মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৩৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٩) حضرت زینب بنت جحش سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نیند سے بیدار ہوئے اس حال میں کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور یہ ارشاد فرما رہے تھے، لا الہ الا اللہ عرب کے لے قریب کے شرو برائی سے ہلاکت ہے آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے کچھ کھول لیا گیا اور اپنے ہاتھ سے دس کا عدد بنایا جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کا کنارے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے موڑ کے درمیان میں رکھ کر حلقہ بنایا جائے حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ نیک لوگ ہمارے اندر موجود ہوں آپ نے ارشاد فرمایا ہاں جب خباثت ظاہر ہوجائے۔
(۳۸۳۶۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ، عَنْ حَبِیبۃ، عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّہَا ، قَالَتْ : اسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِہِ مُحْمَرًّا وَجْہُہُ وَہُوَ یَقُولُ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَعَقَدَ بِیَدِہِ ، یَعْنِی عَشَرَۃً ، قَالَتْ زَیْنَبُ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَنُہْلِکُ وَفِینَا الصَّالِحُونَ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا ظَہَرَ الْخَبَثُ۔

(مسلم ۲۲۰۷۔ ابن ماجہ ۳۹۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٠) حضرت عائشہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب زمین میں برائی ہوتی ہے تو اللہ زمین والوں پر اپنا عذاب اتارتے ہیں پھر فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس حال میں بھی کہ ان میں اللہ کی اطاعت کرنے والے ہوں آپ نے ارشاد فرمایا : ہاں پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف چلے جائیں گے۔
(۳۸۳۷۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ جَامِعٍ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ امْرَأَۃٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا ظَہَرَ السُّوئُ فِی الأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّہُ بِأَہْلِ الأَرْضِ بَأْسَہُ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَفِیہِمْ أَہْلُ طَاعَۃِ اللہِ ، قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ یَصِیرُونَ إِلَی رَحْمَۃِ اللہِ۔ (احمد ۴۱۔ حاکم ۵۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧١) حضرت انس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور صبح کو کافر ہوگا اور شام کے وقت مسلمان ہوجائے گا کچھ لوگ اپنے دین کو دنیوی سامان کے بدلے میں بیچیں گے۔
(۳۸۳۷۱) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَیْنَ یَدَیَ السَّاعَۃِ فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا ، وَیُصْبِحُ کَافِرًا وَیُمْسِی مُؤْمِنًا ، وَیَبِیعُ قَوْمٌ دِینَہُمْ بِعَرَضِ الدُّنْیَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٢) حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا سبحان اللہ ان پر فتنے بیجے ن گئے ہیں بارش کی بوندوں کے بھیجے جانے کی طرح۔
(۳۸۳۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ، ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ اللہِ ، تُرْسَلُ عَلَیْہِمُ الْفِتَنُ إرْسَالَ الْقَطْرِ۔ (طبرانی ۲۲۷۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٣) حضرت ابو الضحی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر کے پاس کہا اے اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں ضعف رائے اور جہالت سے (اس آدمی سے مخاطب ہو کر فرمایا) کیا تو پسند کرتا ہے کہ اللہ تجھے مال اور اولاد نہ دے تم میں سے کوئی فتنوں سے پناہ مانگے تو وہ ان فتنوں کی گمراہوں سے پناہ مانگے۔
(۳۸۳۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ وَہُوَ عِنْدَ عُمَرَ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفِتْنَۃِ ، أَوِ الْفِتَنِ ، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الضَّفَاطَۃِ ، أَتُحِبُّ أَنْ لاَ یَرْزُقَک اللَّہُ مَالاً وَوَلَدًا ، أَیُّکُمُ اسْتَعَاذَ مِنَ الْفِتَنِ فَلْیَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلاَّتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٤) حضرت عبید اللہ بن قبطیہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا ان دونوں نے ان سے پوچھا اس لشکر کے بارے میں جسے دھنسا دیا گیا اور یہ واقعہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانے میں پیش آیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ایک پناہ پکڑنے والا بیت اللہ میں پناہ پکڑے گا اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس آدمی کی کیا حالت ہوگی جس پر زبردستی کی گئی ہو ارشاد فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت والے دن اسے اس کی نیت پر اٹھایا جائے گا ابو جعفر راوی فرماتے ہیں یہ مدینہ کا میدان تھا۔
(۳۸۳۷۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ابْنِ الْقِبْطِیَّۃِ ، قَالَ : دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی رَبِیعَۃَ ، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ صَفْوَانَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ وَأَنَا مَعَہَا ، فَسَأَلاَہَا عَنِ الْجَیْشِ الَّذِی یُخْسَفُ بِہِ ، وَذَلِکَ فِی زَمَانِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَیْتِ فَیُبْعَثُ إلَیْہِ بَعْثٌ فَإِذَا کَانَ بِبَیْدَائَ مِنَ الأَرْضِ یُخْسَفُ بِہِمْ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ بِمَنْ کَانَ کَارِہًا ، قَالَ : یُخْسَفُ بِہِ مَعَہُمْ، وَلَکِنَّہُ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی نِیَّتِہِ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: ہِیَ بَیْدَائُ الْمَدِینَۃِ۔ (مسلم ۲۲۰۸۔ ابوداؤد ۴۲۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٥) حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب دو مسلمان ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں اپنی اپنی تلوار کے ساتھ پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کردے تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تو قاتل ہے مقتول کا کیا قصور ہے آپ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا۔
(۳۸۳۷۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَقَتَلَ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ فَہُمَا فِی النَّارِ ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ، قَالَ : إِنَّہُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہِ۔ (نسائی ۳۵۸۴۔ احمد ۴۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٦) حضرت ابو الرقاد سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں غلام ہونے کی حالت میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا مجھے حضرت حذیفہ کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ وہ فرما رہے تھے اگر کوئی آدمی وہ کلام نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کرتا تو منافق ہوجاتا اور بلاشبہ وہ کلام میں نے تم میں ہر ایک سے ایک ایک مجلس میں چار مرتبہ سنا ہے (وہ کلام یہ ہے) ضرور بالضرور تم بھلائی کا حکم کرو اور ضرور بالضرور تم برائی سے روکو اور ضرور تم بھلائی پر رہو وگرنہ اللہ تم سب کو عذاب کے ذریعے برباد کردے گا یا تمہارے شریروں کو تم پر حاکم بنا دے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔
(۳۸۳۷۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَزِینٌ الْجُہَنِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الرُّقاد ، قَالَ : خَرَجْت مَعَ مَوْلاَیَ وَأَنَا غَُلاَمٌ ، فَدُفِعْتُ إِلَی حُذَیْفَۃَ وَہُوَ یَقُولُ : إِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَتَکَلَّمَ بِالْکَلِمَۃِ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَصِیرُ مُنَافِقًا ، وَإِنِّی لأَسْمَعُہَا مِنْ أَحَدِکُمْ فِی الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلْتَنْہَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ ، وَلَتُحَاضُّنَّ عَلَی الْخَیْرِ ، أَوْ لَیُسْحِتَنَّکُمُ اللَّہُ بِعَذَابٍ جَمِیعًا ، أَوْ لَیُؤَمِّرَنَّ عَلَیْکُمْ شِرَارَکُمْ ، ثُمَّ یَدْعُو خِیَارُکُمْ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ۔ (احمد ۳۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٧) حضرت ثروان بن ملحان سے روایت ہے انھوں نے فرمایا ہم مسجد میں بیٹھے تھے حضرت عمار بن یاسر ہمارے پاس سے گزرے ہم نے ان سے عرض کیا ہم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث فتنے کے بارے میں بیان کردیں پس انھوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا عنقریب میرے بعد امراء ہوں گے جو ملک پر (یعنی حصول ملک کے لیے) لڑائی کریں گے اس پر کچھ کچھ کو قتل کریں گے ہم نے ان سے عرض کیا اگر آپ کے علاوہ کوئی اور ہم سے اس بارے میں بیان کرتا تو ہم اس کی تکذیب کرتے انھوں نے ارشاد فرمایا باقی یہ تو بلاشبہ ہوگا۔
(۳۸۳۷۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَیْنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَقُلْنَا لَہُ: حَدِّثْنَا حَدِیثَ رَسُولِ اللہِ فِی الْفِتْنَۃِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : سَیَکُونُ بَعْدِی أُمَرَائُ یَقْتَتِلُونَ عَلَی الْمُلْک ، یَقْتُلُ بَعْضُہُمْ عَلَیْہِ بَعْضًا ، فَقُلْنَا لَہُ : لَوْ حَدَّثَنَا بِہِ غَیْرُک کَذَّبْنَاہُ ، قَالَ ، أَمَا إِنَّہُ سَیَکُونُ۔ (احمد ۲۶۳۔ ابویعلی ۱۶۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٨) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان اصحاب بدر کی تعداد کے برابر بیعت کی جائے گی اس کے پاس عراقی زاہدوں کے گروہ اور شام کے ابدال آئیں گے ان سے لڑائی کرے گا شامیوں میں سے ایک لشکر یہاں تک کہ جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر ان سے قریش میں سے ایک آدمی جس کے ماموں بنوکلب میں سے ہوں گے لڑائی کرے گا ان کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگی اللہ ان کو شکست دے دے گا پس کہا جاتا تھا نامراد وہ ہے جو کلب کی غنیمت کے پانے سے نامراد رہا۔
(۳۸۳۷۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُبَایَعُ لِرَجُلٍ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ عِدَّۃ أَہْل بَدْرٍ، فَتَأْتِیہِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالِ الشَّامِ ، فَیَغْزُوہُمْ جَیْشٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْبَیْدَائِ یُخْسَفُ بِہِمْ ، ثُمَّ یَغْزُوہُمْ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ أَخْوَالُہُ کَلْبٌ فَیَلْتَقُونَ فَیَہْزِمُہُمَ اللَّہُ ، فَکَانَ یُقَالُ : الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِیمَۃِ کَلْبٍ۔ (ابوداؤد ۴۲۸۷۔ حاکم ۴۳۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٧٩) حضرت صفیہ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا لوگ اس گھر یعنی بیت اللہ پر حملے سے نہیں رکیں گے یہاں تک کہ ایک لشکر لڑائی کے لیے نکلے گا جب وہ زمین میں ایک میدان میں ہوں گے ان کے اگلوں اور پچھلوں کو دھنسا دیا جائے گا اور ان کے درمیان والے بھی نجات نہ پائیں گے حضرت صفیہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اگر ان میں ایسا ایسا آدمی ہو جس پر زبردستی کی گئی ہو آپ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو اٹھائیں گے اس (نیت وغیرہ پر) پر جو ان کے جی میں ہوگا۔
(۳۸۳۷۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی إدْرِیسَ الْمُرْہبیِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ صَفِیَّۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَنْتَہِی نَاسٌ عَنْ غَزْوِ ہَذَا الْبَیْتِ حَتَّی یَغْزُوَ جَیْشٌ ، حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْبَیْدَائِ ، أَوْ بِبَیْدَائَ مِنَ الأَرْضِ ، خُسِفَ بِأَوَّلِہِمْ وَآخِرِہِمْ وَلَمْ یَنْجُ أَوْسَطُہُمْ ، قُلْتُ : فَإِنْ کَانَ فِیہِمْ مَنْ یَکْرَہُ ، قَالَ : یَبْعَثُہُمَ اللَّہُ عَلَی مَا فِی أَنْفُسِہِمْ۔ (ترمذی ۲۱۸۴۔ احمد ۳۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٠) حضرت میمونہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے ایک دن ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب دین محفوظ نہیں رہے گا اور (دنیا میں) رغبت ظاہر ہوجائے گی اور بھائیوں کا اختلاف ہوجائے گا اور پرانے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جلایا جائے گا۔
(۳۸۳۸۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ بِلاَلٍ الْعَبْسِیِّ ، عَنْ مَیْمُونَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ لَنَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا مَرِجَ الدِّینُ وَظَہَرَتِ الرَّغْبَۃُ وَاخْتَلَفَتِ الإِخْوَانُ وَحُرِّقَ الْبَیْتُ الْعَتِیقُ۔ (احمد ۳۳۳۔ طبرانی ۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨١) حضرت ابوہریرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں (فرمایا کہ) کعبہ کو منہدم کرے گا چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی جو حبشہ سے ہوگا۔
(۳۸۳۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُخَرِّبُ الْکَعْبَۃَ ذُو السَّوِیقَتَیْنِ مِنَ الْحَبَشَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٢) حضرت سلمان سے روایت ہے فرمایا یقیناً یہ گھر منہدم ہوگا حضرت زبیر کی آل میں سے کسی آدمی کے ہاتھ سے۔
(۳۸۳۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی صَادِقٍ ، عَنْ حَنَشٍ الْکِنَانِیِّ ، عَنْ عُلَیمٍ الْکِنْدِیِّ عن سلمان ، قَالَ : لَیُخَرَّبَنَّ ہَذَا الْبَیْتُ عَلَی یَدِ رَجُلٍ مِنْ آلِ الزُّبَیْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٣) حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو فرماتے ہوئے سنا کہ گویا میں ایک گنجے اور ٹیڑھے اعضاء والے آدمی کو بیت اللہ کے پاس دیکھتا ہوں جو اس پر کھڑا اسے اپنے رندے سے گرا رہا ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیت اللہ کو گرایا تو میں نے غور کیا حضرت ابن عمر کی بیان کردہ حالت میں لیکن میں نے ایسی حالت نہ پائی۔
(۳۸۳۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْن أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنَ عَمْرٍو وہو یَقُولُ : کَأَنَّی بِہِ أُصَیْلِع أُفَیْدِع ، قَائِمٌ عَلَیْہَا یَہْدِمُہَا بِمِسْحَاتِہِ ، فَلَمَّا ہَدَمَہَا ابْنُ الزُّبَیْرِ جَعَلْت أَنْظُرُ إِلَی صِفَۃِ ابْنِ عَمْرٍو فَلَمْ أَرَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٤) حضرت مجاہد سے روایت ہے جب حضرت ابن زبیر نے بیت اللہ کو گرانے کا عزم کرلیا تو ہم تین دن تک منی کی طرف نکلے عذاب کا کا انتظار کرتے ہوئے۔
(۳۸۳۸۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لَمَّا أَجْمَعَ ابْنُ الزُّبَیْرِ عَلَی ہَدْمِہَا خَرَجْنَا إِلَی مِنًی ثَلاَثًا نَنْتَظِرُ الْعَذَابَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٥) حضرت علی سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ گویا میں حبشہ کے آدمی کی طرف دیکھ رہا ہوں جو گنجا اور چھوٹے کانوں والا باریک پنڈلیوں والا ہوگا کعبۃ اللہ کے پاس بیٹھا ہوگا اس حال میں کہ کعبہ کو منہدم کیا جارہا ہوگا۔
(۳۸۳۸۵) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی رَجُلٍ مِنَ الْحَبَشِ أَصْلَعَ أَصْمَعَ حَمْشَ السَّاقَیْنِ جَالِسٌٍ عَلَیْہَا وَہِیَ تُہْدَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٦) حضرت سلمان بن میناء سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں نے حضرت ابن عمرو کو فرماتے ہوئے سنا جب تم دیکھو قریش بیت اللہ کو منہدم کریں پھر اسے بنائیں اور اس کی تزئین و آرائش کریں تو اگر تم سے ہو سکے کہ تم مرجاؤ تو مرجانا۔
(۳۸۳۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مِینَائَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَمْرٍو یَقُولُ : إِذَا رَأَیْتُمْ قُرَیْشًا قَدْ ہَدَمُوا الْبَیْتَ ، ثُمَّ بَنَوْہُ فَزَوَّقُوہُ فَإِنِ اسْتَطَعْت أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ !۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٧) حضرت عطائ سے روایت ہے فرمایا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھا انھوں نے ارشاد فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا جب تم اس گھر (یعنی بیت اللہ) کو گرا دو گے پس تم کسی پتھر کو پتھر پر نہ چھوڑو گے ان کے ساتھیوں نے عرض کیا اور کہا ہم اسلام پر ہوں گے، انھوں نے ارشاد فرمایا تم اسلام پر ہو گے میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا انھوں نے ارشاد فرمایا پھر پہلے سے اچھا بنایا جائے گا جب تو دیکھے مکہ میں کنوئے کھودے جائیں اور تو دیکھے عمارتیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے بلند ہوجائیں تو جان لینا امر قریب آگیا۔
(۳۸۳۸۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ آخِذًا بِلِجَامِ دَابَّۃِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا ہَدَمْتُمَ الْبَیْتَ ، فَلَمْ تَدَعُوا حَجَرًا عَلَی حَجَرٍ ، قَالُوا : وَنَحْنُ عَلَی الإِسْلاَم ؟ قَالَ : وَأَنْتُمْ عَلَی الإِسْلاَم ، قلت : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ یُبْنَی أَحْسَنَ مَا کَانَ ، فَإِذَا رَأَیْت مَکَّۃَ قَدْ بُعجَتْ کَظَائِمَ ، وَرَأَیْت الْبِنَائَ یَعْلُو رُؤُوسَ الْجِبَالِ فَاعْلَمْ ، أَنَّ الأَمْرَ قَدْ أَظَلَّک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٨٨) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے ارشاد فرمایا اس گھر سے اس کے بلند کرنے سے پہلے نفع اٹھا لو اسے عنقریب بلند کیا جائے اور دو مرتبہ گرا دیا جائے گا اور تیسری مرتبہ بلند کردیا جائے گا۔
(۳۸۳۸۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْمُزَنِیّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَمَتَّعُوا مِنْ ہَذَا الْبَیْتِ قَبْلَ أَنْ یُرْفَعَ ، فَإِنَّہُ سَیُرْفَعُ وَیُہْدَمُ مَرَّتَیْنِ وَیُرْفَعُ فِی الثَّالِثَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: