মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৩০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٩) حضرت سعد بن حذیفہ حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا جو آدمی ایک بالشت کے برابر جماعت سے جدا ہوا تو اس نے اسلام کا ذمہ اپنی گردن سے اتاردیا۔
(۳۸۳۰۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَۃَ الإِسْلاَم مِنْ عُنُقِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٠) حضرت علی سے روایت ہے کہ ائمہ قریش سے ہوں گے اور جو آدمی ایک بالشت برابر بھی جماعت سے جدا ہوا تو اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے کھینچ دی۔
(۳۸۳۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مَرْثَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَمِّی أَبُو صادق ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : الأَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَقَدْ نَزَعَ رِبْقَۃَ الإِسْلاَم مِنْ عُنُقِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١١) حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کیا ہوگی تمہاری حالت اس وقت جب ایک فتنہ مسلسل تم پر طاری رہے گا جس میں چھوٹے پرورش پاجائیں گے اور بڑے بوڑھے ہوجائیں گے یہ لوگ اسے سنت قرار دیں گے اگر اس میں سے کچھ بدلا جائے گا تو کہا جائے گا سنت تبدیل کردی گئی لوگوں نے عرض کیا یہ کب واقع ہوگا اے ابوعبدالرحمن تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہارے قراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے امین کم ہوجائیں گے اور تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے فقہاء کم ہوجائیں گے اور دنیا تلاش کی جائے گی آخرت کے اعمال سے۔
(۳۸۳۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَبِسَتْکُمْ الفِتْنَۃُ یَرْبُو فِیہَا الصَّغِیرُ ، وَیَہْرَمُ فِیہَا الْکَبِیرُ ، وَیَتَّخِذُہَا النَّاسُ سُنَّۃً ، فَإِنْ غُیِّرَ مِنْہَا شَیْئٌ قِیلَ : غُیِّرَتِ السُّنَّۃُ ، قَالُوا : مَتَی یَکُونُ ذَلِکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : إِذَا کَثُرَتْ قُرَّاؤُکُمْ وَقَلَّتْ أُمَنَاؤُکُمْ ، وَکَثُرَتْ أُمَرَاؤُکُمْ ، وَقَلَّتْ فُقَہَاؤُکُمْ ، وَالْتُمِسَتِ الدُّنْیَا بِعَمَلِ الآخِرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٢) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس امت میں پانچ فتنے مقرر کیے ہیں ایک عام فتنہ پھر خاص فتنہ پھر عام فتنہ پھر خاص فتنہ پھر ایسا فتنہ ہوگا جو سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا جس میں لوگ چوپایوں کی طرح ہوجائیں گے۔
(۳۸۳۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : وَضَعَ اللَّہُ فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ خَمْسَ فِتَنٍ : فِتْنَۃً عَامَّۃً ، ثُمَّ فِتْنَۃً خَاصَّۃً ، ثُمَّ فِتْنَۃً عَامَّۃً ، ثُمَّ فِتْنَۃً خَاصَّۃً ، ثُمَّ فِتْنَۃً تَمُوجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ، یُصْبِحُ النَّاسُ فِیہَا کَالْبَہَائِمِ۔ (عبدالرزاق ۲۰۷۳۳۔ حاکم ۴۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٣) حضرت ابو رجاء العطاروی سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن عباس سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ جو آدمی ایک بالشت جماعت سے جدا ہوگیا وہ جاہلیت کی موت مرا۔
(۳۸۳۱۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَحْمَرَ ، أَوِ ابْنَ أَحْمَرَ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ : مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ مَاتَ مِیتَۃً جَاہِلِیَّۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٤) حضرت حذیفہ نے فرمایا : تمہاری کیسی حالت ہوگی جب تم سے حق مانگا جائے گا اور تم حق دو گے اور تم سے تمہارا حق روک لیا جائے گا۔ عرض کیا : تب ہم صبر کریں گے۔ فرمایا تب تم لوگ جنت میں داخل ہو گے۔ رب کعبہ کی قسم۔
(۳۸۳۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا سُئِلْتُمَ الْحَقَّ ، فَأَعْطَیْتُمُوہُ ، وَمُنِعْتُمْ حَقَّکُمْ ؟ قَالَ : إذًا نَصْبِرُ ، قَالَ : دَخَلْتُمُوہَا إذا وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٥) حضرت ابو صالح حنفی سے روایت ہے کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کے پاس آئے وہ دونوں مسجد میں تشریف فرما تھے اور کوفہ والوں نے سعید بن العاص کو نکال دیا تھا تو اس آدمی نے کہا کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے، حالانکہ لوگ تو نکل چکے ہیں بخدا ہم سنت پر ہیں تو ان دونوں حضرات نے فرمایا تم کیسے سنت پر ہوسکتے ہو جبکہ تم نے اپنے امام کو نکال دیا ہے۔ اللہ کی قسم تم سنت پر قائم نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حکمران مہربانی کرے اور رعایا خیر خواہی چاہتی ہو راوی کہتے ہیں کہ ان سے اس آدمی نے کہا کہ اگر امیر نرمی نہ کرے اور رعایا خیر خواہی کرے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں تو انھوں نے ارشاد فرمایا ہم نکلیں گے اور تمہیں بھی دعوت دینگے۔
(۳۸۳۱۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی حُذَیْفَۃَ وَإِلَی أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ وَہُمَا جَالِسَانِ فِی الْمَسْجِدِ وَقَدْ طَرَدَ أَہْلُ الْکُوفَۃِ سَعِیدَ بْنَ الْعَاصِ ، فَقَالَ : مَا یُجْلِسُکُمْ وَقَدْ خَرَجَ النَّاسُ ؟ فَوَاللہِ إنَّا لَعَلَی السُّنَّۃِ ، فَقَالاَ : وَکَیْفَ تَکُونُونَ عَلَی السُّنَّۃِ وَقَدْ طَرَدْتُمْ إمَامَکُمْ ، وَاللہِ لاَ تَکُونُونَ عَلَی السُّنَّۃِ حَتَّی یُشْفِقَ الرَّاعِی وَتَنْصَحَ الرَّعِیَّۃُ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : فَإِنْ لَمْ یُشْفِقِ الرَّاعِی وَتُنْصَحِ الرَّعِیَّۃُ فَمَا تَأْمُرُنَا ، قَالَ : نَخْرُجُ وَنَدَعُکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٦) حضرت یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کوئی آدمی کسی فتنے میں تلوار گلے میں نہیں لٹکاتا مگر وہ مسلسل (اللہ کی) ناراضگی میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے رکھ دے۔
(۳۸۳۱۶) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ صُہَیْبٍ الْفَقِیرِ ، قَالَ : بَلَغَنِی ، أَنَّہُ مَا تَقَلَّدَ رَجُلٌ سَیْفًا فِی فِتْنَۃٍ إِلاَّ لَمْ یَزَلْ مَسْخُوطًا عَلَیْہِ حَتَّی یَضَعَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٧) حضرت عمر سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کس دن میں نے احرام باندھا ہے ؟ تین مرتبہ یہ سوال فرمایا صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا حج والے دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن (یعنی عرفہ کی) کی حرمت کی طرح اس مہینے میں اس شہر میں خبردار نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ہی ذات پر نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ذات پر زیادتی کرے والد اپنی اولاد پر اور نہ اولاد اپنے والد پر، خبردار اے میری امت کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا جی ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا یہ تین مرتبہ فرمایا۔
(۳۸۳۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَیُّ یَوْمٍ أحرم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالُوا : یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا ، فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا ، فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا ، أَلاَ لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ ، لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ ، لاَ یَجْنِی وَالِدٌ عَلَی وَلَدِہِ ، وَلاَ مَوْلُودٌ عَلَی وَالِدِہِ، أَلاَ یَا أُمَّتَاہُ ہَلْ بَلَّغْت ، قَالُوا: نَعَمْ ، قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (ابوداؤد ۳۳۲۷۔ ترمذی ۲۱۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٨) حضرت عداء بن خالد بن ھوذہ فرماتے ہیں میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر حج کیا میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا وہ (اونٹ کی) رکابوں میں کھڑے ارشاد فرما رہے تھے کیا تم جانتے ہو یہ کو نسا مہینہ ہے کون سا شہر ہے (پھر) ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے اموال آپس ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح تمہارے اس مہینے کی حرمت کی طرح۔ تمہارے اس شہر کی حرمت کی طرح۔ کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہنا۔
(۳۸۳۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِیدِ أَبِی عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَدَّائَ بْنَ خَالِدِ بْنِ ہَوْذَۃَ ، قَالَ : حَجَجْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فِی الرِّکَابَیْنِ وَہُوَ یَقُولُ : تَدْرُونَ أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ أَیُّ بَلَدٍ ہَذَا ؟ قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا ، ہَلْ بَلَّغْت ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّہُمَّ اشْہَدْ۔ (ابوداؤد ۱۹۱۲۔ احمد ۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣١٩) حضرت ابو بکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں، راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ اس مہینے کو اس کے نام کے علاوہ دوسرا نام دیں گے پھر ارشاد فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں، ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ارشاد فرمایا یہ کونسا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس شہر کو کوئی اور نام سے موسوم کریں گے ارشاد فرمایا کیا یہ بامد حرام نہیں ہے ہم نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا یہ کونسا ہے دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس دن کو کوئی اور نام دیں گے ارشاد فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے خون اور تمہارے اموال محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس شہر میں اس مہینے میں اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔
(۳۸۳۱۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ، قَالَ : أَلَیْسَ ذَا الْحِجَّۃِ ؟ قُلْنَا : بَلَی ، قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ، قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ، قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ؟ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسَبُہُ ، قَالَ : وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا، فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا، فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ۔(بخاری ۴۴۰۶۔ مسلم ۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٠) حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کونسا شہر حرمت کے اعتبار سے عظیم ہے حضرت جابر کہتے ہیں ہم نے عرض کیا ہمارا مہینہ حضرت جابر فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے خون اور تمہارے مال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں اس مہینے میں۔
(۳۸۳۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃٍ: أَتَدْرُونَ أَیُّ یَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟ قَالَ: فَقُلْنَا: یَوْمَنَا ہَذَا، قَالَ: فَأَیُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً، قَالَ: قُلْنَا: بَلَدُنَا ہَذَا، قَالَ: فَأَیُّ شَہْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً قلْنَا: شَہْرُنَا ہَذَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا۔(ابن ماجہ ۳۹۳۱۔ احمد ۸۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢١) ماقبل والی حدیث اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۸۳۲۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مُرَّۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قامَ فِینَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَۃٍ حَمْرَائَ مُخَضْرَمَۃٍ ، فَقَالَ : أَتَدْرُونَ أَیُّ یَوْمِکُمْ ہَذَا أَتَدْرُونَ أَیُّ شَہْرِکُمْ ہَذَا أَتَدْرُونَ أَیُّ بَلَدِکُمْ ہَذَا ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٢) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ جب جرعہ والے دن حضرت حذیفہ سے عرض کیا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتے حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا کونسی چیز مجھے ان کے ساتھ نکالے گی حالانکہ میں جانتا ہوں کہ انھوں نے آپس میں لوٹنے تک پچھنا لگانے کے برابر خون بھی نہیں بہایا اور جرعہ کے بارے میں بہت ساری باتیں ذکر کی گئی ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں۔۔۔ مجھے وہ چیزیں ملیں جو تمہارے گھر میں ہیں بلاشبہ فتنہ اس آدمی کی طرف جھانکتا ہے جو فتنے کی طرف سر اٹھا کر دیکھے (یوم الجرعہ سے مراد وہ دن ہے جس دن کوفے والے حضرت سعدب بن العاص کی زیارت کے لیے نکلے اور حضرت عثمان نے انھیں والی مقرر کیا تھا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کیا)
(۳۸۳۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجَرَعَۃِ قِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : أَلاَ تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ ، قَالَ : مَا یُخْرِجُنِی مَعَہُمْ قَدْ عَلِمْت أَنَّہُمْ لَمْ یُہْرِیقُوا بَیْنَہُمْ مِحْجَمًا مِنْ دَمٍ حَتَّی یَرْجِعُوا ، وَلَقَدْ ذُکِرَ فِی حَدِیثِ الْجَرَعَۃِ حَدِیثُ کَثِیرٌ : مَا أُحِبّ ، أَنَّ لِی بِہِ مَا فِی بَیْتِکُمْ ، إِنَّ الْفِتْنَۃَ تَسْتَشْرِفُ مَن اسْتَشْرَفَ لَہَا۔ (احمد ۳۹۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٣) حضرت زربن حبیش حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے ارشاد فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس سو آدمی ہوں جنکے قلوب سونے کی طرح ہوں میں کسی چٹان پر چڑھ کر جاؤں اور ان کے سامنے ایسی حدیث بیان کروں جس کے بیان کے بعد کوئی فتنہ کبھی بھی نقصان نہ پہنچائے پھر میں آہستہ آہستہ وہاں سے چلا جاؤں پس میں نہ ان کو دیکھوں اور نہ وہ مجھے دیکھیں۔
(۳۸۳۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِیٍّ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : وَدِدْت أَنَّ عِنْدِی مِئَۃَ رَجُلٍ قُلُوبُہُمْ مِنْ ذَہَبٍ فَأَصْعَدُ عَلَی صَخْرَۃٍ فَأُحَدِّثُہُمْ حَدِیثًا لاَ تَضُرُّہُمْ فِتْنَۃٌ بَعْدَہُ أَبَدًا ، ثُمَّ أَذْہَبُ قَلِیلاً قَلِیلاً فَلاَ أَرَاہُمْ وَلاَ یَرَوْنَنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٤) حضرت ابو البختری حضرت حذیفہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے ارشاد فرمایا اگر میں تم سے وہ باتیں بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم میرے خلاف تین گروہوں میں بٹ جاؤ ایک گروہ مجھ سے لڑائی کرے گا اور دوسرا میری مدد کرے گا اور تیسرا میری تکذیب کرے گا۔
(۳۸۳۲۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَوْ حَدَّثْتُکُمْ مَا أَعْلَمُ لافْتَرَقْتُمْ عَلَی ثَلاَثِ فِرَقٍ : فِرْقَۃٍ تُقَاتِلُنِی ، وَفِرْقَۃٍ لاَ تَنْصُرُنِی ، وَفِرْقَۃٍ تُکَذِّبُنِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٥) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا کوئی بھی ایسا آدمی جس کی کوئی جماعت پیروی کرتی ہو فتح و کامیابی اس میں بگاڑ پیدا کرتی ہے سوائے دو آدمیوں کے ان دونوں میں سے ایک تو نمایاں ہوگئے اور دوسرے اس سلسلے میں لڑ رہے ہیں باقی جو نمایاں ہوگئے وہ تو حضرت عمر اور جو ابھی لڑ رہے ہیں وہ حضرت علی ہیں۔
(۳۸۳۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حدَّثَنِی ضِرَارُ بْنُ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْظَلَۃَ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَا مِنْ رَجُلٍ إِلاَّ بِہِ أُمَّۃٌ یُنَجِّسُہَا الظَّفَرُ إِلاَّ رَجُلَیْنِ : أَحَدُہُمَا قَدْ بَرَزَ وَالآخَرُ فِیہِ مُنَازَعَۃٌ ، فَأَمَّا الَّذِی بَرَزَ فَعُمَرُ ، وَأَمَّا الَّذِی فِیہِ مُنَازَعَۃٌ فَعَلِیٌّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٦) حضرت حارث ازدی حضرت ابن حنفیہ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرے اس آدمی پر جس نے اپنے ہاتھ کو روکا اور اپنی زبان کو قابو کیا اور اپنے آپ کو بےنیاز کیا (دوسروں سے) اور اپنے گھر میں بیٹھ گیا اس کے لے ز وہی ثواب ہے جس کی اس نے نیت کی اور وہ قیامت والے دن اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس نے محبت کی خبردار بلاشبہ اعمال ان کی طرف مسلمانوں کی تلواروں سے جلدی پہنچتے ہیں آگاہ و خبردار ہو حق کے لیے پلٹنا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ جب چاہیں اسے لے آتے ہیں۔
(۳۸۳۲۶) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنِ الْحَارِثِ الأَزْدِیِّ ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ امْرَئًا کَفَّ یَدَہُ وَأَمْسَکَ لِسَانَہُ وَأَغْنَی نَفْسَہُ وَجَلَسَ فِی بَیْتِہِ ، لَہُ مَا احْتَسَبَ وَہُوَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، أَلاَ إِنَّ الأَعْمَالَ أَسْرَعُ إلَیْہِمْ مِنْ سُیُوفِ الْمُؤْمِنِینَ ، أَلاَ إِنَّ لِلْحَقِّ دَوْلَۃً یَأْتِی بِہَا اللَّہُ إِذَا شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٧) حضرت قیس صنابحی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ فرمایا میں تمہارے لیے بہتے حوض پر پیشگی اجر ہوں اور بلاشبہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کرونگا لہٰذا میرے بعد آپس میں لڑائی نہ کرنا۔
(۳۸۳۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ وَوَکِیعٌ ، وَابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ ، وَإِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمَ الأُمَمَ فَلاَ تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِی۔(احمد ۳۵۱۔ ابن حبان ۵۹۸۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٢٨) حضرت قیس حضرت صنابحی احمسی سے اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذکورہ روایت کی مثل نقل کرتے ہیں۔
(۳۸۳۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِیِّ الأَحْمَسِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ۔ (احمد ۳۵۱)
তাহকীক: