মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮৩৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٤٩) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرات میں رہنے والوں کی طرف نکلے اور ارشاد فرمایا اے حجروں میں رہنے والو ! جہنم کی آگ بھڑ کا دی جائے گی اور فتنے آئیں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے۔
(۳۸۳۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ إِلَی أَہْلِ الْحُجُرَاتِ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الْحُجُرَاتِ سُعِّرَتِ النَّارُ وَجَائَتِ الْفِتَنُ کَأَنَّہَا قِطَعُ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا۔ (بزار ۱۷۷۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا فتنے ہوں گے جو گائے کی پیشانی کی طرح ہوں گے ان میں اکثر لوگ ہلاک ہوں گے مگر وہ جو ان کو ان کے وقوع سے پہلے جانتا ہے۔
(۳۸۳۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ مُبَارَکٍ وَمُفَصَّلِ بْنِ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ ، عَنْ أَبِی إدْرِیسَ عن حذیفۃ ، قَالَ : إِنَّہَا فِتَنٌ قَدْ أَظَلَّتْ کَجِبَاہِ الْبَقَرِ یَہْلِکُ فِیہَا أَکْثَرُ النَّاسِ إِلاَّ مَنْ کَانَ یَعْرِفُہَا قَبْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥١) حضرت ابو السفر بنی عبس کے ایک صاحب سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا ہم سے حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا تمہاری کیا حالت ہوگی جب اللہ تعالیٰ امت محمد یہ کے معاملے کو ضائع کردیں گے ایک آدمی نے کہا آپ ہم سے ہمیشہ ایسی ہی ناپسندیدہ باتیں بیان کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کے امر کو ضائع کردیں گے حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا مجھے بتلاؤ تو سہی جب ان کا والی ایسا آدمی ہوگا جس کا وزن (قدرو منزلت) اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا تو کیا خیال ہے تمہارا امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دینی امر اس دن ضائع نہیں ہوجائے گا۔
(۳۸۳۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَبْسٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا حُذَیْفَۃُ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا ضَیَّعَ اللَّہُ أَمْرَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا تَزَالُ تَأْتِینَا بِمُنْکَرَۃٍ ، یُضَیِّعُ اللَّہُ أَمْرَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَرَأَیْتُمْ إِذَا وَلِیَہَا مَنْ لاَ یَزِنُ عِنْدَ اللہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ : أَفَتَرَوْنَ أَمْرَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَاعَ یَوْمَئِذٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٢) حضرت خالد بن عرفطہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ارشاد فرمایا اے خالد بلاشبہ آئندہ نئی باتیں اور اختلافات ہوں گے عفان راوی فرماتے ہیں یہ بھی فرمایا اور فرقت یعنی جدائی بھی ہوگی پس جب یہ ہوجائے تو اگر تم سے ہوسکے کہ تو مقتول ہو قاتل نہ ہو (عفان راوی نقل کرتے ہیں) تو ایسا کرلینا۔
(۳۸۳۵۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : یَا خَالِدُ ، إِنَّہَا سَتَکُونُ أَحْدَاثٌ وَاخْتِلاَفٌ ، وَقَالَ عَفَّانُ : وَفُرْقَۃٌ فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَإِنَ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ الْمَقْتُولَ لاَ الْقَاتِلَ ، قَالَ عَفَّانُ : فَافْعَلْ۔ (بزار ۳۳۵۶۔ احمد ۲۹۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٣) حضرت ابو بردہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا میں حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس گیا میں نے ان سے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ اس معاملے میں اس مرتبے پر ہیں اگر آپ لوگوں کی طرف نکلیں آپ روکتے اور حکم دیتے تو انھوں نے ارشاد فرمایا بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب فتنے اور تفرق و اختلافات ہوں گے پس اگر ایسا ہو تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر جانا تلوار اس پر مارنا یہاں تک کہ تو اسے توڑ دے پھر اپنے گھر مں پ بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس آئے کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت پس ایسا ہوچکا ہے لہٰذا میں نے ایسا ہی کیا ہے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا۔
(۳۸۳۵۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَوْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ ، فَقُلْتُ لَہُ : رَحِمَک اللَّہُ ، إنَّک مِنْ ہَذَا الأَمْرِ بِمَکَانٍ ، فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَی النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَہَیْتَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ فِتْنَۃٌ وَفُرْقَۃٌ وَاخْتِلاَفٌ ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَأْتِ بِسَیْفِکَ أُحُدًا فَاضْرِبْہُ حَتَّی تَقْطَعَہُ ، ثُمَّ اجْلِسْ فِی بَیْتِکَ حَتَّی تَأْتِیَک یَدٌ خَاطِئَۃٌ ، أَوْ مَنِیَّۃٌ قَاضِیَۃٌ ، فَقَدْ وَقَعَتْ وَفَعَلْتُ مَا قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۴۹۳۔ طبرانی ۵۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٤) حضرت ابن سیرین سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بلاشبہ شام مسلسل موافق رہے گا جب تک کہ ان فتنوں کی ابتداء شام سے نہ ہوگی۔
(۳۸۳۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ الشَّامَ لاَ تَزَالُ مُوَائمَۃً مَا لَمْ یَکُنْ بَدُوّہَا مِنَ الشَّامِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٥) حضرت عامر نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو موت آئے اس حال میں کہ اس پر کسی کی اطاعت لازم نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس آدمی نے اطاعت کے عقد کو باندھنے کے بعد توڑ دیا تو اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
(۳۸۳۵۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَاتَ وَلاَ طَاعَۃَ عَلَیْہِ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً ، وَمَنْ خَلَعَہَا بَعْدَ عَقْدِہِ إیَّاہَا فَلاَ حُجَّۃَ لَہُ۔ (احمد ۴۴۶۔ ابویعلی ۷۱۶۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٦) حضرت عاصم بجلی نے ارشاد فرمایا اپنے بکالی سے پوچھو ان کی مراد نوف بکالی تھی شعبان میں نشانی رمضان میں نوجوانوں اور شوال میں تمیز اور قتل اور لڑائی کا شوروغل ذوالقعدہ میں اور ذی الحجہ میں فیصلے کے بارے میں۔
(۳۸۳۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ ضَمْرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ عَاصِمٌ الْبَجَلِیُّ : سَلُوا بِکَالیَّکُمْ ، یَعْنِی نَوْفًا ، عَنِ الآیَۃِ فِی شَعْبَانَ ، وَالْحُِدْثَانِ فِی رَمَضَانَ وَالتَّمْیِیزُ فِی شَوَّالَ ، وَالْحَسُّ ، یَعْنِی الْقَتْلَ وَالْمَعْمَعَۃُ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ ، وَالْقَضَائُ فِی ذِی الْحِجَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٧) حضرت سلمان بن ربیعہ حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ارشاد فرمایا عنقریب امراء اور کام کرنے والے ہوں گے ان کی محبت فتنہ ہوگی اور ان سے جدائیگی کفر ہوگی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اکبر دوبارہ سنائیں اے امیر المؤمنین اس سے میرا غم دور ہوا حضرت عمر نے دوبارہ ارشاد فرمایا حضرت سلمان بن ربیعہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا فتنہ زیادہ سخت ہے قتل سے اور فتنہ زیادہ پسندیدہ ہے مجھے قتل سے۔
(۳۸۳۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَائُ وَعُمَّالٌ صُحْبَتُہُمْ فِتْنَۃٌ وَمُفَارَقَتُہُمْ کُفْرٌ ، قَالَ : قُلْتُ: اللَّہُ أَکْبَرُ ، أَعِدْ عَلَیَّ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَرَّجْتَ عَنِّی ، فَأَعَادَ عَلَیْہِ ، قَالَ سَلْمَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ : قَالَ اللَّہُ : {وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ} وَالْفِتْنَۃُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ الْقَتْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٨) حضرت محمد فرماتے ہیں حضرت ابو مسعود انصاری حضرت حذیفہ کے پاس تشریف لائے ان کی مرض الوفات میں جبکہ وہ مرض ان کے ساتھ لازم ہوچکا تھا حضرت ابو مسعود انصاری نے پوچھا کیا فراق ہے تو حضرت حذیفہ نے فرمایا ہاں دوست آیا ہے فاقے پر میں ندامت سے فلاح نہ پاؤں گا کیا میرے بعد فتنے نہیں ہوں گے جو میں جانتا ہوں۔
(۳۸۳۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیُّ عَلَی حُذَیْفَۃَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ فَاعْتَنَقَہُ ، فَقَالَ : الْفِرَاقُ ، فَقَالَ : نَعَمْ حَبِیبٌ جَائَ عَلَی فَاقَۃٍ ، لاَ أَفْلَحَ مَنْ نَدِمَ ، أَلَیْسَ بَعْدُ مَا أَعْلَمُ مِنَ الْفِتَنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٥٩) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے بہت سی مثالیں بیان فرمائیں ایک تین پانچ سات نو گیارہ اور ان میں سے ایک کی ہمارے سامنے وضاحت کی اور باقیوں سے خاموش رہے پس ارشاد فرمایا : بلاشبہ کچھ لوگ کمزو ری اور مسکنت والے تھے پس انھوں نے تدبیر اور دوڑ والے لوگوں سے لڑائی کی وہ ان پر غالب آگئے (یعنی تدبیر والے غالب آئے) اور ان کو اپنے کاموں میں لگا لیا اور ان پر مسلط ہوگئے پس انھوں نے اپنے رب کو اپنے اوپر ناراض کرلیا۔
(۳۸۳۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمْثَالاً وَاحِدًا وَثَلاَثَۃً وَخَمْسَۃً وَسَبْعَۃً وَتِسْعَۃً وَأَحَدَ عَشَرَ ، وَفَسَّرَ لَنَا مِنْہَا وَاحِدًا وَسَکَتَ ، عَنْ سَائِرِہَا ، فَقَالَ : إِنَّ قَوْمًا کَانُوا أَہْلَ ضَعْفٍ وَمَسْکَنَۃٍ فَقَاتَلُوا قَوْمًا أَہْلَ حِیلَۃٍ وَعِدَائٍ ، فَظَہَرُوا عَلَیْہِمْ فَاسْتَعْمَلُوہُمْ وَسَلَّطُوہُمْ فَأَسْخَطُوا رَبَّہُمْ عَلَیْہِمْ۔ (احمد ۴۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٠) حضرت علاء بن عبد الکریم فرماتے ہیں ہم سے ایک ہمارے دیہاتی نے بیان کیا اس نے بتایا کہ میں نے ہجرت کی کوفہ کی طرف اور میں نے اپنی بخششیں لیں پھر میرے سامنے یہ بات آئی کہ میں یہاں سے نکلوں لوگوں نے کہا تیرے لیے ہجرت نہیں ہے میں حضرت سوید بن غفلہ سے ملا میں نے ان کو اس بارے میں بتلایا پھر انھوں نے فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس صرف وہ چیزیں ہوں جن سے زندگی گزار سکوں اور میں گردو نواح کے علاقوں میں سے کسی میں رہوں۔
(۳۸۳۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَعْرَابِیٌّ لَنَا ، قَالَ : ہَاجَرْت إِلَی الْکُوفَۃِ فَأَخَذْت أُعْطِیَۃً لِی ، ثُمَّ بَدَا لِی أَنْ أَخْرُجَ ، فَقَالَ النَّاسُ : لاَ ہِجْرَۃَ لَکَ ، فَلَقِیت سُوَیْد بْنَ غَفَلَۃَ فَأَخْبَرْتہ بِذَلِکَ ، فَقَالَ : لَوَدِدْت أَنَّ لِی حَمُولَۃً ، وَمَا أَعِیشُ بِہِ وَأَنِّی فِی بَعْضِ ہَذِہِ النَّوَاحِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦١) حضرت ھلال بن خباب ابو العلاء سے روایت ہے کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا میں نے کہا اے ابو عبداللہ لوگوں کی ہلاکت کی علامت کیا ہے ارشاد فرمایا جب ان کے علماء ہلاک ہوجائیں گے۔
(۳۸۳۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ أَنْبَأَنَا ہِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ أَبُو الْعَلاَئِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، قُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، مَا عَلاَمَۃُ ہَلاَکِ النَّاسِ ، قَالَ : إِذَا ہَلَکَ عُلَمَاؤُہُمْ۔ (دارمی ۲۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٢) حضرت حذیفہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم نہیں آئے گا ان پر کوئی حال جس سے چیخ و پکار کریں گے مگر اس کے پیچھے آئے گا ایک ایسا حال جو ان کو پہلے سے مشغول کردے گا۔
(۳۸۳۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا زَائِدَۃُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : وَاللہِ لاَ یَأْتِیہِمْ أَمْرٌ یَضِجُّونَ مِنْہُ إِلاَّ أَرْدَفَہُمْ أَمْرٌ یُشْغِلُہُمْ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٣) حضرت مکحول سے روایت ہے ارشاد فرمایا نہیں ہے شدید گھمسان اور قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کے نکلنے کے درمیان مگر سات ماہ اور نہیں ہوگا یہ مگر ہار کی طرح جب وہ ٹوٹ جائے تو موتی ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں (یعنی یکے بعد دیگرے یہ واقعات ہوں گے) ۔
(۳۸۳۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : مَا بَیْنَ الْمَلْحَمَۃِ وَفَتْحِ الْقُسْطَنْطِینِیَّۃ وَخُرُوجِ الدَّجَّالِ إِلاَّ سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ ، وَمَا ذَاکَ إِلاَّ کَہَیْئَۃِ الْعِقْدِ یَنْقَطِعُ فَیَتْبَعُ بَعْضُہُ بَعْضًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٤) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے ارشاد فرمایا بیت المقدس کی آبادی یثرب کی بربادی ہے اور لڑائی کا وقوع قسطنطنیہ شہر کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج ہے پھر آپ نے ایک آدمی کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا اللہ کی قسم بلاشبہ یہ حق ہے۔
(۳۸۳۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قَالَ : عُمْرَانُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ یَثْرِبَ ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَۃِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِینِیَّۃ ، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِینِیَّۃ خُرُوجُ الدَّجَّالِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی مَنْکِبِ رَجُلٍ ، وَقَالَ : وَاللہِ إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ۔ (ابوداؤد ۴۲۹۵۔ حاکم ۴۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٥) حضرت ثییع بن معدان الکوفی فرماتے ہیں جب تو دیکھے کوفہ کے گرددیوارقائم کردی گئی پس وہاں سے نکل کھڑے ہونا اگرچہ گھسٹ کر ہی کیوں نہ ہو وہاں سرخ سیاہ گھوڑے اور سیاہ گھوڑے آئیں گے یہاں تک کہ دو آدمی ایک عورت کے بارے میں جھگڑا کریں گے یہ کہے گا میرے لیے اس کی یہ طرف ہے اور یہ دوسرا کہے گا میرے لیے اس کی پنڈلی ہے۔
(۳۸۳۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْہَزْہَازِ ، عَنْ یُثَیْعٍ ، قَالَ : إِذَا رَأَیْت الْکُوفَۃَ حُوِّطَ عَلَیْہَا حَائِطٌ فَاخْرُجْ مِنْہَا وَلَوْ حبوًا یَرِدُہَا کُمْتُ الْخَیْلِ وَدُہْمُ الْخَیْلِ حَتَّی یَتَنَازَعَ الرَّجُلاَنِ فِی الْمَرْأَۃِ یَقُولُ ہَذَا : لِی طَرَفُہَا ، وَیَقُولُ ہَذَا : لِی سَاقُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٦) حضرت محمد بن الحنفیہ نے ارشاد فرمایا اگر حضرت علی ہمارے اس امر کو پالیں تو یہ ان کے کوچ کا موقع ہوتا ان کی مراد تھی گھاٹی۔
(۳۸۳۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ عَلِیًّا أَدْرَکَ أَمْرَنَا ہَذَا کَانَ ہَذَا مَوْضِعَ رَحْلِہِ ، یَعْنِی الشِّعْبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٧) حضرت صحار سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قبائل کو (زمین میں) دھنسا نہ دیا جائے یہاں تک کہ کسی آدمی سے پوچھا جائے گا فلاں کی اولاد میں سے کون باقی ہے راوی حضرت صحار فرماتے ہیں میں نے پہچان لیا کہ عرب اپنے قبائل کی طرف بلائے جائیں گے اور بلاشبہ عجم اپنی بستیوں کی طرف جائیں گے۔
(۳۸۳۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْعَلاَئِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی یُخْسَفَ بِقَبَائِلَ حَتَّی یُقَالُ لِلرَّجُلِ : مَنْ بَقِیَ مِنْ بَنِی فَُلاَنٍ ؟ قَالَ : فَعَرَفْت أَنَّ الْعَرَبَ تُدْعَی إِلَی قَبَائِلِہَا ، وَأَنَّ الْعَجَمَ تُدْعَی إِلَی قُرَاہَا۔ (احمد ۴۸۳۔ ابویعلی ۶۷۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٦٨) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا بلاشبہ میری امت میں زمین میں دھنسایا جانا اور چہروں کا بدلنا اور سنگ باری ہوگی۔
(۳۸۳۶۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : إِنَّ فِی أُمَّتِی خَسْفًا وَمَسْخًا وَقَذْفًا۔ (ابن ماجہ ۴۰۶۲۔ حاکم ۴۴۵)
tahqiq

তাহকীক: