মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৪৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٩) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے اے لوگو ! بلاشبہ یہ بادشاہ اس کی تمہارے ذریعہ آزمائش کی جارہی ہے اگر وہ عدل کرے گا تو اس کے لیے اجر ہوگا اور تم پر لازم ہوگا شکر اور اگر وہ ظلم کرے گا تو اس پر گناہ ہوگا اور تم پر لازم ہوگا صبر۔
(۳۸۴۴۹) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ شَقِیقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللہِ: أیہا الناس إِنَّ ہَذَا السُّلْطَانَ قَدَ اُبْتُلِیتُمْ بِہِ، فَإِنْ عَدَلَ کَانَ لَہُ الأَجْرُ وَعَلَیْکُمُ الشُّکْرُ، وَإِنْ جَارَ کَانَ عَلَیْہِ الْوِزْرُ وَعَلَیْکُمُ الصَّبْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٠) حضرت عتی سے روایت ہے فرمایا کہ مجھ سے حضرت ابی نے فرمایا اس مقام پر اہل حل و عقد (مراد امراء ہیں) ہلاک ہوں گے کعبہ کے رب کی قسم ہلاک ہوں گے اور بہت ساروں کو ہلاک کردیا باقی اللہ کی قسم مجھے ان پر افسوس نہیں ہے لیکن ان پر ہے جو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہلاک ہوں گے۔
(۳۸۴۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ الحسن عن عُتَیٍّ ، قَالَ : قَالَ لِی أُبَیّ : ہَلَکَ أَہْلُ ہَذِہِ الْعُقْدَۃِ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ ہَلَکُوا وَأَہْلَکُوا کَثِیرًا ، أَمَا وَاللہِ مَا عَلَیْہِمْ آسِی وَلَکِنْ عَلَی مَنْ یَہْلَکُونَ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ السلام۔ (نسائی ۸۸۲۔ ابن خزیمۃ ۱۵۷۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥١) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے جن کو تم بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے جس آدمی نے انکار کیا وہ بری ہوگیا جس آدمی نے ناپسند کیا وہ بھی محفوظ ہوگیا۔ لیکن وہ آدمی جو راضی ہوا اور پیروی کی صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔
(۳۸۴۵۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّۃَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَائُ تَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ ، فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ ، وَلَکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَفَلاَ نُقَاتِلُہُمْ ، قَالَ : لاَ ، مَا صَلَّوْا۔ (ترمذی ۲۲۶۵۔ احمد ۲۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٢) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ عورت کو پکڑا جائے گا اور اس کے پیٹ کو پھاڑا جائے گا اور اولاد کے خوف سے اس کے رحم میں موجود جنین کو پھینک دیا جائے گا۔
(۳۸۴۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : لَتُؤْخَذَنَّ الْمَرْأَۃُ فَلْیُبْقَرَنَّ بَطْنُہَا ، ثُمَّ لَیُؤْخَذَنَّ مَا فِی الرَّحِمِ فَلْیُنْبَذَنَّ مَخَافَۃَ الْوَلَدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٣) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا ہلاکت ہے اس کے لیے جسے الگ کردیا جائے گا اللہ کی قسم جیسا کہ جانور کی پنڈلی کو الگ کردیا جاتا ہے۔ اور ہلاکت ہے اس پر جسے معزول کردیا جائے گا بکری کے بچے کے ہٹانے کی طرح۔
(۳۸۴۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : یَا وَیْحَہ ، یُخْلَعُ وَاللہِ کَمَا یُخْلَعُ الْوَظِیفُ ، یَا وَیْلَتَاہُ ، یُعْزَلُ کَمَا یُعْزَلُ الْجَدْیُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٤) حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ فتنے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے۔
(۳۸۴۵۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْعِبَادَۃُ فِی الْفِتْنَۃِ کَالْہِجْرَۃِ إِلَیَّ۔ (طبرانی ۴۹۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٥) حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب آئے کہا کہ کوئی بھی (بیٹھنے والاحلقہ ان کو نہیں دیکھتا تھا مگر یہ کہ ان سے بھاگ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس حلقے میں آگئے جس میں میں تھا پس میں ٹھہرا رہا اور دیگر لوگ بھاگ گئے۔ میں نے کہا آپ کون ہیں ؟ انھوں نے بتلایا ابو ذر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی۔ میں نے عرض کیا آپ سے لوگ کیوں بھاگے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا اس وجہ سے کہ میں ان کو خزانے جمع کرنے سے روکتا ہوں۔ حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ بیشک ہمارے عطیات کثیر تعداد کو پہنچ چکے ہیں اور بلند ہوچکے ہیں۔ کیا آپ ہم پر ان کی وجہ سے خوف کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ اس وقت میں تو نہیں لیکن قریب ہے کہ وہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں۔ اس وقت ان عطیات سے اجتناب کرنا۔
(۳۸۴۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَقْنَعِ الْبَاہِلِیِّ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ لاَ تَرَاہُ حَلْقَۃٌ إِلاَّ فَرُّوا مِنْہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی الْحَلْقَۃِ الَّتِی کُنْت فِیہَا ، فَثَبَتُّ وَفَرُّوا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: مَا یَفِرُّ النَّاسُ مِنْک ، قَالَ: إنِّی أَنْہَاہُمْ عَنِ الْکُنُوزِ ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أُعْطِیَاتِنَا قَدْ بَلَغَتْ وَارْتَفَعَتْ فَتَخَافُ عَلَیْنَا مِنْہَا ، قَالَ : أَمَّا الْیَوْمُ فَلاَ وَلَکِنَّہَا یُوشِکُ أَنْ یَکُونَ أَثْمَان دِینِکُمْ ، فَدَعُوہُم وَإِیَّاہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٦) حضرت معاویہ بن ثعلبہ فرماتے ہیں میں محمد بن حنفیہ کے پاس آیا میں نے عرض کیا بلاشبہ مختار کے قاصد ہمارے پاس آئے ہمیں دعوت دیتے رہے راوی نے فرمایا مجھ سے انھوں نے فرمایا کہ لڑائی نہ کرنا بلاشبہ میں ناپسند کرتا ہوں اس بات کو کہ اس امت میں سے سب سے برا ہوں یا یہ فرمایا میں آؤں ان کے پاس ان کے طریقے کے علاوہ پر۔
(۳۸۴۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو الْجَحَّاف ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو مُعَاوِیَۃُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَنَفِیَّۃِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ الْمُخْتَارِ أَتَانَا یَدْعُونَا ، قَالَ : فَقَالَ لِی : لاَ تُقَاتِل ، إنِّی أَکْرَہُ أَنْ أَسُوئَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ، أَوْ آتِیہَا مِنْ غَیْرِ وَجْہِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٧) حضرت زبیر بن عدی نے فرمایا مجھ سے حضرت ابراہیم نے فرمایا تو بچ اس بات سے کہ فتنے کے ساتھ قتل کیا جائے۔
(۳۸۴۵۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ، قَالَ: قَالَ لِی إبْرَاہِیمُ: إیَّاکَ أَنْ تُقْتلَ مَعَ فتنۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٨) حضرت ابو وائل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابو موسیٰ اور ابو مسعود حضرت عمار کے پاس آئے وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے بلا رہے تھے ان دونوں حضرات نے فرمایا جب سے آپ نے اسلام قبول کیا ہے ہم نے اس سے زیادہ ناپسندیدہ امر آپ سے نہیں دیکھا تمہارے اس امر میں جلدی کرنے کے نسبت حضرت عمار نے فرمایا میں نے تم سے جب سے تم نے اسلام قبول کیا ہے اس سے زیادہ ناپسندیدہ امر اپنے نزدیک نہیں ر دیکھا تمہارے اس امر میں سستی کرنے کی نسبت راوی فرماتے ہیں حضرت عمار نے ان دونوں کو ایک ایک جوڑا پہنا دیا۔
(۳۸۴۵۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو مُوسَی ، وَأَبُو مَسْعُودٍ عَلَی عَمَّارٍ وَہُوَ یَسْتَنْفِرُ النَّاسَ ، فَقَالاَ : مَا رَأَیْنَا مِنْک مُنْذُ أَسْلَمْت أَمْرًا أَکْرَہُ عِنْدَنَا مِنْ إسْرَاعِکَ فِی ہَذَا الأَمْرِ ، فَقَالَ : عَمَّارٌ : مَا رَأَیْت مِنْکُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَکْرَہُ عِنْدِی مِنْ إبْطَائِکُمَا عَنْ ہَذَا الأَمْرِ ، قَالَ : فَکَسَاہُمَا حُلَّۃً حُلَّۃً۔ (بخاری ۷۱۰۲۔ حاکم ۱۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٥٩) حضرت حارث بن حبیش اسدی نے فرمایا مجھے حضرت سعید بن عاص نے کچھ ہدایا دے کر مدینہ والوں کی طرف بھیجا اور حضرت علی کو فضیلت دی (ہدایا میں) راوی نے فرمایا مجھ سے حضرت سعید بن عاص نے فرمایا ان سے کہنا آپ کے چچا کا بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا تھا اور کہہ رہا تھا میں نے کسی کی طرف اس سے زیادہ نہیں بھیجا جتنا آپ کی طرف بھیجا ہے سوائے اس کے جو امیرالمؤمنین کے خزانے میں ہے حضرت علی نے فرمایا سب سے زیادہ جس بات کا مجھے غم ہے وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث ہے باقی اگر میں اس کا مالک ہوجاؤں تو اسے جھاڑ دوں جگر کے گوشت کے ٹکڑے کو مٹی سے جھاڑنے کی طرح۔
(۳۸۴۵۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حُبَیْشٍ الأَسَدِیِّ ، قَالَ : بَعَثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ بِہَدَایَا إِلَی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ وَفَضَّلَ عَلِیًّا ، قَالَ : وَقَالَ لِی : قُلْ لَہُ : إِنَّ ابْنَ أَخِیک یُقْرِئُک السَّلاَمَ وَیَقُولُ : مَا بَعَثْتُ إِلَی أَحَدٍ بِأَکْثَرَ مِمَّا بَعَثْتُ إلَیْک إِلاَّ مَا کَانَ فِی خَزَائِنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : أَشَدُّ مَا یُحْزَنُ عَلَی مِیرَاثِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَمَا وَاللہِ لَئِنْ مَلَکْتہَا لأَنْفُضَنَّہَا نَفْضَ الْوِذَامِ التَّرِبَۃَ۔ (ابوعبید ۴۳۸۔ احمد ۱۸۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٠) حضرت عمیلہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابن مسعود ہم سے حضرت عمر کے خلافت کے زمانے میں فرماتے تھے بلاشبہ عنقریب فتنے ہوں گے فتنے ہوں گے اور آدمی کے لیے کافی ہوگی یہ بات کہ جب کسی ناپسندیدہ امر کو دیکھے تو اسے ناپسند کرے کہ اللہ تعالیٰ جان لیں کہ بلاشبہ یہ اس امر کو ناپسند کرنے والا ہے۔
(۳۸۴۶۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ لَنَا فِی خِلاَفَۃِ عُمَرَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ ہَنَات وَہَنَات ، وَأَنَّ بِحَسْب الرَّجُلِ إِذَا رَأَی أَمْرًا یَکْرَہُہُ أَنْ یُعْلِمَ اللَّہَ ، أَنَّہُ لَہُ کَارِہٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦١) حضرت طاؤس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ کیا میں اپنے امیر کو معصیت سے روکوں انھوں نے فرمایا نہیں فتنہ ہوگا طاؤس نے فرمایا میں نے عرض کیا اگر وہ مجھے گناہ کا حکم دے ارشاد فرمایا اس وقت (روک سکتے ہو)
(۳۸۴۶۱) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قُلْتُ : لاِبْنِ عَبَّاسٍ : أَنْہَی أَمِیرِی عَنْ مَعْصِیَۃٍ ، قَالَ : لاَ تَکُونُ فِتْنَۃٌ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ أَمَرَنِی بِمَعْصِیَۃٍ ، قَالَ : فَحِینَئِذٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٢) حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ایک صاحب نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کیا میں اپنے امیر کو نیکی کا حکم کروں انھوں نے ارشاد فرمایا اگر تجھے (امر بالمعروف) کرنا ضرور ہو تو اپنے اور اس کے درمیان ہو۔
(۳۸۴۶۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ : آمُرُ أَمِیرِی بِالْمَعْرُوفِ ، قَالَ : إِنْ خِفْت أَنْ یَقْتُلَک فَلاَ تُؤَنِّبَ الإِمَامَ ، فَإِنْ کُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَفِیمَا بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٣) حضرت عبداللہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب تو مومن امیر کے پاس جائے تو لوگوں کے سامنے اسے نصیحت مت کر۔
(۳۸۴۶۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الْعَلاَئِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إِذَا أَتَیْتَ الأَمِیرَ الْمُؤَمِنُ فَلاَ تؤتیہ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٤) حضرت طاؤس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابن عباس کے پاس امراء کا تذکرہ کیا گیا ان میں سے ایک لڑائی کے لیے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس نے سر اٹھایا یہاں تک کہ گھر میں اس سے زیادہ لمبا میں نے کسی کو نہیں دیکھا حضرت طاؤس فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے سنا یہ فرماتے ہوئے کہ اپنے آپ کو ظالم قوم کے لیے فتنہ نہ بنا پس وہ نیچے ہوگیا یہاں تک کہ اس سے زیادہ چھوٹا مجھے گھر میں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
(۳۸۴۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : ذَکَرْت الأُمَرَائَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَابْتَرَکَ فِیہِمْ رَجُلٌ فَتَطَاوَلَ حَتَّی مَا أَرَی فِی الْبَیْتِ أَطْوَلَ مِنْہُ ، فَسَمِعْت ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : لاَ تَجْعَلْ نَفْسَک فِتْنَۃً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ، فَتَقَاصَرَ حَتَّی مَا أَرَی فِی الْبَیْتِ أَقْصَرَ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٥) حضرت ایوب السختیانی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت سعد اور حضرت ابن عمر اور حضرت عمار جمع ہوئے آئندہ کے فتنے کے بارے میں تذکرہ کرنے لگے حضرت سعد نے فرمایا باقی رہا میں تو میں اپنے گھر میں بیٹھوں گا اور اس سے نہیں نکلوں گا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں اس پر ہوں جو تم نے کہا اور حضرت ابن عمر نے فرمایا میں بھی اس کی مثل پر ہوں اور حضرت عمار نے فرمایا لیکن میں اس کے درمیان میں ہوں گا اس کے بڑے ناک پر ماروں گا۔
(۳۸۴۶۵) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہَمَّامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَیُّوب السِّخْتِیَانِیُّ ، قَالَ : اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَسَعْدٌ ، وَابْنُ عُمَرَ وَعَمَّارٌ فَذَکَرُوا فِتْنَۃٌ تَکُونُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : أَمَّا أَنَا فَأَجْلِسُ فِی بَیْتِی وَلاَ أَخْرُجُ مِنْہُ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَنَا عَلَی مَا قُلْتَ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَنَا عَلَی مِثْلَ ذَلِکَ ، وَقَالَ عَمَّارٌ : لَکِنِّی أَتَوَسَّطُہَا فَأَضْرِبُ خَیْشُومَہَا الأَعْظَمَ۔ (مسند ۷۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٦) حضرت ابراہیم تیمی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت حارث بن سوید ایک لشکر میں تھے انھوں نے ارشاد فرمایا بچو تم فتنوں سے بلاشبہ وہ ظاہر ہوچکے ہیں ایک آدمی نے کہا آپ بھی تو حضرت علی کے ساتھ نکلے ہیں انھوں نے فرمایا کہاں ہوگا امام حضرت علی جیسا۔
(۳۸۴۶۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : کَانَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَیْد فِی نَفَرٍ ، فَقَالَ: إیَّاکُمْ وَالْفِتَنَ فَإِنَّہَا قَدْ ظَہَرَتْ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَأَنْتَ قَدْ خَرَجْت مَعَ عَلِیٍّ، قَالَ: وَأَیْنَ لَکُمْ إمَامٌ مِثْلُ عَلِیٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٧) حضرت کعب سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ہر قوم کے لیے کتا ہوتا ہے پس اللہ سے ڈرو اس کا شر تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔
(۳۸۴۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زِیَادٍ ، عَنْ تُبَیْعٍ ، قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ کَلْبًا ، فَاتَّقِ اللَّہَ لاَ یَضُرَّنَّکَ شَرُّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٦٨) حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے انھوں نے فتنے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس آدمی نے اس طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھا۔۔۔تو وہ اسے ہلاک کر دے گا۔
(۳۸۴۶۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حمید ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ سیاہ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّہُ قَالَ فِی الْفِتْنَۃِ : إِنَّہُ مَن شخص لَہُ أَردتہ۔
tahqiq

তাহকীক: