মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৪৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٩) حضرت ابو ذر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا ۔۔۔قریب ہے یہ بات کہ مدینہ کی طرف کھانے کی چیزیں نہیں لے جائی جائیں گی پالان پر اور وہاں رہنے والوں کا کھانا وہیں سے ہی پورا ہوگا جس آدمی کے پاس زمین ہو یا کھیتی ہو یا مویشی ہوں وہ ان کی دموں کے پیچھے رہے بادلوں کے کناروں میں اور جب تم دیکھو عمارتوں کو کہ وہ کوہ سلع سے بلند ہوجائیں اس میں ٹھہرے رہو۔
(۳۸۴۶۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَی بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ مبشر بْنِ الْمُحَرَّر، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : تُوشِکُ الْمَدِینَۃُ أَنْ لاَ یُحْمَلَ إلَیْہَا طَعَامٌ عَلَی قَتَبٍ ، وَیَکُونُ طَعَامُ أَہْلِہَا بِہَا ، مَنْ کَانَ لَہُ أَصْلٌ ، أَوْ حَرْثٌ ، أَوْ مَاشِیَۃٌ یَتْبَعُ أَذْنَابَہَا فِی أَطْرَافِ السَّحَابِ ، فَإِذَا رَأَیْتُمُ الْبُنْیَانَ قَدْ عَلاَ سَلَعًا فَارْتَبضُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٠) حضرت ابوذر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر سے واپسی فرما رہے تھے جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اپنے جھنڈوں کے ساتھ جلدی کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف پیغام بھیجا ان کو لایا گیا آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا انھوں نے عرض کیا کیا آپ نے ہمیں اجازت نہیں دی ؟ آپ نے فرمایا نہیں اور نہ ہی میں تشبیہ دی ہے۔ لیکن تم نے مدینہ میں عورتوں کی طرف جلدی کی پھر فرمایا ایک وقت آئے گا جب جبل وراق کی جانب سے ایک آگ ظاہر ہوگی، اس آگ کی وجہ سے عدن کے برک الغماد میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی سے زیادہ روشن ہوجائیں گی۔
(۳۸۴۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِینَۃِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عَلَی رَایَاتِہِمْ ، فَأَرْسَلَ فَجِیئَ بِہِمْ ، فَقَالَ : مَا أَعْجَلَکُمْ ، قَالُوا : أَوَلَیْسَ قَدْ أَذِنْت لَنَا ، قَالَ : لاَ ، وَلاَ شَبَّہْت وَلَکِنَّکُمْ تَعَجَّلْتُمْ إِلَی النِّسَائِ بِالْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی مَتَی تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِیئُ لَہَا أَعْنَاقُ الإِبِلِ بُرُوکًا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ مِنْ عَدَنَ أَبْیَنَ کَضَوْئِ النَّہَارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧١) حضرت انس سے روایت ہے فرمایا کہ عبداللہ بن سلام نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا قیامت کی نشانیوں میں سے پہلی نشانی کون سی ہے آپ نے فرمایا مجھے جبرائیل نے ابھی خبر دی بلاشبہ آگ ان کو جمع کرے گی مشرق کی جانب سے۔
(۳۸۴۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَلاَمٍ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِی جِبْرِیلُ آنِفًا ، أَنَّ نَارًا تَحْشُرُہُمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ۔ (ابویعلی ۳۷۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٢) حضرت عمر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! حبشہ کی طرف ہجرت کرو بنی علی کی وادیوں سے آگ نکلے گی جو یمن کی جانب سے آئے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی چلے گی جب وہ لوگ چلیں گے۔۔۔اور ٹھہر جائے گی جب وہ سو جائیں گے یہاں تک کہ وہ نگرانوں کو جمع کرے گی اور ان کو بصری تک پہنچا دے گی اور ایک آدمی گرپڑے تو وہ ٹھہر جائے گی یہاں تک کہ اسے پکڑے گی۔
(۳۸۴۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : أَیُّہَا النَّاسُ ، ہَاجِرُوا قِبَلَ الْحَبَشَۃِ ، تَخْرُجُ مِنْ أَوْدِیَۃِ بَنِی عَلِیٍّ نَارٌ تُقْبِلُ مِنْ قِبَلِ الْیَمَنِ تَحْشُرُ النَّاسَ ، تَسِیرُ إِذَا سَارُوا، وَتُقِیمُ إِذَا ناموا حَتَّی إِنَّہَا لِتَحْشُر الْجِعْلاَنَ حَتَّی تَنْتَہِیَ بِہِمْ إِلَی بُصْرَی ، وَحَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَقَعُ فَتَقِفُ حَتَّی تَأْخُذَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٣) حضرت ضحاک سے منقول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے قول : (یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ ونحاس) (تم پر آگ کا شعلہ اور تانبے کے رنگ کا دھواں چھوڑے گا) کے بارے میں فرمایا (اس سے مراد یہ ہے) کہ آگ ہوگی جو مغرب کی جانب سے نکلے گی لوگوں کو اکٹھا کرے گی یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں کو بھی جمع کرے گی رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے اور دوپہر کو وہاں رہے گی جہاں وہ رہیں گے۔
(۳۸۴۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ قَوْلُہُ {یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ ونحاس}، قَالَ : نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ تَحْشُرُ النَّاسَ حَتَّی ، أَنَّہَا لَتَحْشُرُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیرَ ، تَبِیتُ حَیْثُ بَاتُوا ، وَتَقِیلُ حَیْثُ قَالُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٤) حضرت ابو ذر سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کاش مجھے معلوم ہوجاتا جبل وراق کی جانب سے کب آگ نکلے گی جس سے بصری میں بیٹھے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی دن کی روشنی کی طرح۔
(۳۸۴۷۴) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ حِمَازٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَیْتَ شِعْرِی مَتَی تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ قِبَلِ الْوِرَاقِ تُضِیئُ لَہَا أَعْنَاقُ الإِبِلِ بِبُصْرَی بُرُوکًا کَضَوْئِ النَّہَارِ۔ (احمد ۱۴۴۔ ابن حبان ۶۸۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٥) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب قیامت سے پہلے آگ نکلے گی حضر موت سمندر سے، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا تم پر لازم ہے شام۔
(۳۸۴۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمُبَارَکِ ، عَنْ یَحْیَی ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو قِلاَبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَتَخْرُجُ نَارٌ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ ، تَحْشُرُ النَّاسَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ، قَالَ : عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ۔ (ترمذی ۲۲۱۷۔ احمد ۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٦) حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ تم آئے ہو تم نے میری بیعت خوشی سے کی ہے اور اگر تم کان کٹے ہوئے حبشی غلام کی بیعت کرتے تو میں آتا اور تمہارے ساتھ اس کی بیعت کرتا جب منبر سے نیچے اتر آئے ان سے حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے آج کیا کام کیا ہے آپ نے کہا ہے کہ تم نے خوشی سے میری بیعت کی ہے۔ پس اگر وہ حبشی غلام کی بیعت کرتے تو وہ آجائے گا اور آپ کو اس کی بیعت کرنی پڑے گی۔ وہ نادم ہوئے اور منبر کی جانب لوٹے اور ارشاد فرمایا اے لوگو کیا اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے اور کیا کوئی اس کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے راوی نے فرمایا اور حضرت ابن عمر وہاں تشریف فرما تھے راوی نے بتلایا حضرت ابن عمر نے فرمایا میں نے یہ ارادہ کیا کہ یوں کہوں اس امر کا آپ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو اسلام پر مارا پھر مجھے خوف ہوا کہ میری یہ بات فساد ہوگی اور میں نے جنت میں جو اللہ نے تیار کر رکھا ہے اسے یاد کیا تو جو میں کہنا چاہتا تھا (اس سے رکنا) مجھ پر آسان ہوگیا۔
(۳۸۴۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ ہُذَیْلٍ بْن شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : خَطَبَہُمْ مُعَاوِیَۃُ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إنَّکُمْ جِئْتُمْ فَبَایَعْتُمُونِی طَائِعِینَ وَلَوْ بَایَعْتُمْ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجْدَعًا لَجِئْت حَتَّی أُبَایِعَہُ مَعَکُمْ ، فَلَمَّا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ ، قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : تَدْرِی أَیَّ شَیْئٍ جِئْت بِہِ الْیَوْمَ زَعَمْت أَنَّ النَّاسَ بَایَعُوک طَائِعِینَ ، وَلَوْ بَایَعُوا عَبْدًا حَبَشِیًّا لَجِئْت حَتَّی تُبَایِعَہُ مَعَہُمْ ، قَالَ : فَنَدِمَ فَعَادَ إِلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ، وَہَلْ کَانَ أَحَدٌ أَحَقَّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنِّی ، وَہَلْ ہُوَ أَحَدٌ أَحَقُّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنِّی ، قَالَ : وَابْنُ عُمَرَ جَالِسٌ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : ہَمَمْت أَنْ أَقُولَ : أَحَقُّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنْک مَنْ ضَرَبَک وَأَبَاک علی الإِسْلاَم ، ثُمَّ خِفْت أَنْ تَکُونَ کَلِمَتِی فَسَادًا وَذَکَرْت مَا أَعَدَّ اللَّہُ فِی الْجِنَانِ ، فَہَوَّنَ عَلَیَّ مَا أَقُولُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٧) حضرت عروہ سے روایت ہے فرمایا کہ قیس بن سعد بن عبادہ حضرت علی کے ساتھ ان کے مقدمۃ الجیش پر امیر تھے اور ان کے ساتھ پانچ معزز افراد تھے انھوں نے حلقہ بنایا حضرت علی کی بیعت کی حضرت قیس نے بیعت میں داخل ہونے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کیا چاہتے ہو اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ مل کر ہمیشہ لڑائی کرتا رہوں ۔ یہاں تک کہ زیادہ جلدی کرنے والا مرجائے اور اگر تم چاہوں تو تمہارے لیے امان لے لوں انھوں نے کہا ہمارے لیے (امان) لے لیں انھوں نے ان کے لیے (عہد) لیا کہ ان کے لیے یہ یہ ہوگا اور ان کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی اور میں ان میں سے ایک آدمی بنوں اور اپنے لیے کوئی خاص عہد نہ لیا جب انھوں نے مدینہ کی طرف کوچ کیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو ان کے لیے ہر دن ایک اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ (مدینہ) پہنچ گئے۔
(۳۸۴۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ قَیْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ مَعَ عَلِیٍّ عَلَی مُقَدَّمَتِہِ وَمَعَہُ خَمْسَۃُ آَلاَفٍ قَدْ حَلَقُوا رُؤُوسَہُمْ بَعْدَ مَا مَاتَ عَلِیٌّ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَسَنُ فِی بَیْعَۃِ مُعَاوِیَۃَ أَبَی قَیْسٌ أَنْ یَدْخُلَ ، فَقَالَ : لأَصْحَابِہِ : مَا شِئْتُمْ ، إِنْ شِئْتُمْ جَالَدْت بِکُمْ أَبَدًا حَتَّی یَمُوت الأَعْجَل ، وَإِنَّ شِئْتُمْ أَخَذْت لَکُمْ أَمَانًا ، فَقَالُوا: خُذْ لَنَا ، فَأَخَذَ لَہُمْ أَنَّ لَہُمْ کَذَا وَکَذَا ، وَأَنْ لاَ یُعَاقَبُوا بِشَیْئٍ، وَأَنِّی رَجُلٌ مِنْہُمْ، وَلَمْ یَأْخُذْ لِنَفْسِہِ خَاصَّۃً شَیْئًا ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ نَحْوَ الْمَدِینَۃِ وَمَضَی بِأَصْحَابِہِ جَعَلَ یَنْحَرُ لَہُمْ کُلَّ یَوْمٍ جَزُورًا حَتَّی بَلَغَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٨) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے ابن زبیر پر انھوں نے شام کے دنانیر کا ارادہ کیا اور اللہ رحم فرمائے مروان پر انھوں نے عراق کے دراہم کا ارادہ کیا۔
(۳۸۴۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَقُولُ : رَحِم اللَّہُ ابْنَ الزُّبَیْرِ ، أَرَادَ دَنَانِیرَ الشَّامِ ، رَحِم اللَّہُ مَرْوَانَ ، أَرَادَ دَرَاہِمَ الْعِرَاقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٧٩) حضرت محمد بن علی ابن الحنفیہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا۔۔۔فتنوں سے بچو بلاشبہ ان کی طرف کوئی بھی نظر نہیں اٹھاتا مگر یہ کہ وہ فتنہ اس پر سبقت لے جاتا ہے آگاہ و خبردار ہو ان لوگوں کے لیے موت اور مقررہ مدت ہے۔ اگر جو لوگ زمین میں ہیں وہ جمع ہوجائیں اس بات پر کہ ان کے ملک کو ختم کردیں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوں گے یہاں تک اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے کیا تم طاقت رکھتے ہو اس بات کی کہ ان پہاڑوں کو ہٹا دو ۔
(۳۸۴۷۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنْ فِطْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُنْذِرٌ الثَّوْرِیُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : اتَّقُوا ہَذِہِ الْفِتَنَ فَإِنَّہَا لاَ یَسْتَشْرِفُ لَہَا أَحَدٌ إِلاَّ اسْتَبْقَتْہُ ، أَلاَ إِنَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ لَہُمْ أَکلٌ وَمُدَّۃٌ ، لَوِ اجْتَمَعَ مَنْ فِی الأَرْضِ أَنْ یُزِیلُوا مُلْکَہُمْ لَمْ یَقْدِرُوا عَلَی ذَلِکَ ، حَتَّی یَکُونَ اللَّہُ ہُوَ الَّذِی یَأْذَنُ فِیہِ ، أَتَسْتَطِیعُونَ أَنْ تُزِیلُوا ہَذِہِ الْجِبَالَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٠) حضرت نافع حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا جب حضرت علی کی بیعت کی گئی تو وہ میرے پاس آئے اور ارشاد فرمایا آپ ایسے آدمی ہو جو اہل شام کے ہاں محبوب ہو میں نے تمہیں ان پر عامل مقرر کیا ہے تم ان کے پاس جاؤ حضرت ابن عمر نے فرمایا میں نے قرابت اور سسرالی رشتے کو یاد کیا اور میں نے کہا حمدو صلوۃ کے بعد اللہ کی قسم میں آپ کی بیعت نہیں کروں گا انھوں نے (ابن عمر نے) فرمایا انھوں نے مجھے چھوڑ دیا اور نکل گئے اس کے بعد جب حضرت ابن عمر حضرت ام کلثوم کے پاس آئے ان کو سلام کیا اور مکہ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت علی تشریف لائے تو ان سے کہا گیا بلاشبہ ابن عمر شام کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور لوگوں کو لڑائی کے لیے جمع کررہے ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا اگر یہ آدمی جلدی کرے یہاں تک کہ اپنی چادر اپنے اونٹ کی گردن میں ڈال دے راوی نے فرمایا حضرت ام کلثوم کے پاس کوئی آیا اور ان کو خبر دی گئی انھوں نے اپنے والد کو پیغام بھیجا آپ کیا کررہے ہیں وہ آدمی میرے پاس آیا مجھے سلام کیا اور مکہ کی طرف چلا گیا پس لوگ واپس ہوگئے۔
(۳۸۴۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا بُویِعَ لِعَلِیٍّ أَتَانِی ، فَقَالَ : إنَّک امْرُؤٌ مُحَبَّبٌ فِی أَہْلِ الشَّامِ ، فَإِنِّی قَدِ اسْتَعْمَلْتُک عَلَیْہِمْ فَسِرْ إلَیْہِمْ ، قَالَ : فَذَکَرْت الْقَرَابَۃَ وَذَکَرْت الصِّہْرَ ، فَقُلْتُ : أَمَّا بَعْدُ ، فَوَاللہِ لاَ أُبَایِعُک ، قَالَ : فَتَرَکَنِی وَخَرَجَ ، فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ جَائَ ابْنُ عُمَرَ إِلَی أُمِّ کُلْثُومٍ فَسَلَّمَ عَلَیْہَا وَتَوَجَّہَ إِلَی مَکَّۃَ فَأَتَی عَلِی ، فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ تَوَجَّہَ إِلَی الشَّامِ فَاسْتَنْفرَ النَّاسَ ، قَالَ : فَإِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیُعَجِّلُ حَتَّی یُلْقِیَ رِدَائَہُ فِی عُنُقِ بَعِیرِہِ ، قَالَ : وَأَتَیْت أُمَّ کُلْثُومٍ فَأُخْبرْت ، فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِیہَا : مَا الَّذِی تَصْنَعُ قَدْ جَائَنِی الرَّجُلُ وَسَلَّمَ عَلَیَّ وَتَوَجَّہَ إِلَی مَکَّۃَ ، فَتَرَاجَعَ النَّاسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨١) حضرت ہشام بن عروہ حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں اور عبداللہ بن زبیر شہادت سے دس راتیں پہلے حضرت اسمائ کے پاس آئے حضرت اسماء بیمار تھیں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انھوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے ان سے کہا آپ کیسے پاتی ہیں انھوں نے فرمایا بیمار ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا موت میں عافیت ہے حضرت اسماء نے فرمایا شاید تم میری موت کو چاہتے ہو کہ اسی کی تمنا کر رہے ہو اللہ کی قسم میں۔۔۔چاہتی تھی کہ تمہیں موت آئے یہاں تک کہ کہ دو باتوں میں سے ایک پر تم آؤ۔۔۔تمہیں قتل کردیا جائے تو میں تمہاری وجہ سے ثواب کی امید رکھوں یا تو غالب آجائے تو میری آنکھ ٹھنڈی ہوجائے اس بات سے بچنا کہ تم پر ایسا خطہ پیش کیا جائے جو تمہارے موافق نہ ہو اور تم اسے موت کی کراہت و ناپسندیدگی کی وجہ سے قبول کرلو حضرت عبداللہ کی مراد یہ تھی کہ انھیں قتل کردیا جائے گا اور یہ بات حضرت اسمائ کو غم گین کرے گی۔
(۳۸۴۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلْت أَنَا ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ عَلَی أَسْمَائَ قَبْلَ قَتْلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِعَشْرِ لَیَالٍ وَأَسْمَائُ وَجِعَۃٌ ، فَقَالَ لَہَا عَبْدُ اللہِ : کَیْفَ تَجِدِینَک ، قَالَتْ : وَجِعَۃٌ، قَالَ : إِنَّ فِی الْمَوْتِ لَعَافِیَۃٌ ، قَالَتْ : لَعَلَّک تَشْتَہِی مَوْتِی ، فَلِذَلِکَ تَمَنَّاہُ ، فَوَاللہِ مَا أَشْتَہِی أَنْ تَمُوتَ حَتَّی تَأْتِیَ عَلَی أَحَد طَرَفَیْک ، إمَّا أَنْ تُقْتَلَ فَأَحْتَسِبَک ، وَإِمَّا أَنْ تَظْہَرَ فَتَقَرَّ عَیْنِی ، فَإِیَّاکَ أَنْ تُعْرَضَ عَلَیْک خُطَّۃٌ لاَ تُوَافِقُک ، فَتَقْبَلہَا کَرَاہَۃَ الْمَوْتِ ، وَإِنَّمَا عَنَی ابْنُ الزُّبَیْرِ لِیُقْتَلَ فَیُحْزِنُہَا بِذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٢) حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں حضرت اسمائ کے پاس آیا حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حضرت اسمائ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انھوں نے حضرت عبداللہ کو اوندھے منہ کرکے پھانسی دی ہے اور ان کے ساتھ بلی کو لٹکایا ہے اللہ کی قسم میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے موت نہ آئے یہاں تک وہ مجھے عبداللہ کو دے دیں میں اسے غسل دوں گی اور اسے خوشبو لگاؤں گی اور اسے کفناؤں گی پھر اسے دفن کروں گی تھوڑی ہی دیر کے بعد عبدالملک کا خط آگیا کہ انھیں ان کے گھر والوں کے سپرد کردیا جائے پھر حضرت اسماء نے ان کو غسل دیا اور ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن دیا پھر ان کو دفنا دیا۔
(۳۸۴۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ أَسْمَائَ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقُلْتُ : بَلَغَنِی أنَّہُمْ صَلَبُوا عَبْدَ اللہِ مُنَکَّسًا ، وَعَلَّقُوا مَعَہُ ہِرَّۃً ، وَاللہِ إنِّی لَوَدِدْت أَنْ لاَ أَمُوت حَتَّی یُدْفَعَ إلَیَّ فَأُغَسِّلَہُ وَأُحَنِّطَہُ وَأُکَفِّنَہُ ، ثُمَّ أَدْفِنَہُ ، فَمَا لَبِثُوا أَنْ جَائَ کِتَابُ عَبْدِ الْمَلِکِ أَنْ یُدْفَعَ إِلَی أَہْلِہِ ، فَأُتِیَتْ بِہِ أَسْمَائَ فَغَسَّلَتْہُ وَحَنَّطَتْہُ وَکَفَّنَتْہُ ، ثُمَّ دَفَنَتْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٣) حضرت صفیہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت ابن عمر مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دے دی گئی تھی انھوں نے کہا یہ اسمائ ہیں حضرت ابن عمران کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور ان سے اصلاح کی بات کی اور فرمایا جسم کوئی چیز نہیں اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں پس صبر کرو اور ثواب کی نیت کرو حضرت اسماء نے فرمایا اور مجھے صبر سے کونسی چیز روکے گی حالانکہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ عورتوں میں سے ایک زانیہ کو دیا گیا۔
(۳۸۴۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِیَّۃَ ، عَنْ أُمِّہِ ، قَالَتْ : دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ الْمَسْجِدَ ، وَابْنُ الزُّبَیْرِ مَصْلُوبٌ ، فَقَالُوا لَہُ : ہَذِہِ أَسْمَائُ ، فَأَتَاہَا وَذَکَّرَہَا وَوَعَظَہَا ، وَقَالَ : إِنَّ الْجُثَّۃَ لَیْسَتْ بِشَیْئٍ ، وَإِنَّ الأَرْوَاحَ عِنْدَ اللہِ فَاصْبِرِی وَاحْتَسِبِی ، فَقَالَتْ : وَمَا یَمْنَعُنِی مِنَ الصَّبْرِ وَقَدْ أُہْدِیَ رَأْسُ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا إِلَی بِغَیٍّ مِنْ بَغَایَا بَنِی إسْرَائِیلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٤) حضرت خلف بن خلیفہ اپنے والد حضرت خلیفہ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا مجھے یہ خبر دی گئی کہ حجاج نے جب حضرت عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ان کو منیٰ کی طرف لے گیا اور ان کو بطن وادی میں گھاٹی کے پاس پھانسی دی پھر اس نے حضرت ابن عمر کو دیکھا وہ اپنے خچر پر تشریف لائے وہ اسے قریب کر رہے تھے تنے کے اور وہ بدک رہی تھی انھوں نے اپنے غلام سے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو اس کی لگام پکڑ اور اسے قریب کر راوی فرماتے ہیں اس نے اس خچر کو قریب کیا حضرت عبداللہ بن عمر ٹھہرے اور یہ فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے تم روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے تھے وہ امت فلاح پا گئی جس کے تم شرو برائی ہو۔
(۳۸۴۸۴) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أُخْبِرت ، أَنَّ الْحَجَّاجَ حِینَ قَتَلَ ابْنَ الزُّبَیْرِ جَائَ بِہِ إِلَی مِنًی فَصَلَبَہُ عِنْدَ الثَّنِیَّۃِ فِی بَطْنِ الْوَادِی ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : انْظُرُوا إِلَی ہَذَا ، ہَذَا شَرُّ الأُمَّۃِ ، فَقَالَ : إنِّی رَأَیْت ابْنَ عُمَرَ جَائَ عَلَی بَغْلَۃٍ لَہُ فَذَہَبَ لِیُدْنِیَہَا مِنَ الْجِذْعِ فَجَعَلَتْ تَنْفَرُ ، فَقَالَ لِمَوْلًی لَہُ : وَیْحَک ، خُذْ بِلِجَامِہَا فَأَدْنِہَا ، قَالَ : فَرَأَیْتہ أَدْنَاہَا فَوَقَفَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ وَہُوَ یَقُولُ : رَحِمَک اللَّہُ إِنْ کُنْت لَصَوَّامًا قَوَّامًا ، وَلَقَدْ أَفْلَحَتْ أُمَّۃٌ أَنْتَ شَرُّہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٥) حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے انھوں نے فرمایا مجھ سے حضرت برید نے بیان کیا جو مختار کا سر حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس لے کر آئے تھے انھوں نے فرمایا جب میں نے اس کا سر حضرت ابن زبیر کے سامنے رکھا تو انھوں نے فرمایا مجھ سے کعب نے کوئی بھی بات نقل نہیں کی مگر میں نے اس کا مصداق دیکھ لیا سوائے اس کے کیونکہ انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ثقیف کا ایک آدمی مجھے قتل کرے گا میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اسے قتل کردیا ہے۔
(۳۸۴۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی الْبَرِیدُ الَّذِی جَائَ بِرَأْسِ الْمُخْتَارِ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : لَمَّا وَضَعْتُہُ بَیْنَ یَدَیْہِ ، قَالَ : مَا حَدَّثَنِی کَعْبٌ بِحَدِیثٍ إِلاَّ رَأَیْت مِصْدَاقَہُ غَیْرَ ہَذَا ، فَإِنَّہُ حَدَّثَنِی أَنَّہ یَقْتُلَنِی رَجُلٌ مِنْ ثَقِیفٍ ، أَرَانِی أَنَا الَّذِی قَتَلْتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٦) حضرت منذر سے روایت ہے میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہے تھے اور پھونکیں مار رہے تھے ان سے ان کی اہلیہ نے کہا کیا چیز آپ کو بےچین کر رہی ہے آپ کے دشمن ابن زبیر کے امر سے تو انھوں نے کہا مجھے اللہ کے دشمن ابن زبیر کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ مجھے پریشانی اس بات کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں کل کو کی جائے گی راوی فرماتے ہیں پھر انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ جو آپ نے مجھے سکھایا بلاشبہ وہ (مراد بن زبرن تھے) حرم سے قتل کیا ہوا نکالا جائے گا اس کے سر کو شہروں میں فرمایا یا بازاروں میں فرمایا چکر لگوایا جائے گا۔
(۳۸۴۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ فَرَأَیْتہ یَتَقَلَّبُ عَلَی فِرَاشِہِ وَیَنْفُخُ ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : مَا یَکْرُبُک مِنْ أَمْرِ عَدُوِّکَ ہَذَا ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا بِی عَدُوُّ اللَّہ ہَذَا ابْنُ الزُّبَیْرِ ، وَلَکِنْ بِی مَا یَفْعَلُ فِی حَرَمِہِ غَدًا ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ تَعْلَمُ أَنِّی کُنْت أَعْلَمُ مِمَّا عَلَّمْتَنِی ، أَنَّہُ یَحْرُمُ مِنْہَا قَتِیلاً یُطَافُ بِرَأْسِہِ فِی الأَمْصَارِ ، أَوْ فِی الأَسْوَاقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٧) حضرت سعید سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس آئے اور فرمایا اے ابن زبیر حرم میں الحاد کرنے سے بچو بلاشبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب حرم میں قریش میں سے ایک آدمی الحاد پھیلائے گا اگر اس کے گناہ جنوں اور انسانوں کے گناہوں کے ساتھ تو لے جائیں تو ان سے زیادہ ہوجائیں پس تم دیکھو وہ آدمی نہ ہوجانا۔
(۳۸۴۸۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کُنَاسَۃَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ ، إیَّاکَ وَالإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللہِ ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّہُ سَیُلْحِدُ فِیہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ لَوْ أَنَّ ذُنُوبَہُ تُوزَنُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَرَجَحَتْ عَلَیْہِ ، فَانْظُرْ لاَ تَکُونَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٨٨) حضرت اسحاق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ حضرت مصعب بن زبیر حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے جبکہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر رہے تھے حضرت ابن عمر نے پوچھا تم کون ہو انھوں نے بتلایا آپ کا بھتیجا مصعب بن زبیر ابن عمر نے پوچھا عراق والے انھوں نے فرمایا جی ہاں مصعب بن زبیر نے فرمایا میں آپ کے پاس ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جو اطاعت سے نکل چکے ہیں اور خون بہا چکے ہیں اور مالوں کو واجب کرچکے ہیں ان سے لڑائی کی گئی اور ان پر غلبہ پا لیا گیا وہ ایک محل میں داخل ہوئے اس میں محصور ہوگئے پھر انھوں نے امان طلب کی ان کو امن دے دیا گیا پھر قتل کردیا گیا حضرت ابن عمر نے پوچھا ان کی تعداد کتنی تھی انھوں نے بتلایا پانچ ہزار راوی نے فرمایا اس وقت حضرت ابن عمر نے سبحان اللہ کہا اور فرمایا اے ابن زبیر اللہ تجھے عمر عطا فرمائے اگر کوئی آدمی زبیر کے مویشیوں میں آئے اور ان میں سے ایک صبح میں پانچ ہزار کو ذبح کردے کیا آپ اسے حد سے بڑھنے والا سمجھتے ہو حضرت مصعب نے جواب میں کہا جی ہاں حضرت ابن عمر نے فرمایا تم ان چوپاؤں میں زیادتی سمجھتے ہو جو اللہ کو نہیں جانتے اور ان کے خون کو حلال سمجھتے ہو ایک ہی دن میں جو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں کلمہ پڑھتے ہیں۔
(۳۸۴۸۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کُنَاسَۃَ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَی مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ وَہُوَ یَطُوفُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : ابْنُ أَخِیک مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : صَاحِبُ الْعِرَاقِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : جِئْت لأَسْأَلَک ، عَنْ قَوْمٍ خَلَعُوا الطَّاعَۃَ وَسَفَکُوا الدِّمَائَ وَجَبَوا الأَمْوَالَ فَقُوتِلُوا فَغُلِبُوا ، فَدَخَلُوا قَصْرًا فَتَحَصَّنُوا فِیہِ ، ثُمَّ سَأَلُوا الأَمَانَ فَأُعْطَوْہُ ، ثُمَّ قُتِلُوا ، قَالَ : وَکَمِ الْعُدَّۃُ ، قَالَ : خَمْسَۃُ آَلاَفٍ ، قَالَ : فَسَبَّحَ ابْنُ عُمَرَ عِنْدَ ذَلِکَ ، وَقَالَ : عَمَّرَک اللَّہُ یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ ، لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَتَی مَاشِیَۃَ الزُّبَیْرِ فَذَبَحَ مِنْہَا فِی غَدَاۃٍ خَمْسَۃَ آلاَفٍ أَکُنْتَ تَرَاہُ مُسْرِفًا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَرَاہُ إسْرَافًا فِی بَہَائِمَ لاَ تَدْرِی مَا اللَّہُ ، وَتَسْتَحِلُّہُ مِمَّنْ ہَلَّلَ اللَّہَ یَوْمًا وَاحِدًا۔
tahqiq

তাহকীক: