَدْمَی کُلُومُنَا

وَلَکِنْ عَلَی أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدِّمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ اس اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو بلاشبہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور بلاشبہ جو چیزیں تمہیں جماعت میں ناپسندیدہ ہیں وہ ان سے بہتر ہیں جو تمہیں جدائی میں پسند ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی انتہا مقرر کی ہے یہ دین یقیناً کامل ہوچکا اور اب نقصان کی طرف جانے والا ہے اور اس نقصان کی علامت یہ ہے کہ رشتے داریاں ختم ہوجائیں گی ناحق مال لیا جائے گا خون بہائے جائیں گے قرابت والا اپنے قریبی رشتے داروں کی شکایت کرے گا کہ وہ اسے کچھ نہیں دیتے مانگنے والا دو جمعے چکر لگائے گا اس کے ہاتھ پر کچھ بھی نہیں رکھا جائے گا لوگ اسی حالت پر ہوں گے یکایک زمین گائے کی طرح آواز نکالے گی سارے لوگ یہ خیال کریں گے کہ یہ ہماری جانب میں آواز نکال رہی ہے لوگ اسی حالت پر ہوں گے اچانک زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونا اور چاندی نکالے گی اس کے بعد اس سونا چاندی سے کوئی نفع نہیں ہوگا۔
(۳۸۴۹۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو حَصِینٍ الأَسَدِیُّ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : الْزَمُوا ہَذِہِ الطَّاعَۃَ وَالْجَمَاعَۃَ ، فَإِنَّہُ حَبْلُ اللہِ الَّذِی أَمَرَ بِہِ ، وَأَنَّ مَا تَکْرَہُونَ فِی الْجَمَاعَۃِ خَیْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِی الْفُرْقَۃِ ، إِنَّ اللَّہَ لَمْ یَخْلُقْ شَیْئًا قَطُّ إِلاَّ جَعَلَ لَہُ مُنْتَہًی ، وَإِنَّ ہَذَا الدِّینَ قَدْ تَمَّ، وَإِنَّہُ صَائِرٌ إِلَی نُقْصَانٍ ، وَإِنَّ أَمَارَۃَ ذَلِکَ أَنْ تَنْقَطِعَ الأَرْحَامُ ، وَیُؤْخَذَ الْمَالُ بِغَیْرِ حَقِّہِ ، وَتُسْفَکَ الدِّمَائُ وَیَشْتَکِی ذُو الْقَرَابَۃِ قَرَابَتَہُ لاَ یَعُودُ عَلَیْہِ بِشَیْئٍ ، وَیَطُوفُ السَّائِلُ بَیْنَ جُمُعَتَیْنِ لاَ یُوضَعُ فِی یَدِہِ شَیْئٌ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ خَارَتِ الأَرْضُ خُوَارَ الْبَقَرَۃِ یَحْسِبُ کُلُّ أُنَاسٍ ، أَنَّہَا خَارَتْ مِنْ قِبَلِہِمْ ، فَبَیْنَمَا النَّاسُ کَذَلِکَ إذْ قَذَفَتِ الأَرْضُ بِأَفْلاَذِ کَبِدِہَا مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ ، لاَ یَنْفَعُ بَعْدُ شَیْئٌ مِنْہُ ذَہَبٌ وَلاَ فِضَّۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٣) حضرت مسروق سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت عبداللہ نے اپنے گھر کی طرف جھانکا اور فرمایا اس میں بڑی ویرانی ہوگی وہ لوگ اس کا احاطہ کریں گے آئیں گے۔ ان سے پوچھا گیا وہ کون لوگ ہوں گے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ ادھر ادھر سے آئیں گے۔ ابو حصین نے روایت بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا۔
(۳۸۴۹۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَبْدُ اللہِ عَلَی دَارِہِ ، فَقَالَ : أَعْظِمْ بِہَا خِرْبَۃً ، لَیُحِیطُنَّ فَقِیلَ : مَنْ ؟ فَقَالَ : أُنَاسٌ یَأْتُونَ مِنْ ہَاہُنَا ، وَأَشَارَ أَبُو حَصِینٍ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمَغْرِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٤) حضرت ارقم بن یعقوب سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم اپنی اس زمین سے جزیرۃ العرب اور گھاس اگنے کی جگہوں کی طرف نکل جاؤ گے میں نے عرض کیا ہماری زمین سے ہمیں کون نکالے گا انھوں نے فرمایا اللہ کا دشمن۔
(۳۸۴۹۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَرَقْمَ بْنِ یَعْقُوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ یَقُولُ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ أَرْضِکُمْ ہَذِہِ إِلَی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ وَمَنَابِتِ الشِّیحِ قُلْتُ : مَنْ یُخْرِجُنَا مِنْ أَرْضِنَا ، قَالَ : عَدُوُّ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٥) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا گویا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کے گھوڑوں کے کان کھڑے ہوں گے اور ان کے راہب وزاہد فرات کے دونوں کناروں پر ہوں گے۔
(۳۸۴۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : کَأَنِّی بِہِمْ مُشْرِفِی آذَانَ خَیْلِہِمْ رَابِطِیہَا بِحَافَّتَیَ الْفُرَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٦) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ کبھی بھی کسی قوم نے آپس میں لعن طعن اختیار نہیں کی مگر عذاب کی بات ان پر ثابت ہوگئی۔
(۳۸۴۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَا تَلاعَنَ قَوْمٌ قَطُّ إِلاَّ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ۔ (نعیم ۱۸۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٧) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کہ حضرت عمر کے بعد مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ کس کس کی بیعت کروں۔
(۳۸۴۹۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَا أُبَالِی عَلَی کَفِّ مَنْ ضَرَبْتُ بَعْدَ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٨) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا یقیناً فتنہ دلوں پر آتا ہے جس دل میں اس کی محبت بیٹھ جائے تو اس دل پر سیاہ نقطہ لگایا جاتا ہے اور جو دل اس فتنے کو ناپسند کرتا ہے اس پر سفید لگا دیا جاتا ہے جو آدمی تم میں سے چاہتا ہے کہ جانے اسے فتنہ پہنچتا ہے یا نہیں وہ غور کرے اگر جسے وہ حلال سمجھتا تھا اسے حرام سمجھنا شروع کردیا یا جسے حرام سمجھتا تھا اسے حلال سمجھنا شروع کردیا تو اسے فتنہ پہنچ چکا ہے۔
(۳۸۴۹۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : إِنَّ الْفِتْنَۃَ لَتُعْرَضُ عَلَی الْقُلُوبِ ، فَأَیُّ قَلْبٍ أُشْرِبَہَا نُقِطَ عَلَی قَلْبِہِ نُقَطٌ سُود ، وَأَیُّ قَلْبٍ أَنْکَرَہَا نُقِطَ عَلَی قَلْبِہِ نُقْطَۃٌ بَیْضَائُ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَعْلَمَ أَصَابَتْہُ الْفِتْنَۃُ أَمَْلا ، فَلْیَنْظُرْ ، فَإِنْ رَأَی حَرَامًا مَا کَانَ یَرَاہُ حَلاَلاً ، أَوْ یَرَی حَلاَلاً مَا کَانَ یَرَاہُ حَرَامًا فَقَدْ أَصَابَتْہُ۔ (احمد ۳۸۶۔ حاکم ۴۶۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٩٩) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر تو جمعہ میں ان کی طرف متوجہ ہو کر تیر مارے تو وہ تیر نہیں لگے گا سوائے کافروں کے (مراد یہ ہے کہ سارے کفر میں ہوں گے لیکن یہاں کفر سے وہ کفر مراد نہیں جو اسلام سے نکال دیتا ہے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کفار جیسے اعمال میں مبتلا ہوگا)
(۳۸۴۹۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا قُطْبَۃُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ قیْسِ بْنِ سَکَنٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَوِ اعْتَرَضَتْہُمْ فِی الْجُمُعَۃِ بِنَبْلٍ مَا أَصَابَتْ إِلاَّ کَافِرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا فتنے میں اس کے رکنے اور بھڑکنے کے مواقع ہوتے ہیں اگر تم سے ہو سکے کہ تمہیں اس کے رکنے کے مواقع میں موت آئے تو ایسا کرلینا اور فرمایا کہ کوئی خالص شراب لوگوں کی عقلوں کو زیادہ اڑانے والی نہیں ہے فتنوں کی بہ نسبت۔
(۳۸۵۰۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : إِنَّ لِلْفِتْنَۃِ وَقَفَاتٍ وَبَعَثَاتٍ ، فَإِنِ اسْتَطَعْت أَنْ تَمُوتَ فِی وَقَفَاتِہَا فَافْعَلْ ، وَقَالَ : مَا الْخَمْرُ صِرْفًا بِأَذْہَبَ لِعُقُولِ الرِّجَالِ مِنَ الْفِتَنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠١) حضرت رفیع ابی کثیرہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے ابو الحسن علی کو فرماتے ہوئے سنا کہ زمین ظلم اور زیادتی سے بھر جائے گی یہاں تک کہ ہر گھر میں خوف اور لڑائی داخل ہوگی دو درہم اور دو جریب مانگیں گے انھیں نہیں دیا جائے گا (جریب ٨ قفیز کے برابر پیمانے کو کہتے ہیں) لڑائی کے مقابلے میں لڑائی ہوگی اور لشکر لشکروں کے مقابلے میں چلیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا احاطہ کریں گے ان کے شہر میں پھر زمین عدل و انصاف سے بھر دی جائے گی۔
(۳۸۵۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قالاَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَیْرٍ ، عَنْ رُفَیْعٍ أَبِی کَثِیرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِیًّا یَقُولُ : تَمْتَلِئُ الأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا حَتَّی یَدْخُلَ کُلَّ بَیْتٍ خَوْفٌ وَحَرْبٌ یَسْأَلُونَ دِرْہَمَیْنِ وَجَرِیبَیْنِ فَلاَ یُعْطَوْنَہُ ، فَیَکُونُ تَقْتَالٌ بِتَقْتَالٍ وَتَسْیَارٌ بِتَسْیَارٍ حَتَّی یُحِیطَ اللَّہُ بِہِمْ فِی مِصْرِہم ، ثُمَّ تُمَْلأَ الأَرْضُ عَدْلاً وَقِسْطًا ، وَقَالَ وَکِیعٌ : حَتَّی یُحِیطَ اللَّہُ بِہِمْ فِی مِصْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٢) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت خالد بن ولید نے ایک آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے جب دوسرا دن ہوا دوسرے آدمی کو بطور حد کوڑے لگائے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم یہ تو فتنہ ہے گزشتہ کل ایک آدمی کو حد میں کوڑے لگائے اور آج دوسرے آدمی کو حد میں کوڑے لگائے ہیں حضرت خالد بن ولید نے فرمایا یہ فتنہ نہیں ہے فتنہ تو یہ ہوتا ہے کہ ایک زمین پر بیشمار گناہ کیے جائں تو یہ چاہے کہ ایسی زمین کی طرف نکل جائے جہاں گناہ نہ کیے جاتے ہوں پس تو ایسی زمین نہ پائے۔
(۳۸۵۰۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ: جَلَدَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَجُلاً حَدًّا، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ جَلَدَ رَجُلاً آخَرَ حَدًّا، فَقَالَ رَجُلٌ ہَذِہِ وَاللہِ الْفِتْنَۃُ، جَلَدَ أَمْسِ رَجُلاً فِی حَدٍّ، وَجَلَدَ الْیَوْمَ رَجُلاً فِی حَدٍّ، فَقَالَ: خَالِدٌ: لَیْسَ ہَذِہِ بِفِتْنَۃٍ، إنَّمَا الْفِتْنَۃُ أَنْ تَکُونَ فِی أَرْضٍ یُعْمَلُ فِیہَا بِالْمَعَاصِی فَتُرِیدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْہَا إِلَی أَرْضٍ لاَ یُعْمَلُ فِیہَا بِالْمَعَاصِی فَلاَ تَجِدُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٣) حضرت سعد بن حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جب لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو معزول کرنے پر موافقت کرلی تو آپس میں انھوں نے ایک تحریر لکھی کہ ان پر عامل نہیں بنایا جائے گا مگر وہ آدمی جس پر وہ اپنے لیے اور اپنے دین کے لیے راضی ہوں گے وہ لوگ اسی حالت پر تھے اچانک حضرت حذیفہ مدائن سے تشریف لائے اپنی تحریر لے کر ان کے پاس گئے اے ابو عبداللہ ہم نے اس آدمی کے ساتھ وہ معاملہ کیا ہے ہے جو آپ کو پہنچا ہے پھر ہم نے یہ تحریر لکھی ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بغیر ہم کسی امر کا یقینی فیصلہ نہ کریں حضرت حذیفہ نے ان کی تحریر کو دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں دونوں امروں میں سے کس کا تم نے ارادہ کیا ہے ایسے لوگوں کی ولایت کا ارادہ کیا ہے جو تمہارے فائدے کے لیے نہیں ہے یا تم نے ارادہ کیا ہے اس فتنے کو لوٹا نے کا اس مقام کی طرف جہاں یہ بےمہار ہوجائے گا اور مضبوط ہوجائے گا۔ بلاشبہ یہ فتنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر بھیجا جاتا ہے چرتا ہے یہاں تک اپنی لگام کو روندتا ہے کہ لوگوں میں سے کوئی بھی اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا لوگوں میں سے کوئی بھی اس میں قتال نہیں کرتا مگر قتل کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بدلی بھیجتے ہیں موسم خزاں کے بادلوں کی طرح وہ قتال انہی کے درمیان ہوجاتا ہے۔
(۳۸۵۰۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَیْمِیِّ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِیِّ ، عَنْ سعد بْنِ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَمَّا تَحَسَّر النَّاسُ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ کَتَبُوا بَیْنَہُمْ کِتَابًا أَنْ لاَ یَسْتَعْمِلَ عَلَیْہِمْ إِلاَّ رَجُلاً یَرْضَوْنَہُ لأَنْفُسِہِمْ وَدِینِہِمْ ، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذَلِکَ إذْ قَدِمَ حُذَیْفَۃُ مِنَ الْمَدَائِنِ فَأَتَوْہُ بِکِتَابِہِمْ فَقَالُوا : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، صَنَعنَا بِہَذَا الرَّجُلِ مَا قَدْ بَلَغَک ، ثُمَّ کَتَبْنَا ہَذَا الْکِتَابَ وَأَحْبَبْنَا أَنْ لاَ نَقْطَعَ أَمْرًا دُونَک ، فَنَظَرَ فِی کِتَابِہِمْ وَضَحِکَ ، وَقَالَ : وَاللہِ مَا أَدْرِی أَیُّ الأَمْرَیْنِ أَرَدْتُمْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَتَوَلَّوْا سُلْطَانَ قَوْمٍ لَیْسَ لَکُمْ أو أَرَدْتُمْ أَنْ تَرُدُّوا ہَذِہِ الْفِتْنَۃَ حَیْثُ أَطْلَعتْ خِطَامَہَا وَاسْتَوَتْ ، إِنَّہَا لَمُرْسَلَۃٌ مِنَ اللہِ فِی الأَرْضِ تَرْتَعِی حَتَّی تَطَأَ عَلَی خِطَامِہَا ، لَنْ یَسْتَطِیعَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ لَہَا رَدًّا وَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُقَاتِلُ فِیہَا إِلاَّ قُتِلَ حَتَّی یَبْعَثَ اللَّہُ قَزَعًا کَقَزَعِ الْخَرِیفِ یَکُونُ بِہِمْ بَیْنَہُمْ۔ (حاکم ۵۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ضرور بالضرور تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم میں سے سب سے بہتر وہ آدمی ہوگا جو نیکی کا حکم نہیں کرے گا لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا ہم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں ہم منکر کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں نہیں اللہ کی قسم ہم ضرور بالضرور کریں گے راوی فرماتے ہیں حضرت حذیفہ اپنی انگلی سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے تو نے خدا کی قسم جھوٹ بولا یہ تین مرتبہ فرمایا اس آدمی نے کہا میں نے جھوٹ بولا اور انھوں نے سچ کہا۔
(۳۸۵۰۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : لَیَأْتِیَنَّ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ خَیْرُکُمْ فِیہِ مَنْ لاَ یَأْمُرُ بِمَعْرُوفٍ وَلاَ یَنْہَی عَنْ مُنْکَرٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَیَأْتِی عَلَیْنَا زَمَانٌ نَرَی الْمُنْکَرَ فِیہِ فَلاَ نُغَیِّرُہُ ؟ فَلاَ وَاللہِ لَنَفْعَلنَّ ، قَالَ : فَجَعَلَ حُذَیْفَۃُ یَقُولُ بِأُصْبُعِہِ فِی عَیْنِہِ : کَذَبْت وَاللہِ ثَلاَثًا ، قَالَ الرَّجُلُ : فَکَذَبْت وَصَدَقَ۔ (ابو نعیم ۲۷۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٥) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ یقیناً تم پر ایسا زمانہ آئے گا اس میں انسان موت کی تمنا کرے گا کہ قتل کردیا جائے یا وہ کفر اختیار کرے گا اور یقیناً تم پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں انسان موت کی تمنا کرے گا بغیر فقرو فاقہ کے۔
(۳۸۵۰۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : لَیَأْتِیَنَّ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ یَتَمَنَّی الرَّجُلُ فِیہِ الْمَوْتَ فَیُقْتَلُ ، أَوْ یَکْفُرُ ، وَلَیَأْتِیَنَّ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ یَتَمَنَّی الرَّجُلُ الْمَوْتَ مِنْ غَیْرِ فَقْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٦) حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زمین کا تذکرہ کیا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہے اس کے ایک طرف ایک نہر ہے جسے دجلہ کہا جاتا ہے کثیر کھجوروں والی وہاں بنو قنطو راء اتریں گے (جو ترک کو کہا جاتا ہے اور حاکم کے قول کے مطابق اس سے مراد روم کے نصرانی ہیں) لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ اپنی اصل سے مل جائے گا اور ہلاک ہوجائے گا دوسرا گروہ اپنے نفسوں کو لے گا اور کفر کرے گا اور ایک گروہ اولاد کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا ان کے مقتولین شہداء ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے باقی رہنے والوں کو فتح عطاء کرے گا۔
(۳۸۵۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْضًا یُقَالُ لَہَا الْبَصْرَۃُ ، أَوِ الْبَصِیرَۃُ إِلَی جَنْبِہَا نَہْرٌ یُقَالُ لَہُ دِجْلَۃُ ذُو نَخْلٍ کَثِیرٍ یَنْزِلُ بِہِ بَنُو قَنْطُورَائَ فَتَفْتَرِقُ النَّاسُ ثَلاَثَ فِرَقٍ : فِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِہَا وَہَلَکُوا ، وَفِرْقَۃٌ تَأْخُذُ عَلَی أَنْفُسِہَا وَکَفَرُوا ، وَفِرْقَۃٌ یَجْعَلُونَ ذَرَارِیَّہُمْ خَلْفَ ظُہُورِہِمْ فَیُقَاتِلُونَ ، قَتْلاَہُمْ شُہَدَائُ ، یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَی بَقِیَّتِہِمْ۔ (ابو داؤد ۴۳۰۶۔ بزار ۳۶۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسے لوگوں سے لڑائی کرو گے جن کے جوتے ان کے بال ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم لڑائی کرو گے ایسے لوگوں سے جو چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے۔
(۳۸۵۰۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُہُمَ الشَّعْرُ ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْیُنِ۔ (بخاری ۲۹۲۹۔ مسلم ۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٥٠٨) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسے لوگوں سے لڑائی کرو گے جن کے جوتے بال ہوں گے اور قیامت نہیں قائم ہوگی یہاں تک کہ تم قتال کرو گے ایسے لوگوں سے جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی چھوٹی ناک والے ہوں گے گویا کہ ان کے چہرے اوپر نیچے رکھی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔
(۳۸۵۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُہُمُ الشَّعْرُ ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْیُنِ ذُلْفَ الآنُفِ کَأَنَّ وُجُوہَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔ (بخاری ۲۹۲۹۔ مسلم ۶۴)
tahqiq

তাহকীক: