মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৪২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٩) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نشانیاں لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں جب لڑی ٹوٹ جائے تو وہ موتی ایک دوسرے کے پیچھے گرپڑتے ہیں۔
(۳۸۴۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الآیَاتُ خَرَزٌ مَنْظُومَاتٌ فِی سِلْکٍ انْقَطَعَ السِّلْکُ فَیَتْبَعُ بَعْضُہَا بَعْضًا۔ (حاکم ۴۷۳۔ احمد ۲۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں (خروج کے لیے) کسی گھوڑے کو پالے وہ پچھرا جنے نشانیوں میں سے پہلی نشانی کے وقت اس بچھڑے پر سوار نہیں ہوگا یہاں تک کہ آخری نشانی کو بھی دیکھ لے گا۔
(۳۸۴۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلاً ارْتَبَطَ فَرَسًا فِی سَبِیلِ اللہِ فَانْتَجَتْ مُہْرًا عِنْدَ أَوَّلِ الآیَاتِ مَا رَکِبَ الْمُہْرَ حَتَّی یَرَی آخِرَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣١) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب تم نشانیوں میں سے پہلی نشانی دیکھو گے تو دوسری لگاتار وقوع پذیر ہوں گی۔
(۳۸۴۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ صِلَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : إِذَا رَأَیْتُمْ أَوَّلَ الآیَاتِ تَتَابَعَتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٢) حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے یہ ارشاد سنا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگ راستوں میں جفتی کریں گے گدھے کے جفتی کرنے کی طرح۔
(۳۸۴۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْف ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُولُ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یَتَسَافَدَ النَّاسُ فِی الطُّرُقِ تَسَافُدَ الْحَمِیرِ۔ (حاکم ۴۵۵۔ ابن حبان ۶۷۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٣) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا زمانہ قریب ہوجائے گا اور علم کم ہوجائے گا اور بخل ڈال دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کثرت سے ہوجائے گا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرج کیا چیز ہے ارشاد فرمایا قتل۔
(۳۸۴۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : یَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَیَنْقُصُ الْعِلْمُ وَیُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْہَرُ الْفِتَنُ وَیَکْثُرُ الْہَرْجُ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ، مَا الْہَرْجُ ؟ قَالَ : الْقَتْلُ۔ (بخاری ۷۰۶۱۔ مسلم ۲۰۵۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٤) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم حضرت عمر کے پاس گئے انھوں نے پوچھا تمہاری زندگی کیسی ہے ہم نے عرض کیا کہ ان لوگوں میں سے جو دجال سے ڈرتے ہیں ان میں ہم سب سے زیاد ہ سرسبز و شادابی والے لوگ ہیں حضرت عمر نے ارشاد فرمایا جس چز کا مجھے تمہارے بارے میں دجال سے پہلے زیادہ خوف ہے وہ ہرج ہے مسروق فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہرج کیا چیز ہے ارشاد فرمایا قتل یہاں تک کہ آدمی اپنے باپ کو قتل کرے گا۔
(۳۸۴۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قدِمْنَا عَلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : کَیْفَ عَیْشُکُمْ فَقُلْنَا : أَخْصَبُ قَوْمٍ مِنْ قَوْمٍ یَخَافُونَ الدَّجَّالَ ، قَالَ : مَا قَبْلَ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَیْکُمُ الْہَرْجُ ، قُلْتُ : وَمَا الْہَرْجُ ، قَالَ : الْقَتْلُ ، حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَقْتُلُ أَبَاہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٥) حضرت انس سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا اور میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت ظاہر ہوجائے گی شراب پی جائے گی اور زنا ظاہر ہوجائے گا مرد کم ہوجائیں گے اور عورتیں کثرت سے ہوجائیں گی۔
(۳۸۴۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : وَلاَ یُحَدِّثُکُمْ بَعْدِی أَحَدٌ ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یُرْفَعَ الْعِلْمُ وَیَظْہَرَ الْجَہْلُ ، وَأَنْ تُشْرَبَ الْخَمْرُ وَیَظْہَرَ الزِّنَا وَیَقِلَّ الرِّجَالُ وَیَکْثُرَ النِّسَائُ۔ (بخاری ۸۱۔ مسلم ۲۰۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٦) حضرت معاذ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا یقیناً تمہیں تنگی کے فتنے میں آزمایا جائے گا پس صبر کرنا اور عنقریب تمہیں آسانی کے فتنے میں آزمایا جائے گا اور بلاشبہ جن چیزوں کا مجھے تم پر خوف ہے ان میں سے سب سے زیادہ خوف عورتوں کے فتنے سے ہے جب ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ شام کا باریک کپڑا پہنیں گی مالدار کو تھکا دیں گی اور فقیر کو ایسی چیزوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی جو اس کے پاس نہیں ہوں گی۔
(۳۸۴۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ وَمِسْعَرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: إنَّکُمَ ابْتُلِیتُمْ بِفِتْنَۃِ الضَّرَّائِ فَصَبَرْتُمْ ، وَسَتُبْتَلَوْنَ بِفِتْنَۃِ السَّرَّائِ ، وَإِنَّ أَخْوَف مَا أَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ فِتْنَۃُ النِّسَائِ إِذَا سُوِّرْنَ الذَّہَبَ وَلَبِسْنَ رَیْطَ الشَّامِ فَأَتْعَبْنَ الْغَنِیَّ وَکَلَّفْنَ الْفَقِیرَ مَا لاَ یَجِدُ۔ (ابن المبارک ۷۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٧) حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے بعد اپنی امت میں کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑاجو مردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو عورتوں کے مقابلے میں۔
(۳۸۴۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا تَرَکْت عَلَی أُمَّتِی بَعْدِی فِتْنَۃً أَضَرَّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٨) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں وہ گزر گئیں سوائے چار کے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال ( کا نکلنا) اور زمین کا جانور اور یاجوج ماجوج کا نکلنا ارشاد فرمایا جس پر اعمال ختم ہوجائیں گے وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے کیا تم نے اللہ عزوجل کا ارشاد نہیں سنا کہ جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی تیرے پاس آئے گی تو ایسے آدمی کو جو ایمان نہیں لایا ہوگا ایمان لانا نفع نہیں دے گا (آیت کے اخیر تک)
(۳۸۴۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْن سِیرِینَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا ذُکِرَ مِنَ الآیَاتِ فَقَدْ مَضَی إِلاَّ أَرْبَعٌ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّۃُ الأَرْضِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، قَالَ: وَالآیَۃُ الَّتِی تُخْتَتمُ بِہَا الأَعْمَالُ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَی قَوْلِ اللہِ عزوجل: {یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ} الآیَۃَ۔ (طبرانی ۱۰۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٣٩) حضرت حسن سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ اسے وہ جانور دکھا دے فرمایا کہ وہ جانور تین دن نکلا اس کی ایک جانب بھی دکھائی نہ دی حسن نے فرمایا حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب اسے واپس کردیں پس وہ واپس لوٹا دیا گیا۔
(۳۸۴۳۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : زَعَمَ الْحَسَنُ ، أَنَّ نَبِیَّ اللہِ مُوسَی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَبَّہُ أَنْ یُرِیَہُ الدَّابَّۃَ ، قَالَ : فَخَرَجَتْ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ لاَ یَرَی وَاحِدٌ مِنْ طَرَفَیْہَا ، قَالَ : فَقَالَ : رَبِّ رُدَّہَا ، فَرُدَّتْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا ایک جانور قیامت سے پہلے دو مرتبہ نکلے گا یہاں تک کہ اس کے نکلنے کے موقع پر مردوں کو مارا جائے گا پھر تیسری مرتبہ نکلے گا تمہاری مساجد میں سے سب سے بڑی مسجد کے لوگوں کے پاس آئے گا اس حال میں کہ وہ ایک آدمی کے پاس مجتمع ہوں گے پس وہ جانور کہے گا تمہیں اللہ کے دشمن کے پاس کس نے جمع کیا ہے لوگ جلدی کریں گے وہ جانور کافر پر نشانی لگائے گا یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ کریں گے ایک کہے گا لے یہ لے لے اے مومن اور دوسرا کہے گا لے لے اے کافر۔
(۳۸۴۴۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : تَخْرُجُ الدَّابَّۃُ مَرَّتَیْنِ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یُضْرَبَ فِیہَا رِجَالٌ ، ثُمَّ تَخْرُجُ الثَّالِثَۃُ عِنْدَ أَعْظَمِ مَسَاجِدِکُمْ ، فَتَأْتِی الْقَوْمَ وَہُمْ مُجْتَمِعُونَ عِنْدَ رَجُلٍ فَتَقُولُ : مَا یَجْمَعُکُمْ عِنْدَ عَدُوِّ اللہِ ، فَیَبْتَدِرُونَ فَتَسِمُ الْکَافِرَ حَتَّی أَنَّ الرَّجُلَیْنِ لَیَتَبَایَعَانِ ، فَیَقُولُ ہَذَا : خُذْ یَا مُؤْمِنُ ، وَیَقُولُ ہَذَا : خُذْ یَا کَافِرُ۔ (نعیم ۱۸۵۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤١) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ ایک جانور نکلے گا جیاد پہاڑ کی جانب سے ایام تشریق میں جبکہ لوگ منی میں ہوں گے انھوں نے فرمایا یہی وجہ ہے حاجیوں میں سب سے پہلے آنے والے کو دعا دی جاتی ہے جبکہ وہ لوگوں کو سلامتی کے ساتھ لے آئے۔
(۳۸۴۴۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرو ، قَالَ : تَخْرُجُ الدَّابَّۃُ مِنْ جَبَلِ جِیَادٍ أَیَّامَ التَّشْرِیقِ وَالنَّاسُ بِمِنًی ، قَالَ : فَلِذَلِکَ حُیِّیَ سَابِقَ الْحَاجِّ إِذَا جَائَ بِسَلاَمَۃِ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٢) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا صفا کی دراڑ سے ایک جانور نکلے گا گھوڑے کے تین دن دوڑنے کے بقدر وقت میں اس کا ایک تھا ئی حصہ نہیں نکلے گا۔
(۳۸۴۴۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ فُضَیْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَخْرُجُ الدَّابَّۃُ مِنْ صَدْعٍ فِی الصَّفَا جَرْیَ الْفَرَسِ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ لاَ یَخْرُجُ ثُلُثُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٣) حضرت ابو زرعہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا تین آدمی مسلمانوں میں سے مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے انھوں نے ان سے سنا نشانیوں کے متعلق بیان کر رہے تھے کہ نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گئے اور جو مروان بن حکم سے نشانیوں سے متعلق سنا تھا وہ حضرت عبداللہ سے بیان کیا کہ پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے حضرت عبداللہ نے فرمایا مروان نے کوئی بات بیان نہیں کی میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی نشانی نشانیوں میں سے نکلنے میں سورج کا طلوع ہونا ہے مغرب سے یا جانور کا نکلنا ہے لوگوں پر چاشت کے وقت اور ان دونوں نشانیوں میں سے جو بھی دوسری نشانی سے پہلے ہوگی دوسری اس کے پیچھے قریب ہی واقع ہوجائے گی پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا وہ کتابیں پڑھتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ ان دونوں نشانیوں سے پہلی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ جب بھی وہ غروب ہوتا ہے عرش کے نیچے آتا ہے اور دوبارہ طلوع کی اجازت چاہتا ہے اسے دوبارہ طلوع کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ ریز ہوگا واپسی کی اجازت چاہے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا یہاں تک جب رات کا جتنا حصہ اللہ چاہیں گے گزر جائے گا اور سورج یہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت دی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا اے میرے رب مشرق کتنی ہی دور ہے سورج عرض کرے گا اے میرے رب کون ہے میرے لیے لوگوں میں سے یہاں تک کہ جب افق روشن ہوگا گویا کہ طوق ہے واپسی کی اجازت چاہے گا اس سے کہا جائے گا تم پر لازم ہے تمہارا مقام طلوع ہو پس وہ طلوع ہوگا لوگوں پر مغرب سے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی آئیگی اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان کار آمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔
(۳۸۴۴۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو حَیَّانَ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ ، قَالَ : جَلَسَ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَسَمِعُوہُ یُحَدِّثُ ، عَنِ الآیَاتِ ، أَنَّ أَوَّلَہَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ ، فَانْصَرَفَ النَّفَرُ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرو ، فَحَدَّثُوہُ بِالَّذِی سَمِعُوہُ مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فِی الآیَاتِ ، أَنَّ أَوَّلَہَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : لَمْ یَقُلْ مَرْوَانُ شَیْئًا ، قَدْ حَفِظْت مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدِیثًا لَمْ أَنْسَہُ بَعْدُ ؛ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّ أَوَّلَ الآیَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ، أَوْ خُرُوجُ الدَّابَّۃِ عَلَی النَّاسِ ضُحًی ، وَأَیَّتُہُمَا مَا کَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِہَا فَالأُخْرَی عَلَی أَثَرِہَا قَرِیبًا ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللہِ وَکَانَ یَقْرَأُ الْکُتُبَ : وَأَظُنُّ أَوَّلُہُمَا خُرُوجًا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ، وَذَاکَ أَنَّہَا کُلَّمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ فِی الرُّجُوعِ فَأُذِنَ لَہَا فِی الرُّجُوعِ حَتَّی إِذَا شَائَ اللَّہُ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِہَا أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَأْذَنَتْ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہَا بِشَیْئٍ ، ثُمَّ تَعُودُ فَتَسْتَأْذِنُ فِی الرُّجُوعِ فَلاَ یَرُدُّ عَلَیْہَا بِشَیْئٍ ، ثُمَّ تَعُودُ فَتَسْتَأْذِنُ فِی الرُّجُوع فَلاَ یَرُدُّ عَلَیْہَا بِشَیْئٍ ، حَتَّی إِذَا ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَذْہَبَ ، وَعَرَفَتْ أَنَّہَا لَوْ أُذِنَ لَہَا لَمْ تُدْرِکَ الْمَشْرِقَ ، قَالَتْ : رَبِّ ، مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقُ ، قالت رب : مَنْ لِی بِالنَّاسِ ، حَتَّی إِذَا أَضَائَ الأُفُقُ کَأَنَّہُ طَوْقٌ اسْتَأْذَنَتْ فِی الرُّجُوعِ ، قِیلَ لَہَا : مَکَانَک فَاطْلُعِی ، فَطَلَعَتْ عَلَی النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ، ثُمَّ تَلاَ عَبْدُ اللہِ ہَذِہِ الآیَۃَ وَذَلِکَ : {یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إیمَانِہَا خَیْرًا} ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا ہر اسلام کا اقرار کرنے والے کو شمار کرو حضرت حذیفہ نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے بارے میں خوف کرتے ہیں اور ہم چھ سو سے سات سو تک ہیں آپ نے ارشاد فرمایا یقیناً تم نہیں جانتے شاید کہ تمہیں آزمایا جائے راوی فرماتے ہیں ہم آزمائے گئے یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا تھا سوائے چھپ کر۔
(۳۸۴۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : أَحْصُوا کُلَّ مَنْ تَلَفَّظَ بِالإِسْلاَمِ ، قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، تَخَافُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ مَا بَیْنَ السِّتِّ مِئَۃِ إِلَی السَّبْعِمِئَۃِ ، فَقَالَ : إنَّکُمْ لاَ تَدْرُونَ لَعَلَّکُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا ، قَالَ : فَابْتُلِینَا حَتَّی جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا مَا یُصَلِّی إِلاَّ سِرًّا۔ (مسلم ۱۳۱۔ احمد ۳۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٥) حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا نہیں ہے تمہارے درمیان اور اس بات کے درمیان کہ تم پر ہمیشہ برائی بھیج دی جائے مگر موت اس آدمی کی گردن میں جو ان برائیوں کو ختم کرتا اور وہ حضرت عمر ہیں۔
(۳۸۴۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عن أبی وائل ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : مَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ أَنْ یُرْسَلَ عَلَیْکُمَ الشَّرُّ فَرَاسِخَ إِلاَّ مَوْتَۃٌ فِی عُنُقِ رَجُلٍ یَمُوتُہَا ، وَہُوَ عُمَرُ۔ (نعیم ۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٦) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے فرمایا کہ میں کوئی چیز نہیں پہچانتا سوائے نماز کے۔
(۳۸۴۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : مَا أَعْرِفُ شَیْئًا إِلاَّ الصَّلاَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٧) حضرت اسماعیل سے روایت ہے فرمایا کہ ہم سے ایک صاحب نے بیان کیا جو گندم فروخت کرتے تھے انھوں نے فرمایا جب حضرت حذیفہ بغداد کے صوبے میں آئے تو حضرت ابو مسعود انصاری کے پاس آئے اور انھیں سلام کیا حضرت ابو مسعود نے پوچھا تمہاری تلوار کی کیا حالت ہے اے ابو عبداللہ انھوں نے فرمایا حضرت عثمان نے مجھے اس صوبے پر امیر مقرر کیا ہے انھوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ کیا تمہیں اس کا خوف ہے کہ یہ فتنہ ہو جبکہ لوگوں نے حضرت سعید بن عاص کو نکال دیا ہے حضرت حذیفہ نے ان سے فرمایا کیا تم اپنے دین کو نہیں جانتے اے ابو مسعود انھوں نے فرمایا کیوں نہیں تو پھر حضرت حذیفہ نے فرمایا بلاشبہ تمہیں فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا جب تک تم اپنے دین کو پہچانتے ہو فتنہ تو اس وقت ہے جب حق اور باطل تم پر مشتبہ ہوجائے اور تمہیں پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس کی پیروی کرو پس یہ فتنہ ہے۔
(۳۸۴۴۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَجُلٌ کَانَ یَبِیعُ الطَّعَامَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ حُذَیْفَۃُ عَلَی جُوخَا أَتَی أَبَا مَسْعُودٍ یُسَلِّمُ عَلَیْہِ ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : مَا شَأْنُ سَیْفِکَ ہَذَا یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ؟ قَالَ: أَمَّرَنِی عُثْمَان عَلَی جُوخَا ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، أَتَخْشَی أَنْ تَکُونَ ہَذِہِ فِتْنَۃً ، حِینَ طَرَدَ النَّاسُ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ ، قَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ : أَمَا تَعْرِفُ دِینَک یَا أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَلَی ، قَالَ : فَإِنَّہَا لاَ تَضُرُّک الْفِتْنَۃُ مَا عَرَفْتَ دِینَک ، إنَّمَا الْفِتْنَۃُ إِذَا اشْتَبَہَ عَلَیْک الْحَقُّ وَالْبَاطِلُ فَلَمْ تَدْرِ أَیَّہُمَا تَتَّبِعُ ، فَتِلْکَ الْفِتْنَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٤٨) حضرت محمد سے روایت ہے کہ بلاشبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں ایک صاحب نے فرمایا ہم میں سے کسی کو بھی فتنہ نہیں پاتا مگر یہ کہ اگر میں چاہوں تو اس کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہوں سوائے حضرت عبداللہ بن عمر کے۔
(۳۸۴۴۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَدْرَکَتِ الْفِتْنَۃُ أَحَدًا مِنَّا إِلاَّ لَوْ شِئْت أَنْ أَقُولَ فِیہِ لَقُلْت فِیہِ إِلاَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক: