মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৪০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٠٩) حضرت علی سے روایت ہے ارشاد فرمایا میں ان لوگوں کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تمہارے حق پر اختلاف اور ان کے باطل پر اجتماع کی وجہ سے اور امام مال کو پھاڑنے والا تو نہیں ہوتا بلاشبہ وہ غلطی بھی کرتا ہے اور درستگی تک بھی پہنچ جاتا ہے پس اگر تمہارے اوپر ایسا امام مقرر ہو جو رعایا میں انصاف کرے اور برابر تقسیم کرے پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو اور بلاشبہ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتا مگر امام نیک ہو یا فاجر پس اگر وہ نیک ہے تو نگہبان اور رعایا کے لیے ہے اور اگر فاجر ہے اس کے زمانے میں مومن اپنے رب کی عبادت کرے گا اور فاجر اپنے مقررہ وقت تک عمل کرے گا اور بلاشبہ تم سے عنقریب مجھے برا بھلا کہنے اور مجھ سے برأت کا مطالبہ کیا جائے گا جس آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو میرے لیے بھی اس کو برا بھلا کہنا درست ہے اور میرے دین سے برأت کا اظہار نہ کرنا کیونکہ میں اسلام پر ہوں۔
(۳۸۴۰۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَیْمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : إنِّی لاَ أَرَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ إِلاَّ ظَاہِرِینَ عَلَیْکُمْ لِتُفَرِّقَکُمْ عَنْ حَقِّکُمْ وَاجْتِمَاعُہُمْ عَلَی بَاطِلِہِمْ ، وَإِنَّ الإِمَامَ لَیْسَ بِشَاقٍّ شَعْرَۃً ، وَإِنَّہُ یُخْطِئُ وَیُصِیبُ ، فَإِذَا کَانَ عَلَیْکُمْ إمَامٌ یَعْدِلُ فِی الرَّعِیَّۃِ وَیَقْسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوا ، وَإِنَّ النَّاسَ لاَ یُصْلِحُہُمْ إِلاَّ إمَامٌ بَرٌّ ، أَوْ فَاجِرٌ ، فَإِنْ کَانَ بَرًّا فَلِلرَّاعِی وَلِلرَّعِیَّۃِ ، وَإِنْ کَانَ فَاجِرًا عَبَدَ فِیہِ الْمُؤْمِنُ رَبَّہُ وَعَمِلَ فِیہِ الْفَاجِرُ إِلَی أَجَلِہِ ، وَإِنَّکُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَی سَبِّی ، وَعَلَی الْبَرَائَۃِ مِنِّی ، فَمَنْ سَبَّنِی فَہُوَ فِی حِلٍّ مِنْ سَبِّی ، وَلاَ تَبْرَؤُوا مِنْ دِینِی فَإِنِّی عَلَی الإِسْلاَم۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٠) حضرت کثیر بن نمر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا ایک آدمی چند آدمیوں کو حضرت علی کے پاس لے کر آیا اور کہا میں نے ان کو دیکھا ہے کہ آپ کو دھمکی دے کر بھاگ رہے تھے اور میں نے اس کو پکڑ لیا ہے حضرت علی نے ارشاد فرمایا کیا میں قتل کروں ایسے آدمی کو جس نے مجھے قتل نہیں کیا اس آدمی نے کہا اس نے آپ کو برا بھلا کہا ہے تو انھوں نے ارشاد فرمایا اسے برا بھلا کہو یا چھوڑ دو ۔
(۳۸۴۱۰) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ نَمِرٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ بِرِجَالٍ إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : إنِّی رَأَیْت ہَؤُلاَئِ یَتَوَعَّدُونَک فَفَرُّوا ، وَأَخَذْتُ ہَذَا ، قَالَ : أَفَأَقْتُلُ مَنْ لَمْ یَقْتُلْنِی ، قَالَ : إِنَّہُ سَبَّک ، قَالَ : سُبَّہُ ، أَوْ دَعْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١١) حضرت اعمش شمر سے اور وہ ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں نگران تھا حضرت علی کے زمانے میں ان صاحب نے بتایا حضرت علی نے ہمیں حکم دیا اور ارشاد فرمایا بخدا تم ضرور بالضرور کرو گے وہ اعمال جن کا تمہیں حکم دیا جائے گا وگرنہ تمہاری گردنوں پر یہود و نصاری کو سوار کردیا جائے گا۔
(۳۸۴۱۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِیسَی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : کُنْتُ عَرِیفًا فِی زَمَانِ عَلِیٍّ ، قَالَ: فَأَمَرَنَا بِأَمْرٍ ، فَقَالَ : أَفَعَلْتُمْ مَا أَمَرْتُکُمْ ، قُلْنَا ، لاَ قَالَ : وَاللہِ لَتَفْعَلُنَّ مَا تُؤْمَرُنَّ بِہِ ، أَوْ لَیَرْکَبَنَّ أَعْنَاقَکُمُ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٢) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے انھوں نے فرمایا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی سننے اور اطاعت پر تنگی میں اور سہولت میں خوشی میں اور زبردستی کی حالت میں اور ہم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور اس بات پر کہ ہم حکومت والوں سے جھگڑا نہیں کریں گے اور اس بات پر کہ ہم حق بات کہیں گے جہاں پر ہم ہوں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
(۳۸۴۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی وَعُبَیْدِ اللہِ ، وَابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : بَایَعْنَا رَسُولَ اللہِ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ وَعَلَی أَثَرَۃٍ عَلَیْنَا وَعَلَی أَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَہْلَہُ ، وَعَلَی أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَیْنَمَا کُنَّا ، لاَ نَخَافُ فِی اللہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔ (بخاری ۷۱۹۹۔ مسلم ۴۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٣) حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت جنادہ بن ابو امیہ انصاری سے فرمایا آؤ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ کیا تمہارے لیے ہے اور کیا تم پر لازم ہے سننا اور اطاعت کرنا اپنی تنگی اور آسانی میں اور خوشی میں اور نا پسندیدگی کی حالت میں اور تم پر ترجیح دی جانے کی صورت میں اور یہ کہ تو اپنی زبان سے کہے اور نہ تو جھگڑا کر حکومت والوں سے مگر یہ کہ تو دیکھے واضح کفر کو۔
(۳۸۴۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، قَالَ : قَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ لِجُنَادَۃَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ الأَنْصَارِیِّ : تَعَالَ حَتَّی أُخْبِرَک مَاذَا لَکَ وَمَاذَا عَلَیْک ، السَّمْعَ وَالطَّاعَۃَ فِی عُسْرِکَ وَیُسْرِکَ وَمَنْشَطِکَ وَمَکْرَہِکَ وَأَثَرَۃٍ عَلَیْک ، وَأَنْ تَقُولَ بِلِسَانِکَ ، وَأَنْ لاَ تُنَازِعَ الأَمْرَ أَہْلَہُ إِلاَّ أَنْ تَرَی کُفْرًا بَوَاحًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٤) حضرت جریر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت ذو عمرو نے فرمایا اے جریر آپ کو مجھ پر شرافت حاصل ہے اور میں آپ کو ایک خبر دینے والا ہوں تم اے عرب کی جماعت ! مسلسل تم خیر پر رہو گے جب تک تم ایسے رہو گے کہ جب ایک امیر فوت ہوگا تو دوسرے کو امیر بنا لو گے جب یہ امارت تلوار کے ذریعے سے حاصل ہوگی تو تم غصہ کرو گے بادشاہوں کے غصہ کی طرح اور تم راضی ہو گے بادشاہوں کے راضی ہونے کی طرح۔
(۳۸۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ بن أبی حازم عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : قَالَ ذُو عَمْرٍو : یَا جَرِیرُ ، إِنَّ بِکَ عَلَیَّ کَرَامَۃً وَإِنِّی مُخْبِرُک خَبَرًا إنَّکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ ، لَنْ تَزَالُوا بِخَیْرٍ مَا کُنْتُمْ ، إِذَا ہَلَکَ أَمِیرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِی آخَرَ ، فَإِذَا کَانَتْ بِالسَّیْفِ غَضِبْتُمْ غَضَبَ الْمُلُوکِ وَرَضِیتُمْ رِضَا الْمُلُوکِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٥) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیائ ۔ کرتے تھے جب بھی کوئی نبی دنیا سے چلے جاتے دوسرے نبی ان کے نائب ہوجاتے اور بلاشبہ میرے بعد تمہارے اندر کوئی نبی نہیں ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا کیا ہوگا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے صحابہ کرام نے عرض کیا ہم کیسے معاملے کریں آپ نے فرمایا : ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کو پورا کرو اور جو تم پر لازم ہو اس کو ادا کرنا اور جو ان پر لازم ہے وہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا۔
(۳۸۴۱۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِی إسْرَائِیلَ کَانَتْ تَسُوسُہُمْ أَنْبِیَاؤُہُمْ ، کُلَّمَا ذَہَبَ نَبِیٌّ خَلَفَہُ نَبِی ، وَإِنَّہُ لَیْسَ کَائِنًا فِیکُمْ نَبِیٌّ بَعْدِی ، قَالُوا : فَمَا یَکُونُ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : تَکُونُ خُلَفَائُ وَتَکْثُرُ ، قَالُوا : فَکَیْفَ نَصْنَعُ ، قَالَ : أَوْفُوا بَیْعَۃَ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ ، أَدُّوا الَّذِی عَلَیْکُمْ فَسَیَسْأَلُہُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِی عَلَیْہِمْ۔
(مسلم ۱۴۷۲۔ ابن ماجہ ۲۸۷۱)
(مسلم ۱۴۷۲۔ ابن ماجہ ۲۸۷۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٦) حضرت علقمہ بن وائل سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت سلمہ جعفی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بتلائںِ کہ اگر آپ کے بعد ہم پر ایسے لوگ ہوں جو ہم سے حق لے لیں اور اللہ کا حق روکتے ہوں آپ نے ان کا کچھ بھی جواب نہ دیا راوی فرماتے ہیں پھر دوسری مرتبہ کھڑے ہوئے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب نہ دیا پھر تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان پر وہ لازم ہے جو وہ بوجھ لادے گئے اور تم پر لازم ہے جو تم بوجھ لادے گئے ہو پس ان کی بات سنو اور اطاعت کرو۔
(۳۸۴۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : قامَ سَلَمَۃُ الْجُعْفِیُّ إِلَی رَسُولِ اللہِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَرَأَیْت إِنْ کَانَ عَلَیْنَا مِنْ بَعْدِکَ قَوْمٌ یَأْخُذُونَنَا بِالْحَقِّ وَیَمْنَعُونَ حَقَّ اللہِ ، قَالَ : فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْئٍ ، قَالَ : ثُمَّ قَامَ الثَّانِیَۃَ فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْئٍ ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَلَیْہِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَیْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ فَاسْمَعُوا لَہُمْ وَأَطِیعُوا۔ (طبرانی ۶۳۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٧) حضرت علقمہ بن وائل اپنے والد سے اسی (مذکورہ روایت) کی مثل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں۔
(۳۸۴۱۷) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ۔ (بخاری ۱۹۹۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٨) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا تمہارے قریب ہوں گے فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان فتنوں میں لوگوں میں سب سے زیادہ نجات پانے والا پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والا وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں کے ریوڑ سے غذا حاصل کرتا ہے یا وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اپنی تلوار کی غنیمت سے کھاتا ہے۔
(۳۸۴۱۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : أَظَلَّتْکُمُ الْفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، أَنْجَی النَّاس فِیہَا صَاحِبُ شَاہِقَۃٍ ، یَأْکُلُ مِنْ رِسْلِ غَنَمِہِ ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِ الدَّرْبِ آخِذٌ بِعَنَانِ فَرَسِہِ ، یَأْکُلُ مِنْ فِیء سَیْفِہِ۔ (حاکم ۴۳۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤١٩) حضرت ابو صالح سے روایت ہے انھوں نے فرمایا مجھ سے حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا اگر تم سے ہوسکتا ہے کہ تجھے موت آجائے تو مرجانا ابو صالح نے فرمایا میں نے عرض کیا میں مرنے کی طاقت نہیں رکھتا اپنی مقرر مدت آنے سے پہلے۔
(۳۸۴۱۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إِنِ اسْتَطَعْت أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ ، قَالَ : قُلْتُ : لاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ یَجِیئَ أَجَلِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٠) حضرت عبداللہ سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ عنقریب میرے بعد (تم پر دوسروں کو) ترجیح ہوگی اور ایسے امور ہوں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو راوی نے فرمایا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے جو یہ صورتحال پالے اسے آپ کیا حکم دیتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جو تم پر ہے اسے تم دو اور جو تمہارے لیے ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگو۔
(۳۸۴۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ سَتَکُونُ بَعْدِی أَثَرَۃٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَہَا ، قَالَ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَکَ مِنَّا ذَلِکَ ، قَالَ : تُعْطُونَ الْحَقَّ الَّذِی عَلَیْکُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّہَ الَّذِی لَکُمْ۔ (بخاری ۳۶۰۳۔ مسلم ۱۴۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢١) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا اے لوگو یہ کونسا دن ہے لوگوں نے عرض کیا یوم حرام (حرمت والا دن) آپ نے پوچھا یہ کونسا شہر ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا شہر آپ نے پوچھا یہ کونسا مہینہ ہے لوگوں نے عرض کیا حرمت والا مہینہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے اموال اور تمہارے خون اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں تمہارے اس مہینے میں پھر اس فرمان کو کئی مرتبہ دہرایا پھر اپنے سر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور ارشاد فرمایا اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا یہ فرمان کئی مرتبہ دہرایا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنے رب سے مناجات تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : یہ پیغام حاضر غائب کو پہنچائے میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
(۳۸۴۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَیُّہَا النَّاسُ ، أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا ، قَالُوا : یَوْمٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا ، قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَأَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ، قَالُوا : شَہْرٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَإِنَّ أَمْوَالَکُمْ وَدِمَائَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا ، ثُمَّ أَعَادَہَا مِرَارًا ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ ہَلْ بَلَّغْت مِرَارًا ، قَالَ : یَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللہِ ، إِنَّہَا لَوَصِیَّتُہُ إِلَی رَبِّہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا ، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔ (بخاری ۱۷۳۹۔ ترمذی ۲۱۹۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٢) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت محمد بن ابی حذیفہ کشتی میں حضرت کعب احبار کے ساتھ تھے حضرت محمد بن ابی حذیفہ نے حضرت کعب سے ایک دن کہا اے کعب کیا ہم اس (یعنی کشتی) کے بارے میں توراۃ کے اندر پاتے ہیں کہ کیسے چلتی ہے اور کیسے اور کیسے ؟ ان سے کعب احبار نے فرمایا تو رات کے بارے میں مذاق نہ کرو یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں جو ہے وہ حق ہے راوی کہتے ہیں حضرت محمد بن ابی حذیفہ نے دوبارہ دہرایا حضرت کعب نے اسی طرح ارشاد فرمایا پھر انھوں نے اس بات کو دہرایا حضرت کعب نے ان سے یہی فرمایا نہیں لیکن اس میں یہ پاتا ہوں کہ بلاشبہ قریش میں سے ایک آدمی ہوگا زائد نوکیلے دانت والا وہ فتنے میں ایسے کودے گاجی سے گدھا اپنی رسی میں کودتا ہے پس اللہ سے ڈر اور تو وہ آدمی نہ بن محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں وہ وہی تھے۔
(۳۸۴۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی حُذَیْفَۃَ مَعَ کَعْبٍ فِی سَفِینَۃٍ ، فَقَالَ لِکَعْبٍ ذَاتَ یَوْمٍ : یَا کَعْبُ ، أَتَجِدُ ہَذِہِ فِی التَّوْرَاۃِ کَیْفَ تَجْرِی وَکَیْفَ وَکَیْفَ ؟ فَقَالَ لَہُ کَعْبٌ : لاَ تَسْخَرْ مِنَ التَّوْرَاۃِ ، فَإِنَّہَا کِتَابُ اللہِ ، وَإِنَّ مَا فِیہَا حَقٌّ ، قَالَ : فَعَادَ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثم عَادَ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ أَجِدُ فِیہَا ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ أَشَطَّ النَّابِ یَنْزُو فِی الْفِتْنَۃِ کَمَا یَنْزُو الْحِمَارُ فِی قَیْدِہِ فَاتَّقِ اللَّہَ وَلاَ تَکُنْ أَنْتَ ہُوَ قَالَ مُحَمَّدٌ : فَکَانَ ہُوَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٣) حضرت عبداللہ بن رواع سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود کے پاس فتنے کا تذکرہ کیا گیا ارشاد فرمایا اپنے گھر میں داخل ہوجانا اور اگر گھر میں تجھ پر کوئی داخل ہوجائے تو سست رفتار اونٹ کی طرح ہوجانا جو اٹھتا نہیں مگر زبردستی اور نہیں چلتا مگر زبردستی۔
(۳۸۴۲۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ رَوَاعٍ ، قَالَ : ذَکَرْت الْفِتْنَۃَ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : ادْخُلْ بَیْتَکَ ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَیْک فَکُنْ کَالْبَعِیرِ الثَّفَالِ ، لاَ یَنْبَعِثُ إِلاَّ کَارِہًا وَلاَ یَمْشِی إِلاَّ کَارِہًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٤) حضرت ابو صالح سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جرعہ والے دن ہمارے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک صاحب ہمارے ساتھ بیٹھے راوی نے فرمایا حضرت عثمان بن عفان نے حضرت سعید بن عاص کو کوفہ پر امیر بنا کر بھیجا تھا (اور کوفہ والے ان کی امارت سے نکل چکے تھے) کوفہ والے نکلے اور ان صحابی کو پالیا انھوں نے فرمایا ان میں سے ایک نے (ان صحابی کے سامنے) کہا ہم سنت پر ہیں ان صحابی نے ارشاد فرمایا تم سنت پر نہیں ہو یہاں تک کہ امیرو نگران شفقت کریں اور رعایا خیر خواہی کرے۔
(۳۸۴۲۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ : قَاعَدَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْجَرَعَۃِ ، قَالَ : وَکَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ بَعَثَ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ عَلَی الْکُوفَۃِ ، قَالَ : فَخَرَجَ أَہْلُ الْکُوفَۃِ فَأَدْرَکُوہُ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إنَّا عَلَی السُّنَّۃِ ، فَقَالَ : لَسْتُمْ عَلَی السُّنَّۃِ حَتَّی یُشْفِقَ الرَّاعِی وَتُنْصَحُ الرَّعِیَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٥) حضرت ابوہریرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے اس کی مثل کھول دیا گیا ہے اور وہب راوی نے اپنے ہاتھ سے نوے کا عدد بنایا (ابن الا ثیر کے بیان کے مطابق ان کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہاتھ کے انگوٹھے کے پاس والی انگلی کا سرا انگوٹھے کی جڑ میں لگا کر ملایا جائے یہاں تک کہ درمیانی فاصلہ تھوڑا رہ جائے۔
(۳۸۴۲۵) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ ہَذِہِ ، وَعَقَدَ وُہَیْبٌ بِیَدِہِ تِسْعِینَ۔ (بخاری ۳۳۴۷۔ مسلم ۱۲۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٦) حضرت ابو حکیم جو آزاد کردہ ہیں محمد بن اسامہ کے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے لیے نہ دینار واجب کیا جائے گا اور نہ درہم صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یہ کب ہوگا آپ نے ارشاد فرمایا جب تم عہد توڑو گے اللہ تمہارے دلوں کو تم پر سخت کردیں گے پس وہ تم سے روک لیں گے۔
(۳۸۴۲۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی حَکِیمٍ مَوْلَی مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ یُجَبْ لَکُمْ دِینَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ ، قَالُوا : وَمَتَی یَکُونُ ذَلِکَ ؟ قَالَ : إِذَا نَقَضْتُمُ الْعَہْدَ شَدَّدَ اللَّہُ قُلُوبَ الْعَدُوِّ عَلَیْکُمْ فَامْتَنَعُوا مِنْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٧) حضرت حذیفہ سے روایت ہے یقیناً لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا (جس میں) کسی آدمی کے لیے گدھے ہوں گے ان پر سوار ہو کر شام کی طرف جانا اسے زیاد ہ محبوب ہوگا دنیاوی سازو سامان میں سے کسی سامان سے۔
(۳۸۴۲۷) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُونُ لِلرَّجُلِ أَحْمُرَۃٌ یَحْمِلُ عَلَیْہَا إِلَی الشَّامِ أَحَبُّ إلَیْہِ مِنْ عَرَضِ الدُّنْیَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٤٢٨) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب ایک سو چھتیسواں سال ہوگا اور تم کوئی نشانی نہ دیکھو تو مجھ پر میری قبر میں لعنت کرنا۔
(۳۸۴۲۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْن یَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرو ، قَالَ : إِذَا کَانَتْ سَنَۃَ سِتٍّ وَثَلاَثِینَ وَمِئَۃٍ وَلَمْ تَرَوْا آیَۃً فَالْعَنُونِی فِی قَبْرِی۔
তাহকীক: